• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • خوابوں سے بھرا کوڑا دان : دھندلا دی گئی شناختوں کے دور کی شاعری – عامر حسینی

خوابوں سے بھرا کوڑا دان : دھندلا دی گئی شناختوں کے دور کی شاعری – عامر حسینی

SHOPPING

ایک محمود درویش تھے، جب صہیونی سامراجیت ان کی شناخت کو مٹانے کے درپے تھی تو انہوں نے “سجل انی عربي۔۔۔۔” جیسی شہرہ آفاق نظم لکھ کر اپنی شناخت امر کردی تھی اور کیا مصرعے کہے تھے جن میں شناختی کارڈ کا نمبر بتایا اور اپنے جنم لے چکے آٹھ بچوں کی تعداد تک بتادی تھی- ایسا ہی یقین نزار قبانی کے ہاں پایا جاتا تھا اگرچہ پے درپے شکستوں نے اس کی انا کو مجروح کررکھا تھا-اس زمانے میں ہمارے ہاں فیض سے لیکر سردار جعفری تک اور مخدوم محی الدین تک اور استاد دامن سے لیکر حبیب جالب اور اس سے آگے سئیں اختر کے ہاں اپنی شناخت کے حوالے سے کوئی ابہام موجود نہیں تھا- ناظم حکمت اور پابلو نرودا کو بھی ہم نے اپنی محنت کش شناخت سے حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا تھا- اگرچہ ان سب کے زمانے میں فلسفہ سیاست کے میدان میں منطقی اثباتیت نے بےیقینی اور تشکیک محض کی آندھیوں کے جھکڑ ایسے بھیجے تھے کہ مغرب و مشرق میں ایک دفعہ تو سماج وادی شناخت کو بہت بڑا دھچکا لگا تھا لیکن ان دھچکوں عرب اور جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے ہمارے یہ ہیرو شاعر سہہ گئے تھے- وہ جاگتی آنکھوں سے لاطبقاتی سماج کے قیام کا خواب دیکھتے تھے اور ان کی آنکھیں امید سے خوب روشن رہا کرتی تھیں- ہمارے پاکستان کی سرزمین میں بندوبست پنجاب کے دل لاہور میں رہنے والے محبوب شاعر تو اتنے سادے تھے جو سمجھتے تھے کہ قومی جبر کے دوران دیواروں پر لگے خون کے چھینٹے بارشوں سے دھل جاتے ہیں تو دل پر پڑے بھی دھل جائیں گے- مگر ان کو کیا پتا تھا کہ ان کے جانے کو ابھی نصف صدی بھی مکمل نہیں ہوگی تب شاعر کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہی شناخت کے تعین کا ہوگا-

میرے سامنے ایک نوجوان شاعر کی نظموں کی کتاب پڑی ہے- جس کی ایک ایک نظم کو میں کئی بار پڑھ چکا ہوں اور ہر بار پڑھنے کا نیا لطف آتا ہے اور ہر ایک مصرعہ اپنی شکل بار بار بدل لیتا ہے اور میں ایک مصرعے کے اندر شناختوں کی کثرت دیکھ کر اپنے اندر ایک کھلبی سی محسوس کرتا ہوں-

مدثر عباس شاعر کا نام ہے- اس سے کبھی ملا نہیں ہوں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی شاعری کی آواز میرے لیے غیرمانوس نہیں ہے- اس نے اپنی نظموں کے مجموعے پر مشتمل کتاب کا انتساب کچھ یوں کیا ہے

ان لوگوں کے نام جو اپنے گیت کسی دوسرے کو سنائے بغیر مرگئے

مجھے ڈاکٹر سیدہ شہر بانو کا خیال آیا جو اپنی جوانی کے آغاز میں اس دن موت کے ذائقے سے آشنا ہوئی تھی جس دن اس نے مجھے اپنی پہلی بار کہی کچھ نظموں کو سنانے کے لیے امریکہ سے ٹرنک کال بک کی تھی جو کبھی نہیں آئی اور کئی روز بعد اس کی مرگ ناگہانی کی خبر ضرور آگئی تھی-

مدثر عباس نثر میں شاعری کرتا ہے اور شاعری میں نثر- اور اس کے ہاں شاعری کا فن اس قدر بالغ ہے کہ ہمارا دھیان اس توازن کو ڈھونڈنے کی طرف جاتا ہی نہیں جو خرانٹ استاد پیمانے لیکر لفظوں کی ترتیب کے دوران ڈھوںڈتے رہتے ہیں-

موجودہ عہد میں شناخت کچھ دھندلا سی گئی ہے اورمیں کسی بھی آئینے میں اپنا چہرہ واضح دیکھ نہیں پاتا-

ہاں جی، یہ الفاظ مدثر عباس کے پیش لفظ میں جگ مگ کررہے ہیں- اور بالکل درست کہہ رہے ہیں وہ شناخت ‘کچھ'(مجھے تو ساری کی ساری لگتی ہے) دھندلا گئی ہے-

SHOPPING

میں شاعروں اور فکشن لکھنے والوں سے ایک عرصہ تک یہ شکوہ کرتا رہا کہ ان کے ہاں اپنے عصر کے آشوب کی عکاسی کب کی جائے گی- کب وہ ڈر اور خوف سے باہر نکل کر وحشت کے ننگے راج پر اپنے تخلیقی وفور کے ساتھ شعر کہیں گے اور کہانی سنائیں گے- آہستہ آہستہ میرا یہ شکوہ کم ہوتا جاتا ہے اور نئی نسل کے اندر ایسی شاعری کی آوازیں آنے لگی ہیں جو اب حقیقت جو ہے اس سے آنکھیں چراتی نہیں ہیں بلکہ وہ دوچار کرتی ہیں اور پھر جو سچ ہے وہ کہتی ہیں- نہ انھیں جبری گمشدگی سے خوف آتا ہے، نہ ان کو مسخ شدہ لاش کی شکل میں کسی ویرانے میں پائے جانے سے ڈرایا جاسکتا ہے- نہ ان کو راندہ درگارہ ہونے سے تشویش ہوتی ہے- حاکم طبقات اور ریاست کی جابر مشینری زبردستی جن شناختوں کو دھندلا بناکر خوش ہورہے ہیں، وہ جنتے نہیں ہیں، اس دھند کے اندر کتنے طوفان باہر آنے کو بے تاب ہیں
ایک تصویر کو ہٹنا پڑے گا
تاکہ دیوار پر لگی گھڑی کو
سانس لینے میں کوئی دشواری نہ ہو
۔۔۔۔۔۔
ھوم ورک کی کاپیوں پہ عین اس جگہ گولی لگی
جہاں بچپن کھیلتا ہوا سو رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک الماری جس میں آپ اپنے کپڑوں
کے ساتھ اپنے خوابوں کو بھی ہینگر
پر لٹکاسکیں
۔۔۔۔۔۔
غداری کی دہلیز پہ بندھے ہم لوگ
قومی ترانے کے احترام میں کھڑا ہونا
چاہیں گے مگر ہمارے پیروں کے نیچے سے زمین
کھینچ لی جائے گی اور کہا جائے گا:
“صاحب عالم کا دستہ گزرنے تک انھیں
تازہ اخبار کی سرخی کے نیخے ٹائپ کردی جائے گی”
۔۔۔۔۔۔۔
سپہ سالار اعظم!
مجھے اپنا اگلا سانس
لینے کے لیے پرمٹ تو بناديں
جناب ریاست!
معاف کیجئے گا
ٹانگیں نہ ہونے کے
باعث میں قومی ترانے
کے احترام میں کھڑا نہ ہوسکا
مائیں جن کے بیٹے خفیہ کمروں میں
قید ہیں اور وہ کمرے میں داخل
ہوتے ہوئے ایام کو پہچان نہیں پارہے
بیٹوں نے ماؤں سے اتنا جلدی بولنا
سیکھا کہ سپاہیوں کو شہر میں
بندوق کی بیرل سے نکلتی ہوئی نئی
زبان ایجاد کرنا پڑگئی
کچھ مائیں اپنے بیٹوں کی قبر پر
جاتی ہیں اور سورج کے ساتھ ہی
اپنے گھروں کی چار دیواری میں ڈوب جاتی ہیں
کچھ مائیں عدالتوں میں جاتی ہیں
اور کہٹرے میں موجود اپنے بیٹے
کی تصویر بناتی ہیں اور اس تصویر
میں کہٹرے جان بوجھ کر مٹادیتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ڈھونڈ رہا ہوں
ایک نئی نوکری
جس میں مجھے
پارٹ ٹائم میں
محبت کرنے
کی اجازت ہو
میں چن رہا ہوں
وہ پتھر جو عورتوں
کو سنگسار کرتے
ہوئے بچ جاتے ہیں
میں بھول رہا ہوں وہ شخص
جو مجھے تحفے میں
اپنی دیوار دے کر مرگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی چند دن ہوئے جب میرا ایک دوست کہہ رہا تھا کہ وہ ڈائری میں ان گزرے لمحات کی یاد قید کررہا ہے جن میں میرا اور چند دوسرے دوستوں کا تذکرہ موجود ہے- میں اس وقت اس دوست کو کوئی جواب نہیں دے پایا تھا لیکن مجھے مدثر کی نظم “ڈائری کا ایک خالی صفحہ” کی ان لائنوں نے جواب سجھا دیا ہے
میں چھوڑ رہا ہوں
ڈائری کا ایک خالی صفحہ
جس پر کوئی بھی
کچھ بھی لکھ سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی اس شب دیگ کا کون سا اور کیسا دانا آپ کو چکھنے کو کہوں اور میں کافی پزل ہوں- میں تھوڑی دیر کو حافظ کا مرید بنا اور رینڈم لی ، بے دھیانی سے یونہی اس کتاب کے ورق پھرولے تو سامنے تھی نظم
حسن ناصر کی قبر کس بندوق سے چپک گئی ہے؟
حسن ناصر تمہاری قبر کہاں ہے؟
ٹارچر سیل میں بہتا تمہارا خون جم کر
ہمارے سینوں میں آلگا ہے جسے دل
کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا
فریڈرک گارشیا لورکا، چی گویرا اور تم
ایسے وقت میں مارے گئے جب عورتوں نے بچو کی ماں بننے کی نہیں بلکہ اپنے شوہروں کی سلامتی کی
دعائیں مانگیں اور انقلاب سے حاملہ ہوگئیں
سگرٹ سلگاتے اور مہنگی شراب پینے والے قاتل
کوئی ایسی زنجیر ا؛جاد نہیں کرسکتے جس سے
تمہاری لاش کو باندھ کر لوگوں کی آنکھوں میں چن دیں
اور لوگ نابینا ہوجائيں
بے بسی اور خوف تمہارے قاتلوں کے گھر میں
جڑواں پیدا ہوئے
تمہارے خون کو صاف نہیں کرسکے
قبرستان میں پہرا نہیں لگواسکے
تمہاری ماں کے لیے ثابت نہیں کرسکے
کہ تمہاری آنکھ میں جھلملاتا ہوا خواب
وہی خواب ہے جسے دیکھنے کے لیے
وہ ایک مدت سے نیند کی تلاش میں ہیں
حسن ناصر کسی خالی قبر کی تلاش میں ہے
وہ اپنے قاتلوں کو ڈراتا ہے
ان کے خواب میں آتا ہے
قاتل تعبیر دریافت کرنا نہیں چاہتے
کیونکہ تعبیر بتانے والوں کے
پاس کوئی ایسی قبر نہیں جس
میں حسن ناصر سما جائے اور اس
کے قاتل آرام سے سوجائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریائے سندھ میں ہمیں پھیکنے والے نہیں جانتے
کہ دریا سندھ ہمارے جسموں پر تاریخ لکھ کر
آگے بڑھ جاتا ہے سو ہمارے جسموں سے دریائے
سندھ کی خوشبو کبھی کم نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھل کر سانس لینے کا ٹیکس
اس قدر بڑھ جکا ہے کہ لوگ
بڑے غباروں کو پھاڑ کر
اپنے چہروں پہ چڑھالیں گے
اور خواب تعبیر کے سینے میں ایسا
خنجر گھونپے گا کہ تعبیر کے خون
کے چھینٹے سورج کے منہ پہ جا لگیں گے

SHOPPING

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *