• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عرب میں کھجور کی جدید پیداوار، اور پاکستانی موزاتی کھجور ۔۔منصور ندیم

عرب میں کھجور کی جدید پیداوار، اور پاکستانی موزاتی کھجور ۔۔منصور ندیم

SHOPPING
SHOPPING

اس وقت دنیا بھر میں دو ہزار اقسام کی کھجوریں ہیں جن میں سے سعودی عرب میں آج صرف 400 اقسام رہ گئیں ہیں، کھجور کو مسلمانوں میں ویسے بھی ایک بابرکت  پھل سمجھا جاتا ہے، خصوصا رمضان المبارک میں افطاری کے دسترخوان کا لازمی جزو ہے۔ روایتی طور پر زیادہ تر مسلمان اسی سے روزہ کھولتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کھجوروں کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے۔ کھجوروں کی کافی اقسام ہیں جن میں سے ہر ایک کے اندر کچھ مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مشرق وسطی کے مختلف ممالک کی چند مشہور کھجوریں ہیں۔

عجوہ:

سیاہ رنگت والی یہ کھجور مدینہ میں کاشت ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ کھجور اپنے اندر بیماریوں سے شفا کی خصوصیات بھی رکھتی ہے۔ عجوہ کھجور مدینہ منورہ کا خاص پھل ہے اور اس کے درخت یہاں زمانۂ قدیم سے پائے جاتے ہیں، روایات و آثار کے علاوہ پچھلی مذہبی کتابوں میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ اﷲ کے آخری نبی جب مبعوث ہوں گے تو وہ ایسی زمین کی طرف ہجرت کریں گے جہاں بکثرت کھجور کے درخت ہوں گے۔ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ رسول اﷲ کی بعثت سے بہت پہلے ہی کھجور کے درخت دیکھ کر بعض یہود یہاں آکر آباد ہوگئے تھے ۔الغرض مدینہ منورہ کے پھلوں میں خصوصیت کے ساتھ کھجور اور اس میں بھی خاص طورپر عجوہ کھجور کے بعض فضائل اور فائدے صحیح احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض اطباء نے طبی لحاظ سے ہر کھجور کی افادیت اور اس کے خواص پر تحقیق کرکے اسے مفید قرار دیا ہے۔

ڈگلیٹ نور:

کھجور کی اس قسم کو عربی میں دقلۃ النور لکھا اور کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے ذائقے کی وجہ سے خصوصی طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ ایک نیم خشک کھجور ہوتی ہے جو عام طور پر کھانوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ’روشنی والی کھجور‘۔ یہ الجیریا، لیبیا اور تیونس میں بہت مشہور ہے۔

حلوائی:

یہ شہد جیسا ذائقہ رکھنے والی ایک میٹھی کھجور ہے اور اس کے نام کا مطلب بھی ’میٹھا‘ ہے۔ عراق کے باغات کی یہ کھجور سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقسام میں سے ہے۔ یہ گاڑھے، نرم اور سنہرے مواد پر مشتمل ہوتی ہے۔

میدجول یا مجدول:

یہ کھجوریں بڑی، میٹھی اور رس بھری ہوتی ہیں۔ یہ عام طور پر شمالی افریقی ممالک میں اگائی جاتی ہیں۔ مراکش کے مزیدار کھانوں میں اس کا اہم کردار ہے۔ اس کی اوپری سطح مخملی اور ذائقہ گچک (سوختہ شکر) جیسا ہوتا ہے۔

زاہدی:

سنہرا رنگ رکھنے والی کھجور کی اس کمیاب قسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر اس کا تعلق جنوبی عراق سے ہے۔ اسی کی ایک شکل نیم خشک بھی ہوتی ہے جو کھانے بنانے میں استعمال ہوتی ہے اس کے نام کا مطلب ہے ’تھوڑی مقدار میں‘

عنبرہ:

یہ قسم بھوری، میٹھی اور پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے۔ مدینے میں پائی جانے والی کھجوروں میں سب سے بڑی مقدار عنبرہ کھجور کی ہے۔ اس کھجور کا دانہ خاصا بڑا اور موسم میں یہ انتہائی رس بھری ہوتی ہے ۔

کھجور کے طبی فوائد :

کھجور کو مکمل غذا اور توانائی کا خزانہ کہا جاتا ہے۔ کھجور کھانے سے دل کو تقویت ملتی ہے۔ یہ جسم کو فوری توانائی بہم پہنچانے کے علاوہ نظر کو تیز کرتی ہے اور جسم میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔یہ نزلہ، زکام،گلے کی خرابی اور چھینکوں کے بہت فائدہ مند ہے۔یہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد کرتی ہے اور بلڈ پریشر ل کو کنٹرول کرتی ہے۔ کھجور ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بھی مفید ہے اور کینسر کے خطرات کم کرتی ہے، یہ جسم میں شکریات کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ بیماری کے بعد کمزوری کو دور کرتی ہے اور تھکاوٹ کی کیفیت دور کرنے کیلئے بڑی سو د مند ہے۔ یہ قبض کشا ہوتی ہے۔ پیٹ کی خرابی اور معدے کے لے سود مند ہے۔ دودھ کے ساتھ کھجور بھر پور غذائیت مہیا کرتی ہے اوراگر شہد میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اسکا فائدہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

مدینہ منورہ میں ناپید ہونے والی کھجوروں کی اقسام پر تحقیق:

سعودی عرب میں مدینہ منورہ کنگ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی (کاؤسٹ) کے ماہرین مدینہ منورہ میں کھجوروں کے پرانے درختوں کے نمونوں پر تحقیقات کررہے ہیں، خصوصا کھجوروں کی نا پید ہونے والی اقسام کو دوبارہ کاشت کرنے کے لئے ماہرین اور خواتین طالبات کی ٹیم تحقیق کر رہی ہے۔ ( کنگ عبداللہ یونیورسٹی کی طالبات کی تصاویر دوران تحقیق موجود ہیں)

کاؤسٹ میں نباتات کے شعبے کے ماہرین کی ٹیم عجوہ کھجور پر بھی تحقیق کر رہی ہے۔ یہ دو جہتوں پر تحقیق کر رہے ہیں، پہلا یہ کہ کھجوروں کی جو قسمیں نا پید ہوچکی ہیں ان کی جینیات کا تسلسل حاصل کریں تاکہ ان قسموں کو دوبارہ کاشت کیا جاسکے۔دوئم یہ تحقیق انتہائی اہم ہے جس سے یہ معلوم ہوگا کہ قدیم زمانے میں کونسی کھجوریں مدینہ منورہ میں پائی جاتی تھیں جو اب نہیں رہیں۔ تحقیق کا دوسرا پہلو خاص عجوہ کھجور سے متعلق ہے، کہ ایک طرف قدیم زمانے میں عجوہ کھجور کی خصوصیات جاننے کی کوشش اور یہ معلوم کرنا کہ موجودہ دور میں عجوہ کھجور میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

اس تحقیق میں مدینہ منورہ میں کھجوروں کی بہتر طریقے سے کاشت، پھلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانا اور زیادہ تیزی کے ساتھ معیاری کھجوریں حاصل کرنا بھی شامل ہے، کھجور کے درخت کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ واحد درخت ہے جو صحرائی علاقوں کی شدید گرمی اور نامساعد حالات میں بھی پھل دیتا ہے۔

اس وقت سعودی عرب میں کھجوروں کی سالانہ پیداوار 1.1 ملین ٹن ہے۔ اور پوری دنیا میں کھجوروں کی 15 فیصد پیداوار سعودی عرب میں ہوتی ہے، جبکہ 2017 کے مقابلے میں 2019 کے دوران سعودی عرب میں کھجوروں کی برآمد میں 11.7 فیصد اضافہ ہوا ہے‘۔

پاکستان میں پیدا ہونے والی کھجور موزاتی :

پاکستان میں سب سے زیادہ کھجور کی پیداوار بلوچستان کے علاقے میں ہوتی ہے، صرف بلوچستان کے علاقے میں 25 سے 30 اقسام کی کھجوریں پیدا ہوتی ہیں، لیکن بلوچستان کی موزاتی کھجور اپنے ذائقے، لذت، شکل اور حجم کی وجہ سے پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پہچان رکھتی ہے، بلکہ کسی بھی صورت یہ اپنے معیار میں بین الاقوامی کھجوروں سے کم نہیں ہے۔

مگر یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ پنجگور کے کاشتکار یہ اعلیٰ قسم کی کھجور انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان میں کھجوروں کے کاشتکار اتنی سستی کھجوریں بیچنے پر مجبور ہیں کہ کے وہ اخراجات تک نہیں نکال سکتے، نہ ہی وہ پانی دینے کے وسائل پورے کرسکتے ہیں، نہ ہی ہمارے کاشتکار اس کو کسی سطح پر جدید طریقوں سے اس کی فصل بڑھا سکتے ہیں، ناہیں موسموں کے اعتبار سے موسم کے پھل کی حفاظت کرسکتے ہیں، اور یہ اعلی کھجور صرف 100 روپے سے 120 روپے تک بیچنے پر مجبور ہیں. بازار میں جاکر یہ کھجور 400 روپے سے چھ سوروپے تک بکتی ہے، ان کاشتکاروں کی آدھی فصل تو بارشوں اور موسموں کی نذر ہوجاتی ہے، پھر نہ ان کے پاس مناسب سرد خانے یا اسٹوریج موجود ہیں، کھجور اتارنے کے بعد نہ ہی کوئی مناسب صفائی اور پیکنگ کے وسائل ہیں، جس کی وجہ سے یہ کھجور اپنی قدر کھو دیتی ہے۔ پاکستان میں آج کل موزاتی کا سیزن چل رہا ہے۔

SHOPPING

اگر ریاستی سطح پر یا کاروباری سطح پر موزاتی کھجور کی سرپرستی کی جائے تو یہ دنیا میں ایک بہتریں سطح اور قیمت پر منوائی جاسکتی ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *