کرپٹ بچیں گے یا پاکستان۔۔محمد اسلم خان کھچی

SHOPPING

عالم اسلام کے مشہور دانشور اور مفکر ڈاکٹر علی شریعتی جنہیں انقلاب ایران کا معمار تسلیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی ایک کتاب میں بڑی خوبصورت بات کہی ہے۔” کہ جس وقت حق اور سچ کے ساتھ آپ کے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور اس وقت اگر آپ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو تاریخ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس وقت آپ کسی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے یا کسی طوائف کے کوٹھے پہ دادو تحسین کے ڈونگرے برسا رہے تھے “۔

آج ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ حق اور سچ کی بات کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کیلئے بھول جاتے ہیں کہ ہمارا تعلق کس پارٹی سے ہے۔ آج ہماری پارٹی صرف پاکستان ہے اور پاکستان کو اس وقت ہماری اشد ضرورت ہے۔

میں بہت بار عرض کر چکا ہوں کہ میرا تعلق کسی پارٹی سے نہیں۔ میری پارٹی صرف پاکستان ہے اور پاکستان کو اس وقت پاکستانیوں کی سخت ضرورت ہے۔
اب یہ بات نہیں چلے گی کہ حسین سے بھی محبت ھے اور یذید کو بھی سلام کرتے ہیں۔
آپ کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی سے ہو لیکن آج آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ اپنے جنت نظیر ملک مملکت خدادا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں, جو آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت  ہے یا آپ پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس ملک کو گہرائی کی دلدل میں دھکیل کے اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
موجودہ وزیراعظم پاکستان نے ایک بات کہی تھی کہ

” یا تو کرپشن زدہ لوگ بچیں گے یا پاکستان بچے گا ”

انکی بات سچ ثابت ہو رہی ہے دونوں میں سے کوئی ایک بچنے والا ہے۔
اس لئے اب وقت آگیا یا تو کرپٹ عناصر کو سزا دی جائے یا پھر ملک کو دوبارہ ان کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جائے۔

میں آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو ایک سنگین صورتحال سے گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اندرونی و بیرونی سطح پہ انتشار نظر آرہا ہے۔ اسکی بہت سی وجوہات ہیں لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں چند وجوہات کا تذکرہ کروں گا۔
اس وقت گرینڈ اپوزیشن تشکیل دی جا چکی ہے جسکا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ این آر او حاصل کرنا ہے۔ اگر مقصد حکومت گرانا ہوتا تو صرف ایک ہی دن میں حکومت گرائی جا سکتی ہے لیکن مقصد لوٹی ہوئی دولت بچانا ہے۔ہر پاکستانی خواہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو ,وہ یہ بات جانتا ھہے کہ تمام اپوزیشن اور عمران خان کے ارد گرد بیٹھے لوگ کرپشن زدہ ہیں۔ صرف عمران یا چند لوگ ھی ایماندار قرار دیئے جا سکتے ہیں ورنہ جرائم پیشہ عناصر اور کرپشن زدہ لوگوں کی لسٹ بہت طویل ہے۔
موجودہ تحریک کا مقصد اپنی دولت بچانا ہے اور دوبارہ اقتدار حاصل کرنا ھے تاکہ انکی نئی تیار نسل پاکستان کی بچی کھچی دولت کو لوٹ کے سرے محل یا ایون فیلڈ جیسے محلات کی تعداد میں اضافہ کرے۔
ایک امریکی میگزین میں چھپی رپورٹ کے مطابق کہ اگر ” صرف نواز شریف صاحب اور زرداری صاحب روزانہ دس ہزار ڈالر ( 16,40,000 روپے ) روزانہ خرچ کریں تو 100 سال بعد بھی انکی دولت اتنی ہی رہے گی جتنی آج ہے۔

آپ خود اندازہ لگائیے کہ یہ کتنی دولت جمع کر چکے ہیں۔ میں دل سے اس بات پہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر 1973 کے الیکشن میں بھٹو کا جنم نہ ہوتا تو نواز شریف کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ قدرتی ذخائر اور معدنیات, زراعت سے مالا مال پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک ہوتا اور آج ہمارے ماسٹر ڈگری ہولڈر نوجوان ہسپتالوں کے سامنے 20 روپے کا ماسک نہ بیچ رہے ہوتے۔
موجودہ تحریک کا مقصد صرف اپنی دولت بچانا ھے اور اپنے بچوں کیلئے اقتدار حاصل کرنا ھے ۔انڈیا, امریکہ, اسرائیل, عرب ریاستیں اور سعودی عرب سے مدد لی گئی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج ففتھ جنریشن وار کی دنیا ہے۔ ففتھ جنریشن وار کا مقصد ہے کہ کسی بھی قوم کی نظریاتی, اخلاقی,معاشرتی , محب الوطنی کی اقدار کو تبدیل کرنا, فوج اور عوام کے درمیان تفریق پیدا کر کے ملکی سلامتی کے نظام کو کمزور کرنا۔
اور ہم اس وار کا شکار ہو چکے ہیں۔پاکستان کے دشمن خصوصاً انڈیا, اسرائیل اس پہ کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کا بکاؤ میڈیا انکا آلہ کار ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں بھی اس کھیل میں ملوث ہیں جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج فوج اور عوام کے درمیان تفریق پیدا کی جا چکی ہے۔ لوگ کھلے عام پاکستانی ریاست کی ناکامی کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سر عام گالیاں بکی جاتی ہیں اور اس کا سہرا ہماری پاکستانی سیاسی جماعتوں خصوصاً ایک جماعت ن لیگ کو جاتا ہے جو کرپشن بچاؤ مہم میں بھولی بھالی عوام کا استعمال کر رہی ہیں ۔نت نئے کھیل سجائے جاتے ہیں ۔
مطیع اللہ جان جیسے غیر معروف صحافی دن دہاڑے اغوا ہوتے ہیں۔ بعد میں کسی ویرانے سے ملتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پہ سوشل میڈیا پہ فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے ۔
ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ دنیا کی بہترین ایٹمی طاقت رکھنے والی فوج مطیع اللہ جان جیسے غیر معروف صحافی کو اغوا کرے گی اور دو گھنٹے بعد چھوڑ بھی دے گی تاکہ وہ جا کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرے اور صحافی بھی وہ جو روزانہ یو ٹیوب پہ چینل کو سبسکرائب کرنے کی التجائیں کرتا ہے ۔
یہی ففتھ جنریشن وار ہے جس کا ہم نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن چکے ہیں۔
تیسری اور سب سے اہم چیز بھارت کی چائنہ کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہے۔موجودہ اندرونی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے پاکستان پہ بڑا اور بھرپور حملہ کر سکتا ہے ۔گلگت بلتستان , سیالکوٹ بارڈر پہ حملہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پہ گلگت بلتستان اور کشمیر اسکا فوکس ہیں۔ پاکستان بھی اس وقت پوری تیاری میں ہے۔ یہ سارے عوامل ملک میں بڑے انتشار کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کیونکہ ملک کی موجودہ گرینڈ اپوزیشن انتشار پیدا کر کے حکومت کو انگیج کرنا چاہتی ہے۔ اس سے انڈیا کو اپنے مکروہ ایجنڈے کی تکمیل کیلئے موقع ملے گا۔ان حالات میں جب اندرونی و بیرونی انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی تو سوچئے آپ کے ملک کا کتنا نقصان ہو گا۔
نواز شریف صاحب اور انکے رفقائے کار کی تقریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت بچانے کیلئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ جتنا خزانہ انکے پاس موجود ھے اسے بچانے کیلئے یہ خوفناک انتشار پھیلانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہ جان گئے ہیں کہ چھوٹے موٹے احتجاج سے بات نہیں بنے گی۔ خزانہ قارون کو بچانے کیلئے اگر پڑوسی ملک سے بھی مدد لینی پڑے تو کوئی قباحت نہیں اور ایسا وہ کر رھے ہیں۔ بھارتی میڈیا گرینڈ اپوزیشن کو مکمل سپورٹ کر رہا ہے۔

عمران خان نے سچ کہا تھا کہ
یا کرپٹ عناصر بچیں گے یا پاکستان بچے گا۔

بات سچ ہے۔ یہ اتنے طاقتور ہیں کہ عمران خان انکا کچھ نہیں بگاڑ پا رہا۔
ریاست انکے گھر کی باندی ہے۔
فوج انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
کیونکہ ہم عمران خان کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہیں کہ خبردار انہیں ہاتھ مت لگانا ورنہ اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
ہم اداروں کو پتھر مارتے ہیں کہ خبردار انکی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو آنکھیں نکال دیں گے۔
ہم فوج کو دھمکیاں اور گالیاں دیتے ہیں کہ وہ انکو این آر کیوں نہیں دلوا رہی۔۔۔
پیسہ ہمارا لوٹا, بچے ہمارے بھوک سے بلک رھے ہیں۔ کتے کے کاٹنے سے مر رہے ہیں۔ گندے پانی سے ہیپاٹائٹس کا شکار ہو گے اذیت ناک موت مر رہے ہیں۔ 9 سال کے بچے شوگر کے مریض بن رہے ہیں۔ تھر میں بچے بھوک اور پیاس سے بلک بلک کے مر رہے ہیں۔ بیٹا سارا دن ڈگریاں اٹھا کے جوتیاں چٹخاتا ہے۔ میلوں دھوپ میں چل کے انٹرویو دینے جاتا ہے۔ پوزیشن بھی بہت اچھی ہے لیکن سامنے ایم این اے, منسٹر کے منشی کا بیٹا نوکری حاصل کرتا ہے۔ بیٹا ایک دن تھک جاتا ہے ۔رات کو حسرت بھری نگاہوں سے ماں کو دیکھتا ہے اور بے بسی کی حالت میں گلے میں رسی لٹکائے بیمار ماں کو بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کے منوں مٹی تلے جا سوتا ہے۔ بوڑھا باپ تکتا رہتا ہے کہ ہمسائے کفن دفن کا انتظام کر کے وجیہہ نوجوان کو ہمیشہ کیلئے مٹی کے سپرد کر آتے ہیں۔

جوان بیٹی روزانہ اپنے سفید ہوتے بالوں کو دیکھ کے چپکے چپکے روتی ہے اور باپ آنکھ بھر کے بیٹی کی طرف نہیں دیکھ پاتا کہ کہیں اسکی ڈھلتی عمر کا اندازہ نہ ہو جائے۔

6 سالہ معصوم بچہ گاڑیوں کے ٹائر بدلتا ہے۔ بیلٹ کی مار سے کمر پہ نشان پڑ جاتے ہیں۔ شام کو تیس روپے ملتے ہیں۔ یا تو وہ تین روٹیاں خریدتا ھے یا ماں کیلئے پیناڈول خریدتا ہے۔ بچے کے سو جانے کے بعد دکھیاری ماں بچے کی کمر سے کپڑا ہٹا کے بیلٹ کی لسوں کو سہلاتی رھتی ھے ۔آنسو بہاتی رھتی ھے اور چومتی رھتی ھے۔ کام پہ جانے سے روک نہیں پاتی کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
کبھی سوچا۔۔۔۔ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ یا میں اچانک کسی حادثے میں مر سکتے ہیں۔۔۔

ہمارا 6 سالہ بیٹا کسی ورکشاپ میں چھوٹا بنے گا یا کسی آئس کریم شاپ پہ بھاگ بھاگ کے آرڈرز پکڑے گا۔

جوان بیٹی حالات سے مجبور گھر سے نکلے گی۔ کس پرائیویٹ آفس میں 8000 کی نوکری کرے گی اور کچھ عرصہ بعد جنسی درندوں کا مسلسل نشانہ بنتی رہے گی۔
روزانہ زخموں سے چھلنی روح کے ساتھ چپکے چپکے دردوں کو سہتے ہوئے آپکو یاد کر کے آنسو بہائے گی اور آپ سے گلہ بھی کرے گی۔
جوان بیوی جو کبھی گھر سے ہی نہیں نکلی۔آپ کو ہمیشہ خدا مان کے آپکی عبادت کرتی رہی۔ اب ٹکے ٹکے کے لوگوں کے گھر برتن مانجھے گی ۔ باتھ روم صاف کرے گی اور شام کو تھکن سے چور تھکی ہاری ٹوٹی گھر واپس پہنچے گی اور آپ کو یاد کر کے روتے ہوئے دعائیں بھی دے گی اور بددعائیں بھی دے گی۔
ایسا میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ بھی ان مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ذمہ دار کون ہے۔ ؟
آپ اور میں ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم نے انکا راستہ نہیں روکا ۔لیکن اب انکا راستہ روکنے کا وقت آگیا ہے ۔ ہم اور آپ انکا راستہ روک سکتے ہیں۔ ہم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لے سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کیلئے سچا پاکستانی بننا پڑے گا۔ ہمیں وقتی طور پہ پی ٹی آئی, پیپلزپارٹی, ن لیگ, ش لیگ, جے یو آئی, اے این پی سے منہ موڑنا پڑے گا۔
آپ یقین کیجئے اگر ہم ان کو صرف چند دن اکیلا چھوڑ دیں تو یہ ساری دولت واپس کر دیں گے کیونکہ 18 ڈگری میں مخمل کے گدوں پہ سونے والے لوگ چند ھی دن میں جیل میں مچھروں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور منت سماجت کر کے لوٹی ہوئی رقم کا کچھ حصہ ضرور واپس کر دیں گے ۔ ہمارے لیئے کچھ حصہ ہی کافی ھے جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
پاکستان سے انکی محبت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ چند دن پہلے چیف آف آرمی سٹاف نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے ملاقات کی درخواست کی۔ تمام چھوٹے بڑے لیڈر اس ملاقات میں شریک ہوئے۔ خوب خاطر مدارت کی گئی۔ بہت خوبصورت ماحول میں گفتگو ہوئی۔
چیف آف آرمی سٹاف نے بریفنگ دی کہ فوج ہر حکومت کی ماتحت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم ہر پرائم منسٹر کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ ہم نے بھٹو کو سلیوٹ کیئے۔بینظیر صاحبہ کو سلیوٹ کیئے۔ یوسف رضا گیلانی صاحب, راجہ پرویز اشرف صاحب, نواز شریف صاحب, عمران خان صاحب کو سلیوٹ کیئے۔ ہم حکومت کا ماتحت ادارہ ہیں جو ہر حکومت کے تابع ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے گلگت بلتستان کی سنگین صورتحال کے بارے میں بتایا کہ انڈیا حملہ کرنے کو تیار بیٹھا ھے۔ شیعہ سنی فسادات کیلئے بھاری فنڈنگ کر رہا ہے اور ہم اسے اپنا صوبہ بنانے جا رہے ہیں۔ تمام پارٹیوں سے درخواست ھے کہ وہاں اپنے دفاتر کھولیں اور انتخابات کی تیاری کریں۔

وہاں بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی معصوم بلاول بھٹو نے آئی ایس آئی چیف سے شفاف انتخابات کی گارنٹی مانگ لی۔ بھولے بادشاہ دو سال سے ملِٹری کو ھی مورد الزام ٹھہرا رہے تھے۔ اس بات سے چیف آف آرمی سٹاف مسکرائے اور کہا سر ہمارا کام آپ کو سیکیورٹی فراہم کرنا ھے۔ آپ بلائیں گے تو ہم آجائیں گے ورنہ آپ یہ معاملات پی ٹی آئی کے نمائندے علی امین گنڈا پور سے طے کر لیں۔
وہاں اور بھی کئی گلے شکوے ہوئے۔ مولانا اسد صاحب کو بھی معمولی سا شرمندہ ہونا پڑا لیکن ذکر مناسب نہیں۔ اس اجلاس میں سپیکر اسد قیصر صاحب بھی موجود تھے۔ طے پایا کہ کل کے اسمبلی اجلاس میں تمام معاملات طے کئے جائیں گے لیکن آپ انکی پاکستان میں دلچسپی دیکھئے کہ اسمبلی اجلاس میں ایک بھی شخص نہیں آیا بلکہ سپیکر پہ لعنت ملامت کی گئی کہ اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ گلگت بلتستان کے معاملات میں مداخلت کرے۔یہ پاکستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے اتنی دولت جمع کر لی ہے کہ یہ صدیاں شاہانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ پاکستان اب انکا نہیں رہا
یہ پاکستان ہمارا ہے۔ یہ پاکستان اس معذور بچے کا ہے جو سارا دن دھوپ میں ہسپتال کے سامنے ماسک بیچ کے گھر کی دال روٹی چلاتا ہے۔ پاکستان کا مالک کسان ھے جو گندم اگاتا ہے۔ یہ پاکستان اس بیٹی کا ھے جو سفید لباس پہنے کورونا جیسے خطرناک مریضوں کا علاج کرتی ہے۔ یہ ہم سب کا پاکستان ھے اور اب ہم نے ہی اسکی حفاظت کرنی ہے کیونکہ ہم ھی اس کے اصل مالک ہیں۔
ہم نوازشریف صاحب یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ اتنی دولت کہاں سے آئی ؟
ہم
مریم نواز صاحبہ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ وہ اربوں کی مالک کیسے بنیں۔
شہباز شریف صاحب دس بھینسوں کے دودھ سے چار بیویوں کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں ؟
ہم زرداری صاحب سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ چارٹر پلین کے اخراجات کیلئے پیسے کہاں سے آتے ہیں اور دبئ جیسے ملک میں جہاں ایک کمرے کا فلیٹ ڈیڑھ لاکھ روپے میں کرائے میں ملتا ھے۔ آپ کے پاس بڑے بڑے بلیک کلر کے ٹاورز کہاں سے آئے۔
بودی سائیکل والے کا بیٹا کھربوں پتی کیسے بن گیا ؟
جہانگیر ترین لندن میں 12 ایکڑ کے گھر میں رہتے ہیں۔ پیسہ کہاں سے آیا ؟
علیم خان صاحب کیسے ارب پتی بن گئے ؟
فیصل واڈا کیسے امیر ہوا ؟
خسرو بختیار کے پاس اتنی شوگر ملز کہاں سے آئیں ؟
چوہدری منیر کے دو ذاتی ذاتی جہاز رحیم یار, لاہور ڈیپارچر اور لینڈنگ کرتے ہیں۔ پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟

یہ وہ سوال ہیں جو ہمیں ان سے کرنے کی ضرورت کا وقت آگیا ھے۔ بس بہت ہو گیا۔ اب ہمیں سچا پاکستانی بن کے پاکستان بچانا ہونا ہو گا نہ کہ ان لوگوں کو۔۔۔

اس بار ہم نے ذرا سی بھی غلطی کی تو ہمارے آنے والی نسلیں ہماری قبروں پہ ٹھڈے مار کے سوال کیا کریں گیں۔۔۔

اوئے بے ضمیر لوگو۔۔۔۔ تم نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے ؟

SHOPPING

وقت آگیا ہے کہ صرف پاکستانی بنیئے۔۔۔۔ کیونکہ ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے۔
یہ وطن ہمارا ہے۔۔ ہم ہیں پاسباں اس کے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *