ٹک ٹاک پر پابندی اور تبدیلی۔۔سعید چیمہ

پاک سرزمین پر اب اخلاقیات کی بارش برسے گی، اخلاقی زوال کا قحط  ختم ہو جائے گا، مرد اپنے چہروں کو داڑھیوں سے سجا کر منور کر یں گے اور سروں کو پگڑیوں اور عماموں سے ڈھانپ لیں گے، شلوار ٹحنوں سے اونچی رکھی جائے گی بلکہ آدھی پنڈلی ہر وقت ننگی ہو گی، یہود و نصاریٰ کی مشابہت چھوڑ دی جائے گی،  ہر کوئی نظریں جھکا کر چلے گا، سب میں شرم و حیا عود کر آئے گی، جنسی ہراسگی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئے گی،عورت لوگوں کے لیے اب کھلونا نہیں رہے گی بلکہ عزت و آبرو کا پیکرِ مجسم بن جائے گی، عورتیں گھروں سے باہر نہیں نکلیں گی، ضروریاتِ زندگی کے تحت اگر نکلیں گی بھی تو شٹل کاک برقعے میں نکلیں گی، رقص و سرور کی جگہ دینی محافل کا انعقاد کیا جائے گا، لوگ سوشل میڈیا پر بھی رقاصاؤں کا رقص دیکھنا چھوڑ دیں گے، تھیٹر ویران ہو جائیں گے،سینما ایسے سنسان ہوں گے کہ الو بولیں گے، فلموں اور ڈراموں سے مکمل طور پر کنارہ کشی کر لی جائے گی، اداکار و اداکارائیں روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے، ہر گھر میں حاجی ثناء اللہ پیدا ہوں گے، میوزک کو چھوڑ کر نعتیں سنی جائیں گی(یہ الگ بات ہے کہ نعتوں میں پہلے ہی میوزک کا خوب تڑکا لگایا جاتا ہے)، پارکوں، ہوٹلوں اور ریسٹورانوں کی جگہ مسجدیں آباد کی جائیں گی، مسجدوں کی ویرانی اور کالجوں میں دھوم کی اکبر الہٰ آبادی نے دہائی دی تھی، اگر آج وہ زندہ ہوتے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ کالجوں میں دھوم کم ہو جائے گی اور مسجدوں کی آبادی شروع ہو جائے گی، مرد و زن کا آزادانہ احتلاط ختم ہو جائے گا کیونکہ ٹک ٹاک پر پابندی جو لگا دی گئی ہے، آج تک یہ سارے کام اس لیے نہیں ہو سکے تھے کہ ٹک ٹاک دیوارِ چین کی طرح ان کاموں کی تکمیل کے درمیان حائل تھی، ٹک ٹاک پر پابندی لگا کر یار لوگوں نے ایسا کارِ خیر انجام دیا ہے کہ رہتی دنیا تک لوگ اس کو یاد کریں گے، شاعر پابندی لگانے والوں کی شان میں قصیدہ گوئی کریں گے، ادیب نثر نگاری کے ذریعے اس فیصلے کی داد و تحسین میں زمین و آسمان کے قلابے ملائیں گے، معاشی طور پر ترقی یافتہ اور اخلاقی طور پر زوال شدہ مغربی ممالک میں مثال دی جائے گی کہ ایک عظیم اسلامی ملک پاکستان نے کس طرح ٹک ٹاک پر پابندی لگا کر بے حیائی، عیاشی اور فحاشی پر قابو پایا تھا، معلوم نہیں اتنا زرخیز دماغ لوگوں میں کیسے پایا جاتا ہے جو ایسے فیصلے کر لیتے ہیں، کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ چھری سے انار کاٹ رہا تھا کہ اس کی انگلی کٹ گئی، بادشاہ کی عقل مندی ایسی تھی کہ فوراً حکم دیا کہ ریاست میں جس کے پاس بھی چھری ہے وہ ضبط کر لی جائے تا کہ آئندہ لوگوں کی انگلیاں نہ کٹ سکیں، چھریاں ضبط کر لی گئیں، پھر ایک درویش سے بادشاہ کا سامنا ہوا، درویش نے سمجھایا کہ انگلی کو کٹنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ احتیاط سے چھری استعمال کی جائے مگر یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ چھریاں ہی ضبط کر لی جائیں، بیوقوفوں کی سپہ سالاری کے باوجود بھی یہ بات بادشاہ کے دل کو بھا گئی اور اس نے اپنی رعایا کو چھری استعمال کرنے کی اجازت دے دی، کچھ ایسے ہی معاملات یہاں بھی چل رہے ہیں، جلد یا بدیر ٹک ٹاک سے پابندی ہٹانی تو پڑے گی، یو ٹرن لینا ہو گا، تو کیوں نہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے یو ٹرن لے لیا جائے، ویسے بھی تو یو ٹرن لینا ہماری قومی پالیسی ہے، ملنگ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ٹک ٹاک معاشرے میں بے حیائی کا ناسور بڑھا رہی تھی، مگر ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اسی ٹک ٹاک پر استادِ محترم انجنئیر محمد علی مرزا اور کئی دوسرے اسلامی اسکالرز کی ویڈیوز بھی موجود ہیں، شر میں خیر کا پہلو بھی تو تھا، امیرالمومنین سیدنا عمر نے فرمایا کہ عقل مند  وہ نہیں جو خیر اور شر میں سے خیر کو چن لے، عقل مند  تو وہ ہے جو دو شر میں سے بھی خیر کا پہلو نکال لے، مگر کون ہے جو امیر المومنین کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا، سخت چیک اینڈ بیلنس کی پالیسی بنا کر ٹک ٹاک کو مانیٹر کیا جا سکتا تھا، غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکرز کو اگاہ کیا جاتا کہ میاں اب اگر ایسی کوئی ویڈیو بنائی تو تمھارا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے گا مگر پی ٹی اے نے پابندی لگا کر مسئلہ ہی ختم کر دیا کہ  نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری، ٹک ٹاک پر پابندی لگانے سے کب اخلاقیات ہم میں عود کر آئیں گی، مریض کو کینسر ایسی خطرناک بیماری لاحق ہے مگر طبیب ہے کہ کھانسی کا علاج کیے جا رہا ہے، واہ رے طبیب صاحب واہ، ان کم عقلوں کو کون سمجھائے کہ طوفان کے آگے ریت کے تودے کھڑے نہیں رہتے، رات کو ہی کسی نے ایک لنک شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس لنک پر کلک کرنے سے آپ کو ٹک ٹاک تک رسائی حاصل کر سکیں گے، اب پی ٹی اے کو ٹک ٹاک کے سیلابی ریلے کے آگے تنکوں کا بند باندھنے کا کیا فائدہ ہوا، فِدوی سے اب مزید مرثیہ نہیں لکھا جاتا، ٹسوے نہیں بہائے جاتے اس لیے قرطاس پر قلم کی حرکت کو روکا چاہتا ہوں۔