جامِ کہن(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING

ماں بیٹی نے بہت غربت دیکھی تھی۔ گونچے اپنے باس کے نوجوان بیٹے دیمتری کے عشق والے چکر میں سولہ برس کی عمر میں حاملہ بھی ہوگئی تھی۔ ۔اس کاخیال تھا کہ اس میں دیمتری سے زیادہ اس کی اپنی امی کا قصور تھا جس نے اسے شہہ دی کہ وہ اس کے ساتھ وینس چلی جائے ۔ رومیو جولیٹ کے شہر کا سحر انگیز ماحول  بھی بہت جان لیوا تھا۔اٹھارہ برس کا مرد بہت جھلا ہوتا ہے۔شادی ہوتے ہوتے دو سال لگ جائیں گے۔وارے نیارے ہوجائیں گے ۔ ان کا وینس، ایتھنز میں بھی کاروبار ہے۔ گنڈولوں کے ساتھ ،پیار کے ندی نالوں میں وہ بھی بہتی چلی گئی دیمتری جھلا تو نہ تھا۔ بڑے سلیقے اور چاؤ سے وہ سب کچھ کیا جو ایک مرد کو کسی حسین عورت کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ وہ بھی وعدے وعید کے سائباں تلے۔

اس نے جب اپنی والدہ سے پہلے دیمتری کو یہ بتایا کہ وہ  اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے، بہتر ہے کہ شادی جلد ہوجائے۔ یہ سننا تھا کہ دیمتری کے اوسان خطا ہوگئے اور دیمتری سے زیادہ اس کے والدین نے چالاکیاں دکھائیں۔ اپنے بیٹے کو ملائیشیا بھجوادیا ۔لو پکڑلو۔ جب وہ امریکہ سدھارگئی تب واپس آیا۔ چی کو بہت مشکل ہوئی۔امریکہ آتے ہوئے بہت روئی۔ اس نے دیمتری کو اور اپنی ماں دونوں ہی کو معاف کردیا۔دیمتری کو اس لیے کہ وہ اس سفر میں خود بہت بہک گئی تھی۔کسی طور یہ ماننے پر راضی نہ تھی کہ یہ تعلق شادی کے علاوہ بھی کسی اور رخ پر جاسکتا ہے۔کون سا مرد ہوگا جو ایسی جواں بدن نوخیز حسینہ سے گریز کرپائے۔ماں کو اس لیے معافی دی کہ وہ اس کو غربت کی  اس آگ کا ایندھن بنانے پر راضی نہ تھی جس میں اس کی اپنی جوانی جھلس گئی تھی۔

گونڈولہ
سکوبا ڈائیونگ

گونچے کی ماں نے جیسے ہی موقع  ملا ،امیگریشن لاٹری میں اپنا نام اور بیٹی کا نام ڈال دیا۔ ۔کامیابی ہوئی ۔یہاں آگئے ۔قدم جمانے کے لیے امریکہ میں ابتدائی برس بھاری تھے ۔رائفل شوٹنگ کی بنیاد پر گونچے کو یونی ورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ جلد ہی اسے وہاں اسی بنیاد پر ملازمت بھی مل گئی ۔ماں البتہ ایک بوڑھی مالدار عیسائی عورت کی دیکھ بھال اور کتے سنبھالتی تھی۔

ترکی میں ایک ہفتے کے اس قیام میں وہ ایک دوسرے کے رفیق تو رہے مگر چی نےخان جی کو رسائی نہ دی۔اتنا ضرور کیا  کہ انطالیہ جہاں یہ کھیلوں کے مقابلے ہورہے تھے وہاں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران اس نے ایک دفعہ خان جی کو اس وقت بچایا جب اس کے آکسیجن ٹینک میں سوراخ ہوگیا تھا اور وہ اسے کھینچ کے باہر لائی اور مصنوعی تنفس کے ذریعے اس کی سانس بحال کی۔خان جی کو تیرنا تو آتا تھا مگر بلاوجہ پانی کی مچھلی جیسی چی کو متاثر کرنے کے لیے اسے کہتے رہے کہ وہ افغانستان اور ہنزہ میں اسکوبا ڈائیونگ کرتے رہے ہیں۔چی کو سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں سمٹے ان علاقوں کی معلومات اتنی زیادہ نہ تھیں کہ اسے شیری پر شک ہوتا کہ ان علاقوں میں کیسی اسکوبا ڈائیونگ۔

خان جی کا کہنا ہے کہ انہوں نے چی کو شادی کی درخواست عین اس وقت کی جب ان کی سانس میں سانس چی کے بوسوں کی وجہ سے آئی۔چی کا خیال اس سے مختلف ہے۔ اس کو جلد ہی یہ یقین ہوگیا کہ خان کوئی فیصلہ خود سے نہیں کرسکتا۔ اسی لیے یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب وہ اس کی والدہ سے ملا اور ان ہی نے ڈاکٹر نوشیروان کو قائل کیا کہ اتنی اچھی لڑکی جو عمر میں تم سے پورے  سولہ سال چھوٹی ہو۔جسے کسی مرد نے چھوا تو کیا اس کو گردن سے نیچے بے لباس دیکھا بھی نہ ہو،وہ چاند پر پانی کی طرح نایاب ہے ۔چی نے ماں کے سمجھانے پر صرف ایک ضد کی تھی کہ وہ اس کے وطن پاکستان میں اس کا رہن سہن دیکھے گی۔ اس کی ضد شیری کی کزن بیوی سے ملنے کی بھی تھی۔جس سے اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔یہ بیٹا چی سے معاشقے کے دوران پیدا ہوا۔

خان سے اس نے کہا اس شادی میں بس ایک اہتمام کرے۔مذہب کو ایک تھیلی میں بند کرکے رکھ دے۔جھوٹ نہ بولے۔بچے  کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔اس کی ملک سے باہر نقل و حرکت پر قدغن نہ ہوگی۔

اپنی والدہ کو تو شادی کے بعد چی نے امریکہ چھوڑا اور خود پاکستان آگئی ۔ یہاں آن کر اسے لگا کہ خان اس سے کہیں زیادہ مالدار ،آسودہ حال اور معتبر ہے جو وہ امریکہ میں دکھائی دیتا ہے۔وہ پسر گئی کہ امریکہ بھلے آنا جانا لگا رہے رہنا پاکستان میں ہے۔

اس نے یہ سب اس لیے کیا کہ امریکہ میں باتھ روم کی صفائی کھانے پکانا ،سردی میں برف ہٹانا ،اپنی کار خود چلانا ،یہ سب انسانی جان کا آزار ہیں۔ اسے اپنی غربت کے حوالے سے صرف بیگم بن کر رہنا اچھا لگتا تھا۔دیمتری کو مکمل سپردگی اور بچے کا معاملہ بھی اسی لیے پیش آیا کہ وہ ایک شارٹ کٹ کی تلاش میں تھی۔

دونوں میاں بیوی یہاں اسلام آباد سے ذرا دور ایک بستی میں رہتے ہیں۔ڈاکٹر خان اب ایک تھنک ٹینک کے لیے پاکستان سے کام کرتے ہیں۔ہر سال چی پہلے البانیہ پھر یونان اور پھر اپنی ماں کے پاس فلوریڈا جاتی ہے۔سب سے کم وہ امریکہ میں قیام کرتی ہے۔

چی سے ہماری گہری دوستی ہے۔کراچی میں اکثر ہمارے پاس ہی قیام رہتا ہے۔ اس رات جب شیری نے اپنے  دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اس کی بے وفائی کا ذکر چھیڑا تو جانے اس کی چھٹی حس نے کیسے اسے خبردارکیا کہ وہ ہم دو پرانے دوستوں کے درمیاں بیٹھ گئی۔بہت سلیقے سے اس نے موضوع چھیڑا کہ یہاں بیٹھ کر میرے اعتراف محبت پر بات کرنا بھلا نہیں۔بہتر ہے ہمارے یا آپ کے گھر چلیں۔

ہم انہیں مین ہٹن کے ایک ریستوراں میں لے گئے۔خان جی نے کھانا تو ساتھ کھایا مگر کسی سے ملاقات کا کہہ کر خود نکل لیے۔ ہمیں لگا کہ ایک مہذب جوڑے کے طور پر انہوں نے اس رکاوٹ کے بھاری پتھر کو تعلقات کے غار سے ہٹانے کے لیے ہمیں ایک قابل اعتماد دوست جاناہے۔

بٹ رنٹ پارک

چی کو ویسے تو ہم نے ہمیشہ سے کم گو پایا۔ لیکن لگتا تھا کہ آج وہ بولے گی ۔اسے ایک ایسا نقطہ ء نظر ہماری صورت میں دستیاب ہوگا جواس معاملے کو ایک غیر جانبدار مگر باخبر اور روشن خیال دوست کے طور پر دیکھ کر اسے کسی فیصلے پر پہنچنے میں مدد دے گا۔

شیری چلا گیا تو کہنے لگی بات کچھ بھی نہیں۔اب کی دفعہ میں سراندے سے کورفو چلی گئی۔شیری کو میں نے بہت کہا کہ وہ ساتھ چلے۔اس کا کہنا تھا کہ اس کی کئی سو سالیوں میں ایک سالی کی بڑی بیٹی کی شادی ہے۔وہ بڑا بہنوئی ہے۔اس کی عدم موجودگی خاندان میں بہت سے سوالات کو جنم دے گی۔مجھے یہ سہ ماہی تعطیلات اچھی لگتی ہیں۔ پاکستان میں تو بہت ڈھکا چھپا رہنا پڑتا ہے۔میں پانی کی مچھلی ہوں۔۔سراندے میں بٹ رنٹ پارک کی سیر کے دوران جانے کہاں سے دیمتری پہنچ گیا۔مجھے کہنے لگا میں نے تمہاری فرقت میں شادی نہیں کی۔ کیا میں شیری کو چھوڑ سکتی ہوں۔میرے اندر کی عورت کچھ عجب مخمصوں کا  شکار تھی۔اپنی تنہائی اور دولت کے قصے اس انداز سے سنائے کہ مجھے اپنے ایام رفاقت یاد آگئے۔ہم نے پھر سے وینس اٹلی کے انہی مقامات کی سیر کی ۔مجھے وصل کی وہ راتیں، اپنا ضائع کردہ بچہ سب بہت یاد آئے۔ مجھے لگا وہ سفر جو میں نے ایک کمسن الہڑ دوشیزہ کے طور پر کیا تھا ۔ اس کے جذبات اور اب تیس برس کی چی میں کوئی فرق نہیں۔مجھے دیمتری کا والہانہ پن بھی اچھا لگا۔ شیری ایسا نہیں۔چھوتا ہے تو لگتا ہے کہ آنکھ میں آنسو آیا ہے بچھڑنے کو ، بہہ جانے کو بے تاب۔ دینتری چھوتا ہے تو مانو کسی ماہر نے بٹرے کنسرٹ سے پہلے وائلن پر پیار سے کئی کئی دفعہ دھیمے سے مزے لے کر گز پھیرا ہو

میں عجب الجھن میں تھی۔ دیمتری کی ضد اور پہلی محبت کا ذائقہ اتنا نشیلا تھا کہ ضبط کرنے میں مجھے خاصی دشواری ہوئی۔جب دیمتری کی ضد اور پرانے تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کا اصرار جاری تھا۔اس وقت میرے لیے دو راستے تھے۔ میں یا تو اس کی خاطر ڈاکٹر شیری کو چھوڑ دیتی ۔ایسی صورت میں اپنا دیس ، اپنا ماحول ، اپنا پہلا پیار مجھے سب کچھ مل جاتا یا میں وہ عرصہ ء رفاقت جو اس کے ساتھ گزرا تھا اسے ایک دفعہ شعوری طور پر اور بے دھڑک اپنی مرضی سے جی لیتی۔

میں نے دوسرا راستہ چنا۔ ایک وفادار بیوی کا۔ ۔یہ سوچ کر کہ شیری کو جو ہوا وہ سب بتادوں گی ۔

میں قائل ہوں کہ یہ میری غلطی نہیں۔ میں پرانی محبت اور ، اپنے پہلے مرد کے ہاتھوں   مجبور تھی۔

میں بہت بنیادی رویوں کی مالک ہوں۔تعلقات میں مجھے منصف بن کر سوچنا اچھا نہیں لگتا۔ سچ پوچھیں تو میری زندگی میں ساڑھے تین افراد ہیں۔میری ماں، دیمتری،شیری اور مریانا۔ اس مختصر سے خزانے میں بھی میں اگر افراد کو اپنی زندگی سے نکال باہر کروں تو میرا کام کیسے چلے گا۔

ٹریلر ہوم

واپسی آسان نہ تھی۔میں شیری کی بیوی ضرور ہوں مگر مجھے بخوبی علم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے سیکنڈ بیسٹ ہیں۔ہم ایک دوسرے کی پہلی ترجیح نہیں۔میری محبت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اس آزار کا ذکر کروں جو شیری کی رفاقت کے سُکھ نے بخشا ہے۔اس میں کوئی بنیاد نہیں۔یہ شادی ایک ٹریلر ہوم جیسی ہے۔اس میں خاندانی حویلی والی شان و شوکت اور نہ ٹوٹنے والے تعلق کی کیفیت نہیں۔

ہم نے پوچھ لیا کہ آپ کیا اس ارادے سے واپس آئی ہیں کہ دیمتری کی طرف واپس جانا ہے۔

وہ بہت دیر چپ رہی۔ایک فاصلہ رکھنے والی عورت کی خاموشی کا یہ عرصہ خاصاگراں گزر رہا تھا۔ بہت دیر بعد وہ گویا ہوئی کہ۔۔میں نے اتنا دریچہ ضرور کھلا رکھا ہے کہ اگر شیری یہ سب سن کر مجھے طلاق کا کہتا ہے تو میں دیمتری کی جانب لوٹ جاؤں گی۔میں نے اسے اتنا قائل کرلیا ہے کہ جب وہ مجھے چھوڑ گیا تھا اور امریکہ میں مجھے کسی مناسب مرد کی تلاش تھی شیری ہی وہ مرد تھا جو میرے لیے اس کا بہترین نعم البدل تھا ۔اس لحاظ سے شیری کاFirst Right of Refusalبنتا ہے۔

ہماری عمر کا تفاوت   بہرحال ایک خلیج تھا، جس سے سمجھوتا کرنا پڑا۔اس نے مجھے حتمی جواب کے لیے چھ ماہ دیے ہیں۔
جس طرح شیری کے لیے یہ باور کرنا مشکل ہے کہ ایک متروکہ مرد سے دوبارہ کیسے تعلق جوڑا جاسکتا ہے اسی طرح دیمتری کے ذہن میں بھی میرے اس اجنبی ماحول ، ملک  میں خوش رہنے اور اسے نظر انداز کرنے کے بارے میں بے شمار سوالات ہیں۔

تم بتاؤ  میں کیا کروں۔خان جی آگئے۔ہم نے اسے سمجھایا کہ جب سب بات ڈاکٹر شیری کو بتادی گئی ہے تو وہ ان کی جانب سے اشارے کا انتظار کرے۔ وہ اسے چھوڑنے کا کہے تو بحث لا حاصل ہوگی۔یہ سوچا سمجھا فیصلہ ہوگا۔اس میں ایک مرد کا دل و دماغ کارفرما ہوگا بس اتنا یاد رکھے کہ جو کچھ آپ کرتے ہیں اس کے  ثمرات کو تو بدلا جاسکتا ہے مگر جو کچھ آپ کا دل چاہتا ہے اسے نہیں بدلا جاسکتا۔
اس دوران وہ کورفو اور وینس اکیلے جانے سے بھی گریز کرے۔
اس بات کو اب دو ماہ ہوئے۔

ڈاکٹر شیری کا پچھلے ہفتے فون آیا تھا۔ کہہ رہے تھے ،شیری چلی گئی ہے اور اس نے دیمتری سے وینس میں شادی کرلی ہے۔ہم نے کہا آپ کہاں ہیں ؟ تو جواب ملا” ترکی میں مگر اب کی دفعہ کسی کی ہائی پاور رائفل چھڑانے کا معاملہ نہیں۔کوئی ایسی بات کرو جس سے میرا دل  بہل جائے”۔ ہم نے کہا پنجابی کہتے ہیں۔ جیوے میرا بھائی تے گلی گلی پرجائی(بھابھی)۔آسماں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ تا دیر ٹوٹے ہوئے تاروں کا ماتم کرے۔ویسے بھی عورتوں کے معاملے میں شاعر گلزار کی یہ بات یاد رکھیں کہ

ع ہر چوٹ مزہ دیتی ہے، جینے کی سزا کی دیتی ہے

SHOPPING

اور دل کو ہر وقت اس بات پر آمادہ رکھیں کہ کوئی مناسب حسینہ قریب ہو تو اس کی جھوٹی موٹی باتیں سن کے، گنگناتی آنکھیں سن کے،جلاوے بجھاوے ، بجھاوے جلاوے موم بتیاں۔۔

SHOPPING