• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • جرمنی کے دارالحکومت برلن سے ریڈیو آواز ادب نے سجایا یورپین اردو رائٹرز فیسٹول

جرمنی کے دارالحکومت برلن سے ریڈیو آواز ادب نے سجایا یورپین اردو رائٹرز فیسٹول

SHOPPING

رپورٹ:(ممتاز ملک)۱۷-۱۸اکتوبر ۲۰۲۰ کوریڈیو آواز ادب برلن اور عالمی افسانہ فورم کے زیر اہتمام دو روزہ یورپئن اردورائٹرز فیسٹول منایا گیا ۔یورپی سطح پر اس دو روزہ پورپین اردو رائٹرز فیسٹول میں یورپ کے دس سے زائد ممالک کے مصنفین، شعراء اور صحافی حضرات نے حصہ لیا اور اپنی تخلیقات و نگارشات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی اپنے ممالک میں موجودہ صورتحال اور ادب کا جائزہ پیش کیا اور اردو ادب و زبان کے فروغ کے لیے متحدہ طور پر اپنی کوششوں اور سرگرمیوں کو مzید بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

یورپ میں اردو زبان و ادب کی جدید بستیوں میں جرمنی کی سرزمین ایک اہم اردو بستی کے طور پر  اُبھر کر سامنے آرہی ہے۔ گذشتہ دنوں برلن میں پہلے ادبی ریڈیو کا باقائدہ آغاز کیا گیا ہے۔ جس کے تحت عالمی افسانہ فورم جرمنی اورروزنامہ نیا نظریہ بھوپال کے تعاون سے پہلا دو روزہ یورپین اردو رائٹرز فیسٹول آن لائن نہایت کامیابی سے منایا گیا ۔ اس فیسٹول میں جرمنی و انگلینڈ سمیت یورپ کے دس سے زائد ممالک کے اردو شعراء، ادباء، اساتذہ اور محقیقین نے شرکت کی۔ اس فیسٹول میں مجموعی طور پر یورپ میں اردو کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اردو زبان و ادب کو پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کی گئی اور ان کے حل کے لیے تجاویز وگفتگو کی گئی ۔یہ دو روزہ ادبی میلہ تین اہم نشستوں پر مبنی تھا جس میں پہلی نشست میں یورپی ممالک کے اردو زبان کے مفکرین و دانشوروں نے اپنے ممالک میں اردو کی صورتحال کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کئے۔ اس افتتاحی نشست کی صدا رات ڈنمارک کے معروف ادیب و شاعر اور مترجم جناب نصر ملک نے کی جب کہ نظامت کی ذمہ داری برلن سے ڈاکٹر عشرت معین سیما نے ادا کی ۔

پروگرام کے آغاز سے قبل ریڈیو آواز ادب برلن کے سربراہ سید انور ظہیر رہبر نے اپنے افتتاحی خطبے میں بتایا کہ یورپین اردو رائٹرز فیسٹول کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج اور نسل نو کو اردو زبان کی ثقافت و تہذیب سےمتعارف کروانا اور یورپ میں اجتماعی طور پر اردو زبان و ادب کی صورتحال جاننا اور اردو کو پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی اور اس حل تلاش کرنے کی جانب اجتماعی طور پر متحرک ہونا ہے۔اس ادبی میلے کے اغراض و مقاصد بیان کرنے کے بعد جرمنی میں پیدا ہونے اور اردو زبان سیکھنے والی نسل نو کی جانب سے ایک تہنیتی ویڈیو پیغام پیش کیا گیا جہاں اردو سیکھنے والے طلبہ و طالبات نے اردو کو محبت و امن کی زبان قرار دیتے ہوئے ریڈیو آواز ادب برلن کی جانب سے منعقد کردہ دو روزہ یورپیئن اردو رائٹرز فیسٹول کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور مبارکباد پیش کی۔

بعد ازاں پروگرام کا باقائدہ آغاز کرتے ہوئے جناب نصر ملک ڈنمارک کی صدارت میں میزبان ملک جرمنی سے ادب و زبان کی صورتحال کا ایک جائزہ عشرت معین سیما نے پیش کیا۔ عشرت معین سیما اس حوالے سے اپنی ایک کتاب “ جرمنی میں اردو تاریخی و لسانی زاویے اور سماجی رابطے” کے عنوان سے تحریر کر چکی ہیں۔ اس کے بعد انگلینڈ سے معروف شاعرہ ، مضمون نویس اور براڈ کاسٹر و اینکر پرسن فرزانہ خان نینا نے اپنا مقالہ بہ عنوان “ برطانیہ اُردو ادب کی ایک بستی ، بیلجئم سے معروف صحافی اور مقبول شاعر عمران ثاقب چودھری نے اپنا مقالہ زبانِ اردو یورپیئن پارلیمنٹ کے آس پاس، اسپین سے جناب ارشد نظیر ساحل نے اپنا مقالہ “ اسپین میں زبانِ اُردو کی بہاریں ، فرانس سے معروف میڈیا پرسن اور شاعرہ محترمہ ممتاز ملک نے اپنا مقالہ با عنوان فرانس میں اردو زبان سے محبت ، اٹلی سے معروف ادیب و شاعر جناب جیم فے غوری نے اپنا مقالہ اٹلی میں اردو ایک جائزہ ، سوئیزرلینڈ سے معروف افسانہ نگار شاہین کاظمی نے اپنا مقالہ “ سر زمین جنت سوئیزرلینڈ میں اردو، سوئیڈن سے ممتاز ادیب ڈاکٹر عارف کسانہ نے سوئیڈن میں اردو، فن لینڈ سے معروف ادیب ارشد فاروق نے اپنا مقالہ “ فن لینڈ میں بھی پہچانی جاتی ہے اردو” ڈنمارک سے جناب نصر ملک صاحب نے ڈنمارک میں اردو زبان کی آبیاری “ پیش کئے اور اپنے اپنے ممالک میں اردو زبان و ادب کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے تفصیلی صورتحال سے آگاہ کیا اور زبان اردو کو پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کی جانب توجہ دلائی۔ اس نشست میں جرمنی سے عالمی افسانہ فورم کے بانی وحید قمر اورروزنامہ نیا نظریہ کے ڈائریکٹر چیف ڈاکٹر نظر محمود نے بھی شرکت کی۔

یورپیئن اردو رائٹرز فیسٹول کی دوسری نشست اردو افسانے سے متعلق تھی جس میں یورپ اور خاص طور پر جرمنی کے افسانہ نگاروں کے بہترین اردو افسانے اور تراجم پیش کئے گئے۔ افسانے کی نشست “ آئیے افسانہ سنیں” کی صدارت سوئزرلینڈ سے معروف افسانہ نگار محترمہ شاہین کاظمی نے کی جب کہ نظامت کے لیے زبان اردو کے ثقافتی شہرکراچی کی نہایت عمدہ منتظم فاطمہ بنت علی موجود تھیں جن کی بہترین نظامت نے اس پروگرام کا وقار مذید بڑھایا۔اس نشست میں جرمنی میں مقیم افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کئے۔ جن جرمنی کے افسانہ نگاروں نے اس میں حصہ لیا ان کے نام اور افسانوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں۔
جناب عامر عزیز: آؤ رقص کریں
جناب سرور غزالی: لمبارڈی
محترمہ ہما فلک: امیج
جناب انور ظہیر رہبر: بند مٹھی
محترمہ عشرت معین سیما : پہاڑ ہل گیا معروف جرمن افسانہ نگار زبینے پاہلر کے افسانے سے ترجمہ
محترمہ شاہین کاظمی : چمبے دی بوٹی

افسانے کی یہ نشست دو گھنٹے جاری رہی جس میں نہایت پر فکر اور عصری موضوعات کے حوالے سے سنجیدہ اور بہترین افسانے پیش کئے گئے۔
اس دو روزہ ادبی میلے کی آخری نشست اٹھارہ اکتوبر کو یورپی وقت کے مطابق شام چار بجے اردو مشاعرے سے شروع ہوئی اور اپنے مقررہ وقت پر اختتام پزیر ہوئی ۔ اس مشاعرے کی صدارت یورپ اور اردو زبان کے معروف شاعر، مدرس اور ادیب جناب باصر سلطان کاظمی نے کی جب کہ اس مشاعرے کی نہایت عمدہ نظامت تہذیب اردو کے پالن ہار شہر لکھنو سے ڈاکٹر عشرت ناہید نے انجام دی اور مشاعرے کو آغاز سے اختتام تک دلچسپ بنائے رکھا ۔ مشاعرے میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے جناب طاہر عدیم ، برلن سے جناب انور ظہیر رہبر اور محترمہ عشرت معین سیما ، انگلینڈ سے جناب باصر کاظمی اور جناب سہیل ضرار، بیلجئم سے جناب عمران ثاقب چودھری ، اسپین سے محترم ارشد نظیر ساحل، فرانس سے محترم عاکف غنی، اٹلی سے جناب جیم فے غوری، ڈنمارک سے عدیل احمد آسی اور بزرگ شاعر محترم نصر ملک نے شرکت کی۔

یورپی سطح پر شعراء و شاعرات کی تعداد خاصی مستحکم ہے تمام شعراء کو اس فیسٹول کے مشاعرے میں شامل نہیں کیا گیا تھا کیونکہ یہ پروگرام براہ راست ریڈیو آواز ادب برلن سے اور دیگر سوشل میڈیا کے زریعے پیش کیا جارہا تھا اور معینہ وقت کے مطابق پروگرام کا آغاز و اختتام لازمی تھا۔اس پورے ادبی میلے کو دنیا بھر کے ناظرین و سامعین نے یو ٹیوب اور فیس بک پر بھی دیکھا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس مشاعرے میں تمام شعراء نے اپنا بہترین کلام پیش کیا جسے سراہتے ہوئے صدر مشاعرہ باصر کاظمی نے یورپ سے ہونے والے شاعری کی ایک بہترین مثال قرار دیا اور اپنے صدارتی خطبے میں تمام شعراء کی پیش کردہ شاعری کو عہد حاضر اور یورپ کے شعراء کا ایک نہایت عمدہ اوربے مثال خزینہ گردانا۔

آخر میں اس ادبی میلے کے منتظم سید انور ظہیر نے تمام شرکاء کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ریڈیو آواز ادب برلن کے زیر اہتمام منعقد کئے جانے والا یہ دو روزہ یورپیئن اردو رائٹرز فیسٹول ۲۰۲۰ سترہ اور اٹھارہ اکتوبر کو برلن سے کرونا کی یورپ میں بگڑتی صورتحال کے تناظر میں آن لائین منایا گیا۔ جب کہ اس پروگرام کو فیزیکلی طور پر برلن میں منعقد کرنے کی تیاری گذشتہ سال سے جاری تھی۔ انہوں نے دیگر شرکاء کے ساتھ اس موقع پر اس بات کا عہد بھی کیا کہ اردو زبان و ادب کی آبیاری اور حفاظت کے لیے یورپ کے ادیب، شعراء اور اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور یورپی یونین کے اتحاد کی طرح اردو زبان و ادب کے اتحاد کو بھی ایک مثال بنا کر اردو زبان و ادب کو عالمی زبان میں ایک اعلیٰ و ارفع مقام دلوانے کی بھر پور کوشش جاری رکھیں گے۔ پروگرام کے آخری حصے میں کراچی اور لکھنو ء سے کی جانے والی نظامت کا شکریہ ریڈیو آواز ادب برلن کی جانب سے کیا گیا اور میڈیا پارٹنر نیا نظریہ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر نظر محمود صاحب کا تہنیی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ ادبی میلہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق دو دن جاری رہا اور دنیا بھر کے سامعین و ناظرین نے اس کو براہ راست سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دیگر زرائع کے توسط سے دیکھا اورسن کر اپنی پسندیدگی کا برملہ اظہار کیا۔ اس ادبی میلے کے مشاعر ے میں شریک شعراء کے کلام مندرجہ ذیل ہیں۔

عدیل احمد عاسی : ڈنمارک
کس گھڑی اب مرے سینے میں رہا کرتا ہے
دل تو ہر وقت مدینے میں رہا کرتا ہے

ارشد نظیر ساحل : اسپین
اگر توحید کے قائل سب ہی ہوجائیں دنیا میں
میں اکثر سوچتا ہوں ان صنم خانوں کا کیا ہوگا

عشرت معین سیما : جرمنی
یادِ رفتہ کا خزانہ مجھے بھاری ہے بہت
حافظے کی نئی زنبیل کہاں ممکن ہے

عاکف غنی : فرانس
ایک قطرہ بھی مسرت کا نہیں ملتا ہے
غم و اندوہ سے لبریز ہے کوزہ میرا

طاہر عدیم : جرمنی
مرے قاتل بھی مرے حق میں گواہی دیں گے
میں نہ تڑپا نہ ذرا سا بھی کراہا شاہا!

عمران ثاقب چودھری: بیلجئم
تیرے ہونٹوں سے ادا ہوکے نکھر جاتے ہیں
تو ہے اشعار کی تاثیر بدلنے والا

سرور غزالی : جرمنی
وبا کے درمیاں کوئی نہ اپنا منہ کھولے
سلے نقاب میں لب ، اب نہ کوئی کچھ بولے

سہیل ضرار : انگلینڈ
میری یادیں سنبھال رکھئے گا
اتنا رشتہ بحال رکھئے گا

نصر ملک : ڈنمارک
روزِ غم سے جناب ہوگئی ہے
اب کے برکھا عذاب ہوگئی ہے

انور ظہیر رہبر : جرمنی
پتھر کے ہو چلے ہیں مرے ہاتھ اے خدا
لاتی ہے کب اثر وہ دعا دیکھ رہا ہوں

SHOPPING

باصر کاظمی: انگلینڈ
خموش بیٹھے ہو کب سے “ کرونا “ بات کوئی
یہ بات سُن کے وہ کچھ اور دور جا بیٹھا

SHOPPING