ڈگری بنگلے کا سفر۔۔فیصل ولی

SHOPPING

اس دفعہ پاکستان گیا تو کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ بچوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر و تفریح پر ضرور لے کر جاؤں۔ بلکہ ایک دوست نے کینیڈا سے فون کر کے سمجھایا کہ اب یہ سہولت اداروں کی طرف سے مفت بھی میسر ہے بس اس کے لیے سوشل میڈیا پر پیزہ وغیرہ کا ذکر کثرت سے کرنا پڑتا ہے۔ پھر گویا ہوئے کہ بچوں کے ساتھ بہرحال آپ خود ہی انتظام کریں تو بہتر رہے گا۔ چنانچہ ایک دوست (حامد صاحب) جو شمالی علاقہ جات کے متعدد سفر کر چکے ہیں انکے آگے مدعا بیان کیا تو انہوں نے اپنی محبت سے یہ کہتے ہوئے نوازا کہ چلیں میں آپ کے ساتھ ہی چلتا ہوں تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ ایسے بے لوث دوست ہی آپکا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ لیں جی پھر کیا تھا، تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ بچوں کو بتا دیا کہ اس دفعہ پیدل سفر کرنا ہو گا کوئی تیرہ کلومیٹر اور وہ بھی گلیات کی سب سے اونچی چوٹی (میراں جانی) پر پہنچنا ہے۔میں نے بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انکی چار دن کی تیاری میں انکو صبح شام سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی مشق دے دی۔ تعداد میں پانچ بچے تھے جن کی عمریں ۹، ۱۰، ۱۲،۱۴ اور ۱۵ سال ہیں۔

حامد صاحب نے سلیپنگ بیگ سے لے کر خیموں تک سب چیزوں کا بندوبست کر لیا تھا اور ہم تین دن کے سفر پر جمعہ کی صبح دو گاڑیوں میں لاہور سے روانہ ہو گے۔ اسلام آباد میں جا کر بچوں کو “سےوئر فوڈ” سے کباب والا پلاؤ کھلایا اور پھر اگلا پڑاؤ مری ایک دوست کے پاس کیا۔ جس نے چائے  سے  تواضع  کی۔ اس کے بعد نتھیا گلی پہنچے۔ اس وقت پانچ بج رہے تھے اور شام کی تاریکی اپنا رنگ جما رہی تھی۔ حامد صاحب نے بتایا کہ آج ہم صرف اپنے راستے کو دیکھیں گے چنانچہ ہم سب خوشی سے انکے پیچھے چلنے لگے۔ صرف ایک کلومیٹر چلنے کے بعد ہی اندھیرا کافی بڑھ گیا اور ہمارے جسم کے علاوہ جنگل سے بھی آوازیں آنے لگ گئی تھیں۔ ایک دو بچوں نے حاجت کی خواہش بھی ظاہر کر دی اور ہاں اس کی وجہ جنگل کی تاریکی کا ڈر ہر گز نہ تھا۔ خیر حامد صاحب نے اترتے چہرے دیکھے تو ان کو بھی رحم آیا اور ہم نے اپنی واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ وہاں سے ہم کاٹیج پہنچے جس کی حالت دیکھ کر حامد صاحب بہت غمزدہ ہو گے۔ تھوڑا تنگ کرنے پر بتانے لگے کہ یہ ایک خوبصورت کاٹیج تھا  جو کہ پختونخوا حکومت کی مالیت تھا ۔ آجکل اس کو ٹھیکہ پر دے دیا گیا ہے اور اس ظالم ٹھیکیدار نے اس میں مزید کمرے بنا دیے ہیں جس سے اس کی ساری خوبصورتی اب ختم ہو گئی ہے۔ خیر وہاں سے نکلے تو نتھیا گلی کے بازار چلے گےئ اور پھر رات کو باڑیاں میں جا کر سو گئے۔

 

ہفتہ کی صبح سویرے تیار ہو کر اپنے ٹریک پر پہنچ گئے۔ وہاں دو گھوڑے ہمارے منتظر تھے ایک پر سامان اور دوسرا ان بچوں کے لیے جو کمزوری یا اپنے موٹاپے کی وجہ سے کسی وقت بھی جواب دے دیں۔حیرت انگیز طور پر بہت ہی آسان سفر تھا اور بچوں کے بلند عزم نے کافی متاثر کیا۔ جوں جوں پہاڑ کے اوپر پہنچتے جا رہے تھے توں توں ہماری آنکھیں نہ ختم ہونے والے سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلہ میں گم ہوتی چلی جا رہی تھیں۔ میراں جانی کی ٹاپ پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھی مگر اس کی چوٹی پر پہنچ کر جو نظارہ ملتا ہے اس سے آپکی تھکاوٹ بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے آگے کا سفر کچھ آسان ہے اور آٹھ کلو میٹر کا فاصلہ ایک جنگل میں سے گزرتا ہے۔ ٹریک کے شروع میں لکھا تو ہے کہ یہاں شیر اور چیتے ہیں مگر اپنی قسمت میں تو شاید پی ٹی آئی کے ٹائیگرز اور پی ایم ایل ن کے شیر دیکھنا ہی ہے۔ خیر ہمارے راستے میں مینڈک سے لے کر شیر تک کچھ نہ آیا۔ ویسے بچوں نے سانپ سے لے کر چیتے تک سے بچنے کی تیاری کی ہوئی تھی۔

آٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بلآخر ہم “ڈگری بنگلہ” پہنچ چکے تھے۔ وہاں پہنچ کر میرے ملے جلے احساسات تھے۔ یوں جنگل اور پہاڑوں کے درمیان ایک عمارت کسی دیویائی داستان کا منظر پیش کر رہی تھی اور لگ رہا تھا کہ کسی پریوں کے دیس میں آ گئے ہیں، جس کی ہوا میں سانس لیتے ایک عجب سی توانائی مل رہی تھی۔ لیکن اس کے بعد جب بنگلے  کے پاس پہنچا تو اس کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ یہ “بنگلہ” انگریز دور میں انیسویں صدی کے آخر میں بنایا گیا تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ شائد یہ اس جنگل کی دیکھ بھال کے لیے بنایا گیا ہو۔ ۲۰۰۵ کے زلزلے میں اس کی عمارت آدھی سے زیادہ گر گئی تھی مگر اس کے بعد کسی حکومت کو بھی اس کو بحال کرنے کا خیال نہ آیا۔ خیر عمارت کے صحن میں ہم نے اپنے دو کیمپ لگائے اور وہاں سے کچھ فاصلہ پر موجود چشمہ کی جانب چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ ہی بہترین جگہ ہے حاجت وغیرہ کیلئے کیونکہ پانی کی دستیابی وافر ہے۔ لہذا ہم نے “پہلے آپ پہلے آپ” کی گردان کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہلکا کیا۔ میرا چھوٹا بیٹا کوئی اتنا خوش نہ تھا اور اس نے انکار کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا! واپس آکر ہم نے بنگلہ کے ساتھ ایک چھوٹی عمارت جو کہ کچن کہلاتی تھی اس میں پڑاؤ کیا اور اپنے رات کے کھانے کا بندوبست شروع کر دیا۔ اس دوران کچھ اور سیاہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔

مستنصر حسین تارڑ صاحب کے سفر ناموں کی طرح ہمارے ساتھ بھی کچھ لیڈی ڈاکٹرز نے آ کر پڑاؤ کیا تھا۔ مگر آپ سوچ سکتے ہیں کہ اتنے بچوں کے ساتھ ہم سے زیادہ سے زیادہ پیمپرز کا ریٹ ہی پوچھا جا سکتا تھا۔ خیر جی بنگلہ کے سامنے موجود پتھر کی سلیب پر بیٹھ کر کانپتے جسم سے سورج کے غروب ہونے کا منظر روح میں سرائیت کر چکا تھا۔ گرم گرم کھانے کے ساتھ ہی نیند کے جھونکے آنے لگے اور میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ سلیپنگ بیگ میں خیمہ میں سو رہا تھا۔ مگر کچھ دیر بعد کچھ نسوانی ہنسی کی بڑھتی ہوئی آواز کانوں میں پڑنے لگی، کچھ دھیان دیا تو معلوم ہوا کہ ایک صاحب فیض کے اشعار ناصر کاظمی کے نام سے سنا کر خواتین سے داد وصول کر رہے ہیں(میرا تو شاعری سے کوئی اتنا ذوق نہیں یہ تو صبح مجھے حامد صاحب نے بتایا جو رات بھر فیض صاحب کی اس توہین پر تلملاتے رہے)۔ اس دوران چھوٹے بیٹے نے شام سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور میں نے سردی میں اس کو جیکٹ وغیرہ پہنا کر کھلے جنگل میں لا کر بیٹھا دیا۔ ترس تو مجھے برف سے زیادہ ٹھنڈا پانی دیتے بہت آیا مگر قسمت اچھی تھی جوں ہی واپس پہنچے تو خیمے کے پاس بہت اونچی آگ جل رہی تھی۔ ہم فورا ً وہاں پہنچے اور دوسرے گروپ کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنا آپ گرم کیا۔ اتنی دیر میں ایک اور گروپ وہاں پہنچ گیا جو کہ تقریباً سات لڑکوں پر مشتمل تھا اور وہ کافی خوش ہو رہے تھے کیونکہ رات میں جنگل کے سفر کے دوران کافی ڈر گئے تھے۔ اس کے بعد میں ایسا سویا کہ  بس صبح سویرے آنکھ کھلی۔ ناشتے کے بعد ہم وہاں سے نکلے اور  13  کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہم ایک بجے واپس نتھیا گلی پہنچ گے۔

SHOPPING

یہ سب لکھنے کا مقصد آپ کو اس خوبصورت جگہ کے بارے میں بتانا  تھا تاکہ آپ بھی اپنی زندگی کی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس پُرکشش مقام کو انجوائے کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا  حکومت جو کہ سیاحت کو فروغ دے رہی ہے وہ اس “ڈگری بنگلہ” کو بحال اور محفوظ کرے۔ اور اگر اس راستے میں پانی کے دو تین پمپ بھی لگ جائیں تو یہ مزید سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *