سلطان رضیہ۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING

نام رضیہ تھا۔ ہندوستان کی چار سال تک پہلی اور آخری مسلمان حکمران تھی۔پسند تھا کہ اسے سلطان رضیہ کے نام سے پکارا جائے۔ ہم پاکستان ہندوستان والے اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس کے آگے پیچھے کون سا نام لگ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم اسے رضیہ سلطان پکارتے ہیں ۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جبڑا چوک والے جنرل صاحب کی تو مرضی تھی کہ ان کے من بھاؤنے کلاکاروں کی مدحت میں وزارت ِ تعلیم تاریخ کی درسی کتابوں میں رضیہ سلطان کوملکہ ہیما مالنی دختر ایلتمش اور اس کے سایہ فام عاشق یاقوت کی بجائے شتروگھن سنہا کے نام سے پکارا جائے ۔ ان کے نزدیک تاریخ اور بلیک لائیوز میٹربھی 6 صفحات کا آئین تھی، جسے وہ اپنی صوابدید پر پیروں تلے روند سکتے تھے۔ اہل طاقت کو چھوڑیں وہ کب کسی کے ہوئے ہیں۔ آئیں اپنے بلڈی سویلین کی باتیں کرتےہیں۔

جب سلطان ایلتتمش کا وقت آخر آگیا تو سرکار کے میڈیکل بورڈنے اعلان کیا انہیںThrombocytopeniaکا ہلاکت آمیز عارضہ لاحق ہے ۔یہ سن کر بیٹے بہت گھبرائے ۔بہت واویلا مچایاکہ اینی مشکل تے مہلک بیماری تے ساڈے خاندان وچ پہلےکدی کسی نوں نئیں  ہوئی۔باجی رضیہ سے پوچھا۔اس نے کہا پتہ تے مینوں وی کوئی نئیں ۔ڈاکٹر عدنان یہ کہہ رہا تھا کہ اباجی کے خون میں خرابی ہے۔ یہ سنا تو میں نے کہا تم بھی سوشل میڈیاکی بکواس سن کر بھارتی صدر گیانی ذیل سنگھ والی گھٹیا باتیں کرتے ہو۔

گھبراکر کہنے لگا نہیں ،باجی اس کا مطلب ہوتا ہے کہ(low platelets count) ۔باجی نے فوراً  گوگل کیا تو پتہ چلا کہ ہر انسان کے جسم میں ایک مائیکرولیٹر خون میں ڈیڑھ لاکھ پلیٹ لیٹ ہوتے ہیں۔وہ گر جائیں تو پاکستان میں اس کا علاج صرف من پسندعدالت اوراپنی دھن میں مگن ڈیپ اسٹیٹ ہی کرسکتی ہے۔میں نے بھائیوں کو کہا ڈیپ اسٹیٹ سے تو چاچو خود ہی لین دین کرلے گا۔وہ چوہدری صاحب کے ساتھ ویگن میں برقعہ پہن کر چلا جائے گا ۔ لاری اڈے کے پاس ہی گیٹ نمبر چار ہے۔ وہاں سے دونوں مختاریا کی طرح اندر وڑ جائیں گے ۔دولہا کی سالیو ، ہرے دوپٹے والیوں کا ایک ہی نعرہ ہوتا کہ” پیسے دے دو ۔جوتے لے لو”۔ تم لندن دوڑ جاؤ ، زمانہ خراب ہے ۔ایون فیلڈ سنبھالو ۔ میں پراڈا کے سینڈل اور کوچ کا بیگ لے کران سے نمٹتی ہوں۔انصاف کا ہمارے ملک میں بہت بول بالا ہے۔ابا جی کی عدلیہ میں بہت انویسٹمنٹ ہے۔اپنے پارٹی کیڈر کے کشمیری، بٹ لاہوری وکیلوں میں سے ہم آدھے ہائی کورٹ کےجج کے بناتے ہیں۔ایک جج کو تو ہم نے گورنر اور دوسرے کو صدر بھی بنادیا تھا۔بے نظیر بھی یہی کرتی تھی۔سجاد علی شاہ جونئیر تھااس کو چیف بنایا تو پھیل گیا کہ آغا کو جج نہیں بناؤں گا۔ٹرمپ بھی جج کونی بیریٹ کے معاملے میں یہی کررہا ہے۔

بھارت کےسابق چیف جسٹس گوگوئی نے بابری مسجد میں جنتا راضی رکھنے والا کا فیصلہ دیا تو مودی سرکار نے یہ کہہ کر اس کے وارے نیارے کردیے۔ جسٹس گوگوئی تو نے رام للا کو سوئیکار کیا تو ہم تجھے نہال کرتے ہیں۔

بھائی لوگ کو میں نے ائیر پورٹ پر بتایا کہ اپنے بندے ہیں۔دیکھنا وہ ابّے کو ملزم چاچے کے   سٹامپ پیپر پر والے مچلکے پر جانے دیں گے۔بڑوں کے لیے انصاف کا معیاربھی ان کی پسند کا ہوتا ہے۔ اگر وہ شریف ہو تو ملزم بھی ملزم کا ضامن ہوسکتا ہے۔

سلطان رضیہ

سن نوے کی دہائی میں  ہوم سیکرٹری سندھ واجد رانا صاحب نے ہمیں جیل سے موصول چند خفیہ خطوط اور اطلاعات کی بنیاد پر ایک تحقیقاتی رپورٹ لکھنے کے لیے  بھیجا۔ ساتھ ہی ایک جنرل جیورس ڈکشن آرڈر بھی جاری کیا کہ درجہ اوّل کے مجسٹریٹ کے طور پر ہمیں جیل کے دورے کے دوران تمام شہر کے مقدمات سننے کا اور موقع  پر مناسب عدالتی فیصلہ سنانے کا اختیار ہوگا۔بچہ جیل
لانڈھی میں 14 سال کا ایک ہینڈسم سرائیکی لڑکا تھا۔یہ بچہ کراچی میں جس باربر کے ہاں ملازم تھا اس حجام کی اور ایک سپاہی کی نیت خراب ہوگئی۔وہ جنسی فعل کرنا چاہتے تھے۔نہ مانا تو دونوں نے پاس سے گزرنے والے ایک طوطے مینا والے کی مدد سے چار طوطے چرانے کے الزام میں جیل بھجوادیا۔ بے چارہ سال بھر سے بند تھا۔ہم نے پروانہء رہائی جاری کیا تو دیر تک غیر یقینی حالت میں روتا رہا۔ جنرل نقوی اور مشرف نے ملک سے Executive Magistracy ختم کرکے بہت ظلم کیا۔ہائی کورٹ کے ماتحت نظام میں وہ انتظامی لچک اور عوامی رسائی نہیں کہ فوری انصاف اور فتنوں ہنگاموں کا موقع  پر سدِّباب کرے ۔

چلیں چھوڑیں یہ بڑا موضوع ہے ۔گجرات کے مشہور نیتا کی طرح سیاست پر مٹی ڈالے  بغیر ٹکر ( پنجابی -طعام )سلطان رضیہ کی بات کریں۔ تیرھویں صدی کے راجہ ال تت مش کی بیٹی تھی کوئی اس کو رضیہ سلطان پکارتا تو ایسے ہی تاؤ کھاتی تھی ، جیسے خان کو نیازی ،بلاول کو زرداری ،مریم کو نانی مریم صفدر بھٹی بولیں  تو چپل اتار کر مارنے کو پیچھے بھاگتے ہیں۔ سلطان رضیہ نے اپنا لقب خود سے ہی نصرت ِ امیر المومنین رکھ لیا تھا۔ کوئی بلقیس جہاں بھی ساتھ لگا دیتا اور بھی زیادہ خوش ہوتی۔جگہ خالی ہوتی تو زلفی بخاری کی جگہ لگا دیتی تھی۔بڑے لوگ میں کیا ہےاوچ چتا( ہندی ۔تفاخر اور انا)بہت ہوتی ہے۔جارج واشنگٹن جو امریکہ کا جمہوری صدر تھا اس خط کو پھینک دیتا تھا جس پر اس کو پریذیڈینٹ لکھ کر مخاطب نہیں کیا ہوتا تھا۔

رضیہ اور اندرا

سلطان رضیہ کا والد ایل تت مش جس کے نام کا مطلب ہوتا ہے جہاں گیر و جہاں پناہ۔ ایک الباری ترک تھا۔اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کو ایک ایسے بادشاہ قطب الدین نے دہلی میں بطور غلام خریدا تھا جو خود بھی غلام تھا۔بالکل ایسے جیسے نواز شریف کو بادشاہ تو فوج نے بنایا مگر وہ بھی فوج کے بڑوں کو تمغہ اور چونا لگاتا ہے۔ اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ ایلتتمش غلاموں کا غلام تھا۔ بادشاہ بننا آسان نہ تھا۔اللہ کے بھید عجیب ہیں ۔ہمارا سنیوں سلفیوں، وہابیوں کا بادشاہ محمد بن سلمان دو ماؤں کا 11 نمبر بیٹا اور اس کے ابو26 بھائیوں میں 25 ویں نمبر پر تھے۔چانس نہیں تھاکہ بادشاہ بنے۔کراچی کے بکی تو بھاؤ  بھی نہیں لگاتے تھے مگر اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ پہلے سلمان بن عبد العزیز سعودیہ عرب کے بادشاہ بنے، پھر ہمار اور طاہر اشرفی صاحب کافیورٹ ہز ایکسی لینسی محمد بن سلمان۔
باپ کی تو مرضی تھی کہ اس کی جگہ رضیہ عنان حکومت سنبھالے ۔ ان لوگ کی ڈیپ اسٹیٹ جس میں  40  بڑے ترک النسل امرائے دربار شامل تھے ،ان کو ترکان ِچاغلانی کہا جاتا تھا انہوں نے ایلتتمش کی دوسری بیوی ملکہ شاہ ترکان کے بیٹے رکن الدین فیروز کو بادشاہ بنادیا۔ ترکان ِچاغلانی کا یہ الیومناتی والابہت قدامت پسند کلب تھا۔ رومن کیتھولک چرچ کے ڈیڑھ سو کے قریب کالج آف کارڈینلزجیسا ،جو پوپ کا انتخاب کرتا ہے۔ سارا دن میڈیا پر رضیہ کے خلاف وی لاگ اور ٹاک شو چلواتے تھے۔ کوئی پوچھتا کہ اتنی قابل دلیر عورت ہے تو بالکل میمن سیٹھ والا   ہڈی کھوپڑی(Skull and Bones )والا جواب دیتے تھے کہ  We would never allow a ruler with the wrong genitals

رضیہ پاک و ہند کی پہلی خاتون حکمران تھی۔اس کے بعد یہ اعزاز بھارت کی سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کو ملا۔اب کیا ہے کہ توجہ کے بھکاری ،خوشامدی مشیر لوگ بادشاہ کے دماغ میں   عجیب عجیب باتیں ٹھونس دیتے ہیں۔ سالے کو گھیلا ۔گھن چکر(پاگل ) بنا کر رکھ دیتے ہیں ،اس لیے ہم میمن لوگ بولتے ہیں بھائی اوپر پہنچ کر آکسیجن کم ہوجاتی ہے۔چکر بہت آتے ہیں ۔ انسان بہت جلد انسانیت سے گر جاتا ہے۔ سب حاکم نبی سلیمان علیہ سلام جیسےفہیم اور اللہ سے ڈرنے والے نہیں ہوتے۔ان کا لشکر دیکھ کر ایک چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا کہ یہ لشکر ہماری بستی سے گزر رہا ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہم ان کے قدموں تلے آن کر کچلی جائیں۔چیونٹی  کی اس  بات کو سن کر حضرت سلیمان مسکرائے،پھر  ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں(سورہ النمل-قرآن العظیم)۔جوڑیا بازار کا ہر بڑا سیٹھ جانتا ہے کہA king has many ears and no eyes(بادشاہ کے کان تو بہت ہوتے ہیں مگر آنکھیں نہیں ہوتیں)۔

شطرو اور ضیاء
مریم پگاں والی
پگاں والے

اندرا گاندھی کو بھی سب کہتے تھے کہ سلطان رجیہ کے ٹھیک سات سو تیس برس بعد سن 1966 میں بھگوان نے آپ کے سر پر تاج سجایا ہے ۔رجیہ جی تو کیا ہے کہ صرف دِلّی اور لاہور کی حاکم تھی آپ تو کشمیر سے کنیا کماری کی مہارانی ہو۔
Such a mighty huge empire.
رجیہ بھی اپنے ابو کی چہیتی تھی اور نہرو جی تو آپ سے پوچھے بغیر کسی کو چاندنی پر بھی بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ اسی وجہ سے مرارجی ڈیسائی   صبح اپنا ذاتی پیشاب پی کر ان کو  کوستا تھا۔سارے بدلے آپ سے لینے کا پلان کرتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ دونوں بہت سیکولر تھیں۔دین کو اتنی اہمیت بھی نہ دیتی تھیں جتنی مولانافضل الرحمن دیتے ہیں۔ دونوں ڈکٹیٹر مزاج کی اور جدید اصلاحات کی نقیب تھیں۔می ٹو ، میرا بدن میری مرضی والی۔ دونوں کا راج سنگھاسن دہلی میں تھا، دونوں کے بارے میں عشّاق کے حوالے سے بہت سی افواہیں میڈیا نے پھیلائیں۔ دونوں کی موتInside Job کا نتیجہ تھی۔

یاقوت

ترکان ِچاغلانی کی مرضی تھی کہ سلطان رضیہ پردے کے پیچھے سے حکمرانی کرے۔وہ کس کی سنتی تھی ۔ننگی تلوار لے کر بے پردہ ہاتھی گھوڑوں پر نکل جاتی۔مولانا طارق جمیل کے سمجھانے پر بھی پردہ نہیں کرتی تھی۔ مریم اورنگ زیب کی طرح پگ پہن کر بڑھکیں مارتی تھی ،جاگ پنجابی جاگ۔تیری پگ نوں لگ گیا داغ۔میمن لوگ یہ بھا بھا  کرکےبکرے بلانا سنتے تو سمجھاتے تھے کہ پگ میں یا چنری میں داغ لگے تو وسیم اکرم مائنس کی طرح ڈیٹرجنٹ لیتے ہیں یا لانڈری والے کے پاس جا تے ہیں ۔حدیبیہ جیسے داغ اچھے نہیں ہوتے ۔ ۔شور کرنے سے کچھ نہیں ہوگا سمجھایا۔

چاغلانی ترکان والی ڈیپ اسٹیٹ نے لاہور والوں سے رابطہ کیا۔ لاہور ایسی چالاکیوں میں ہمیشہ سے سارے ہندوستان میں مشہور ہے۔مجال ہے کوئی کام سیدھا کرتے ہوں۔سیدنا نظام الدین اولیا ؒ کی خدمت میں دہلی میں  بہ یک وقت لاہور کے تاجروں اور میمن گجراتی تاجروں کا وفد آیا تھا۔ فوائد الفواد یا نظامی بنسری میں لکھا ہےکہ مال تجارت پر گاہک سے منافع کمانے پر بات ہونے لگی تو لاہوریوں کے سوال پر میمن گجراتی وفد کہنے لگا کہ ہم تو آٹے میں نمک سمیٹتے ہیں ۔ ٹرن اوور(زیادہ بکری) پر کماتے ہیں۔لاہوری کہنے لگے کہ اپن لوگ کے پنجاب میں جیسا گاہک ۔ویسا منافع۔ ڈبل قیمت بتاکر بیچتے ہیں بعد میں اس کو اپنا بڑا منافع رکھ کر گھٹکا دیتے ہیں۔گجراتی وفد کہنے لگا کمال ہے اتنی بے ایمانی کے بعد بھی لاہور برباد نہیں ہوا ۔ اس کے بعد ہی منگول ملتان تک آگئے تھے۔
لاہور کا گورنر کوئی شیر خان سنجر تھا۔اپنے وسیم اکرم پلس جیسا۔ ٹوٹلی اپنا بندہ۔اس کے گاؤں میں بھی بجلی نہیں تھی۔گورنرسنجر کا چیف باڈی گارڈ ایک سیاہ فام جمال الدین یاقوت تھا۔طے ہوا کہ اس کو کے ۔ون کاسٹنر بناکر دہلی کی اس وٹنی ہیوسٹن سلطان رضیہ کی خدمت میں بھیج دیتے ہیں۔
A spy in the house of love
اس کےکچن کیبنٹ میں آنے سے بہت لفڑا ہوا۔اسی کی ضد پر کمال امروہی کو فلم رضیہ سلطان بھی بنانی پڑی۔اس کے ایک گانے اے دل نادان نے بہت اودھم کیا ۔جاوید اختر کے والد اور امراؤ  جان ادا والے موسیقار لاہور کے خیام کا یہ گیت، لتا جی کے بہترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔اس فلم میں  یاقوت کو اس کا اصلی لوور بتایا ہے۔اس سے جوڑیا بازار کے میمن بہت ناراض ہوئے ۔
ان لوگ نے ہی یاقوت کے خلاف میمنی زبان میں نعرہ لگایا کہ” مری ونا پنجابی نے مہاجریں کے سندھ نہ ڈینا۔”
(مرجائیں گے پنجابیوں اور مہاجروں کو سندھ نہیں دیں گے)

باڈی گارڈ

اسی نعرے کا اثر تھا کہ 1843 میں جب نواب بادشاہ سر چارلس نیپئر سے چند روزہ جنگ میانی فارسٹ کے پاس ہوئی تو یاقوت کی اولاد ٹالپروں اور میروں کا غلام ہوش محمد شیدی(حبشی) کمانڈر۔ میدان میں شجاعت کے جوہر دکھا رہا تھا۔اصلی حکمران تو مجرہ دیکھ کر بھنگ پی کر سو رہے تھے۔

رضیہ اپنے سیکنڈ کزن ملک اختیار الدین ال طونیہ کی منگ تھی۔یوں بھی اچھی لڑکیوں پر کزن کا زیادہ حق ہوتا ہے۔یاقوت نے اس کو ہنسنا سکھایا ، لڑنا سکھایا ، رونا سکھایا۔ عرفان صدیقی کی لکھی ہوئی تقریر ٹھیک سے کرنا اور آداب حکمرانی سکھائے ۔جب یاقوت کی ہمدردیاں اور محافل شبینہ کی اٹھکھیلیاں حد سے گزرنے لگیں توترکان چاغلانی والی ڈیپ اسٹیٹ کو لگا کہ یہ تو نواز شریف کا ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر ملک ہوگیا ہے۔ وہی جس کی مطیع اللہ جان بھی کِھلی اڑاتا ہے۔ہماری بلی ہم کو ہی میاؤں کرنے لگی ہے۔یوں ایک پلان بنا۔ حیات محمد خان شیر پاؤ  کو مارنےجیسا۔یاقوت کو ایک حربی معرکے میں الطونیا کے ہاتھوں ہلاک کروادیا۔ڈیپ اسٹیٹ سے کون جیت سکتا ہے۔ملک الطونیہ کو بولا چھوٹی گیج کی ٹرین سے سلطان رضیہ کو بھٹنڈہ لے جا۔رشید الدین جمعیت التواریخ والے اور سنجے تری پاٹھی‘History of Medieval India’کا اصرار ہے کہ اس پوری گیم کے پیچھے لاہور کا وہی شیر خان سنجر تھا۔ اس کی مرضی تھی کہ وہ وزیر اعظم بن جائے۔اسی وجہ سے اس نے ہریانہ اور بھٹنڈہ کے ہندو جاٹوں کو رشوت دے کر اس طاقتور جوڑے کو اس وقت قتل کرادیا جب ان کے سپاہی بغاوت پر اترے ہوئے تھے۔

اس کا اپنا انجام بھی اچھا نہیں ہوا۔دلیر بہت تھا مگر کیا ہے کہ منگول جب پنجاب تک پہنچ گئے تو اس نے بلبن کے زمانے میں ان کا بہت جی داری سے مقابلہ کیا ۔ اس دوران اس کو بھی جنوبی پنجاب کی ایک پکی پکائی ،نان- قلچے اور نہاری جیسی ذائقے دار عورت اچھی لگ گئی۔اس عورت کا میاں منگول لوگ کا جاسوس تھا۔ منگولوں کے سلیپر سیل کا انچارج۔ڈائر یکٹ ان کی” را “کے کمانڈر اوگدی خان کو رپورٹ کرتا تھا۔ شیر خان عورتوں کا بہت رسیا تھا۔اسی وجہ سے یہ عورت کو ان لوگ نے اس کے حرم میں جنوبی پنجاب کی دوسری عورتوں سمیت بھجوادیا۔ اس عورت نے شیر خان کو ایک رات مخلوط جنسی پارٹی(orgy )میں زہر دے کر ہلاک کردیا۔ عورت کا دشمن شیر خان، عورت کی محبت میں مارا گیا۔
امیر خسروجو اپنے زمانے کے سہیل وڑائچ تھےانہوں نے دیگر امرا اور اسٹیج ڈانسر ز کے علاوہ نصرت امیر ال مومنین سلطان رضیہ کی شجاعت کی تعریف کی ہے ان کا کہنا تھا کہ سرخ لباس پہن کر سلطان رضیہ مسجد میں پہنچ جاتی تھی۔تقریر بھی کمال کی کرتی تھی اور بتایا ہے میدان جنگ میں سرگودھا خوشاب اور جھنگ کی جانگلی عورتوں کی طرح لڑتی تھی۔ان کی مدح سرائی کچھ یوں تھی۔
مدتوں وہ رخ تاباں زیر نقاب تھا
مدتوں شمشیر بے نیام نے تاراج سب کیا

SHOPPING
رضیہ کا مزار اور اندرا کی سمادھی

جب وہ رخ تاباں زیر نقاب تھا
امرا کی موج لگ گئی تھی چار سو
رخ سے نقاب اٹھی تو پھر ایسا کچھ ہوا
سرکش جو تھے وہ بھی تہہ دام آگئے
بلبلی خانہ -دہلی میں جہاں بہت سے درزی چست بلاؤز سینے کے کام میں مصروف ہیں، وہیں بہت ساری غیر قانونی تعمیرات کا ایک جھمگٹا ہے درزیوں کی دکانوں اور گھروں کے بیچ میں ایک گلی کے کونے میں سلطان رضیہ ہند کی پہلی لبرل عورت آسودہ خاک ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سلطان رضیہ۔۔محمد اقبال دیوان

  1. بڑوں کے لیے انصاف کا معیاربھی ان کی پسند کا ہوتا ہے۔ اگر وہ شریف ہو تو ملزم بھی ملزم کا ضامن ہوسکتا ہے۔
    ماضی، اور موجودہ سیاست دان و اندازِ درونِ خانہ پر جو نشتر چلائے ہیں، وہ زخم و درد کی بجائے مسالہ دار چاٹ، کا مزہ ۔۔ موجودہ دور میں اقبال دیوان قلم چلاتے ہیں، کہ بس ۔۔۔ انسان العطش، العطش پکارے مضمون ختم کر تے ہوئے ۔۔۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *