• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نواز شریف کا داماد کے بیان سے اظہار لاتعلقی۔ طاہر یاسین طاہر

نواز شریف کا داماد کے بیان سے اظہار لاتعلقی۔ طاہر یاسین طاہر

کچھ باتیں طے شدہ ہوتی ہیں، جیسےآسمانی اصول۔ان اصولوں،تعلیمات اور اخلاقیات کو اپنی طبع، مزاج اور مفادات کے تابع لانے والے آخر کار ناکام ہوتے ہیں،یہی ان کا مقدر ہے۔ختم نبوتﷺ ہر مسلمان کا ایمانی عقیدہ ہے۔ میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔قیامت تک کے لیے یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے۔احمدیوں کے عقیدےسے ہر مسلمان کو اختلاف ہے اور تحفظات ہیں۔لیکن جب ہم جدید ریاستی نظام کے تابع کسی ریاستی بندوبست کا حصہ بنتے ہیں اور پارلیمان،سمیت کچھ اداروں کو ذمہ داریاں تفویض ہوتی ہیں تو یہاں اس امر کو لازم دیکھا جائے کہ ریاستی حدود میں ہر مذہب، مسلک اور نظریے کے لوگ آباد ہوتے ہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ کچھ ریاستیں مذہبی نظریاتی پس منظر کے باعث وجود میں آئیں۔ جیسے اسرائیل۔ وہاں یہودیوں کو آباد کیا گیا۔ کیا پاکستان میں بھی چن چن کر صرف مسلمانوں کو آباد کیا گیا؟ نہیں ایسا نہیں۔ اگرچہ پاکستان کے معرض وجودمیں آنے کے اسباب میں مذہبی جذبہ شامل ضرور تھا۔اپنی مرضی سے جن لوگوں نے ہجرتیں کیں،انھوں نے کیں، کئی غیر مسلم پاکستانی علاقوں سے ہندوستان کی طرف گئے اور لاکھوں مسلمان پاکستان کی محبت میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان کی طرف آئے۔ہجرتوں کا سفر نہایت تکلیف دہ اور پریشان کن تھا۔ہمارا موضوع مگر قیام پاکستان اور اس کے اسباب نہیں۔ریاستی نظام میں اقلیتوں کے حقوق ہے۔دنیا کی کوئی بھی ریاست اور حکومت اپنی اقلیتوں سے بے رغبتی نہیں برت سکتی،اگر کوئی ریاست یا حکومت ایسا کرتی ہے تو اسے متعصب ریاست ہی کہا جائے گا،اور کچھ بھی نہیں۔

الحمد اللہ،پاکستان کبھی بھی متعصب ریاست نہیں رہا۔ بلکہ یہاں ہر مذہب، مسلک، اور نظریہ کے لوگ باہم شیر و شکررہے۔تسلیم کرنے میں ہرج نہیں کہ گذشتہ تین چار دھائیوں سے شدت پسندی اور دہشت گردی نے اپنی پنجے گاڑھے ہیں، اور لوگوں کا مسلکی و نظریاتی بنیادوں پر قتل عام بھی ہوا۔ تکفیر ی فتوے بھی جاری ہوئے۔ اس کے باوجود ریاست اپنی اصل میں قائم ہے اور ریاستی اداروں میں تمام نظریات کے لوگ اپنی اپنی صلاحیت و قابلیت کے مطابق خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
تحفظات موجود ہیں،کوئٹہ کے ہزارہ کو،پوری شیعہ کمیونٹی کو،مگر یہ اقلیت نہیں،مسلکی نظریات کی بنا پر دہشت گردوں کی دہشت گردی کا شکار ہیں۔بریلویوں کو تحفظات ہیں،کس بات کے؟کہ انھیں مشرک اور بدعتی کہا جا رہا ہے۔ہندئووں کو تحفظات ہیں،کس بات پہ؟ یہی کہ سندھ میں بالخصوص ان کی کم عمر لڑکیوں کو اغوا کر کے ایک درگاہ والے زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں۔عیسائیوں کو بھی تحفظات ہیں،کہ ان کے چرچ پر حملے ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ریاست  اپنےتمام  شہریوںکو تحفظ دینے کی ضامن ہے اورانھیں نوکریاں دینے کی بھی۔یہی جدید ریاستی نظام ہے جو مہذب معاشروں نے اپنایا،اسی میں سماجی حیات کی بقا ہے۔ یہ بات بڑی فضول اور بے معنی ہے کہ کسی خاص کمیونٹی کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر نشانہ بنایا جائے۔حضرت آپ کو اگر اسلام اور جناب رسالت مآب وﷺ سے اتنی ہی محبت ہے تو آپﷺ کی تعلیمات کی طرف رخ کیجیے اور دنیا و سماج سے نفرتوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔مذہبی کارڈ کھیل کے کیپٹن(ر)صفدر نے ایک خاص مذہبی گروہ کی حمایت حاصل کی ہے، وہی گروہ جس نے ممتاز قادری کی پھانسی پہ نون لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ سماج کے با بصیرت اور اسلام کی تعلیمات کو گہرائی سے جاننے والوں نے سابق وزیر اعظم کے داماد کی تقریر پر پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔

یہ بحث نہیں کہ احمدیوں کے عقائد کیا ہیں؟اصل مسئلہ مذہبی کارڈ کو جارحیت سے پارلیمان کے فورم پر برتنا ہے۔ اور یہی تشویش ناک بات ہے جس سے مسلم لیگ نون،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور اب خود سابق وزیر اعظم میاں نواز شرریف کی جانب سے کیپٹن(ر) صفدر کی تقریر سے اظہار لاتعلقی ہے۔سینیٹر آصف کرمانی کے توسط سے لندن سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سابق وزیر اعظم اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے سسر میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو پاکستان کے آئین اور اسلامی تعلیمات کے تحت مکمل بنیادی حقوق حاصل ہیں۔اپنے بیان میں وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقلیت مخالف بیان کا حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی پالیسی اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔گذشتہ ہفتے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف، کیپٹن (ر) صفدر کے احمدیوں کے حوالے سے دیئے گئے بیان کے ذمہ دار نہیں۔
گذشتہ ہفتے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران احمدیوں کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوج میں ان کی بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کیپٹن (ر) صفدر نے یہ بھی کہا تھا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام تبدیل نہ کیا گیا تو وہ اس پر احتجاج کریں گے۔انھوں نے عدالیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عدالتوں میں بیٹھے لوگوں سے بھی ختمِ نبوت ؐکے سرٹیفکیٹ لیے جائیں۔
احمدیوں کو اس تقریر سے جو تحفظات ہیں، وہ بیان کرتے رہیں،میرا سوال یہ ہے کہ جب ملک نازک تر دور سے گذر رہا ہے، اورپاکستان پر انتہا پسندوں کے ساتھ رابطوں کا الزام بھی لگ رہا ہے تو کیا یہ ضروری تھا کہ ایسے مرحلے پر حکمران جماعت کے خاندان کا بندہ پارلیمانی فورم سے اقلیتوں کو ملک بدر کرنے، انھیں فوج اوردیگر اہم اداروں میں بھرتی نہ کرنے اورملک کے لیے خطرہ قرار دینے جیسے بیانات دے؟ایسا قطعی غیر ضروری ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق دے۔بنیادی انسانی حقوق میں روزگار،جان و مال کا تحفظ بھی شامل ہوتا ہے۔نون لیگ نے اگرچہ کہہ دیا کہ یہ ان کی پارٹی پالیسی نہیں، مگر نون لیگ کو اپنی پارٹی پالیسی اس خاص بیان اور جارحیت کے پس منظر میں بیان بھی کرنی چاہیے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *