دائروں کی حکومت۔۔سید عارف مصطفیٰ

SHOPPING

ڈھائی برس قبل ایک تبدیلی اسلام آباد میں کیا آئی ، کہ دیکھتے ہی دیکھتے تبدیلیوں کی رفتار اس قدر تیز ہوچلی ہے کہ اب تبدیلی بھی خود کو تبدیل ہونے سے نہیں روک پارہی ۔ ایسے میں کوئی ہرگز ہرگز یہ نہ سوچے کہ اب اگر کبھی صوبہ سندھ کی کوئی رضیہ کبھی غنڈوں میں پھنس گئی تو کیا کرے گی ۔۔۔ کیسے کسی سنتری کو پکارے گی ، کیونکہ اب تو بیچارا ہر کاکا شپائی خود سخت پریشان ہے کہ خود کو ان مہابلی ٹائپ تلنگوں کے ہاتھوں چھپر ہونے سے کیسے بچائے گا کہ جب اس کا سب سے بڑا کمانڈر یعنی آئی جی بھی انکے ہاتھوں خود کواغواء ہونے سے نہیں بچا سکا کہ جسے تقریباً معلوم شدہ نامعلوم افراد صبح 4 بجے اسے اس کے قلعہ بند گھر سے جھٹ پٹ یوں اٹھاکے لے گئے جیسے کوئی بردہ فروش خاتون کسی میٹرنٹی ہوم سے کسی نومولود معصوم کو اٹھاکے جاتی ہے۔۔ لیکن وزیراعلیٰ سندھ کی مانند کبھی یتیمانہ تو کبھی مکارانہ سیاپا کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہر شریف اور عاقل فرد اب سوچ کی موچ کا شکار نہ ہو ، وہ بس ہمہ وقت خود کو تیار رکھے کہ جب کبھی اس کے گھر کے پھاٹک پہ اچانک کوئی ڈبل کیبن آکے رکے تو اسے کس کمال عاجزی و انکساری اور سبھاؤ سے بلکہ مضطربانہ خود سپردگی جیسی بیقراری سے خود کو انکے سواروں کے سپرد کرنا ہے کہ کہیں اس پہ ادنیٰ سی مزاحمت کی تہمت تک نہ لگ جائے اور اسکی پاداش میں غداری جیسے جرم عظیم کی سزائے شدید نہ بھگتنی پڑجائے ۔ گو اس درجہ برخورداری کے اظہار کے بعد بھی یہ یقینی تو ہرگز نہیں کہ کالی یا پیلی ویگو کی سواری مقسوم نہ ہوگی لیکن غالب گمان ہے کہ جسم کے کچھ نہ کچھ اعضاء کے قابل شناخت رہ جانے کے امکانات تو بڑھ ہی سکتے ہیں ۔۔۔ آخر امید پہ دنیا قائم ہے ۔

لیکن صاحبو سچ یہ ہے کہ یہ سب باتیں ہیں ناشکروں‌ کی ۔۔۔ جو یہ مان کے نہیں دیتے کہ جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں ہم پاکستانیوں پہ ہماری ایجنسیوں کا احسان بڑھتا جارہا ہے ۔۔۔ بھلا یہ رعایت کوئی کم ہے کہ اب بھی ہر صبح انکی کلیئرینس لیئے بغیر کوئی نہ کوئی ایسا نومولود جنم لینے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے کہ جسے بعد میں مسلمہ ناہنجار بننا ہوتا ہے ۔ اور پھر انکی عالیٰ ظرفی و درگزر کی یہ بھلا کوئی چھوٹی موٹی علامت ہے کہ وطن عزیز کے گستاخ کارخانے روز بغیر ان سے پوچھے اپنی پیداوار شروع کردیتے ہیں ، اور انکی اجازت کے بغیر کسان صبح دم اپنے کھیتوں میں فصل بونا شروع کرتے ہیں اور حد تو یہ کہ وہ سینچنے و فصل کا ٹنے کے لئے بھی ان سے پرمٹ لینے کے پابند نہیں بنائے گئے ۔۔۔ حالانکہ کیا خبر کہ  کب کوئی کارخانہ دار  سکول کالج بیگ بنانے کے بجائے دہشت گردوں کے لئے خاص بیگ بنانا شروع کردے اور کوئی کسان کاشتکاری کی آڑ میںً تخریب کاری پہ اتر آئے اور کھیتوں میں آلو بونے کے بجائے ہینڈ گرنیڈ سمونے کی مفسدانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوجائے ۔۔۔ مکان دکان اور کھلیان سلامت تو سمجھو دہشتگردی کے مچان سلامت ۔۔۔ اس لیے جب تک کسی بھی طرح کی سازش کا گمان باقی رہے گا، ایجنسیوں کی ضرورت کا امکان بھی باقی رہےگا۔

SHOPPING

پھر یہ بھی ہے کہ ان بیچارے ایجنسی والوں پہ بھی ذمہ داریوں کا بوجھ کوئی کم ہے ۔۔۔ پورے بائیس کروڑ لوگوں پہ نظر رکھنے کا معاملہ ہے کہ کیا پتا کب ان بھانت بھانت کے لوگوں میں سے کوئی فٹافٹ بھٹک جائے اور وہ سربلندیء قانون سے اٹک جائے ۔۔۔ کسے خبر کہ کب گناہوں کے رنگ میں رنگے جانے کے لئے کسی کا من اچانک رنگین ہوجائے اور جب تک کسی کو پتا چلے یہ معاملہ بیحد سنگین ہوجائے ۔۔۔ اس لیئے لاریب 22 کروڑ شہریوں سے وابستہ اور پل پہل پہ محیط اس عظیم و مہیب ذمہ داری کے پشتارے کو لادنے کے لئے کم ازکم 22 ہزار ایجنسیوں کی ضرورت تو بنتی ہی ہے جو بڑے اطمینان و سکون اور استقامت سے اپنے عظیم مقاصد پورے کرسکیں اور کسی کندہء ناتراش کے سر میں بدخیالی کا سودا سمانے سے پہلے ہی اس سر کو دائم سرنگوں کرنے کے لئے چوکس و خبردار رہیں ۔۔۔ لیکن بُرا ہو اس معاشی زبوں حالی کا کہ لے دے کے بس تاحال اتنی سی ایجنسیوں ہی کو قائم کیا جاسکا ہے کہ جو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں جتنی بھی نہیں ہیں، اور اپنی کم مائیگی کا یہ غم انہیں اس بُری طرح کھائے جاتا ہے کہ انہیں ڈھنگ سے کسی سانحے کو قبل از وقت پیدائش، روک سکنے کی خاطر خواہ قوت ہی میسر نہیں آپائی ۔۔۔ اپنی اس کم مائیگی کو جان لینے کے بعد انہوں نے پورے خشوع و خضوع سے ملک کو بہت سے دائروں میں بانٹ لیا ہے اور انہیں وہ بڑی جانفشانی سے اپنی مرضی اور بجٹ کی گنجائش کے مطابق چھوٹا بڑا کرتے رہتے ہیں اور چونکہ وہ بڑی پامردی سے قومی مفاد کا سائزاسی پیمائش سے مرتب کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ تو اگر قومی مفاد کے دائروں کی اسی گھمن پھیری میں اب ایک آدھ چھوٹا آئی جی بھی ادھر سے اٹھا کے اُدھرکردیا گیا ہے تو اس میں اتنے شور شرابے اور سیاپے کی بھلا کیا تک ہے ۔؟

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *