کراچی۔۔مشتاق خان

SHOPPING
SHOPPING

کچھ سال قبل بوجوہ لاہور سے کراچی منتقل ہونا پڑا تو کراچی کا موسم تو بالکل دار السلام تنزانیہ جیسا ہے اور میں کیونکہ دار السلام تنزانیہ میں کافی عرصہ رہ چکا ہوں تو کراچی موسم کے لحاظ سے مجھے بہت اچھا لگا ،اور کشادہ سڑکیں بھی بہت اچھی ہیں۔ اس تحریر کا مقصد کراچی کی عوام کو اچھا یا برا کہنا ہر گز نہیں  ہے، کیونکہ ہر   شہر اور جگہ کے لوگوں کا اپنا مزاج ہوتا  ہے جو دوسرے شہروں کے لوگوں کو کبھی اچھا کبھی برا اور کبھی عجیب لگتا ہے، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ  ایک لاہوری ہونے کے ناطے مجھے کراچی کیسا لگا ہے۔

لاہور کی نسبت کراچی کا موسم اس کی کھلی سڑکیں سکون دینے والی تیز سمندری ہوا اور ہر وقت دستیاب بریانی نے بہت مزہ دیا اور جب جب لاہور جاتا ہوں تو وہاں کے لوگوں کو خوب قصے سناتا  ہوں ان خوبصورت نعمتوں کے ۔

لیکن لاہور اور کراچی کے چند فرق بھی یا اپنے تجربات کو بھی بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ شروع کے دنوں میں ایک دن بائیک کی ہوا کم ہو گئی تو جو بھی پنکچر کی دوکان نظر آئی اس پر رُکا اور اس سے کہا کہ ہوا بھر دو تو سب کا جواب ایک ہی تھا کہ  یا تو لائٹ نہیں  ہے، یا ہوا نہیں  ہے ۔

خیر اس بھاگ دوڑ میں بائک پنکچر ہی ہو گئی کم ہوا کی وجہ سے تو اگلی دوکان پر پنکچر لگا اور ہوا بھی بھری گئی الحمداللہ ۔

کافی عرصہ پریشانی اٹھانے کے بعد کسی نے یہ سمجھایا کہ یہاں جب ہوا کم ہو تو دوکان پر جا کے پوچھتے نہیں  ہیں بس خود سے بھر لیتے ہیں یہ لوگ ہوا بھرنے کو شاید فضول اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اس لئے پوچھنے والے کو ٹال دیتے ہیں ۔

دوسرا فرق بہت حیران کن تھا کیونکہ مجھے خریداری کرتے ہوئے بیشتر دوکاندار ایسے لگے کہ جیسے ان دکانداروں کو چیز بیچنے میں کوئی دلچسپی نہ  ہو اور میں ایسے چیز خریدتا جیسے کہ بھیک لے رہا ہوں دکاندار کا رویہ انتہائی لاتعلقی اور حقارت پر مبنی ہوتا حتی کے ٹھیلے والا کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ،یا تو وہ آپ کی طرف متوجہ ہی نہیں  ہوتے یا بیدلی سے چیز دکھا دیتے ہیں ایک سے زیادہ بار چیز دکھانے پر باقائدہ بدتمیزی سے بات کرتے ہیں اور جونہی آپ قیمت کو کم کرنے کا کہیں وہ آپ کی طرف دکھنا ہی چھوڑ دیگا ۔

بندے کو ان کے رویہ سے ایسا لگتا ہے کہ  وہ بھکاری ہے اور ان سے بھیک مانگ رہا ہے ۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں یہ سمجھ پایا ہوں کہ  کراچی میں بلیک منی بہت زیادہ ہے اور یہ بلیک منی والے بڑے سٹور سے لیکر ٹھیلوں تک کے مالک ہیں دکانوں اور ٹھیلوں پر دکاندار خود مالک نہیں  ہوتا بلکہ وہ صرف ایک ملازم ہوتا ہے اور اس کو ہر صورت ماہانہ تنخواہ ہی ملنی ہوتی ہے اس لئے اس کو اس بات سے غرض نہیں رہتی کہ  گاہک چیز خریدتا ہے یا نہیں  اس لئے وہ لاتعلقی کا رویہ روا رکھتا ہے۔

کراچی کی اتنی کشادہ سڑکوں کا لاہور والے تصور بھی نہیں  کر سکتے اور نہ  ہی اتنی کشادہ سڑکوں کے  بیچوں بیچ اتنے کھلے فٹ پاتھوں کا اور سب سے مشکل تصور تو ان کشادہ سڑکوں اور ان کے بیچ فٹ پاتھوں پر موجود کچرا اور گندے پانی کا ہے۔ دارالسلام میں صرف شہر کو صاف رکھ کے اور ساحل سمندر کو صاف رکھ کے وہاں کے ہزاروں نوجوان روزگار حاصل کرتے ہیں اور کراچی کے سمندر پر جا کے سمندر پر جانے سے ہی نفرت ہوجاتی ہے بندے کو۔

سب سے ہمت والی ہماری کراچی کی مائیں بہنیں بیٹیاں بیویاں ہیں جو ان گٹکا کھاتے اور جگہ جگہ تھوکتے مردوں کو برداشت کرتی ہیں ۔

کراچی کے تمام میڈیکل سٹورز اور ریسٹورنٹ کے باہر آپ کو روز ایک ہی بندہ بندیاں بھیک مانگتے نظر آئیں گے ایسا لگتا ہے کہ  یہ بھی اس سٹور یا ریسٹورنٹ کے ملازم ہیں ۔

ایک دن گھر پر پائے پکا لئے ساری رات لگا کے پائے پکائے اور صبح فجر پڑھ کے نان لینے چل پڑا 9 بجے تک گھومتا رہا بس پراٹھے لگ رہے تھے سب جگہ پتا چلا نان صرف دوپہر کو  ہی لگتے ہیں تو زندگی میں پہلی بار گھر کی روٹی سے پائے کھائے کراچی میں ۔

کراچی کے فقیر سکوں میں بھیک لینا پسند نہیں  کرتے ،صرف کاغذ کے نوٹ خوشدلی سے لیتے ہیں جو ان کو بھیک نہیں دیتے تو یہ فقیر ان کو باقاعدہ بد دعا بھی دیتے ہیں ۔

کراچی میں کسی کے مہمان بن کے جانا ہو تو سیدھا سیدھا بریانی کی فرمائش کردیں ۔اس گھر کی عورتیں آپ کو دعا دینگی اگر آپ نے دال چاول کی فرمائش کردی تو آپ کے جانے کے بعد یہ عورتیں آپ کو کوسیں گی کیونکہ دال چاول کے ساتھ پاپڑ دو تین  طرح کے کباب سلاد اچار آلو اور بھنڈی کی ترکاری کے ساتھ اور کئی لوازمات بھی کرنے پڑتے ہیں ان بیچاری خواتین کو ۔

بڑی عید پر کراچی میں صرف گائے کی قربانی ہوتی ہے جو شاید ہندوؤں سے ان کی نفرت کا اظہار ہوتا ہے ۔

لاہوری ہونے کے ناطے یہاں کراچی میں بہت احتیاط کریں کسی بھی شخص یا دوکاندار  سے  مذاق کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ کراچی میں لوگ صرف اپنی فیملی یا دوستوں سے ہنسی مذاق پسند کرتے ہیں اجنبی لوگوں کے مذاق کو اچھا نہیں  سمجھتے ۔

کراچی کی 99% عوام ہر طرح کی تفریح کے لئے امتیاز سپر سٹور کا رخ کرتی ہے۔ شادی شدہ حضرات کی کوشش ہوتی ہے کہ  وہ دو یا تین باسکٹ میں ساری خریداری کرلیں تاکہ بل ادا کرنے میں آسانی ہو۔ بڑی فیملی والے یا شاپنگ کے شوقین حضرات ٹرالی کا انتخاب کرتے ہیں اور پوری ٹرالی بھر کے لمبی لائن میں لگ کر بل ادا کرکے رات 2 یا 3 بجے گھر جاتے ہیں۔

ڈیٹنگ کرنے والے جوڑے بھی دو ٹرالیاں لیتے ہیں اور خوب وقت لگا کے ٹرالی بھرتے ہیں ان ٹرالیوں میں بھری ہوئی چیزوں کو واپس ریکس میں لگانے کے لئے بھی امتیاز والوں نے سٹاف بھرتی کیا ہوا ہے ۔

میرے لیے کراچی میں سب سے شاندار چیز یہاں کی شام ہے جو  ذہن کو بہت سکون دیتی ہے۔ کراچی کا بہت بڑا ہونا بھی ایک دلچسپ چیز ہے،کہ  آپ کئی سال تک کراچی کے علاقوں کو کھوج سکتے ہیں ۔

فقیروں اور لٹیروں کو اگر نکال کے بات کریں تو باقی خاص طور پر حسب نسب کے خالص اردو سپیکنگ لوگ اور پٹھان لوگ بہت خود دار ہوتے ہیں ۔

لاہور میں غریب مزدور لوگ ہر صورت داتا دربار کے پاس ہی موجود رہتے ہیں کیونکہ صرف وہاں ہی لنگر کی صورت مفت کھانا ملتا ہے لیکن کراچی میں جگہ جگہ مفت کھانے کے دستر خوان موجود ہیں حتی کہ کئی ریسٹورنٹس  پر بھی صاحب حیثیت لوگ غرباء کو مفت کھانا کھلاتے ہیں ۔

SHOPPING

کراچی کے لوگ نہاری اور بریانی پکانے کے اتنے ماہر ہوگئے ہیں کہ ٹینڈے کی نہاری بھی بنا سکتے ہیں جیسے کہ بنا دہی ڈالے یہ لوگ بیسن اور املی ڈال کے کڑھی بنا لیتے ہیں ۔

SHOPPING
SALE OFFER

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *