کشمور ریپ کیس: مرکزی ملزم رفیق ملک ہلاک، پولیس

SHOPPING

کشمور ریپ کیس کا مرکزی ملزم رفیق ملک ساتھی کی گرفتاری کے دوران پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ رفیق ملک اپنے ہی ساتھیوں کی گولیاں کا نشانہ بنا۔

ایس ایس پی کشمور امجد شیخ کا کہنا ہے کہ کشمور گینگ ریپ کے مرکزی ملزم کو مفرور ساتھی خیر اللہ بگٹی کی گرفتاری کیلئے پولیس اپنے ہمراہ سوئی لے کر گئی تھی۔

پولیس کے مطابق خیر اللہ بگٹی نے کارروائی کے دوران پولیس پر فائرنگ کردی، گولی لگنے سے گینگ ریپ کا مرکزی ملزم رفیق ملک ہلاک ہوگیا، پولیس نے دوسرے ملزم خیر اللہ بگٹی کو حراست میں لے لیا۔

کشمور میں ماں اور 4 سالہ بچی سے اجتماعی ریپ کے ایک ملزم کو منگل کی رات متاثرہ خاتون کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا، ملزمان نے کراچی سے نوکری کا لالچ دے کر بلوائی گئی خاتون کو بچی سمیت اغواء کرلیا تھا، دونوں کو کئی روز تک ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق کشمور میں ریپ اور تشدد کی شکار بچی چند گھنٹوں کیلئے ہوش میں آئی مگر دوبارہ حالت بگڑنے پر اسے چانڈکا اسپتال کے چلڈرن ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے کشمور میں ریپ کی شکار چار سالہ بچی کو اچانک کراچی روانہ کردیا، اجتماعی ریپ کا نشانہ بننے والی ماں بھی ایمبولینس میں بچی کے ہمراہ ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریپ کی شکار ماں اور بیٹی کو کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

اجتماعی ریپ کی متاثرہ خاتون اور بچی کی ماں حکام سے بار بار انصاف کی اپیل کررہی ہے۔

ماں اور 4 سالہ بچی کے ساتھ ہونیوالے اجتماعی ریپ پر کشمور اور جيکب آباد ميں سول سوسائٹی کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔

پولیس نے متاثرہ خاتون کی شکایت پر چھاپہ مار کر مرکزی رفیق ملک کو گرفتار کرلیا تھا، جسے عدالت نے 3 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔

SHOPPING

پوليس کا کہنا ہے کہ مفرور آخری ملزم کی تلاش جاری ہے، گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنیوالوں کو سخت ترین سزا دلوانے کیلئے مقدمے ميں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کرلی گئی ہیں۔

SHOPPING