وکلاء سیاست اور پریشر گروپ

عدلیہ کسی بھی ریاست کا معزز اور فیصلہ ساز ادارہ ہوتا ہے۔جس کا مقصد ریاست کے تمام طبقات کو مساوی انصاف فراہم کرنا ہوتاہے۔عدلیہ کو ریاست کے ستون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ریاست کا کوئی بھی فرد عدلیہ سے بالاتر نہیں ہو سکتا ہے۔ عدلیہ اور وکلاء برادری لازم ملزوم ہیں۔ یعنی کہ بار اور بنچ کا باہمی تعلق والدین اور اولاد جیسا ہوتا ہے۔ بار عدلیہ کی ماں ہوتی ہے، کیونکہ انہی بارز سے ہی قابل وکلاء آگے چل کر عدلیہ کا حصہ بنتے ہیں اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہیں۔ بار اور بنچ کا تعلق بہت عجیب سا بھی ہے۔ ہر بار میں مختلف وکلاء گروپس کی اجارہ داری ہوتی ہے۔بار کے انتخابات میں ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے کی سر توڑ کوششیں کی جاتی ہیں۔ بہر حال ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار لازمی حصہ ہے۔ کسی بھی بار کا فخر اسکے معزز وکلاء اور ممبران ہوتے ہیں۔ وکلاء اپنی بارز کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں ہیں۔ قابل اور ریگولر پریکٹشنرز وکلاء بار کے سر کا تاج ہوتے ہیں۔
ہمارا یہ المیہ ہے کہ بار کے وہ معزز وکلاء جو سارا سال بار کا منہ نہیں دیکھتے لیکن بار الیکشنز کے قریب آتے ہی برآمد ہوجاتے ہیں اور پھر سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوجاتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں بار کے وہ ممبران جو سارا سال بار کو اپنا وقت دیتے ہیں۔لیکن الیکشن کے دنوں میں نان پریکٹشنرز وکلاء آگے قیادت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ معزز وکلاء ہوتے ہیں جنہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنے نام کے ساتھ لفظ” ایڈووکیٹ” لکھوانا ہی پسند کیا اور پھر رفو چکر ہوگئے۔نان پریکٹشنرز وکلاء جن کا مقصد اپنے وکالت کے لائسنس کی وجہ سے تھانے اور “دربار”میں اپنی روایتی سیاست کو فروغ دینا اور وکلاء میں دھڑے بندی کے ذریعے اپنے نام کو دوام بخشنا۔ وکلاء کے اس پریشر گروپ کا قابلیت اور معیار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ان وکلاء صاحبان کو وکالت کے بنیادی رموزواوقاف کا رتی بھر اندازہ نہیں ہوتا۔ وکلاء کا یہ پریشر گروپ جن کو قلندرے اور ایف۔آئی۔آر کے درمیانی فرق کا علم نہیں ہو تا، وکلاء کے اس گروہ کو نوٹس تعمیلی اور نوٹس طلبانہ کا پتہ نہیں ہوتا۔ ان معزز وکلاء کو درخواست ضمانت اور درخواست استغاثہ کا علم نہیں ہوتا لیکن یہ پھر بھی معزز وکلاء کہلاتے ہیں۔ وکلاء کے اس پریشر گروپ کا مقصد اپنے آپ کو ریگولر پریکٹشنرز پر حاوی رکھنا ہوتا ہے۔
وکلاء کا یہ گروپ بعض اوقات بنچ اور بار کے درمیان تصادم کا باعث بھی بنتا ہے۔ اور بعض اوقات بات ذاتی پسند اور نا پسند کی جانب آجاتی ہے۔برادری ازم اور دھڑے بندی اس پریشرگروپ کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ یہ معزز وکلاء الیکشن کے دنوں میں اس طرح نظر آتے ہیں جیسے بار کا سارا وزن انہی کے کندھوں پر پڑا ہوا ہے اور یہ باامر مجبوری یہ ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں پاکستان بار کونسل کا کردار کہیں نظر نہیں آتا۔ پاکستان بار کونسل کو چاہیے کہ وہ ایک ایسی قانون سازی کریں جس سے نان پریکٹشنرز وکلاء ایڈووکیٹ تو رہیں لیکن بار کے انتخابات میں ان سے ووٹ کا چھین لیا جاۓ۔تاکہ متوازن اور قابل وکلاء قیادت کے لئے میدان میں آئیں۔ اور ان پر یہ شرط عائد کی جانی چاہیے کہ وہ وکلاء جو ایک سال میں کم از کم تین مقدمات میں بطور وکیل مدعی یا ملزم پیش ہوا ہو، وہی ووٹ ڈالنے کا حقدار ہوگا۔
پاکستان میں روایتی ڈیرہ داری اور سیاست کا آج بھی بول بالا ہے۔ آج بھی اس کو وکیل تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس ڈیرہ ہو۔لیکن حضرات کو ٹرائل کا علم نہیں ہوتا۔ یہ معزز وکلاء روایتی پنچائیت کے تو ماہر ہوتے ہیں لیکن قانونی علم اور مثالی فیصلوں(پریسیڈینٹ) کےمطالعہ سے لاعلم ہوتے ہیں۔ وکلاء کا یہ پریشر گروپ مقامی سیاست میں کسی دھڑے، ممبر اسمبلی وغیرہ کا چیف سپورٹر ہوتے ہیں،اور بار الیکشن میں وہی سیاستدان حضرات ان کی قربانیوں کا بدلہ بار الیکشن میں اپنی ذاتی دخل اندازی سے الیکشن لڑوا دیتے ہیں۔ جس سے وکالت کا تشخص مجروح ہوتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ وکالت اور سیاست لازم وملزوم ہیں۔ لیکن وکلاء کے معاملات خود وکلاء ہی دیکھیں تو بہتر ہوتا ہے۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *