گالی کی تاریخ۔۔ساجی گُل

SHOPPING

میرے خیال میں Social Meida, Webseries اور Parallel Art Forms سے Mainstream Media تک گالی کا یوں پروان چڑھنا استحصالی Elite اور اسکے نافذ کردہ تہذیب و تمدن اور آداب (جسے آج کا نوجوان معاشرے کے oppressive tool گرداننے لگا ہے) کے خلاف ایک اعلان بغاوت ہے۔۔۔

زمانہ جب کروٹ بدلتا ہے۔۔ خصوصا برق رفتاری سے۔۔۔ تو اکثر وہ رسا تڑا کر بھاگتے بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح راستے میں آئی ہر چیز کو بلا تمیز و تفریق روندتا چلا جاتا ہے۔۔۔ جہاں ایک طرف برصغیر پاک و ہند میں اب مسلسل سماجی و اقتصادی استحصال کے خلاف ایک باغی نوجوان کی نئی نسل سر اٹھانے لگی ہے وہیں سوشل میڈیا اور ویب میڈیا پلیٹ فارمز نے اس جاری صدی کے موڑ پر نئی معاشرتی جہتوں کا ایسا رخ پکڑا ہے جو پرانی پود کے لئے نہ قابل فہم ہے نہ قابل برداشت۔ انہی نئی رواج پاتی باغیانہ عادات میں سے ایک “گالی” بھی ہے۔ یہاں میں پہلے سے یہ بات کلیئر کرتا چلوں کہ یہ پوسٹ نہ کسی generation کے حق میں ہے نہ خلاف ۔۔ میں صرف ان سماجی عوامل کی جانب اپنے قارئین کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کو سمجھے بغیر باغیانہ رویوں کو سمجھ پانا ناممکن ہے۔

اسکی ایک مثال وہ چینی نوجوان کومیونسٹ جماعت Red Guards ہیں جنہیں Chairman Mao کے Cultural Revolution کی تحریک نے جلا بخشی۔ یہ نئے انقلابی چین میں اسکی ثقافت میں بچی کھچی Bourgeois باقیات کی تنسیخ کی تحریک تھی جو تمام چینی کلاسیکی ادب، فن پاروں اور تمیز و آداب کو سرخ انقلاب کے بعد نئے communist چائنہ میں si jiu یعنی Old Fours کے ناقابل برداشت استعارے گرداننے لگی تھی۔ ان Four Olds کی فہرست میں پرانے خیالات، پرانا تمدن، پرانی عادات اور پرانے رسم و رواج شامل تھے جنہیں پرانے استحصالی Capitalist, Imperialist اور Feudal معاشرے میں نافذ oppressive tools کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔

وہ جیسے کہتے ہیں نا کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے کچھ ایسا ہی ان Red Gauards نے بے شمار کلاسیکی چینی ادبی شاہکاروں اور فنون لطیفہ کے فن پاروں کے ساتھ بھی کیا۔ جہاں انہوں نے گھر گھر تلاشی لے کر موروثی اثاثہ جات بشمول خاندانی مورثی کپڑا لتا و زیورات، نسل در نسل تسلسل سے منتقل ہوتے وراثتی برتن، یہانتکہold school paintings اور family group photos تک عام چینیوں سے زبردستی برآمد کرا کے انہیں توڑنے اور جلانے پر مجبور کیا۔ وہیں وہ تمام پیشے جو پرانی چینی سوسائٹی میں انتہائی قابل احترام سمجھے جاتے تھے ان سے تعلق رکھنے والے افراد کو سر عام چوکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر ذلیل و رسوا کیا گیا۔ انہیں گالیاں بکی گئیں۔۔ کیونکہ جو آداب وہ سکھا رہے تھے اسے نئی نسل خود پر لاگو غلامی کا manifesto سمجھنے لگی تھی۔

یہی حال اس زمانے میں رائج Classical Theatre اور Performing Arts کے ساتھ ہوا جس کی انتہائی دلسوز مگر دلکش تصویر کشی Farewell My Concubine جیسی Chinese cultural Revolution سے inspired لازوال چینی فلموں میں کی گئی ہے۔

یہاں میں اعتراف کرتا چلوں کہ  جہاں میں چین کے سرخ انقلاب کو ایک عظیم سماجی inspiring تحریک مانتا ہوں وہیں ان دکھوں سے بھی واقف و متاثر ہوں جو چینی قوم نے اسکے تیز رفتار ارتقاء کے دوران جھیلے۔

چند لوگ کہیں گے کہ کہاں آپ نے ایک کافر کمیونسٹ تحریک کو ایک اسلامی ملک میں پروان چڑھتے باغیانہ اور بدتمیزانہ رواج سے جوڑا۔۔۔ تو میرا ان کے لئے جواب قبل از سوال یہی ہو گا کہ بے شک ہمارا (بشمول ہندوستانی پود)سسٹم  انتہائی چتکبرا ہے۔۔ نہ یہ پورا سبز ہے نہ لال مگر universal social principles وہی پوری دنیا میں وہیں ایک سے ہیں۔۔ ایوب خان کے خلاف بھٹو کی سٹوڈنٹ یونین تحریک اور گالیوں کا استعمال اور پی ٹی ائی کے سوشل میڈیا ہینڈلرز کے through گالی کو رواج دینے کا الزام تو وزیراعظم عمران خان پر بھی ہے۔

نٹشے کی تھیوری آف master morality اور slave morality بھی اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سماجی اسلوب و آداب معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو ایک غلامی کے طوق کی صورت تھمائے جاتے ہیں جب کہ اسی سوسائٹی کا elite طبقہ ان سب moralities اور آداب کا تخلیق کار تو ضرور ہوتا ہے مگر حقیقی طور پر انہیں خود پر لاگو نہیں کرتا۔۔ یہی تضاد بالآخر opressed طبقات میں reaction کے طور پر counter Culture activities کا باعث بھی بنتا ہے

جہاں وحشت کے reaction میں تمیز ایک نعرہ بغاوت ہوتی ہے وہیں تہذیب کی کمیں گاہوں میں پنپنے والے استحصال کا جواب گالی ہی ہو سکتا ہے

گالی فی الزمانہ ایک Tool of Social Hierarchy:

ایسا کیوں ہے کہ مرد پیٹ اور منہ بھر بھر کر گالی بکنا اپنا حق سمجھتا ہے مگر عورت کے منہ سے پھسلی ہوئی گالی اس پر زناٹے دار خاموشی طاری کر دیتی ہے۔ حالانکہ گالیوں کا 90 فیصد مواد صنف نازک سے متعلق ہوتا ہے۔

پرانی نسل جی بھر کے نوجوان نسل کو پھٹکار سکتی ہے مگر نوجوان کا ردعمل میں وہی الفاظ دہرا دینا انتہائی معیوب عمل تصور ہوتا ہے۔

یہی equation استاد و شاگرد، حاکم و محکوم، مخیر و بھکاری اور مالک و نوکر کی مثل پر پوری پوری fit بیٹھتی ہے۔

پس ثابت ہوا کہ گالی ایک لسانی بد اخلاقی سے زیادہ ایک domination ایکٹ ہے۔۔۔ جو ایک privileged کلاس دوسری unprivileged کلاس پر بطور حاکم social hierarchy اور   سٹیٹس کو  برقرار رکھنے کے لئے مسلط کرتی ہے۔۔۔

عورت عورت کو گالی کیوں دیتی ہے؟

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر عورت بھی تو عورت کوگالی دیتی ہے۔ تو یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ بے شک یہاں جنس یکساں ہے مگر حاکم و محکوم کی equation تو وہیں جوں کی توں موجود ہے۔۔ جیسے کسی معاشرے پر قابض طبقے کی عادات و اطوار اس سماج میں ناقابل برداشت گردانی جانے کے باوجود elitist expression ٹھہرتی ہیں من و عن اسی اسلوب پر گالی محکوم طبقے کے ہاں طاقت کا استعارہ ہوتی ہے۔ عورت دوسری عورت کو گالی دیتے ہوئے اکثر وہی کردار کشی پر مبنی مغلظات بکتی ہے جو بنیادی طور پر مرد عورت پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیئے استعمال کرتا ہے ۔

مالکن ملازمہ کو پھٹکارنا اپنا طبقاتی و سماجی حق سمجھتی ہے۔ ساس بہو پر لعن طعن کر کے گھریلو سیاسی power struggle کا آغاز کرتی ہے اور اکثر یہ منظرنامہ پیر جمنے کے فوری بعد ہی بہو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ان کی یہ معرکہ آرائی بنیادی طور پر اس گھر کے کمائو پوت کی جیب میں دھرے اقتصادی وسائل پر قبضے کی ہوتی ہے۔ ورکنگ وومن عموما اسی معاشی کھینچا تانی کے سبب بری اور قابل مذمت ٹھہرتی ہے کیونکہ اقتصادی خودمختاری social hierarchy میں اسکا Status بدل سکتی ہے۔۔۔

یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ عموماًEuropean فلمیں دیکھیں تو آپ کو Royal اور Elite طبقے کی عورت پچھڑے ہوئے طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے مقابلے میں زیادہ Reserved اور ہائی سوسائٹی کے Etiquettes کے بوجھ تلے دبی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اسکی جو وجہ میری سمجھ میں آتی ہے وہ نچلے طبقے کے مرد کی خستہ معاشی حالت کے ساتھ ساتھ اس طبقے کی عورت کی معمولی ہی سہی مگر economic independence ہے جو اسے خاکم طبقے کی عورت کے مقابلے میں کافی حد تک گالی بکنے کی authority فراہم کر دیتی ہے۔۔

گھر والی باہر والی کو، پہلی بیوی دوسری کو، بچوں والی بانجھ کو، لڑکے کی ماں لڑکی کی ماں کو، شادی شدہ بیوہ کو، غرضیکہ کسی بھی طور پر ایک privileged عورت جب بھی کسی unprivileged عورت کو اپنے status کو چیلنج کرتا ہوا محسوس کرتی ہے وہ اسے خود پر مسلط مرد کو mimic کرتے ہوئے گالی دیتی ہے۔

گالی اور مردانہ قوت:

آپ میں سے جس نے کبھی مجھے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے دیکھا ہے اسے یقیناً تعجب ہوگا کہ کالج جانے سے پہلے تک میں اس معاملے  میں انتہائی شرمیلا واقع ہوا تھا۔۔ مگر اسے چند دوستوں کی مہربانی کہیے یا میری مجبوری کہ اس پدر سری سماج میں بقا کے لیئے مجھے اپنی زبان سے الہ دین کا یہ گالیوں بھرا چراغ رگڑنا ہی پڑا اور یقین مانیئے جب بھی یہ سنہرا منتر پھونکا کام آیا۔۔۔ شاید گالی کو کسی ہتھیار کی طرح مردانہ قوت کا اظہار سمجھ کر society بے چوں چراں اپنا چکی ہے۔ جیسے طاقتور جانور کمزور جانور پر پوری قوت سے غراتا ہے تو کمزور سرتسلیم خم کر دیتا ہے۔

گالیوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیئے مرد کسی ماہر گلوکار کی طرح اسکی tone, vocal intensity, phonetic texture, innovation اور empathy یا relate-ability کی روزانہ مشق کرتا ہے تب جا کر کہیں یہ ریاضت ناچیز کی زبان کثیف میں بے مثال روانی، اور سحر انگیزی کا جلوہ کامل عروج کا رس کسی کے لاچار کانوں میں گھول پاتا ہے۔۔

گالی مردانہ کلچرمیں muscle flexing جیسا ہنر ہے۔ جو جتنا بڑا مرد ہے اتنی بڑی گالی بکنا اسکے manliness manifesto میں درج اتنی ہی بڑی دلیل ہے۔ گالیاں کھا کر چپ رہنا نامردی کا منہ بولتا ٹبوت سمجھا جاتا ہے۔ عموماً مرد کی عزت dent proof ہوتی ہے سو اسکی عورت کو گالیوں کا content creator اپنا تخلیقی سرچشمہ گردانتا ہے۔ مرد کے نام کی گالی البتہ شاذ و نادر وجود میں آتی ہے مگر جو آتی بھی ہے وہ اسے کسی passive sexual orientation کی طرف مائل ثابت کرنے پرتلی ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مرد عورت کا روپ دھارے تو ہمیں ہنسی کیوں آتی ہے جبکہ عورت کا مرد کا بہروپ بھرنا weird تو محسوس ہوتا ہے مگر اس پر ہمیں ہنسی نہیں آتی۔۔۔ غور کیجیئے تو یہی Patriarchal معاشروں میں عورت اور مرد کی طقباتی تفریق کی دلیل ہے۔۔ مرد کا عورت کا کردارانبھانا اسکے اس Higher Status کا بلیدان مانگتا ہے جو اسے پدرسری معاشرہ پیدائشی حق کے طور پر عنایت فرماتا ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ کرتا چلوں کہ عورت اکثر و بیشتر اس زن بے زار نظام کا سب سے زیادہ شکار ہونے کی باوجود خود بھی misogyny کی حامی ںظر آتی ہے۔ میں نے اکثر انتہائی نفیس لڑکیوں کو انتہائی بدزبان لڑکوں کی طرف مائل ہوتے دیکھا ہے۔ کبیر سنگھ،fifty shades of grey اور 365 DNI جیسی پر تشدد فلمیں جو ہیرو کوانتہائی aggressive roles میں پیش کرتی ہیں خواتین میں انہتائی مقبول ہیں۔ یہ بالکل Stockholm syndrome جیسا کچھ معاملہ ہے جس میں مغلوب غالب کے خوف میں اپنی پناہ محسوس کرنا لگتا ہے۔ مجھے اکثر ایسی نقیدنگار خواتین کا سامنا رہا جنہیں میرے تحریر کردہ ڈرامہ سیریل میں او رنگریزہ میں قاسم کا کردار انتہائی پھسپھسے مرد کی طرح behave کرتا نظر آیا ۔ وہ اس پر MAN UP کے آوازے کستی نظر آئیں۔ یہاں تک کہ سسی کا کردار خود بھی جب تک قاسم کے انکار اور دھتکارے جانے کے احساس سے نہیں گزرتا وہ قاسم کی جانب seduction کا element محسوس نہیں کرتا۔۔ جیسے جنگل میں نر اپنے بڑے سینگھوں سے مادہ کومرعوب کرتا ہے ویسے ہی پرکشش مرد مردانگی کے باقی مروجہ اجزاء کے ساتھ ساتھ گالی کو بھی اپنی موچھوں سیمت زبان پر تائو دیتا ہے۔۔۔ اثر سننے میں آیا ہے کہ جوڑے زبانی مغلظات کو جنسی کشش بڑھانے کے لیئے بھی استعمال کرتے ہیں

یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ verbal abuse کی طرح physical یا sexual abuse بھی passion یا pleasure سے زیادہ ایک act of domination ہوتا ہے، جسے طاقتور اپنی رٹ قائم کرنے کے لیئے جب کہ کمزور خود سے کمزور پر اپنی powerlessness کے ری ایکشن میں حسب توفیق expression of power کے طور پر implement کرتا ہے

گلی اور گالی کی سیاست:

ہم نے اب تک دو برابر کے حریفوں کا تذکرہ نہیں کیا۔ گالی کی یہ Equation وہاں بھی لاگو ہوتی ہے۔ اسکی مثال دو ٹکر کی سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے کے خلاف سیاسی Conflict سبقت لیے جانے کے جنون میں بھی نافذ العمل دیکھی جا سکتی ہے جہاں وہ ایک دوسرے کو الزامات اور گالیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ جو دوسرے کو بہترین مغلظات اور جوتوں کا ہار پہناتا ہے وہی معتبر ٹھہرتا ہے۔ اکثر مذہبی image رکھنے والی شخصیات بھی اسی تناظر میں دشمنوں کو چت کرنے کی غرض سے سرعام گالم گلوچ کا سہارا لیتے دکھائی دیتی ہیں اور ان کے theocratic minions بجائے ان کے اس عمل سے بیزار نظر آنے کے الٹا اس کے حق میں مذہبی دلائل کی مہر ثبت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انسان جبلی طور پر ایک Territorial Specie ہے جو شیر، سگ اورgoose بطخ جیسے دیگرجانداروں کی طرح اپنی marked territory پر اپنے قوانین اور اجارہ داری قائم کر لیتا ہے۔۔۔ کسی اور کی اپنی حد میں بنا اجازت مداخلت یا دراندازی پر اسکا ری ایکشن وہی ہوتا ہے جو اکثر گلیوں سے گزرتے مسافروں کو رات مین درپیش ہوتا ہے۔۔ مطلب بھئو بھئو۔۔

جس پر آپکا کنٹرول نہیں ہوتا اسے بھی آپ گالیاں دے کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ اسی لیئے معاشرہ جن اشخاص، human races ااوراقوام پر اپنے قوانین لاگو نہیں کر پاتے یا ان سے threatened محسوس کرتے ہیں، بہت creatively ایک گالی انہی کے نام سے گھڑ کر انہی سے منسوب کردیتے ہیں۔۔ سو گالی ایک طرح سے فی البدیع یا Indirectly اس امر کا اعتراف بھی ہوتی ہے کہ آپکی گالم گلوچ کا ٹارگٹ آپ کے بس میں نہیں۔۔۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ شخصی آزادی تو کیا کسی کا اس ہجوم میں stand out کرنا ہمیں خوفزدہ اور مشتعل ہر دیتا ہے سو ملا اور استاد کی لاٹھی ایک گالی سمیت ہر اٹھے ہوئے سر پر زور سے پڑتی ہے۔ اسے واپس جھک کر اس مفروضہ راہ راست کی کٹی ہوئی بجری اور گرم لک میں زم ہو جانے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔

گالی اور لسانیت:

چونکہ میرے اس مضمون میں English کی کافی آمیزش ہو گئی ہے اس لیئے ایک خیال ذہن میں ابھرا کہ ہمیں انگریزی میں گالی cool سنائی دیتی ہے ۔۔ اکثر تعلیم یافتہ طبقے کے بچے اور خواتین بھی یہ الفاظ بنا کسی کے ماتھے پرشکن ابھارے کھلے عام استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔ خصوصا ًسوشل میڈیا پر۔ اگر انہی Cool Sounding الفاظ کا ترجمہ اردو میں کیا جائے تو سننے والے کے کانوں  کی لوؤں تک پر سرخی دوڑ جائے۔ مزید Intensity بڑھانی مقصود ہو تو کسی علاقائی زبان کا انتخاب کیجیے۔ بات مزید dialect تک نہ ہی جائے تو بہتر ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟؟

یہاں ایک طرف تو انسان کا اپنی مادری زبان سے تحت الشعوری لگاؤ  اور پرائی زبان سے قلبی دوری کا عنصر غالب ہے وہیں دوسری طرف وہی طبقاتی تفریق جس کے تحت شرفاء کی گالیوں کے غریب ترجمے انہی کی طرح پچھڑے ہوئے اور گھٹیا محسوس ہوتے ہیں۔۔

گالی اور مزاح:

میں اکثرمحسوس کرتا ہوں کہ تیسری دنیا میں عوام (خصوصاً خواتین) چونکہ عموما ًphysical amusement اور تفریح سے محروم ہوتے ہیں اس لیئے Freud کی
stages of personality development کی تھیوری کے حساب سے ہم ایک orally fixated معاشرہ ہیں۔ جس کا pleasure zone ہی اسکا منہ یعنی دہن ہے۔ ہمیں جب enjoy کرنا ہوتا ہے تو ہم کچھ کھا لیتے ہیں۔ گا لیتے ہیں، gossip یا چغلیاں کر لیتے ہیں یا پھر لطیفے اور گالیوں سے زبان گرماتے ہیں۔

گالیوں کا content زیادہ تر ایسے topics پرمشتمل ہوتا ہے جو خالصتا ًتحقیر آمیز ہوتے ہیں۔ عام حالات میں وہی Taboo Topics جو ہمارا پارہ چڑھا دیں وہی لطیفوں کی صورت ہمیں کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جنسی اعضاء اور رویوں سے شروع ہوکر گالی کا subject matter کسی کی جسمانی ساخت، رنگت، جنس، معذوری سے ہوتا ہوا نسلی اور طبقاتی تعصب پر جا پہنچتا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ نارمل حالات میں جس social structure کے تہہ و بالا ہوجانے سے آپکے خوف کے مارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں وہی میٹھی گالیوں کی صورت آپکو entertain کرنے کے کام آتا ہے۔۔

کوئی foreigner عموماً ہماری زبان سیکھنے کی خواہش کا اظہار کرے تو ہماری سب سے زیادہ دلچسپی اسے اپنی زبان میں مروجہ مغلظات سکھانے میں ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ہمیں ہنسی آتی ہے۔ یہی حال نیا نیا بولنا سکیھتے ہوئے بچوں کے معاملے میں عام ہے۔

دوست پیار سے بھی ایک دوسرے کو گالی بکتے ہیں۔۔۔ مگر وہاں بھی بھیڑیوں کے غول کی طرح Alpha اور Omega کا status qou قائم ہوتا ہے۔۔دوستون کے گروپ میں کون کس کو کس نوعیت، مقدار اور intensity میں گالی دے سکتا ہے یہ ان کے بیچ ایک ان کہا قانون طے کرتا ہے۔ Omega کبھی Alpha پر جوابی وار نہیں کر سکتا۔ اگر کرتا ہے تو یہ ایک طرح سے یہ Alpha کے تعالقاتی تخت اور authority کو چیلنج تصور ہوتا ہے اور Alpha برہمگی کا فوری اظہار کردیتا ہے۔ جہاں تعالقات برابری کے ہوں وہان بھی سیاسی حریفین کی طرح گالیوں کی زبانی مشق جاری رہتی ہے جب تک کہ ایک ہتھیار ڈالنے پرمجبور نہ ہوجائے۔۔۔

گالی Social Media اور Screen:

راولپنڈی کے ایک نانگا باوا جی کا تذکرہ اکثر بچپن سے سنا جو الف ننگے اپنے معتقدین یا fans کو ڈنڈے کی چوٹ کے ساتھ الف ننگی گالیاں رسید کرتے۔ وہ جتنا مریدین سے بھاگتے وہ اتنے ہی ان سے گالیاں کھانے کو اپنے لیئے باعث سعادت اور برکت تصور کرتے۔ ایسا ہی کچھ سوشل میڈیا کے ساتھ ہوا ہے۔۔۔ social media celebrities کی زبان جتنی گندی ہوتی ہے یاوہ جس قدر گالیاں کھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کا career اتنی ہی کامیابی کا عروج دیکھتا ہے۔ غرضیکہ کہ گالی ہر طرح سے تحت الشعوری طور پرہمارے سماجی norms میں رچی بسی ہے۔
ہاں ٹیلی ویژن کی سکرین پر البتہ اسکا استعمال ہمیں شدید قابل مذمت لگتا ہے۔۔لگے بھی کیوں نا۔ ہمارے گھروں کا انفراسٹریکچر بدل دینے پر تلی ہوئی کوئی بھی چیز ہمارے لیئے نہ قابل برداشت ہے۔۔۔ ہم لکھاریوں ، اداکاروں اور میڈیا والوں کو بڑی بڑی گندی گالیوں کا اعزاز بخشتے ہوئے انہیں ایسے گری ہوئی زبان استعمال کرنے پر معاشرے میں برائی کی جڑ ثابت کرتے ہیں۔۔۔ جن indian webseries کی کوالٹی کا ہم لوکل میڈیا کو طعنہ دیتے ہیں انہی کی طرح اپنے کانٹینٹ میں گالی براڈکاسٹ ہوتی دیکھ کر  ہماری روحیں کانپ جاتی ہیں۔۔ ایمان ڈگمگانے لگتے ہیں۔۔۔ جس safe distance پر رہتے ہوئے ہم اس بین الاقوامی کانٹینٹ کو رس چوس کر اپنے تمام جبلی انسانی رویوں کی حرارت محسوس کرتے ہیں وہی اپنے context میں دیکھتے ہوئے ہمارے اقدار کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔۔۔

سوشل میڈیا پر بیشتر keyboard warriors اور trolls معروف شخصایت کو اپنی مغلظات کے نادر ذخیرے کی مدد سے اکثر اخلاقیات اپنانے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے ہجوم کے ہاتھ جیب کترا آجائے اور وہ اسے اپنی زندگی کی تمام محرومیوں اور مسائل کی frustration نکالنے کا ایک نادر موقع جانیں۔۔۔۔ یہاں ایک لوئر کلاس شخص اونچے سوشل سٹیٹس کے آدمی کو گالی دے کرخود کوبہتر ثابت کرنے کا چانس کسی صورت نہیں گنوانا چاہتا۔

چونکہ موبائیل سکرین کی وجہ سے Web ایک private medium ہے اس لیئے اسے استعمال کرتے ہمارا عمومی رویہ بالکل ویسا ہوتا ہے جیسا آپ کو اکثر پبلک ٹائلیٹس کی دیوار پر آوایزاں نظر آئے گا۔۔۔ ایسے میں webplatforms گالی کی مختلف انواع و اقسام کی بود و باش اور نشو ونما کے لیئے بہترین ماحول اور زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ جب انسان کو معاشرے کے سامنے اپنی شناخت کھل جانے کا خوف نہیں ہوتا تو وہ اپنا ego shell اتار پھینکتا ہے اور بے باکی سے وہ سب کہہ جاتا ہے جو حقیقی زندگی میں کہہ جانے کا تصور بھی نہیں کر پاتا۔۔ برقی چولا اوڑھ کر وہ ایک ورچیول ورلڈ میں اپنے خاکی چولے اتار پھنکتا ہے جس کے ساتھ اسکے زمینی گنا و ثواب کے concept جڑے ہوتے ہیں۔۔۔ اس لیئے سوشل میڈیا پر گالی کے محرکات اور اخلاقی تقاضے یکسر نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔۔

لب لباب دشنام:

SHOPPING

گالی dictation بھی ہے اور بغاوت بھی، جنس کا اظہار بھی ہے جنس بےزاری بھی، طبقاتی استحصال بھی ہے اور سماجی انقلاب کا استعارہ بھی، تفریح بھی اور تمسخر و تذلیل بھی۔۔۔ انسانی جبلت کا حصہ بھی اور سماجی مجبوری بھی۔۔۔ غرضیکہ  گالی فقط ایک زبانی بد اخلاقی نہیں بلکہ سماجی سیاسی و اقتصادی محرکات پر مبنی ایک مکمل فلسفہ ہے۔۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گالی کی تاریخ۔۔ساجی گُل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *