سبین بلوچ :گوادر کی ایک باہمت خاتون استاد ۔۔ظریف بلوچ

SHOPPING

سی پیک کے شہر گوادر کی  باہمت اور کامیاب عورتوں کی فہرست میں سبین بلوچ کا نام نمایاں نظر آتا ہے،کیونکہ سخت محنت، قابلیت اور نظم و نسق کو بہتر انداز میں چلانے کی وجہ سے آج گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کی بہترین منتظمہ ہیں۔یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ میں تاریخ کےمضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سبین بلوچ نے اپنے  کیرئیر کا آغاز 2008 میں کمیشن پاس کرکے بطور لیکچرار گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت  سے کیا، اور ایک مہینے بعد انٹرکالج پسنی کو جوائن کیا۔

انٹرکالج پسنی کو اس وقت استاتذہ کی کمی کا سامنا تھا اور سبین بلوچ دیگر دو مسقتل اساتذہ کے ساتھ بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی رہیں۔کیونکہ سبین بلوچ کو احساس تھا کہ تعلیمی میدان میں ضلع گوادر بلوچستان کے دیگر بڑے شہروں سے کافی پیچھے ہے اور  اسی  جذبے  اور حوصلے کے ساتھ سبین بلوچ نے پانچ سال تک انٹر بوائز کالج پسنی میں  درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، بلکہ اپنی سخت محنت اور علم دوستی کی بدولت کامیابیاں اسکی  جھولی میں گرتی  رہیں ۔ کیونکہ وہ ضلع گوادر کی  عورتوں کو تعلیم دینے اور بااختیار بنانے کی  سوچ لئے تعلیم کے شعبے میں آئی تھی اور اس وقت سبین بلوچ کی کامیاب پالیسیوں کی وجہ سے گرلز ڈگری کالج گوادر کامیابی کی طرف گامزن ہے۔

سبین بلوچ کو ضلع گوادر کی پہلی  خاتون  لیکچرار، پہلی اسسٹنٹ پروفیسر اور پرنسپل ہونے کا اعزاز حاصل ہے اوراس وقت بطور اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہیں۔ سبین بلوچ سے جب ہم نے یہ پوچھا کہ بطور پرنسل گوادر گرلز کالج کا چارج سنبھالنے کے بعد کون سی مشکلات پہلے سے درپیش تھیں، تو سبین بلوچ کا کہنا تھا کہ جب میں نے 15 اگست 2016 کو بطور پرنسپل چارج لیا ، تو گوادر گرلز کالج میں لیکچرار کی کمی سمیت بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔ہم پانچ مسقتل لیکچرار تھے اور بعد میں تین لیکچرار نے یہاں سے اپنا تبادلہ کروایا اور صرف ہم دو لیکچرار رہ گئے۔بعد میں ڈپٹی کمشنر گوادر نے عارضی طور پر لیکچرار بھرتی کرکے اس مسئلے کو عارضی طور پر حل کیا۔ مگر اب بھی کالج ہذا کو مسقتل استاتذہ کی کمی کا سامنا ہے۔ سبین بلوچ گزشتہ 8 سالوں سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

سبین بلوچ سے جب ہم نے گوادر گرلز ڈگری کالج کے مسائل کے متعلق پوچھا توسبین بلوچ نے بنیادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر کو مسقتل استاتذہ کی کمی کا سامنا ہےجبکہ اکیڈمک اور نان اکیڈمک  سٹاف کے لئے رہائش کا انتظام نہیں ہے۔لیبارٹری اور ٹرانسپورٹ کا مسائل بھی درپیش ہے۔

سبین بلوچ ایک باہمت عورت ہے جس نے بطور پرنسپل ڈگری گرلز کالج کو مسائل سے نکال کر ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ سبین بلوچ کے پرنسپل بنتے ہی کالج میں انرولمنٹ میں اضافہ ہوا، اور انکی انتھک کاوشوں کے بعد کالج میں درس و تدریس کا عمل بہتر طریقے سے جاری ہے اور آج گرلز ڈگری کالج گوادر بلوچستان کا ایک مثالی تعلیمی ادارہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سبین بلوچ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تشویس ناک امر ہے کہ 2008 کے بعد اب تک ضلع گوادر سے کوئی  خاتون لیکچرار بھرتی نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے لیکچرار کی کمی ہوتی رہے گی۔

SHOPPING

سبین بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 13 سالوں سے درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہے اور میری کوشش  ہے کہ گوادر کی  بچیاں  مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تعلیم کی طرف توجہ دیں کیونکہ دنیا میں یہ ثابت ہوچکا  ہے کہ ترقی کا راز تعلیم میں مضمر  ہے۔ انہوں نے کہا میں کوشش کررہی ہوں کہ علاقے کی  تمام بچیوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات میسر ہوں، تاکہ کوئی بچی تعلیم حاصل کرنے سے نہ رہ جائے۔انکے مطابق گوادر کی  بچیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور انکے اندر چھپی  ہوئی  صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والی ترقی میں گوادر کی  بچیوں کا اہم رول ہوگا۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *