• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • الحاد کی تاریک راہوں سے پلٹنے کی وجہ سے ماری جانے والی فائزہ ممتاز کی سچی کہانی۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

الحاد کی تاریک راہوں سے پلٹنے کی وجہ سے ماری جانے والی فائزہ ممتاز کی سچی کہانی۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING
SHOPPING

فائزہ ممتاز (نام تبدیل شدہ ہے) نے صوم و صلوۃ کے پابند ایک خاندان میں آنکھ کھولی تھی جس کی تربیت ایک مکمل مشرقی ماحول میں ہوئی۔ میٹرک کے امتحان کے بعد وہ کالج جانے لگی۔ کالج میں اُس کی دوستی کچھ ایسی لڑکیوں سے ہوئی جنہوں نے اُسے انٹرنیٹ کی دنیا سے رُوشناس کروا دیا۔ جلد ہی اُس نے گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی تعلیم کے بہانے سے لگوا لی۔ پھر جیسے ہی فیس بک پر دانش نامی ایک لڑکے سے اُس کی دوستی نما محبت یا محبت نما دوستی ہوئی تو یہ رشتہ سوشل نیٹ ورکنگ سے آگے نکل کر میل ملاقاتوں تک پہنچ گیا۔ کالج کے بہانے ریسٹورنٹس میں ملاقاتیں طویل سے طویل تر ہوتی چلی گئیں۔ دانش بلاشبہ ان وجیہہ لڑکوں میں شمار ہوتا تھا جن پر کوئی بھی لڑکی مر مٹے۔ آہستہ آہستہ دانش نے فائزہ ممتاز کو اپنے دوسرے مرد و خواتین دوستوں سے ملوانے لگا۔ گاڑی، بنگلہ اور اونچے خواب جو کبھی فائزہ ممتاز نے دیکھے تھے، اُن سب کی تعبیر دانش کے پاس موجود تھی۔ اونچے اسٹیٹس کا بخار فائزہ ممتاز پر بھی چڑھ چکا تھا۔ گھر کا دینی اور سادہ مشرقی تہذیبی ماحول اُسے دقیانوسی سا لگنے لگا تھا- نقاب سے اُسے اُلجھن ہوتی تھی۔ جب پہلی دفعہ وہ عبایا میں ملبوس دانش کے دوستوں سے ملی تو اپنا آپ اُسے بہت میلا سا دکھائی دیا۔ اُس دن کے بعد وہ گھر سے تو عبایا پہن کر جاتی لیکن اب اُس نے عبایا سے منسلک نقاب لینا چھوڑ دیا تھا۔ اُس کی ماں نے پوچھا تو اُس نے بہانہ بنایا کہ اُسے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور پھر ماں تو ماں ہی ہوتی ہے جو بچوں کےغیر منطقی اور ہر طرح کے جھوٹے بہانوں سے بھی مطمئن ہوجایا کرتی ہے، یہاں تو فائزہ ممتاز نے اپنی ماں کو نقاب لینے سے ہونے والی ‘خود ساختہ’ تکلیف کا ذکر کیا تھا۔

دانش کے دوستوں سے جب وہ ملنے جاتی تو عبایا دانش ہی کی گاڑی میں اتار پھینکتی۔ وقت کی گاڑی گزرتی رہی۔ اس دوران فائزہ ممتاز نے کئی دفعہ چاہا کہ وہ اپنے جسمانی تعلقات کو لیگل کرنے کے لئے دانش سے شادی کے لئےکہے مگر دانش کے کھلے ڈلے طرز زندگی کی وجہ سے اُسے یہ سب کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ دانش نے ایسا ظاہر کیا کہ وہ فائزہ ممتاز کو بھی اپنی دوسری دوستوں کو طرح ایک دوست ہی سمجھتا ہے۔ اس دوران تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ فائزہ ممتاز کا حلقہ احباب دانش کے توسط سے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اِسی سول سوسائیٹی میں فائزہ ممتاز کی ملاقات نوید سے ہوئی جو ایک ادھیڑ  عمر پروفیسر تھا اور کوانٹم فزکس پڑھاتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ غیر مصدقہ اور ابھی تک سربستہ راز رہنے والی تھیوریوں کی بنیاد پر نوجوان نسل کو دین اور مذہب سے دوری کے دروس بھی دیا کرتا تھا۔ نوید کے ساتھ فائزہ ممتاز کی دوستی گہری ہوتی گئی اور وہ آہستہ آہستہ دانش سے دور جبکہ نوید کے قریب ہوتی چلی گئی۔ نوید کی صحبت رنگ لائی اور فائزہ ممتاز نے ساری حدود و قیود کو توڑ ڈالا۔ وہ خدا کے وجود کا انکار کر چکی تھی۔وہ کہتی کہ “اس دنیا میں کوئی خدا نہیں اور یہ کیسا خدا ہے جو لوگوں کو امیر غریب میں تقسیم کرتا ہے” (معاذاللہ)- دیسی ملحدین کی کچی پکی تھیوریوں کی بنیاد پر مسلسل ملنے والے لیکچرز کی وجہ سے ملحدین کے تمام افکار ونظریات فائزہ ممتاز کے دل و دماغ میں بس چکے تھے۔ لبرل ازم کا نشہ اُس کے سر پر سوار ہو چکا تھا۔ اس مصنوعی آزادی کی فضا میں سانس لینا اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ نوید کے ساتھ بھی اُس کے جسمانی تعلقات قائم ہوئے اور نوید نے اُسے جن بڑے لوگوں سے متعارف کروایا، اُن سب سے اُس کی دوستی اور تعلقات قائم ہوتے اور ختم ہوتے رہے۔

وہ مکمل ملحدہ ہو چکی تھی جو نہ تو ایک خدا پر یقین رکھتی تھی اور نہ ہی اُس کی نظر میں یہ ضروری تھا کہ عورت اور مرد کو ایک جیون ساتھی کے لئے محدود رہنا چاہیے۔ اپنے نئے نظریات کے بعد اُس نے ایک دن اپنے گھر بار کو خیر باد کہہ کر اپنے جیسی ایک اور دوست نجمہ حمید کے ساتھ اُس کا کمرہ اور بستر بھی شئیر کر لیا تھا۔ اُن کی ایک آرگنائزیشن تھی جس کا کام الحاد کی نشر و اشاعت تھی۔ پروفیسر نوید کی وجہ سے انہوں نے فائزہ ممتاز کو اِس آرگنائزیشن میں ایک اچھا عہدہ اور اچھی تنخواہ دینا شروع کر دی۔ اس آرگنائزیشن میں رہتے ہوئے فائزہ ممتاز نے تقریباً تمام ہی دنیا کی سیر کی۔ کبھی ہالینڈ، کبھی انگلینڈ، سنگا پور، ترکی، امریکا، جاپان ۔۔۔ وہ کون سا ملک ہو گا جو فائزہ ممتاز نے نہ دیکھا ہو۔ اس آرگنائزیشن کے تحت ہی فائزہ ممتاز نے متعدد حقوقِ نسواں کانفرنسز کروائیں اور خود بھی اِن میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو یہ اِس بات پر بر انگیختہ کرتے کہ مرد کی غلامی سے نکلو، شادی کر کے تم زندگی بھر بچے ہی پالو گی- شادی کر کے قید ہونے کی بجائے اپنے ٹیلنٹ کو آزماؤ کیونکہ دنیا بہت وسیع ہے۔کسی کے گھر میں اگر کوئی معمولی خانگی مسئلہ ہوتا تو ایسی عورت فائزہ ممتاز اور نجمہ حمید جیسی عورتوں کا اولین شکار ہوتی۔ بجائےاس کو سمجھانے کے یہ اُسے خوب ورغلاتیں۔ کوشش کرتیں کہ شوہر سے جھگڑنے والی ہر عورت طلاق لے۔ اگر وہ عورت جوان اور خوبصورت بھی ہوتی تو پھر اِن کی یہ کوششیں سر توڑ کوششوں میں بدل جاتیں۔ شوہر سے طلاق دلوانے کے بعد یہ عورتیں اُس بے حیا و اخلاق سوختہ سوسائٹی کی روشن خیال ممبر بن جاتیں۔ ناجائز پیسہ اور عیاشی کی راہ میں اِن عورتوں کا سب سے بڑا مخالف مذہب اور وہ بھی بالخصوص مذہبِ اسلام ہی تھا۔ جھوٹے اور غیر مصدقہ دلائل و ابھی تک سربستہ راز رہنے والے سائنسی نظریات کی بنیاد پر ملحد بن جانے والوں نے اپنے اِس غیر منطقی راستے کے مذہب، اخلاق اور تہذیب نامی کانٹے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کر دیا۔ نہ ہی یہ دیسی ملحدین خدا کو مانتے اور نہ ہی کسی اخلاقی شرم کو محسوس کرتے۔

مولویوں، داڑھی، برقع اور اسلام پر تنقید فائزہ ممتاز اور نجمہ حمید جیسی بد کرداروں کا پسندیدہ موضوع تھا۔ اخلاقیات کو اِن سے رخصت ہوئے زمانہ ہو چکا تھا۔ یہ فائزہ ممتاز کی خوش قسمتی تھی کہ پاکستان کے کچھ گھٹیا اوربدکردار مولوی بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے گھناؤنے واقعات ، جھوٹے توہین آمیز الزمات اور دیگر جرائم میں ملوث ہو کر اُسے مذہب پر تنقید کرنے کے لئےجواز اور مزید مصالحہ فراہم کیا کرتے تھے۔ ایسے واقعات اور جرائم میں صرف مولوی یا مذہبی لوگ ہی ملوث نہیں ہوتے تھے بلکہ دیگر عام لوگ بھی اسی طرح کے جرائم کرتے ہیں مگر فائزہ ممتاز کی کھلی تنقید ٹارگٹ صرف مولوی ہوتے تھے کیونکہ اُس کا مقصد مولوی کی توہین نہیں بلکہ مذہب کے خلاف نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہوا کرتا تھا۔ کبھی فائزہ ممتاز وہ لڑکی ہوتی تھی جو صبح فجر کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی تھی، رمضان کے روزے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن اب وہ آزاد تھی اور چاہتی تھی کہ دنیا کی ہر لڑکی اس آزاد فضا میں سانس لے۔ فائزہ ممتاز ہر اُس لڑکی کو دیکھ کر خوش ہوتی تھی جو مشرقی لباس کی بجائے جینز اور شرٹ پہنتی اور اپنے حلقہ احباب میں موجود لڑکیوں کے اس پہناوے کو وہ اپنی فتح قرار دیتی۔ وہ برملا کہتی کہ آج کی لڑکی بیدار ہو رہی ہے، یہ اس دنیا کی خوبصورتی ہے، اس چمن کی رونق اسی سے ہے۔ ان دیسی اور توہین مقدسات کرنے والے ملحدین میں رہتے رہتے فائزہ ممتاز اخلاقیات کا ہر سبق بھول چکی تھی۔ خواہشاتِ نفس اُس کی زندگی کا اولین مقصد تھا۔ سائنس اُس کا خدا اور مذہب و مقدسات کی توہین کرنے والی آزادئ اظہار رائے اُس کا ایمان تھا۔

فائزہ ممتاز کو یاد تھا کہ ملحدین کے ایک گروپ ڈسکشن میں بے حیائی کی تمام حدود کو اُس نے توڑا تھاجب پہلی دفعہ وہ لوگ گروپ سیکس اور ہم جنس پرستی کی لذت کے عنوان پر بات کرتے ہوئے اُسے فطری طریقہ ضبط تولید (برتھ کنٹرول) قرار دے رہے تھے۔ فائزہ ممتاز اور کچھ لڑکیوں نے چاہا کہ اس عنوان پر بات چیت اوپن فورم کی بجائے اِن باکس میں ہونی چاہیے تو اُس کے سینئر نے کہا کہ “کیا ہوا ہے تمہیں فائزہ ممتاز ۔ تم تو مکمل atheist ہو، تمہارے لئے کیا اخلاقی حدود و قیود جو مذہب نے عائد کی ہیں۔ یہ فطری موضوعات ہیں، اس لئے تمہیں شرمانا نہیں چاہیئے۔ اگر تم ایسا کرو گی تو عام لوگ کیا کہیں گے”- اور پھر اس دن کے بعد رہی سہی جھجھک بھی ختم ہو گئی۔ فائزہ ممتاز اِس ملحد آرگنائزیشن کی سب سے زیادہ زیادہ فعال ممبر تھی اور اُس نے کئی لڑکیوں کو اِس آرگنائزیشن کا ممبر بنایا تھا۔ گھروں سے بھاگ کر آنے والی لڑکیوں کے لئے فائزہ ممتاز کی آرگنائزیشن خصوصی سہولت فراہم کرتی تھی۔ جب بھی کسی ایسی لڑکی کا ذکر ہوتا تو پروفیسر نوید اور آرگنائزیشن کے تمام بڑے خصوصی دلچسپی لے کر اس معاملے کو ہینڈل کرتے تھے۔ یہ بات البتہ فائزہ ممتاز اور نجمہ حمید جیسی جوان مگر تیزی سے ادھیڑ عمری کی طرف بڑھتی عورتوں کو اتنے سالوں کے بعد اچھی طرح معلوم ہو چکی تھی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ وقت تیز رفتار پرندے کی طرح اڑتا رہا اور فائزہ ممتاز سینکڑوں نوجوان لڑکیوں کو گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل چکی تھی اور اپنی اس نو دولت مند زندگی سے بہت خوش تھی۔ اِس دوران فائزہ ممتاز نے مردوں اور عورتوں کے ساتھ کئی ایک عارضی جسمانی رشتے بھی قائم کئے مگر اُس کا مستقل رشتہ پروفیسر نوید او ر نجمہ حمید کے ساتھ ہی رہا۔

وقت گزرتا رہا۔ ہفتے مہینوں اور پھر سالوں میں بدلتے رہے۔ فائزہ ممتاز اب ادھیڑ عمری کی اُس منزل پر پہنچ چکی تھی جب یہ کنفرم ہو چکا تھا کہ وہ اگر شادی کر بھی لے تو بچے پیدا ہونے کے امکانات بہت موہوم ہو چکے تھے۔ نجمہ حمید بھی اس دوران شادی کر کے اپنے گاؤں واپس جا چکی تھی کیونکہ اُس کی برادری والے بہت سخت تھے اور اُسے معلوم تھا کہ نوکری کے بہانے شہر رہنے والی نجمہ حمید کے رشتے داروں کو اگر اُس کے فائزہ ممتاز او ر نجمہ حمید کے ساتھ تعلقات کا پتہ چل گیا تو پھر وہ اُسے نہیں چھوڑیں گے۔ ویسے بھی تیزی سے عمر 30 سال ہونے کے بعد نجمہ حمید کو صاف محسوس ہونے لگا تھا کہ آرگنائزیشن کے بڑوں کی اُس کی جانب توجہ کم ہو گئی ہے۔ اُس آرگنائزیشن میں کئی عہدے اور نکل آئے تھے جہاں کئی اور خوبصورت لڑکیاں آچکی تھیں۔ نجمہ حمید اور فائزہ ممتاز کی جوانی کی رعنائیاں ختم ہو رہی تھیں لیکن چونکہ وہ اِس آرگنائزیشن کے تمام رازوں سے واقف تھیں  اور اُس کے بڑوں کو نئی نئی لڑکیاں لا کر دیتی تھیں، اس لئے اب بھی اُن کے عہدے قائم تھے اور اپنے تجربہ و تربیت کی بنیاد پر نام نہاد حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی کانفرنسز میں اُں دونوں کی شرکت لازم تھی۔ فائزہ ممتاز اور نجمہ حمید کا ایک نام تھا۔ روشن خیال، لبرل سوسائیٹیز میں لوگ اُن کی مثالیں دیا کرتے تھے، جس پر انہیں بڑا فخر ہوتا تھا۔ مگر ان سب کے باوجود بھی نجمہ حمید کے گھر والوں نے جب اُس کے مسلسل انکار کے باوجود بھی اُس کی شادی طے کر دی تو وہ فائزہ ممتاز، پروفیسر نوید اور آرگنائزیشن سے اپنے رشتے ختم کر کے اپنے گاؤں واپس چلی گئی جہاں وہ خانگی زندگی میں مصروف ہو کر عورت کی جعلی آزادی کے سارے خیالی سبق اصلی زندگی کی خوشیوں میں آ کر بالکل بھول گئی۔ فائزہ ممتاز کو نجمہ حمید کے نئے خیالات جان کر دھچکا پہنچا جو اُسے بتا رہی تھی کہ اصلی خانگی زندگی میں کیا سُکھ ہوتے ہیں۔

نجمہ حمید کے چلے جانے کے بعد ایک دن فائزہ ممتاز کسی بیرون ملک سے واپس آ رہی تھی جہاں دوبئی ائیر پورٹ کے لاؤنج میں اُس کی ملاقات ایسی لڑکی سے ہوئی جو نقاب میں تھی اور پاکستان آنے والی اُسی فلائیٹ کا انتظار کر رہی تھی جس میں فائزہ ممتاز نے سفر کرنا تھا۔ اپنا اگلا شکار قرار دے کر فائزہ ممتاز اس لڑکی سے بہت محبت سے ملی۔ اُس نے جعلی لبرل ازم کے بارے میں ابھی بات چیت شروع کی ہی تھی کہ اس لڑکی نے فائزہ ممتاز کو ایک نظر دیکھا اور کہا: فائزہ ممتاز ! زندگی کی ہر چیز تمہاری تھی، تمہارے لئے ہی بنی تھی، یہ خوشیاں جن کی تلاش میں تم یہاں تک پہنچی ہو، تمہارا نصیب تھیں،جوآخر کار تمہیں ملنی ہی تھیں لیکن بہت جلدی کی تم نے، دنیا تو تباہ کی ہی مگر آخرت بھی برباد کر لی۔

واٹ نان سینس؟ فائزہ ممتاز نے غصے میں کہا؛ تم ہو کون؟-
مگر

اگلے ہی لمحے فائزہ ممتاز نے اس کی آواز کو پہچان لیا اور پوچھا کہ تم سلمیٰ تو نہیں ہو؟۔

ہاں، فائزہ ممتاز ! میں سلمیٰ ہی ہوں، تم نے درست پہچانا۔

فائزہ ممتاز کے سامنےاُس کی بچپن کی سہیلی اور پڑوسن سلمیٰ تھی۔ دونوں کا بچپن اور لڑکپن ساتھ ساتھ گزرا تھا۔ اسے اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی-

یہاں کیسے آنا ہوا؟ اُس نے سلمیٰ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس پاکستان جا رہی تھی۔

میری امی کیسی ہیں سلمیٰ ! سب لوگ کیسے ہیں؟۔ فائزہ ممتاز نے اپنے گھر کے ایک ایک فرد کا نام لے لے کر پوچھا۔ اُس کی آنکھوں نے چھلکنا شروع کر دیا تھا-

سلمیٰ نے بتایا کہ تمہارے والد تمہارے غم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہنوں کی شادی ہو گئی اور وہ سب لوگ تمہیں ایسے بھول گئے جیسے کہ تم کبھی تھی ہی نہیں-

فائزہ ممتاز نے کہا کہ وہ کسی دن اپنے گھر والوں سے ملنے جائے گی تو سلمیٰ نے کہا کہ خدارا، اب اُن کی پرسکون زندگی کو جا کر دوبارہ کسی طوفان سے آشنا نہ کر دینا۔ اُن کے لئے تم مر چکی ہو۔ صرف ایک تمہاری ماں ہے جو ایک اُمید سی رکھتی ہے کہ تم کبھی نہ کبھی اس جعلی نظریہ سے ضرور پلٹو گی۔ وہ کہتی ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کی نعتوں کی لوریاں دے کر فائزہ ممتاز کو پالا ہے۔ اُسے میں جب دودھ پلاتی تھی تو درود شریف کا ورد میری زبان پر ہوتا تھا، میری بیٹی ملحدہ کیسے ہو سکتی ہے؟۔ بس ان کی بوڑھی آنکھوں میں آج بھی اُمید کی کرن ہے ۔

سلمیٰ نے پھر کہا کہ فائزہ ممتاز ! یہ جو تمہارے ساتھ ہیں یہ سب درندے ہیں، یہ عورت کی آزادی کے نام پر عورت کے جسم تک پہنچنا چاہتے ہیں، یہ عزت اور غیرت کو الحاد کی شراب پلا کر مدہوش کر دیتے ہیں۔ فائزہ ممتاز ! ایک عام عورت تک پہنچنا کسی بھی لبرل درندے کے لئے مشکل کام ہے لیکن جعلی آزادی کے نام پر یہ عورت کے جسم تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں ۔ مجھے سچ بتاؤ فائزہ ممتاز کیا ایسا نہیں ہے؟- اتنے سالوں بعد بھی تم شادی نہیں کر سکی تو کیا یہی اِس کی وجہ نہیں ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ یہ یہودیوں کے لئے کام کرتے ہیں، ان کا کام بس اسلام کے خلاف بکواس کرنا ہوتا ہے، ان کے فیس بک، ٹویٹر پر مذاہب کی مخالفت اور سب سے زیادہ اسلام کی توہین ہوتی ہے، یہودیت کی تو صرف دکھاوے کے طور پر مخالفت ہوتی ہے اصل ہدف ان کا اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ ، قرآن پاک، اہل بیت علیہم السلام، صحابہ کرام رض ہی ہوتے ہیں۔ اِن ملحدین سے الحاد کی تعریف پوچھ کر دیکھیں تو بہت مشکل ہی ہو گا کہ 2 ملحد کوئی ایک تعریف آپ کے سامنے رکھ پائیں۔ کوئی خوش فہم ملحد اِسے روشن خیالی کا نام دے گا تو کوئی مذہب کے خلاف مدافعت کا ۔ کوئی اسے عقل و شعور کی معراج بتائے گا تو کوئی اسے علمی انقلاب سمجھنے کے مرض میں گرفتار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ الحاد آج ایک خود ساختہ اور بند ذہن کے مذہب کی صورت اختیار کر گیا ہے. مذہب پر کیچڑ اچھالتے اچھالتے آج یہ خود ایک مذہب کا روپ دھار چکے ہیں۔ یہ صرف زبان سے دلیل کی بات کرتے ہیں مگر ان کے کردار پر تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ کسی نام نہاد جنونی مذہبی کی طرح ذرا سی بات پر آگ بگولہ ہوجانا، گندی زبان کا استعمال کرنا، انسانیت کا صرف نام لینا مگر دوسرے انسانوں کی قابل احترام شخصیات کی تضحیک کرنا، دنیا کی ہر برائی کو زبردستی مذہب سے جوڑنا، الحاد پر کسی حوالے سے بھی تنقید نہ کرنا، صرف اپنے حق میں موجود کتابوں کا مطالعہ کرنا اور الہامی کتابوں پر تحقیق سے انکار کرنا، مکالمہ کی آڑ میں اپنی نفرت و بغض کا اظہار کرنا وغیرہ یہ سب آج کے دیسی ملحدین کے خد و خال ہیں۔

سلمیٰ نے مزید کہا کہ اِن کا حال یہ ہے کہ امریکا، انگلینڈ کی مالا ایسے جپتے ہیں جیسے یہ ممالک ملحد ہوں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آج ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جو خود کو ملحد کہتا ہو اور دعا کریں کہ الله انسانیت کو ان کا اقتدار نہ دکھائے کیونکہ یہ تو ایسے تنگ نظر ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جوزف، سٹالن اور مسولینی جیسے کتنے ہی ملحد ذہنیت کے افراد نے کروڑوں بے گناہوں کی جان لی مگر مذہب نے کبھی اس ظلم کا ناطہ الحاد سے نہیں جوڑا۔ دوسری طرف اِن ملحدین کا یہ حال ہے کہ یہ ہر سیاسی مقاصد پر کی گئی قتل و غارت کو بھی زبردستی مذہب سے جوڑ دیتے ہیں- آئین سٹائن ، نیوٹن جیسے ہزاروں لاکھوں سائنسدان گزرے جو خدا پر یقین رکھتے تھے اور جنہوں نے سائنس کو اس کی اصل بنیاد عطا کی مگر انہوں نے کبھی سائنس کو دینیت اور لادینیت کی بحث میں نہیں الجھایا ۔ مگر آج کے دیسی اور توہین مقدسات کرنے والے ملحدین کا حال یہ ہے کہ آج جو سائنسدانوں میں ملحدین کی تعداد زیادہ ہے تو یہ پوری سائنس کو ہی اپنے والد صاحب کی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں- سوچنا یہ ہے کہ آج تک انہیں اقتدار حاصل نہیں ہوا ہے تو تب یہ انسانیت کو اتنا نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور اگر کہیں انہیں طاقت حاصل ہوگئی تو تنگ نظری کی وہ مثالیں قائم ہوں گی کہ جو انسان کو انسانیت کے شرف سے محروم کردیں- کیا یہ سچ نہیں ہے فائزہ ممتاز کہ تمہارے یہاں آنے والی لڑکیوں کو دوسرے ممالک میں وزٹ ایسے نہیں کرائے جاتے، اُن سے بزنس کرایا جاتا ہے، الحاد کی شراب انہیں مدہوش رکھتی ہے۔ پیسہ، سیر و تفریح ان کی بنیادی ضروریات سے لے کر عیش و عشرت کے تمام سامان انہیں مہیا کئے جاتے ہیں، اور پھر انہی لڑکیوں کو مسلم لڑکوں کے لئے کانٹے کا چارہ بنایا جاتا ہے۔فائزہ ممتاز! دیر نہیں ہوئی واپس پلٹ جاؤ۔ سچی توبہ کر لو، وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے، تمہارے لئے راہیں کھول دے گا، تم واپس آ جاؤ، کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔ سلمیٰ کی ان سچی باتوں نے فائزہ ممتاز کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور اُس دن وہ اُس کے کندھے سے لگ کر بہت روئی ۔

پاکستان واپسی کے بعد فائزہ ممتاز کے اندر آنے والی تبدیلی کو جلد ہی اُس کی آرگنائزیشن نے نوٹ کر لیا۔ ایک دن ایک نئی کم سن لڑکی کی عزت کی دھجیاں اُڑانے کی پلاننگ سُن کر وہ دھک سے رہ گئی اور شدید غصہ و جذبات میں آ کر اُس نے انہیں خوب سُنائی اور اُن سے کہا کہ تم ہی وہ ظالم ہو جنہوں نے میرے بچپن کو پامال کیا، تم ساری زندگی میری قیمت وصول کرتے رہے، تم وحشی ہو، درندے ہو، انسانیت کے دشمن تم ہو اسلام نہیں۔ وہ بہت برے طریقے سے چیخ رہی تھی- فائزہ ممتاز ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم پاگل تو نہیں ہو گئیں، پھر اُسے بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر ایک کمرے میں قید کر دیا گیا اور ایک دن وہ وہاں سے جان بچا کر فرار ہو گئی۔ فرار ہونے کے بعد وہ ہر قانونی ادارے میں گئی جہاں اس ملحد آرگنائزیشن کے خلاف کاروائی کروانے کے لئے درخواستیں بھی دیں اور ثبوت بھی فراہم کئے۔ بدقسمتی سے پاکستانی حکومتوں کی مغربی ممالک سے امداد کے نام پر بھیک مانگنے کی عادت کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجبوریاں آڑے آتی ہیں کہ وہ اگر ایسی ملحدین اور توہین مقدسات کرنے والی آرگنائزیشن کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو مغربی معاشرے چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں۔

فائزہ ممتاز نے اس پیغام کو جگہ جگہ پہنچانے کی ٹھان لی۔ وہ شہر شہر گھومی اور لڑکیوں، عورتوں کو بتانے لگی کہ ہمیں شادی کے بندھن سے آزدی نہیں لینی چاہئے بلکہ اس سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہئے جس میں عورت کے حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ چند مذہبیوں کے گھناؤنے کردار کی وجہ مذہب نہیں بلکہ ایسے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کا انفرادی رویہ ہوتا ہے۔ وہ یہ پیغام ہر لڑکی اور ہر گھر تک پہنچا نے کے لئے کوشاں تھی۔ وہ اُنہیں سمجھاتی کہ تمہاری عزت کا سائبان تمہارا مذہب او رکلچر ہے۔ اس مشرقی اور دیسی کلچر میں عورت کی عزت اور احترام کا درس دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض ڈراموں، فلموں کے ذریعہ تمہیں جس آزادی کا تصور دیا جا رہا ہے، وہ آزادی نہیں بلکہ ایک قید ہے۔ دنیا کی بھی قید اور آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی قید۔ وہ باپ جو تمہارے لئے کماتا ہے، وہ بھائی جو تمہاری عزت کا رکھوالا ہے، وہ شوہر جس کی مملکت کی تم ملکہ ہو، تمہاری جنت تمہارے بچے ہیں، تم آزاد ہو، خدارا ! اس قید کا شکار نہ ہونا، یہ باہر سے بہت خوب صورت ہے لیکن اندر سے بہت گندی، گھناؤنی ہے ۔ فائزہ ممتاز جب یہ گفتگو کرتی تو اِس دوران خلوص نیت کی وجہ سے اُس کی آنکھیں مسلسل بہتی رہتیں ۔ وہ بات کرتی رہتی، روتی رہتی اور کئی بار تو وہ اپنے تجربات شئیر کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روتی۔ اُسے تسلی دینے کے لئے کسی کے پاس بھی الفاظ نہیں ہوتے تھے بس وہ بت بنے، اُس کی سچی اور حقیقی باتیں سنتے رہتے ۔

پھر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیسی ملحدین نے فائزہ ممتاز کو راستے سے ہٹانے کا انتظام کر لیا۔ ایک دن لڑکیوں کے ایک کالج میں لیکچر دینے کے بعد گھر جاتے ہوئے فائزہ ممتاز کی گاڑی پربڑا ٹرک چڑھا دیا گیا جس میں فائزہ ممتاز موقع پر ہی اپنی جان سے گزر گئی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ بظاہر روڈ ایکسیڈنٹ نظر آنے والے اس قتل کے پیچھے کوانٹم فزکس پڑھانے والے پروفیسر نوید کا ہاتھ تھا لیکن وہ اُس کی آرگنائزیشن کے مضبوط غیرملکی روابط، گہرے تعلقات اور واضح ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر اُسے گرفتار کرنے سے معذور تھے۔ بہرحال اُسے یہ باور کروا دیا گیا تھا کہ وہ فائزہ ممتاز کے قتل کی مکمل سازش تک پہنچ چکنے کے باوجود بھی واضح ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اُسے گرفتار نہیں کر سکتے لیکن وہ سرکاری جامعہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملی ایکسٹینشن پر اپنی نوکری جاری نہیں رکھ سکتا۔ نوکری سے اُس کی علیحدگی پر بھی دیسی ملحدین نے سوشل میڈیا پر خوب واویلا مچائے رکھا مگر ایسے لوگ رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کی واضح دلیل یہی ہے کہ آج کی تاریخ میں جھوٹے نظریات پیش کرنے والے تاریخ میں گم نام ہو گئے لیکن جنہوں نے سچ بولا اور اصلی تحقیق دنیا کے سامنے پیش کی، اُن کا نام آج سر بلند ہے۔ جھوٹے نظریات پیش کرنے والے یا مذموم مقاصد کی باآوری کے لئے جعلی نظریات پیش کرنے والوں کو اگر کوئی جانتا بھی ہے تو ایک گالی اور لعنت کی طرح۔

SHOPPING

فائزہ ممتاز اور سلمیٰ کے افکار کو ہر گھر تک پہنچائیے۔ عورت کے حقوق دیجئے۔ عورت ایک ماں، بیٹی اور بہن بھی ہے۔ عورت کی عزت اور احترام کیجئے۔ عورت کی جعلی آزادی کے نام پر قائم ان آرگنائزیشنوں سے بچئے۔ یہ قوم کی بیٹیوں کو گمراہی کی طرف دھکیل رہی ہیں کیونکہ خاندان اور مشرقی کلچر سے مربوط رہنے کا مطلب ہرگز بھی عورت کی غلامی نہیں ہے۔ جہاں ضروری ہے وہاں معاشرہ کی اصلاح کیجئے اور اپنے بیٹوں کو عورت کے احترام کا درس دیجئے۔ ہمیں اپنے کلچر میں خاندان سے جڑی خواتین پر مشتمل معاشرہ بنانا ہے، اِن آرگنائزیشن سے مربوط ٹوٹے ہوئے گھروں کی عورتوں کی طرح کا معاشرہ اصل غلامی ہے جہاں عورت ایک پراڈکٹ کی طرح استعمال ہوتی ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *