• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جو بائیڈن نے ٹرمپ کو کیسے شکست دی اور اب اُن کے اگلے چیلنج کیا ہیں؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

جو بائیڈن نے ٹرمپ کو کیسے شکست دی اور اب اُن کے اگلے چیلنج کیا ہیں؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

عالمی امن و امان کو تہہ بالا کرنے جیسے حماقتیں دہراتے رہنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بالآخر دوسری دفعہ صدر بننے سے روکتے ہوئے جوبائیڈن نے اگلے امریکی صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی سب سے اہم پوزیشن پر پہنچنے والے 78 سالہ جو بائیڈن نے مسلسل 50 سالوں تک امریکی سیاست میں محنت کر کے یہ اعزازحاصل کیا ہے۔ جو بائیڈن کی مسلسل محنت اور امریکہ کے لئے اُن کی خدمات اپنی جگہ لیکن اس اہم ترین مقام تک انہیں پہنچانے میں جس شخص نے اُن کا بھرپورساتھ دیا وہ اُن کے حریف اور انتخابی مدمقابل ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ سنہ 2016ء میں اُس وقت کی سب سے مقبول ڈیموکریٹک امیدوار اور کرشماتی شخصیت کے مالک سابق صدر باراک اوبامہ کی حمایت یافتہ ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر وائیٹ ہاؤس میں پہنچنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں آج سے 4 سال پہلے پشین گوئی کی جا رہی تھی کہ وہ سنہ 2020ء کا صدارتی الیکشن بآسانی جیت لیں گے اور ٹرمپ کے مقابلہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس کوئی مضبوط صدارتی امیدوار موجود نہیں ہو گا۔ جو بائیڈن نے اس موقع پر اگلا صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کر دیا اور وہ پہلے دن سے ہی پُر اعتماد تھے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرا کر اگلے امریکی صدر بن جائیں گے۔ شاید بہت سوں نے ایسا نہ سوچا ہو اور جو بائیڈن کے اعتماد کو مشکوک نظروں سے دیکھا ہو۔

سنہ 2016ء کے انتخابات میں ٹرمپ کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اُس وقت سمجھا جاتا تھا کہ ہیلری کلنٹن کو عامۃ الناس کے ساتھ ساتھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ آخر کیونکر ہیلری کلنٹن کو یہ حمایت نہ حاصل ہوتی۔ وہ امریکی تاریخ کے مقبول ترین صدور میں سے ایک بل کلنٹن کی زوجہ ہیں اور اس کے علاوہ کرشماتی شخصیت کے مالک سابق صدر باراک اوبامہ کے پہلے دور صدارت سنہ 2008ء تا 2012ء کے دوران اُن کی وزیر خارجہ رہ چکی تھیں۔ بل کلنٹن کے دور صدارت میں جب اُن کے خلاف صدارتی دفتر کی ایک ملازمہ کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات رکھنے اور اُس کے بارے میں جھوٹ بولنےکے الزام کے تحت  مواخذہ کی تحریک چلی تھی تب بھی امریکی عوام کی ہمدردیاں ہیلری کلنٹن کے ساتھ تھیں۔ امریکی میڈیا انہیں تب بھی آئرن لیڈی کے نام سے یاد کرتا تھا جو اپنے شوہر کی بے وفائی کے باوجود بھی امریکہ کے لئے اُس کے ساتھ کھڑی رہی تھی۔ امریکی عوام کے لئے وہ ہیروئن تھی اور اُسے شکست دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے ایسا کر دکھایا تھا۔ ٹرمپ نے ایسے وقت میں صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تھا جب امریکہ کی قومی سطح پر فضا سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھی۔ ٹرمپ نے جیتنے کے لئے خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے طور پر پیش کیا۔ ٹرمپ نے ہر اہم پالیسی معاملہ پر اپنا اس طرح کا رد عمل ٹویٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ دیا جو امریکی سیاسی اشرافیہ کی اختیار کردہ لائن کے خلاف تھا۔

tripako tours pakistan

سنہ 2016ء کے انتخابات میں ٹرمپ نے جیتنے کے لئے امریکہ کے مقامی مسائل پر فوکس کیا۔ انہوں نے سفید فام اکثریت کے مسائل کو ترجیح دی جو امریکہ میں باہر سے آ کر آباد ہونے والے امیگرینٹس کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے تیزی سے کم ہوتی نوکریوں سے پریشان تھی۔ ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں میں کالج سے نیچے تعلیم رکھنے والے امریکیوں کی اکثریت تھی جو سیاہ فام، ہسپانوی، میکسیکن اور مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے خفاء تھی اور اپنے مسائل کے لئے ان کمیونیٹیز کو ذمہ دار سمجھتی تھی۔ ٹرمپ کی طرف سے ایسے معاملات میں سفید فام اکثریت کی حمایت نے ہیلری کلنٹن کو شکست سے دوچار کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اُن انتخابات میں زیادہ تر توجہ اُن ریاستوں کے ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے میں رہی تھی جنہیں سوئنگ ریاستیں کہا جاتا ہے جو روایتی طور پر کبھی ڈیمو کریٹ کو جتواتی ہیں تو کبھی ری پبلکن کو۔ ٹرمپ کی یہ مہم کامیاب رہی اور وہ ہیلری کلنٹن جیسی مضبوط ترین امیدوار کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ لیکن ٹرمپ کی اس نسل پرستانہ انتخابی مہم کا نتیجہ یہ نکلاکہ کثیر النسل امریکی معاشرہ شدید نسل پرستی کا شکار ہو گیا۔ سفید فام اکثریت کے ایسے لوگوں میں ٹرمپ کی مقبولیت آج بھی بہت زیادہ رہی جو کالج کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے تھے لیکن پڑھے لکھے امریکی ااور ٹرمپ کی نسل پرستانہ کمیونیٹیز کے ووٹر ٹرمپ کے خلاف پچھلے 4 سالوں کے دوران متحد ہونا شروع ہو گئے۔ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی سے جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف جاتی ہوئی عوامی لہر میں تیزی اُن واقعات کی وجہ سے آتی گئی جب سفید فام نسل پرست پولیس اہلکار نے سیاہ فام جارج فلائیڈ کو گرفتاری کے وقت گلے پر گھٹنا رکھ کر سانس بند کر کے جان سے مار دیا۔

ان 4 سالوں کی صدارت کے دوران ٹرمپ نے عملی طو رپر بھی اپنے ووٹرز کو مطمئن رکھنے میں کوئی اہم کردار نہ ادا کیا۔ عالمی سطح پر بھی ٹرمپ نے دنیا کے امن و امان کو آگ لگانے کی پوری کوشش کی۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر کے وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلہ سے لے کر متحدہ عرب امارات، بحرین وغیرہ سے اسرائیل کو تسلیم کروانے، ایرانی فوج کے القدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمانی کو قتل کروانے، چین کے ساتھ ٹریڈ کے معاملات کو سمجھداری سے حل کرنے کی بجائے اُسے سخت کشیدھی تک پہنچانے، عراق، افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کے اعلانات کر کے اُن میں اضافہ کرنے، بین الاقوامی نیوکلئیر ایجنسی، یورپی یونین، ایران اور امریکہ کے درمیان ہوتے معاہدہ کو یکسر ختم کر دینے، کورونا وائرس کے دوران عام امریکیوں کی میڈیکل سہولیات کو مینج نہ کر سکنے، باراک اوبامہ کے اوبامہ کئیر جیسے بہتر نظام صحت کو ختم کرنے، سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کا ذمہ دار چین کو قرار دینے، یوکرائن کے صدر کو براہ راست نجی فون کر کے اُسے یوکرائن میں نوکری کرتے ہوئے جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف کرپشن کیس بنانے کی ہدایت کرنے، میکسیکو-امریکہ بارڈر پر دیوار بنانے کا اعلان کر کے اُس کا بِل میکسیکو کو بھجوانے اور امریکی امیگریشن سسٹم میں کئی سالوں سے انتظار کرتے ہوئے سائلین کی انسلٹ کرنے اور سفید فام کے علاوہ دوسری کمینونٹیز کی تذلیل کرنے جیسے اقدامات نے ٹرمپ کی مقبولیت کو تیزی سے کم کر دیا۔

سنہ 2016ء میں تو ٹرمپ خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا علمبردار کہہ کر الیکشن جیت گئے لیکن سنہ 2020ء میں وہ چونکہ خود صدر ہیں لہذا اپنی انتخابی مہم میں وہ خود کو اسٹیبلشمنٹ کے مخالف کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہے- نسل پرستانہ واقعات کے تسلسل اور ٹرمپ کے سلگتے ہوئے ٹویٹس کی وجہ سے عمررسیدہ امریکی شہریوں، شہری علاقوں کے تعلیم یافتہ رہائیشیوں اور مذہبی ووٹرز کی حمایت ٹرمپ کے لئے مسلسل کم ہوتی گئی۔ ٹرمپ کو اس بات کی کوئی تشویش نہیں تھی کہ سیاہ فام اقلیت، مسلمان ووٹروں اور خواتین میں 60٪ ووٹروں کے اُن کے مخالف جانے میں انہیں کتنے شدید نقصان پہنچیں گے۔ وہ آخری وقت تک مطمئن تھے کہ  وہ سفید فام نسل پرست اکثریت کو پھر لالی پاپ دے کر اپنے لئے ووٹ حاصل کر لیں گے- اُن کی اس خوش فہمی کے برعکس امریکی عوام کورونا وائرس سے ہوئی 2 لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں پر پریشان تھی- کورونا کی وجہ سے معیشت بُری حالت میں ہے اور بڑھتے ہوئے نسلی امتیاز اور پولیس کے موجودہ نظام کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد لوگ مزید کسی تنازعہ کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان حالات میں ڈیمو کریٹ ووٹروں اور پارٹی لیڈرز کے لئے صدر ٹرمپ کے جارحانہ اور دھمکی آمیز رویہ (جس سے ماضی میں ان کو فائدہ ہوا تھا) نے موجودہ حالات میں انہیں سخت نقسان پہنچایا۔ سنجیدہ مزاج اور پڑھے لکھے امریکی نسل پرستی کا خاتمہ چاہتے ہیں اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور اُن کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے صلح کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے وہ سب باہر نکلے اور انہوں نے ٹرمپ کی مخالفت میں جو بائیڈن کو ووٹ کیا۔

امریکی جریدے پولیٹیکو میں کنزرویٹیو نیشنل ریویو کے ایڈیٹر رچ لوری کے مطابق ٹرمپ صدارتی الیکشن ہارنے کی وجہ یہ نہیں ہو گی کہ انہوں نے کوئی بڑی قانون سازی کرنے کی کوشش کی۔ اُنہیں اس لئے بھی شکست نہیں ہو گی کہ ان کی بنائی کسی پالیسی کی وجہ سے اُن کے حامی ناراض ہو گئے۔ وہ اس لئے بھی نہیں ہاریں گے کہ وہ ایک کے بعد ایک واقعات اور بحرانوں میں گھرے ہوئے تھے۔ بلکہ ٹرمپ کی شکست کی بڑی وجہ یہ ہو گی کہ انہوں نے پے در پے جارحانہ اور متنازعہ ٹویٹس کے ذریعے خود ہی اپنی صدارت کو زمین پر دے مارا- اگر سوئنگ ریاستوں کے نتائج کی طرف بغور دیکھیں تو بخوبی اندازہ ہو گا کہ ٹرمپ کی شکست کا مارجن بہت نزدیک کا رہا۔ کسی جگہ یہ مارجن تو صرف 1٪ سے بھی کم تھا۔ سنہ 2016ء کے مقابلہ میں ٹرمپ کے حاصل کردہ ووٹ بھی زیادہ ہیں۔ یعنی سفید فام اکثریت کا وہ طبقہ اب بھی ٹرمپ کا ووٹر رہا جن کی تعلیم کالج سے نیچے تھی۔ تو اُن کے ہارنے کی وجہ یہی تھی کہ ٹرمپ کے حامیوں کے مقابلہ میں ڈیموکریٹ ووٹرز زیادہ تعداد میں باہر نکلے۔ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے ٹرن آؤٹ والے الیکشن میں ڈیموکریٹ ووٹرز نے جو بائیڈن کو تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب کروا دیا۔ ڈیموکریٹ ووٹرز کے ساتھ ان میں وہ امریکی ووٹرز بھی شامل تھے جنہوں نے بائیڈن کو ٹرمپ کی جنونیت اور جذباتیت و نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف ووٹ دیا۔

جو بائیڈن جن حالات میں کامیاب ہوئے ہیں، اُن کے بعد انہیں کہیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وہ اپنی سیاست کے آغاز سے ہی ایسے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتے آئے ہیں۔ سنہ 1972ء میں وہ اپنی بیوی، بیٹی اور 2 بیٹوں کے ساتھ اُس وقت ایک خوفناک روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گئے تھے جب وہ ڈیلاویر ریاست کے سینیٹر منٹخب ہوئے تھے مگر ابھی انہوں نے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ اس حادثہ میں اُن کی بیوی اور بیٹی کی موت ہو گئی اور اُن کو شدید چوٹیں پہنچیں۔ ان کے دونوں بیٹے بھی بمشکل بچ سکے- اس موقع پر انہیں دوستوں نے حوصلہ دیا کہ وہ امریکی عوام کے مقروض ہیں جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔ اس الیکشن میں وہ رہ پبلکن پارٹی کے معروف ترین لیڈر کو ہرا کر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ پھر وہ مسلسل 30 سال تک سینیٹر رہے اور اس دوران امریکی سینٹ میں فارن افئیرز کمیٹی کے سربراہ بھی رہے۔ انہوں نے سنہ 1978ء میں دوسری شادی کی جس سے اُن کی ایک بیٹی ہے۔ اس ذمہ داری پر رہتے ہوئے جو بائیڈن نے سنہ 1972ء سے سنہ 1990ء کے دوران سوویت یونین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرنے والے ممالک کو راضی کر لیا کہ وہ سوویت یونین کو ہتھیار فروخت نہ کریں۔ سوویت یونین کے خلاف بنے افواج کے اتحاد نیٹو کو بھی وسیع کرنے کے معاملہ میں بائیڈن نے اہم کردار ادا کیا۔ جو بائیڈن جنگ و جدل کے مخالف راہنما ہیں اور انہوں نے جارج بش سینئیر کی طرف سے سنہ 1990ء میں عراق پر حملہ کی شدید مخالفت کی تھی۔ البتہ سانحہ 9/11 کے بعد وہ افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کے حامی رہے۔عراق سے صدام کی حکومت ختم کروانے کے لئے بھی انہوں نے کوششیں کیں۔ وہ اسرائیل کے وجود کے ساتھ آزاد فلسطین کے قیام کے حامی رہے ہیں اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

وہ سنہ 2008ء کے انتخابات میں صدارت کا امیدوار بننے کے خواہش مند تھے لیکن ڈیموکریٹ پارٹی نے اس پوزیشن کے لئے باراک اوبامہ کا انتخاب کیا جو زیادہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ الیکشن جیتنے کے بعد باراک اوبامہ نے سنہ 2008ء سے سنہ 2016ء تک اپنے دونوں ادوار میں بائیڈن کو بطور نائب صدر اپنے ہمراہ رکھا۔ امریکی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ باراک اوابامہ کے دونوں ادوار میں اہم ترین پالیسی امور پر سارا ہوم ورک کرنے اور انہیں انجام دینے میں کلیدی کردار جو بائیڈن کا ہی تھا۔ یعنی باراک اوبامہ کے سارے منصوبوں اور پالیسیوں کے معمار جو بائیڈن تھے۔ سنہ 2008ء کی عالمی اقتصاد بازاری کے دوران امریکی معیشت کو سنبھالا دینے میں بھی اُن کی کوششیں قابل قدر رہی ہیں۔ یورپی یونین اور بین الاقوامی نیوکلئیر ایجنسی کے ہمراہ ایران سے نیوکلئیر ڈیل فائنل کروانے کی حد تک معاملہ پہنچانے والے بھی جو بائیڈن ہی تھے۔ بائیڈن نے اوبامہ کے ساتھ مل کر ایران پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کروا لی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایران سے معاہدہ کر کے اُسے نیو کلئیر بم بنانے کے عمل سے باز رکھا جا سکے اور کئی دہائیوں سے معطل سفارتی تعلقات کو بحال کیا جا سکے۔ سنہ 2016ء میں یہ کوشش اپنی کامیابی کو پہنچنے والی تھی کہ اس دوران امریکی انتخابات کا وقت آ گیا۔ جو بائیڈن سنہ 2016ء میں بھی صدارتی الیکشن لڑنا چاہتے تھے لیکن اس دفعہ بیچ میں ہیلری کلنٹن آ گئیں۔ شنید تھی کہ باراک اوبامہ، ہیلری کلنٹن اور جو بائیڈن میں ڈیل طے پا چکی تھی کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ایران نیوکلئیر ڈیل کو منطقی انجام پر پہنچا کر اس خطہ میں جاری کشیدگی کو ختم کروا لیں گے۔ جو بائیڈن کی انہی خدمات کی وجہ سے باراک اوبامہ نے انہیں اعلیٰ ترین امریکی سول ایوارڈ “میڈل فار فریڈم” سے بھی نوازا۔

صدر منتخب ہونے کے بعد جو بائیڈن کے پاس اب بھرپور موقع ہے کہ وہ ان تمام منصوبوں پر عمل درآمد کریں جن کے بارے میں وہ پہلے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ اس وقت امریکہ کو کورونا وائرس سے لے کر نسلی تعصب جیسے سنگین ترین مسائل کا سامنا ہے۔ بائیڈن کے لئے یہ بھی ضروری ہو گا کہ وہ نوکری پیشہ افراد کے لئے معاشی مواقع، ماحولیاتی تحفظ، صحت عامہ کے حقوق اور عالمی اتحاد کے لئے کام کریں۔ امریکہ میں رواں برس نسل پرستی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے تناظر میں بائیڈن کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے اقلیتوں کی مدد کرتے ہوئے معاشی اور سماجی پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لئے بائیڈن کو کمیونٹی پولیس کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہو گا اور اِس میں سرمایہ کاری کرنی ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ عالمی ماحولیاتی معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت امریکہ کو سنہ 2025ء تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 28 فیصد کے درجے تک لانا ہے۔ بائیڈن کے لئے ترجیح ہو گی کہ امریکہ دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل ہو۔ فی الحال تو بائیڈن کو اپنی توجہ قومی معاملات پر مرکوز رکھنی پڑے گی لیکن وہ زیادہ دیر تک کثیر الملکی اداروں اور معاہدوں سے دور نہیں رہ سکیں گے۔ انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی تنہا پسندانہ پالیسیوں کے مقابلہ میں اپنے اتحادیوں، خاص طور پر نیٹو، کے ساتھ اپنے تعلقات کو پھر سے استوار کرنا ہو گا جو ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں سے خراب ہو چکے ہیں۔ چین کے ساتھ امریکی تعلقات کی بحالی دنیا کے امن کے لئے اشد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی احمقانہ طور پر چینی مصنوعات پر یکطرفہ محصولات بڑھانے کی بجائے چین سے گفت و شنید کر کے اس معاملہ کا حل نکالنا ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بائیڈن کو صدر ٹرمپ کی ان پالیسوں کو ختم کرنا چاہئے جو میکسیکو کی سرحد پر بچوں کو والدین سے علیحدہ کرتی ہیں۔ بائیڈن کو امریکہ میں پناہ کی درخواستوں پر لگائی گئی قدغنوں کو بھی ختم کرنا چاہئے اور کئی مسلمان ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندیوں کو ختم کرنا بھی اُن کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں دنیا کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ ہر معاملہ میں ٹرمپ نے جذباتیت اور جنونیت کا مظاہرہ کر کے عالمی امن کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ کا تاثر اس وقت دنیا بھر میں ایک ناقابل اعتبار سپر پاور کا بن چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکی صدر اکیلا ہی پالیسیاں نہیں بناتا بلکہ اس کے لئے مختلف تھنک ٹینک اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ فرنٹ مین کی حیثیت ہمیشہ ہی اہم ہوا کرتی ہے۔ ٹرمپ کو دیکھ کر اُسے تقریر کرتے سن کر کسی بھی باشعور شخص کا یہی خیال ہوتا تھا کہ یہ شخص پاگل ہے- ڈپلومیسی کے تمام قوانین اور روایات کی دھجیاں اڑاتا ٹرمپ آئے دن ایسی ٹویٹس کرتا تھا کہ جنہیں پڑھ کر کوئی یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کا سب سے اہم شخص کیا اس طرح کی زبان اور لہجہ استعمال کر سکتا ہے۔ جو بائیڈن کے پاس پورے مواقع ہیں کہ وہ امریکہ کو دنیا میں اُس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوائیں مگر اس مقصد کے لئے انہیں ہتھیاروں کی بجائے بزنس کی زبان استعمال کرنی ہو گی۔ اُن کے پاس فارن افئیرز، ڈپلومیسی، معیشت اور مینجمنٹ کا وسیع تر تجربہ ہے۔ وہ باراک اوبامہ کے دونوں ادوار میں بطور نائب صدر کام کرتے ہوئے صدارتی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ اس لئے دنیا کو اُن سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ ٹرمپ کی جنگی جنونیت اور دھمکیوں کی بجائے معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کو ترجیح دیں گے تاکہ دنیا بھر میں پھیلی کساد بازاری کا خاتمہ ہو سکے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *