گدھ۔۔۔محمود چوھدری

SHOPPING

کہتے  ہیں کہ سانپ کو دودھ پلائیں تو وہ دودھ پلانے والے کو ہی ڈس لیتا ہے ۔  کہتے ہیں کہ پانی میں ڈوبنے والے بچھوکو اگر کوئی نکالنے کی کوشش کرے تو وہ اسی کو ڈس لیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک شاہین نے ایک چوہے کی جان بچائی اسے اپنے پروں میں پناہ دی تو اس چوہے نے اس کے پر ہی کاٹ ڈالے اور وہ اڑ ہی نہ سکا ۔اٹلی میں بھی اس جمعہ کی رات کچھ ایسا ہی ہوا ۔جمعہ کی رات گیارہ بجے ایک اطالوی خاتون نے ایک50سالہ پاکستانی مرد کو سڑک کنارے لیٹے دیکھا اور رک گئی ۔ اس نے دیکھا کہ وہ شخص سردی سے کانپ رہا تھا اس اطالوی خاتون کو ا س پر رحم آگیا اس نے سوچا کہ اگر اسی طرح یہ سڑک پر لیٹا رہا توسردی سے مر جائے گا ۔ اس نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور شہر کے مین ہسپتال” سانت اورسو کی“کے ایمرجینسی وارڈ میں چھوڑ گئی تاکہ اس کا علاج ہو سکے ۔

اسی ایمرجنسی وارڈمیں رات کو چار بجے ایک ایمبولینس ایک 23سالہ اطالوی لڑکی کو لیکر آئی ۔ لڑکی بے ہوش تھی بلکہ کومے کی حالت میں تھی ۔ لڑکی کو اسی وارڈمیں ایک بیڈ پر لٹا دیا گیا ۔ ایمرجنسی وارڈ میں عموماً جگہ کم ہونے کی وجہ سے مختلف بیڈز کے درمیان خالی ایک پردہ سا لگا ہوتا ہے ۔رات کو گیارہ بجے سردی سے کانپنے والا پاکستانی اب مکمل ہوش میں آچکا تھا اس نے جب پردے کے دوسری جانب بے ہوش لڑکی کو دیکھا تو اس کے اندر کا جانور جاگ گیا اس نے دیکھا کہ لڑکی بے ہوش ہے اور نرسیں بھی مریضوں کو دوائیں دیکر اس کے پاس موجود نہیں ہیں ،رات کاپچھلا پہر تھا اور وارڈ میں لوگ بھی نہیں تھے ۔ اس نے سوچا کیوں نہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے جائیں ۔۔۔

وہ اس زندہ لاش کے جسم کے مخصوص حصوں پر ہاتھ بڑھانا شروع ہو گیا ۔ وہ جانتا ہے کہ لڑکی بے ہوش ہے اور کسی قسم کی حرکت کرنے یا اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں ہے ۔قطع نظر اس کے کہ اس بچی کی عمر صرف تئیس سال تھی اور اس پچاس سالہ مرد کی بیٹی کی عمر کی تھی ،یہ بات قابل غور ہے کہ اس وقت اس بے ہوش لڑکی کے جسم کی حیثیت ایک پنجر کی تھی اور ایک پنجر پر کوئی گدھ تو حملہ آور ہوسکتا ہے کوئی دوسرا جانور نہیں ۔ لیکن یہ جانور بھول گیا کہ ہسپتال میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود ہوتے ہیں ۔ ان ہی کیمروں کی مانیٹر نگ ڈیوٹی پر موجود نرس نے جب اس شخص کی مشکوک حرکات و سکنات کو دیکھاتوباقی عملے کی نرسوں کو اطلاع دے دی انہوں نے آکر ملزم کو پکڑلیا اور پولیس بلالی ،اطالوی پولیس اس پاکستانی کو گرفتار کرکے تھانے لے گئی اگلے دن صبح 8.30بجے لڑکی کو ہوش آیا تو اسے ساری صورت حال سے آگاہ کیا گیا ۔ وہ فوراً پولیس اسٹیشن پہنچی اور اپنے اوپر ہونے والے جنسی حملے کی ایف آئی آر کٹوا دی ۔

اس سال کے دوران کسی اطالوی لڑکی پرہونے والاایسا حملہ پہلا نہیں ہے ۔ مورخہ تیس اگست کو ایک 28سالہ پاکستانی کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے ایک سنسان گلی میں ایک اطالوی خاتون سے زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی ۔عورت کے شور مچانے پر وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا تھا اسے پیٹ رہا تھا جب پولیس کی گاڑی وہاں سے گزری اور اسے گرفتار کر لیا۔ اسی سال اپریل میں اٹلی کے ہی شہر بریشیا میں ایک ایسے 23سالہ پاکستانی کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے ایک 75سالہ بوڑھی خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی موصوف بڑھیا کے اپارٹمنٹ کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ اس کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا ہے ا س نے موقع کو غنیمت جانا اور اس پر حملہ کر دیا ۔ اسی سال مئی میں ایک 35سالہ پاکستانی کو گرفتار کیا گیا جو اٹلی میں سیاسی پناہ گزین ہے اور اس نے ایک 13سالہ اطالوی لڑکی کا کئی دنوں تک پیچھا کیا جو صبح صبح ایک بس پر سکول جاتی تھی وہ کئی دنوں تک اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس کی بس میں بیٹھ جاتا اور بس میں بھی سیٹیں بدلتے اس کے قریب والی سیٹ پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ۔ لڑکی اس کی حرکتوں کو نوٹ تو کرتی رہی لیکن چونکہ متعلقہ پاکستانی کوئی لفظ نہیں بولتا تھا سوائے آنکھوں سے تاڑنے کے اس لئے اس نے کسی سے اس کی شکایت نہیں کی ،لیکن ایک دن جب وہ سکول سے نکلی تو اس نے اس کا پیچھا کیا اور اسے روک کر اس کا نام اور ٹیلیفون نمبر پوچھنا شروع ہوگیا ۔ لڑکی کے انکار پر اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی ۔لڑکی کی ایک کلاس فیلو نے ان دونوں کو دیکھ لیا اور پولیس کو اطلا ع دے دی اس وقت تو وہ بھاگ گیا لیکن بعد میں پکڑ اگیا۔

یہ واقعات کیوں ہوتے ہیں ان کے پیچھے نفسیات کیا ہے ؟اصل میں جن ممالک سے امیگرنٹس نئے نئے یورپ آتے ہیں ان میں سے اکثر ممالک میں ان کے ذہن میں یہ تصور بٹھا دیا گیاہوتا ہے کہ جس لڑکی کا لباس مناسب نہیں ہے وہ بڑی آزاد خیال ہے اور وہ آسانی سے دستیاب ہے ۔ ہمارے ممالک میں لباس کو کردار پرکھنے کی کسوٹی سمجھا جاتا ہے ۔ یورپ میں کسی کو ہنس کر سلام کرنا اخلاق کا معیار سمجھا جاتا ہے لیکن اکثر ممالک میں ہنسنے والی لڑکی کے بارے یہ جملہ مشہور ہوتا ہے کہ ہنسی تو سمجھو پھنسی ۔آپ پاکستانی نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر پوسٹ پڑھیں تو آپ کو ایسے جملے اکثر ملیں گے جو عورت پردہ نہیں کرتی اس کو دیکھنے کا مرد کو حق ہے ۔ ایک پوسٹ بہت زیادہ شیئر کی گئی جس میں ایک ادھیڑ عمر بزرگ کا قصہ ہے کہ وہ ایک شادی شدہ مرد کو کہہ رہا ہے کہ بیٹا عورت کا جتنا حصہ ڈھکا ہوا نہیں ہے اس پر باقی مردوں کے دیکھنے کا حق ہوجاتا ہے ۔اس وقت یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ یورپ  میں نئے آنے والے امیگرنٹس کو سمجھائیں ۔ مساجد میں علما ءکرام کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی تربیت کریں کہ کسی بھی ملک کے لباس، رسم و رواج اور طرز زندگی ان کے کردار کی پستی کو ظاہر نہیں کرتا ۔

تیرہ سالہ لڑکی سے زیادتی کی کوشش کرنے والا پینتیس سالہ پاکستانی ہاﺅس اریسٹ میں ہے اور اس کے خلاف اٹلی کی پارٹی لیگا نارد گزشتہ 22ستمبر کو ایک مظاہرہ بھی کر چکی ہے ۔ کاش پاکستانیوں کو اطالوی زبان آتی ہو اور وہ جا کر دیکھیں کہ گزشتہ جمعہ کو ہونے والے واقعہ کے بعد اطالوی کس قسم کے آرٹیکل لکھ رہے ہیں اور کس طرح کسی ایک پاکستانی کی غلطی تمام امیگرنٹس کو دلوانا چاہ رہے ہیں ۔ بعض صحافیوں نے اس عورت کو بھی گالیاں دی ہیں جو اس سردی سے کانپنے والے پاکستانی پر ترس کھا کر اسے ہسپتال چھوڑ گئی تھی ۔کاش ہمیں اندازہ ہوکہ کسی ایک کی غلطی کا خمیازہ کس طرح سب تارکین وطن شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔

SHOPPING

آپ کو بتاتا چلو کہ اٹلی میں پیدا ہونے والے بچوں کو اطالوی شہریت دئیے جانے کا قانون اکتوبر 2015ءمیں اطالوی قومی اسمبلی سے پاس ہوچکا تھا لیکن اس کےبعد یورپ میں مختلف دہشت گردی کے واقعات ہوئے جس کی بنا پر قانون بنانے والے سیاستدانوں کو دفاعی پوزیشن پر آنا پڑا اور وہ قانون دو سال سے سینٹ میں پڑا ہوا ہے اور اس پر کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی ۔ آج ہی اٹلی کے وزیراعظم نے اس قانون کو جلد از جلد پاس کروانے کا اعلان کیا ہے اور آج ہی یہ خبر اطالوی اخباروں کی زینت بنی ہے اب اس گدھ کے عمل کا خمیازہ کس کس کو بھگتنا پڑ ے کون جانے ؟

SHOPPING

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *