اجازت۔۔اقتدار جاوید

SHOPPING

شہرِ رسولﷺ میں ہمارے قیام کی آخری سہ پہر ڈھلنے لگی تھی۔ ہمارے ہوٹل کے سامنے والی سڑک سے آہستہ آہستہ دھوپ اترتی جا رہی تھی۔ میں ہوٹل کے سامنے کھڑی لگژری بس میں اپنا سامان رکھ کر اس گلی میں آ گیا جہاں سے حرمِ رسولﷺ کے مینار نظر آتے تھے۔ جب رات اترتی تھی تو حرمِ رسولؐ کی روشنیاں اس گلی کو بھی منور کر دیتی تھیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی ملبوسات کی دکان تھی جس کا نام ابراہیم خلیل لأ قمشتۃ تھا۔ ہمارے ہوٹل کا جو بغلی دروازہ تھا‘ اِسی چھوٹی سی گلی میں کھلتا تھا۔ یہ دکان اس دروازے کے عین سامنے تھی۔ وہیں کھڑے ہو کر روشن مینار اب میں دیکھے جا رہا تھا۔ یہ کیسی سہ پہر ڈھل رہی تھی جو کوچ کا نقارہ بجا رہی تھی‘ نہ چاہتے ہوئے بھی آج یہاں سے روانہ ہو جانا تھا۔ میں اس گلی میں اکیلا کھڑا میناروں پر نظریں جماے کھڑا تھا۔ مسجدِ نبوی میں باجماعت ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد حضورﷺ سے اجازت طلب کی تھی کہ شام تک یہ جنت سے ارفع شہر چھوڑنے کا حکم ہے۔ دنیاوی ضابطے اور قوانین ایسے ہیں کہ اس سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہے۔اب میں اس گلی میں کتنی دیر کھڑا رہ سکتا تھا کہ شام مسجد آبارِ علی میں پہنچنا تھا جہاں سے احرام باندھنا ضروری تھا اور اللہ کے شہر کی جانب روانہ ہونا تھا۔ یہ رات سفر کی تھی نہ ایسا سفر پہلے کیا تھا نہ ایسا رہگزر پہلے دیکھا تھا۔ ایسے دو شہر کہیں بھی نہیں‘ دو شہر امن والے، راحت اور روح میں ٹھنڈک اتارتے شہر جن کے درمیان یہ سفر طے کرنا تھا۔
کہاں میں اور کہاں مدینۃ النبیﷺ سے شہرِ خدا کا سفر، کہاں میں کہاں مسجد آبارِ علی جہاں مسافر کا پہلا پڑائو تھا مگر اس شہر کی حد سے باہر نکلنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس شہر میں داخل ہوتے کیا کیفیت تھی اور کیا سرشاری تھی اور اب روانگی کے وقت کیسی زاری ہے جو بباطن اور بظاہر ابلنے کو بیتاب تھی۔میں نے شہر کے تاج دارؐ سے رخصت ہونے کی دوبارہ اجازت طلب کی۔ اس گلی سے نظر آنے والے میناروں پر نظریں مرتکز کر کے اجازت۔ دنیا کے قوانین کے مطابق میرا سارا شیڈول پہلے سے طے تھا مگر اجازت ضروری تھی۔ بس مدینہ سے نکل رہی تھی اور میں اس میں داخل ہو رہا تھا۔ ایک ایک مقام، ایک ایک زیارت آنکھوں کے سامنے ساکت ہو رہی تھی۔ یہ صفّہ اصحاب ِ رسولؐ ہے‘ حضورﷺ کے عاشقوں کا تھڑا‘ کہیں سے کچھ مل گیا تو کھا لیا نہیں تو بھوکے سوکھے پڑے رہے۔ جس سے عشق ہے جس کے عشق کے اسیر ہیں وہ تو آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں خود وہاں کتنی دیر بیٹھا رہا اور اصحاب صفّہ سی بے چین نگاہوں کے ساتھ ریاض الجنۃ اور روضہ پاکﷺ پر آنکھیں جماے بیٹھا رہا۔ یہ مہبطِ جبریل ہے جہاں جبریلِ امین اترتے تھے، وہ مقام جہاں حضور کریمﷺ اپنی افواج کو تربیت دیتے تھے، وہ مقام جہاں وہ محاذ پر جانے والے صحابہ کو خدا حافظ کہتے اور دعائیں دیتے واپس مدینہ پلٹ آتے۔ بی بی پاکؓ کا گھر اور مصلیٰ جہاں وہ نماز پڑھتی تھیں مگر اب یہ منظر دوبارہ قسمت نے یاوری کی تو دیکھنے تھے۔

SHOPPING

بس شام ہوٹل سے باہر نکل آئی تھی‘ جہاں سے میں اور رضوان نے وادیٔ جن جانے کے لیے ٹیکسی کرائے پر لی تھی۔ اس جگہ کو بھی بس سے اتر کر چوم لینا چاہتا تھا۔ اس دکان کو بھی دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا جہاں مندرہ کے قریب کسی گائوں کا آدمی شہرِ رسولﷺ میں لوگوں کے بال کاٹ کر اپنی مزدوری کرتا تھا۔ اس تُرک ہوٹل سے کوئی چیز کھانا چاہتا تھا جو پہلے مہنگی سمجھ کر چھوڑ دی تھی مگر بس مسجد ذوالحلیفہ کے نزدیک پہنچ چکی تھی۔پہلا پڑائو، جہاں میقات ہے‘ یہیں حضور کریمﷺ نے ایک درخت سمرہ کے نیچے احرام باندھا تھا یہ سفر صلحِ حدیبیہ کا تھا۔ اِس کو مسجدِ شجرہ بھی اسی مناسبت سے کہتے ہیں مگر زیادہ معروف نام مسجد آبارِ علی ہے کہ یہاں خلیفہ چہارمؓ کے بہت سارے باغات اور کنوئیں تھے۔ یہیں آ کر ہماری بس رک گئی کہ یہاں عمرہ کی نیت سے نوافل ادا کرنا تھے۔ ہماری بس اتنی سینکڑوں بسوں کے درمیان آہستہ آہستہ رینگتی رینگتی جگہ بناتی ہوئی بالکل مسجد کے قریب آ رکی تھی۔ میں نے اتر کر پہلے بس کا نمبر نوٹ کیا، اس کی تصویر کھینچی اور اپنے قافلے کے بینر کی بھی تصویر لی جو بس کے آگے نمایاں طور پر ویسے بھی نظر آ رہا تھا۔ جب ہم مسجد میں پہنچے تو کافی رش ہونے کی وجہ سے اپنے گروپ کو تلاش نہ کر سکے‘ سو ہم نے علیحدہ نفل ادا کیے اور تھوڑی تیزی سے واپس بس کی طرف پلٹ پڑے۔
اس مسجد کے کئی نام ہیں‘ مسجدِ میقات بھی اور اسے مسجد الاحرام بھی کہتے ہیں کہ مدینہ پاک سے مکہ کی جانب یہ میقات ہے۔اس مسجد میں بغیر احرام کے جانا منع ہے۔ ایک دوست نے بتایا جو احرام باندھ لیتا ہے‘ اسے محرم کہتے ہیں یہ اس لفظ کا نیا معنی تھا جو ہمیں معلوم ہوا تھا۔آہستہ آہستہ ہمارے گروپ کی خواتین اور مرد حضرات بس میں آنا شروع ہو گئے تھے۔ اندھیرا پھیل چکا تھا اور ایک روشنی کے شہر سے دوسرے روشنی کے شہر کی سمت سفر شروع ہو گیا تھا۔ ہمارے گروپ میں ایک دوست عارفی بھی تھے‘ یہ ان دوستوں میں شامل تھے جو ہم سے دس دن پہلے پاکستان سے سیدھا مکہ پاک روانہ ہوئے تھے۔ ہم لوگوں نے مدینہ النبیﷺ میں قیام کی سعادت حاصل کر کے مکہ روانہ ہونا تھا۔ عارفی لوگ مکہ پہنچ کر زیارات کی تصویریں مسلسل بھیجتے رہتے تھے۔ ایک تصویر میں انہوں نے اس مکان (اب مقام) کی تصویر بھیجی جو سیدہ خدیجہؓ کا گھر تھا۔ ایک اور تصویر میں ابو طالب کے گھر کی جگہ دکھائی جا رہی تھی۔باب المروہ سے باہر سیدہ خدیجہؓ کا گھر تھا جہاں شادی کے بعد حضورﷺ نے زندگی کے بہت سارے سال گزارے تھے۔ اب وہاں کچھ بھی نہیں ہے‘ صرف فضائوں میں ہی اس جانب رخ کر کے زیارت کی جا سکتی ہے۔ یہیں خاتونِ جنت سیدہ فاطمہؓ کی ولادت ہوئی تھی۔ حضورﷺ کی مدینہ ہجرت کے بعد اس مکان میں عقیل بن ابو طالب رہتے رہے۔ عارفی نے لکھا کہ اس جگہ کی زیارت بہت خوش قسمتی کی علامت ہے کہ مکہ میں مسجد الحرام کے بعد سب سے زیادہ مکرم اور متبرک یہی مقام ہے۔ میں اس مقام کو دیکھنا چاہتا تھا، بس میرا دل کرتا تھا بس اڑتی جائے اور ان جگہوں کی زیارت کر لوں۔بس کی سپیڈ اتنی ہی تھی جو وہاں کے مروجہ قوانین اجازت دیتے تھے مگر اس سکون سے ہم نے زندگی بھر کسی بس میں سفر نہیں کیا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اس شاہراہ پر‘ جو مکہ سے مدینہ پاک جا رہی تھی‘ رستے میں کہیں کوئی شہر نہیں آیا تھا، شاید یہ ایسے ہی تھا جیسے یہاں موٹر وے پر تو کوئی شہر نظر نہیں آتا اور جی ٹی روڈ پر شہر ختم ہی نہیں ہوتے۔ شاہراہ کے دونوں طرف کھجور کے درخت تھے جن میں روشنیوں کا بندوبست کیا ہوا تھا وہ کھجور کے پیڑ رات کو جگمگا رہے تھے۔ ایک جگہ ایک پٹرول پمپ پر بس رکی تو علم، ہوا کہ آدھا راستہ طے ہو گیا ہے۔
میں رات کے عالم میں دیکھ رہا تھا کہ کہیں سے مجھے وہ بورڈ نظر آ جائے جس پر لکھا ہو اس سے آگے غیر مسلموں کا جانا منع ہے۔ وہ میں نہیں دیکھ سکا۔ رات کا وقت تھا‘ اس لیے یا میری قسمت میں وہ بورڈ دیکھنا نصیب میں نہیں تھا؛ اگرچہ میری نظریں اس بورڈ کو دیکھنے کے لیے بس کی کھڑکی کے یخ شیشے سے جڑی پڑی تھیں۔مکہ نزدیک آ رہا تھا‘ مکہ جس کا ایک نام معطشہ، پیاس لگانے والا ہے، ایک نام حاطمہ ہے کہ گردنیں توڑ دیتا ہے اور ایک نام ہے مہملہ کہ ہلاک کرتا ہے ملحدوں کو، مگر ہم تو گردنیں جھکا جھکا کر ان کو ٹھوڑی تک نیچے لا کر اس شہر میں داخل ہو رہے تھے کہ گھر اللہ پاک کا مکہ میں ہے اور نام مدینۃ النبیﷺ کا ارض اللہ ہے۔ یوں تو ساری زمین، سارا آسمان اور سب کچھ اللہ کا ہی ہے لیکن اس شہرِ رسولﷺ کا ارض اللہ قرار دیا جانا ہزارہا مفاہیم کو وا کرتا ہے۔مکہ پاک کو ام القریٰ کہتے ہیں۔ میں اس ارض اللہ کی خاک بوسی کر کے ام القریٰ میں داخل ہو رہا تھا۔ یہ ایک طرح سے پروردگار کا ٹول پلازہ ہے جو مکہ کی حدود شروع ہونے پر بنایا گیا ہے، جہاں ہماری بس آ کر رکی تھی یہ ٹول پلازہ ارض اللہ سے آنے والے پر کھلنے والا تھا کہ وہ نبی پاکﷺ سے اجازت جو لے کر چلا تھا۔

SHOPPING

Avatar
اقتدار جاوید
کتب- ناموجود نظمیں غزلیں 2007 میں سانس توڑتا هوا 2010. متن در متن موت. عربی نظمیں ترجمه 2013. ایک اور دنیا. نظمیں 2014

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *