جامِ کہن(حصّہ اوّل)۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING

ایک دوست کی دوسری بیوی کی سہ روزہ   داستانِ  بے وفائی
(واقعات سے قطع نظر کرداروں کے نام ان کی باقی ماندہ ناموس کے تحفظ کی خاطر بدل دیے گئے ہیں)۔

دواقساط کی پہلی قسط
میل ملاپ کی اس محفل کو دعوت کہنا تو شاید مناسب نہ ہو۔نیویارک کی فاصلوں، مصروفیت، کرچی کرچی خوابوں اور ڈالروں کی ہڑکائی دوسرے درجے کی زندگی میں دعوت اور فروانی کیسی۔بس پینے اور جینے والوں کو پینے اور جینے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ مہمانوں میں کوئی نہ کوئی کچھ ساتھ لے آتا ہے اور فریق ثانی رضامند ہو تو لے بھی جاتا ہے۔
ہم میزبانوں کو جانتے نہ تھے ۔ڈاکٹر نوشیروان عرف شیری کی ان سے پرانی یاد اللہ ہے پھر بھی دکان جس کا نام ہیThe Containerہے۔۔وہاں سے پیپر گلاس اور پلیٹوں کے ذخیرے کے علاوہ خواتین کی چپل جوتیوں کا ایک سنہری اسٹینڈ جو بطور آخری پیس سیل پر تھا وہ ہی تحفہ دینے کی خاطر لے لیا ۔ پڑوس میں ایک مست کالی چیز کیک فیکٹری کا کیک لینے گھسی تو ہم بھی جا گھسے۔وہاں سے TIRAMISU اطالوی کسٹرڈ کے کچھ پیسز اٹھالیے۔

چیز کیک فیکٹری

میزبان خاتون اسٹینڈ دیکھ کر بہت خوش ہوئیں کہنے لگیں  میں بہت دنوں سے اسے آن لائن ڈھونڈ رہی تھی۔
ہم نے مذاق کیا کہ اچھے مرد اور جوتوں کے اسٹینڈ آسانی سے کہاں ملتے ہیں۔ خوش دلی سے کہنے لگیں۔۔۔اب آپ کو ہمارے گھر آنے کے لیے ڈاکٹر شیری جیسے لوزر کا ریفرنس درکار نہیں۔پتہ چلا خاتون کراچی کی ہیں۔نبیلہ نام ہے ۔سندھ کے ایک سابق گورنر کی قریبی عزیزہ ہیں۔مانوسیت کا سبب گھر آمد پر تحائف کے انتخاب میں کراچی کا ٹچ لگا ۔ جانتی تھیں کہ یہ بندہء نووارد اگر ملتان یا وہاڑی کا ہوتا تو کوسٹا ریکا کے کیلوں کی لوم پلاسٹک کے شاپر میں ڈال  کر مختاریا کی طرح وڑ آتا۔

سال بھر پہلے کا نیویارک ہوتا تو جپھیاں پپیاں اور ان کے درمیان نیب کی فائلوں سے اُبھرتی او۔ آ کی سسکیا ں اس وقت Roar سے آتیں، جب کوئی انگڑائیاں لے کر سینے سے بغیر فیویکول کےچپکتا ۔ تب یہ معمول کی بات تھی۔اب سماجی فاصلوں کی وجہ سے  ہم نے

بنانا ٹرانسپلانٹیشن

جاپانیوں کی طرح کورنش بجائی،امراؤ جان کی طرح آداب اور سوارا بھاسکر کی طرح دور ہی سے رس بھری والا نمستے کیا۔

ڈاکٹر شیری کی البانوی بیویGonxhe(گونچے)ہنسوں کے غول میں شتر مرغ کی طرح نمایاں تھی۔اسی نے اشارہ کیا کہ ڈاکٹر خان ٹیرس پر بیٹھا ہے۔نبیلہ نے البتہ ہمیں ٹیرس کی  طرف لے جاتے ہوئے اشارتاً بتایا کہ ایک دوسرے سے کٹے کٹے ہیں۔

ربیکا لین

ٹیرس پر شام کے سائے منڈلاتے تھے ۔ڈاکٹر شیری ریلنگ پر پیر جمائے،ساتھ پٹیالہ پیگ رکھ کر دل ہی دل میں کشور کمار کا وہ گیت گارہے تھے کہ میرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں۔ فون پر بتاچکے تھے کہ گھات لگ گئی ہے گونچے جسے وہ چی بلاتے ہیں ۔ اس نے پہلی دفعہ بے وفائی کی۔

مردوں کی جنسی واردات اور شکست دل کا چراغاں  فیس ٹائم پر مزا نہیں دیتا۔ اس کے لیے تو سینہ کوبی اور چس لینے کے لیے تابڑ توڑ کمینے سوال ضروری ہوتے ہیں۔
اب یہ داستان درد دل سن لی ہے تو  یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس داستان بے وفائی کا آغاز کیوں کر ہوا۔  اگر اس دوستی میں فریقین کے درمیاں حیثیت اس ڈنڈی( Beam) کی ہو، جس کے دونوں سرے پر ہم وزن پلڑے ٹنگے ،مسابقت میں مصروف ہوں تو منصفانہ طرف داری مشکل ہوجاتی ہے کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں، جہاں صحیح یا غلط کی تقسیم واضح نہیں ہوتی ۔ دونوں پلڑوں میں یا تو صحیح رکھا ہوتا  ہے یا غلط۔

cougar

البانیہ کی گونچے اور پاکستان کے ڈاکٹر نوشیروان خان کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس میں ان دونوں سے پہلے ایک مہمان کردار کی انٹری لازم ہے۔۔۔۔وہ ہے مریانا۔

گرم جوش، تنک مزاج، شدت پسند، غلط فیصلوں کی عادی، مردوں سے ہمیشہ کی شاکی،مضبوط بدن اور کھل کے ہنسنے والی مریانا دیکھنے میں اپنے ملک گوئٹے مالا کی مشہور ریپرربیکا لین جیسی لگتی ہے۔ ۔ اس کی اپنی داستان بھی خاصی پُرلطف ہے مگر محل مضموں نہیں۔

مارخور
سراندے،البانیہ

ڈاکٹر نوشیروان ہمارے پختون دوست ہیں ۔ وہ اور مریانا امریکی کی اس اسٹیٹ یونی ورسٹی کے کمیونٹی اپارٹمنٹس میں پڑوسی ہیں۔
یہ ہمارے پاکستانی اور بھارتی دوستوں کا حلقہ ہے۔یہاں ایک دعوت میں نوشیروان کونے میں اکیلے بیٹھے اپنی دنیا میں گم پی رہے ہیں۔اداس ہیں۔اپنی بیگم کی داستانِ  بے وفائی سنانے کے لیے ہمیں منتخب کیا ہے۔انہیں اس پر مان ہے کہ ہم موساد کی طرح کہانی میں اتنے داؤ  پیچ ڈال دیتے ہیں کہ اصل کردار وں کو کھوجنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر نوشیروان اپنی   خوش مزاج اور دلدار طبیعت البانوی بیویGonxhe(گونچے) کو چی کہتے ہیں۔۔
بیگم انہیں شیری۔۔

اس شادی کو بچوں کی پہنچ سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈاکٹر نوشیرواں نے خشک اور ٹھنڈی جگہ پر رکھا ہے ۔

چی کو دیکھیں تو اس کی جنسی کشش کی وجہ سے یہ باور کرنا مشکل لگتا ہے کہ اس سے کسی مرد کو خود کو شعوری طور پر دیر تک دور رکھنا آسان کام ہوگا۔ میاں بیوی کا نجی معاملہ ہے ،سو اس پر خامہ فرسائی سے گریز۔ممکن ہے کوئی طبی پیچیدگی ہو مگر مریانا کا خیال ہے کہ یہ ایک طرح کیsame-sex marriageہے ۔مریانا جھوٹ بولتی ہے۔

پڑوسی ہونے کے علاوہ بھی پورے سال بھر شیری کے ساتھ رہ چکی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ اگر گوئٹے مالا کی کوگر تھی تو مرد کوہستانی پڑوسی بھی مارخور (Ibex)سے کم نہ تھا۔ کانٹے کا جوڑتھا۔ اسی اثنا میں کرنی کچھ ایسی ہوئی کہ نوشیروان خان جی کو گونچے بہت پسند آگئی۔اس سے نوشیروان کو مریانا نے ہی ملوایا تھا۔مزاجاً اس کی ضد۔جواں سال دونوں ہی تھیں مگر گونچے کا بدن اور لگ لپٹ کا انداز ساحل افتادہ، جزیرہ ء گمنام میں گھونگوں سیپیوں اور اسٹار فش کے اسرار سمیٹے ہوئے تھا۔

گونچے امیگریشن لاٹری میں امریکہ آئی تھی۔تعلق سراندے ، البانیہ کے اس حصہ سے تھا جو یونانی جزیرے کورفو کے قریب ہے۔ گونچے کی اس کی زندگی میں باقاعدہ آمد سے پہلے ہی شیری کا وقت یونی ورسٹی کے نصاب اور تحقیق کے حوالے سے مشرق وسطی میں بالخصوص ترکی سعودی عرب اور مصر میں زیادہ گزرنے لگا تھا۔

اس دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ مریانا بھی تلخی دل میں لائے نائیجریا کے کسی فٹ بالر مرد سے جڑ گئی۔ دونوں کی اس وحشت بھری رفاقت کا نتیجہ یہ نکلا کہ دن بھر کراکری اور رات کو بستر ٹوٹا کرتا تھا۔یاد رہے کہ اپارٹمنٹس کی دیواریں لکڑی کی تھیں مکین ادھر کے بھی، باتیں اُدھر کی سن سکتے تھے۔

مریانا بستر میں گلے سے سائلنسر نکال کر سوتی تھی۔ ڈاکٹر خان کا کہنا تھا کہ کیمپس میں رات کو سب سے زیادہ بستر میں مریانا اللہ کو یاد کرتی ہے۔

ہائی پاور رائفل

گونچے نے وہ غلطی نہ کی جو مریانا نے کی تھی۔اس نے شیری سے شادی کرلی۔شادی سے پہلےہی دونوں نے ایک دوسرے کو گونچے اور نوشیروان کی بجائے چی اور شیری پکارنا شروع کردیا تھا۔

چی سے ڈاکٹرشیری کی ملاقات کا قصہ عجب ہے۔مریانا کے ذمے یونیورسٹی کی جانب سے بیرون ممالک میں طالب علموں کے معاملات کی دیکھ بھال تھی ۔ بڑی یونی ورسٹی تھی۔ڈاکٹرشیری ترکی کی کسی یونی ورسٹی   میں سال بھر کے لیے تحقیق و تعلیم کی غرض سے آئے تھے۔عثمانی دور میں عربوں کے ترکوں سے سیاسی تعلقات ان کی تحقیق کا موضوع تھا۔امریکہ میں خفیہ ادارے ایسے کئی پروگرامز بہت کھل کے اسپانسر کرتے ہیں۔

بات شیری اورچی کی تھی مگر مریانا کے ضروری کوائف جانے بغیر بات نہیں بن رہی تھی۔ان دنوں خیر سگالی کا دور دورہ تھا۔ ترکی بھی یورپی یونین میں شامل ہونے کو بے تاب تھا۔شام میں
بھی فسادات کا آغاز ہونے کو تھا۔امریکی اس جنگ میں ترکی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔داعش کا سارا اسٹیج ترکی میں سجنا تھا۔

یورپ اور امریکہ کی جامعات کے طالب علموں کے منی اولمپئیڈ قسم کا ایک ایونٹ منعقد ہوا۔ چی مریانا والی جامعہ کی شوٹنگ ٹیم کی کوچ تھی۔ استنبول آتے وقت اپنے ساتھ اپنی ہائی پاور رائفل لے آئی تھی۔ترکی کسٹم کو یہ منظور نہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے علاوہ وفد کے کسی اور رکن کو رائفل لانے کی اجازت نہیں۔۔باقی ٹیم کو تو انہوں نے جانے دیا تھا۔پچیس برس کی چی کو روک لیا۔سفارت خانے کا کوئی افسر استنبول میں موجود نہ تھا۔کرسمس کی تعطیلات والے ایام تھے۔سب چھٹیوں پر تھے۔مریانا کا شیری جی کو فون آیا کہ ان کی کوچ کو ائیرپورٹ پر روک لیا گیاہے۔ مدد درکار ہے ۔ترکی کی جامعہ میں ڈاکٹر شیری کے ایک ساتھی کا بھائی کسی جنرل کا داماد تھا۔ ترکی بھی اپنے پاکستان جیسا ہے ۔اس سے بات ہوئی تو طے ہوا بندوق کو ترکی کسٹم کے  ڈاکٹر صاحب کے نام پر عارضی طور پر لے جانے کی اجازت دے گی۔میدان کے علاوہ اس کا کہیں دکھاوا نہیں ہوگا۔ڈاکٹر صاحب ایسے ہر مظاہرے پر پرمٹ سمیت موجود ہوں گے۔اس وقت رات ہورہی ہے۔ کسٹم کے متعلقہ افسر گھر چلے گئے ہیں۔اجازت نامہ شہر میں کل ڈاکٹر صاحب کے جامعہ والی رہائش گاہ پر تصدیق کے بعد بذریعہ پولیس موصول ہوجائے گا۔

ایمینہ

البانوی گونچے کو بہت الجھن ہوئی۔ترکوں کو وہ امریکہ سے زیادہ البانیہ کے حوالے سے جانتی تھی۔مزاجاً اپنے قومی نشان بھیڑیے جیسے نو نان سینس، جلد مشتعل ہوجانے والے۔ جنگ بلقان میں ان کے ملک البانیہ کو ایک طویل عرصے کے بعد خلافت عثمانیہ کے تسلط سے رہائی ملی تھی۔ ایک لامتناہی تلخinstitutional memoryتھی جو نسل در نسل منتقل ہوکر اس کے مزاج کا حصہ بن گئی تھی۔ امریکہ آن کر بھی اس پر سپر پاور ہونے کا رنگ غالب نہ آیا تھا۔اندرونی آسیب اب بھی اودھم مچاتے تھے۔ گمان گزرا کہ یہ علم ہوگیا کہ وہ البانوی مہاجر ہے تو ممکن ہے اسپرنگ فیلڈ کی یہ قیمتی رائفل ہی ضبط کرلیں۔جب کسٹم سے باقی معاملات طے ہوگئے تو اس کی جان میں جان آئی۔رات کے دس بج رہے تھے۔ مریانا کی ہدایت پر وہ شیری کی رہائش گاہ چلی گئی۔

ڈاکٹر شیری اچھا مرد تھا۔وجیہہ اور با شعور   بھی۔ایک آسودہ سی بے اعتنائی کے ساتھ اس کے مزاج میں ایک محتاط نگرانی بھی تھی جو چی پر گراں نہ گزری۔چپ چاپ قدرے سلیقے سے اس کا کیس بھی لڑرہا تھا۔ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک ساتھ رہا۔پہلے ڈنر کرایا پھر کافی بھی پلائی۔ترکوں میں اس کا احترام تھا۔

ببل ٹی

اس کے اطمینان کی ایک وجہ مریانا کی یہ یقین دہانی بھی تھی کہ   اسے کہا گیا تھا کہ وہ یونی ورسٹی میں اس کا پڑوسی اور دوست ہے۔پڑھا لکھا مانا جاتا ہے ۔وہ بتا چکی تھی کہ وہ افغانوں کے ایک خان کا بیٹا ہے۔یوں خاندانی مرد ہے۔

خاندانی ہونے کا تصور امریکہ میں عام نہ تھاگو ایک بہت مضبوط اشرافیہ کا وجود ضرور تھا مگر مریانا خود کو خاموشی سے محفوظ رکھ کر فروغ دینے والے اس طاقتور گروپ ک  تہہ در تہہ شناخت سے واقف نہ تھی۔اس نے بس اتنا کہا
Dr. Sheri Khan is every inch of a gentleman though I dont like any one to be gentle with me over my favorite inches.
چی مردوں کے حوالے سےدیر آشنا تھی۔ویسی سپردگی اور تھرو نہ تھا جو مریانا میں تھا۔ ماں نے ترانہ کے ہوائی اڈے پر سمجھایا تھا کہ وہ حسن میں مشہور البانوی ماڈل ایمنہ کن ملاؤEminaCunmulajجیسی ہے۔ کن ملاؤ  تو پھر بھی غیر معمولی طویل القامت کی مالک اور استری کی میز جیسی لگتی ہے۔ماڈلنگ میں یہ سب چل جاتا ہے۔گونچے بچ بچاکے رہے گی  تو کچھ پالے گی ورنہ Exotic beauty کے طلب گار امریکہ میں ہر قدم پر گھات لگائے رہتے ہیں۔امریکن ذائقے کے معاملے میں کھلے دل، کریڈیٹ کارڈ  لہرانے والے ، بد لحاظ لوگ ہیں , میکسکن ٹاکو، جاپانی شوشی اور تائیوان کی ببل ٹی سب ہی کچھ گٹکا لیتے ہیں۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”جامِ کہن(حصّہ اوّل)۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. ساتھ بہا لے جانے والی تحریر
    اس پر داستانوی انداز بیان، موقع موقع پر خوبصورت جملے جو تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہیں۔
    اگلی قسط کے منتظر

  2. کچھ ایسی ہوئی کہ نوشیروان خان جی کو گونچے بہت پسند آگئی۔اس سے نوشیروان کو مریانا نے ہی ملوایا تھا۔مزاجاً اس کی ضد۔جواں سال دونوں ہی تھیں مگر گونچے کا بدن اور لگ لپٹ کا انداز ساحل افتادہ، جزیرہ ء گمنام میں گھونگوں سیپیوں اور اسٹار فش کے اسرار سمیٹے ہوئے تھا۔
    کیا ہی منفرد اندازِ بیاں، اقبال دیوان کا کالم جس دن نہ ہو، تو وہ دن خشک تر ہوتا ہے۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *