• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • وسیلے غیب کے لیکن ہمارے ہاتھ میں ہیں۔محمد اظہار الحق

وسیلے غیب کے لیکن ہمارے ہاتھ میں ہیں۔محمد اظہار الحق

وزیر اعلیٰ اگر برا نہ مانیں اور کسی اچھے ماہر نفسیات کے پاس جائیں تو کیا عجب اس اذیت سے چھٹکارا پا لیں، جس میں وہ مبتلا ہیں،گرسنگی سے تنگ آئے ہوئے قلاش نے ستارو ں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بابا مجھے تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں۔۔

وزیر اعلیٰ کے اعصاب پر عمران خان سوار ہیں۔ لگتا ہے عمران خان کی لیڈری کی چمک دمک قائم ہی اسی لیے ہے کہ شہباز شریف صاحب اسے ہمیشہ خبروں میں رکھتے ہیں۔
“جو پشاور میں کچھ نہ کرسکے،ہمارے منصوبوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ”
“منافقت چھوڑو،اشتہار بازی سے قوم کو گمراہ نہ کرو”
“مخالفین کو ڈر ہے اورنج ٹرین بن گئی تو انہیں لاہور دسے ووٹ نہیں ملیں گے”
“نیازی صاحب کو جھوٹے الزامات کا جواب دینا پڑے گا”
“اپنے صو بے میں صحت عامہ ٹھیک کر سکے نہ میٹرو ٹرین”

یہ سرخیاں تو پرنٹ میڈیا کی ہیں،عارضے کا اصل رنگ دیکھنا ہو تو ٹی وی پر بولتے سنیے،تین چار دن پہلے ایک اینکر پرسن انٹرویو لے رہا تھا ،بیچارہ بار بار کوشش کرتا کہ وزیر اعلیٰ اس کے سوالوں کے جواب دیں مگر سوئی تھی کہ نیازی صاحب پر اٹکی ہوئی تھی، بالآخر اس نے کہا کہ عمران خان کا الگ انٹر ویو لیا ہے یا شاید یہ کہا کہ لیں گے، مگر وہ اپنے پسندیدہ موضوع سے ہٹنے کو تیار ہی نہ تھے۔

دماغی امراض کے شفا خانے میں ایک مریض کے اعصاب پر غلیل چھائی ہوئی تھی،، اس سے پوچھتے باہر جا کر کیا کرو گے؟ جواب دیتا غلیل بنا کر نشانہ بازی کروں گا۔ڈاکٹر نے ٹارگٹ مقرر کیا کہ جس دن اس کا جواب مختلف ہوگا اس کو نارمل قرار دے کر فارغ کردیں گے، سال گزر گیا ۔سال کے بعد بلایا گیا، پوچھا باہر جاکر کیا کرو گے،جناب نئی سائیکل خریدوں گا۔ ڈاکٹر کے چہرے پر رونق آگئی،ما شا اللہ،سائیکل پر سوار ہو کر کہاں جاؤ گے؟۔۔۔جی جانا کہیں نہیں،اس کی ٹیوب کاٹ کر غلیل بناؤں گا،
ایک سال گزر گیا،پھر انٹر ویو ہوا،باہر جا کر کیا کرو گے؟۔۔کسی اچھے برانڈ کا امپورٹڈ سوٹ خریدوں گا،نکٹائی اورانڈر وئیر کے ساتھ،ڈاکٹر کو یقین تھا کہ آثار صحت ہیں،پہن کر کہا ں جاؤ گے؟۔۔۔ جی پہننا کیا ہے،انڈر وئیر سے الاسٹک نکال کر غلیل بناؤں گا۔

چلیے آپ نے میٹرو بنا لی،موازنہ صرف کے پی سے کیوں کرتے ہیں،سندھ والوں سے بھی تو کہیے نا کہ ہماری حکومت ہوتی تو چار جگہوں پر میٹرو چلا دیتے۔ مگر کے پی کا ذکر اس لیے بار بار کرتے ہیں کہ خطرہ مراد علی شاہ یا زہری سے نہیں بلکہ عمران خان سے ہے۔کیا پتہ نیند میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہوں کہ عمران خان آرہا ہے۔

سیاستدانوں میں حلم ہوتا ہے نہ متانت،شائستگی ہوتی ہے نہ صبر و ضبط،الا ماشااللہ،مولانا مودودی اور فیض صاحب نے عمر بھر مخالفین کے خلاف کچھ نہ کہا، ذکر تک نہ کرتے، لوگ توجہ دلاتے، لقمے دیتے،کوشش کرتے کہ کچھ کہیں، بات بڑھے اور آگ پر ہاتھ سینکے جائیں،مگر اشتعال دلوانے والے کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔ کیا لوگ تھے،اس آیت کی عملی تفسیر کہ جب بھی لغو کے پاس سے گزرو تو بس متانت سے گزر جاؤ۔

اہل ِ سیاست میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اپنے پروگرام،اپنے نصب العین،اپنے منشور کے بارے میں بات کرے۔یوں لگتا ہے سامنے دستر خوان بچھا ہے،اس پر مخالف کی ہڈیاں اور گوشت پڑا ہے ۔گوشت کھا رہے ہیں، اور ہڈیاں چچوڑ رہے ہیں،چچوڑ نے کے وزن پر لفظ تو ایک اور بھی ہے مگر چلیے،جانے دیجئے۔۔۔ اس کا استعما ل نہیں کرتے۔

پرسوں وزیر اعظم نے دارالحکومت سے جنوب مغرب کی طرف 83کلو میٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں میں تیل اور گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کا افتتاح کیا،تصویر میں ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ بھی کھڑے ہیں،قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ وہی گاؤں ہے جس کے لیے دس سال پہلے میجر طاہر صادق کی ضلعی حکومت نے ڈسپنسری منظور کی تھی، گاؤں والوں نے زمین ناصرف دی بلکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر جاکر حکومت کے نام بھی کردی، اس کے فوراً بعد لاہور کا شاہی خاندان برسرِ اقتدار آگیا۔ وہ دن اور آج کا دن خادمِ اعلی کی حکومت نے اس ڈسپنسری کے فنڈ جاری نہیں کیے۔ڈی سی او نے کیس بھیجا،گاؤں کے مکینوں نے اخبارات کے ذریعے دہائی دی،مگر بیس لاکھ روپے ریلیز نہ ہوئے۔شاید اس لیے کہ ضلعی حکومت سیاسی مخالف تھی۔یا شاید اس لیے کہ ایک کالم نگار جو راس نہیں آتا ا،اس گاؤں سے تھا۔

یہ جو خلق خدا تخت لاہور سے نفرت کرتی ہے توبے سبب نہیں، آپ اندازہ لگائیے وسطی پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں میں کچھ ہوجائے تو بیوروکریٹس کو غلاموں کی طرح ساتھ لیے فوٹو گرافروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ حضرت پہنچتے ہیں مگر راولپنڈی میں کچھ سال پہلے محرم کے موقع پر اتنا بڑا سانحہ ہوا،قیامت گزر گئی، مگر وہاں نہ آئے۔

ان کی کچن کابینہ ہو یا نوکر شاہی ان میں عدم تحفظ کا احساس اتنا شدید ہے کہ وسطی پنجاب کی ایک چھوٹی سی تنگ سی پٹی کے باہر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ان کے قریب تر ساتھی دیکھ لیجئے، جناب عابد شیر علی ،جناب خواجہ سعد رفیق،محمد آصف صاحب، اسحاق ڈار،خرم دستگیر،احسن اقبال،رانا ثنا اللہ،طلال چوہدری،دانیال عزیز،سب اسی پٹی سے ہیں۔باقی سارے پنجاب سے ایک دو،اندرون سندھ سے کوئی نہیں،کراچی سے ایک آدھ،کے پی سے ایک آدھ یا زیادہ سے زیادہ دو۔

1999میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اس کے فوراً بعد ایک معروف انگریزی معاصر نے پے در پے خبریں شائع کیں کہ کس قدر کوتاہ نظری اور تنگ دلی کے ساتھ امورِ مملکت چلائے جارہے تھے،چالیس سے زیادہ کلیدی اسامیوں پر بیٹھے ہوئے بڑے بڑے بیوروکریٹ ایک خاص علاقے ایک خاص برادری سے تھے،وزیر اعظم نے تیس افراد ایف سی آئی میں رکھوائے، جن میں سے ستائیس اٹھائیس ایک خاص برادری اور علاقے کے تھے۔

صدر ایوب نے دارالحکومت کراچی سے شمال منتقل کیا تو ایک دل جلے نے(شاید ان کا نام حسن شیخ تھا)کہا تھا کہ ہاں،سمندر بھی اٹھا کر اسلام آباد لے جاؤ۔خدا کی قسم ان کا بس نہیں چلتا،ورنہ یہ تیل بھی رائے ونڈ کے نواح میں نکالتے۔ان کی بینائی اتنی ضعیف ہے کہ اپنے شہر سے پرے دھند اور خلا کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا،انصاف ہوتا تو سب سے پہلے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان انڈر گراؤنڈ ریلوے کی تعمیر ہوتی۔اورنج ٹرین سے لے کر پلوں،شاہراہوں اور انڈر پاسسز تک ہر تعمیراتی کام صرف ایک شہر میں ہوا۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک مجبور و مقہور شاہراہ ہے جسے ایکسپریس ہائی وے کہتے ہیں،اس ائیر پورٹ چوک سے لے کر روات والے چوک(جی ٹی روڈ)تک سفر کریں تو اذیت کرب اور ذہنی دباؤ کے سبب عوام کا بھیجا جسم سے باہر نکلنے کو ہوتا ہے۔چند کلو میٹر کا یہ فاصلہ گھنٹو ں میں طے ہوتا ہے۔سڑک کا یہ ٹکڑا لاہور میں ہوتا تو برسوں پہلے اس مسئلے کا حل ہوچکا ہوتا۔مگر قدرت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ان دور افتادہ محروم توجہ علاقوں کے بہت سے پہلو قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھے۔انہی میں معدنیات بھی ہے،واہ رے قدرت!جس بستی میں دس سال سے حقیر رقم نہیں دی جارہی،اس صوبے کے حکمران اعلیٰ کو بنفس نفیس آکر،وزیر اعظم کے استقبال کے لیے کھڑا ہونا پڑا۔
میں کوچہ ء رقیب میں بھی سَر کے بَل گیا!

یہ علاقے جو اس شاہی خاندان کو نظر ہی نہیں آتے،جنوبی پنجاب،بہاولپور،اٹک،میانوالی اور کچھ اور یہاں کے غریبوں کو قدرت نے ایسا ایسا ٹیلنٹ عطا کیا ہے کہ بقول ایک مشہور و معروف کالم نگار ان کے بدشکلے،بد عقلے بچے اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔یوں بھی سرکاری وسائل سے جمع شدہ پروٹوکال کے سوا ان کے پلے کیا ہے؟ہزاروں پہریداروں،ایلیٹ فورس،پولیس،سرکاری گاڑیاں، خوشامدیوں کے غول،بے پناہ حکومتی وسائل، یہ نہ ہو تو انہیں کوئی فیکٹری میں فورمین اور اپنے ادارے میں کلرک بھی نہ رکھے۔
یہ چند نہیں،ہزار بیش بہا اپارٹمنٹ،دنیا کے عظیم الشان شہروں میں خرید لیں،کارخانے لگا لیں،سونے کی بنی ہوئی بی ایم ڈبلیو گاڑیا ں سواری کے لیے لے لیں،انہیں آکسفورڈ،کیمبرج اور ہاورڈ کے دروازوں کے قریب بھی نہ جانا نصیب ہوگا۔اس لیے کہ ذہانت،عقل ٹیلنٹ قدرت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔اس کائنات کا پروردگار ایسے لوگوں کو دولت بے پناہ دیتا ہے اور اقتدار بھی، مگر ذہانت اور ٹیلنٹ نہیں دیتا،تاکہ یہ ایکسپوز ہوں۔ان کی قلعی کھل جائے۔

تین بار وزیر اعظم رہنے والے جہاں پناہ سے کہیے کہ تین منٹ،صرف تین منٹ،پاکستان کے تعلیمی نظام پر،یا پاکستان میں مطلوب زرعی اصلاحات پر،یا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرکے دکھا دیں، یا یہ پوچھ لیجئے کہ ان کے ذہن میں پولیس کا بیورو کریسی کا نیا نظام کیا ہے۔؟
تمھارے جاہ و ثروت سے ہمیں انکار کب ہے
وسیلے غیب کے لیکن ہمارے ہاتھ میں ہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *