• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میں اپنے غصے،دکھ بیچارگی کو ایک سمت دے کر یورپ چلا آیا۔۔اسد مفتی

میں اپنے غصے،دکھ بیچارگی کو ایک سمت دے کر یورپ چلا آیا۔۔اسد مفتی

شہد کی مکھی تو یقیناً آپ نے دیکھی ہوگی،یہ مکھیاں جہاں اپنا چھتہ بناتی ہیں،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پھولو ں کا مقام اس سے کئی میل دور ہوتا ہے۔ایک پھول میں بہت تھوڑی مقدار میں رس ہوتا ہے۔اس لیے بھی اس کو بہت دور تک جانا پڑتا ہے۔کہ بہت سے پھولوں کا رس چوس کر اپنی مقدار حاصل کرسکے۔شہد جمع کرنے والی مکھی سارا دن اُڑانیں بھرتی ہے،تاکہ وہ ایک پھول کا رس نکالے اور اس کو لاکر اپنے چھتے میں جمع کرے،مشاہدہ بتاتا ہے کہ شہد کی مکھی صبح جب اپنے سفر پر نکلتی ہے تو اندھیرے میں روانہ ہوتی ہے۔مگر شام کو جب پھولوں کے مقام سے اپنی آخری باری کے لیے چلتی ہے تو اس کا یہ سفر نسبتاً اجالے میں ہوتا ہے۔
پہلی باری کے لیے اندھیرے میں اور آخری باری کے لیے روشنی میں چلنا کیوں ضروری ہوتا ہے۔اس کی وجہ دونوں وقتوں کا فرق ہے۔صبح کے وقت سفر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اندھیرے سے روشنی کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔جبکہ شام کے سفر کا مطلب اجالے سے اندھیرے کی جانب جانا ہے۔شہد کی مکھی اس وقت کو ملحوظ رکھتی ہے،اور اس کی پوری رعایت کرتی ہے۔
شہد کی مکھی اپنے طویل سفر و چونکہ سورج کی روشنی ہی میں صبح صبح انجام دے سکتی ہے۔
اندھیرے میں اس کا امکان رہتا ہے،کہ وہ بھٹک جائے اور اپنی منزل پر نہ پہنچے،اس لیے صبح کو وہ اپنی پہلی باری اندھیرے میں شروع کرتی ہے۔کہ وہ جانتی ہے کہ اگلے لمحات اجالے کے لمحات ہوں گے،اس کے برعکس شام کو اپنی آخری باری کے لیے وہ اجالا رہتے ہوئے چل پڑتی ہے۔کہ وہ جانتی ہے کہ جتنی دیر ہوگی اتنا ہی اندھیرا بڑھے گا،
یہی حال قوموں،ملکوں،اداروں،اور معاشروں کا ہے۔زندگی میں ہمارا ہر قدم حقائق کی بنیاد پر اٹھنا چاہیے،نہ کہ خوش فہمیوں اور موہوم امیدوں کی بنیاد پر،آنے والے لمحات بھی اندھیرے کے لمحات ہوتے ہیں،اور بھی اجالے کے لمحات۔
اگر اس فرق کی رعایت نہ کی جائے اور آنے والے لمحات کا لحاظ کیے بغیر بے خبری میں سفر شروع کردیا جائے،تو آنے والا لمحہ ہماری رعایت نہیں کرے گا۔وہ اپنے نظام کے تحت آئے گا۔نہ کہ ہماری خوش فہمیوں کے تحت،نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم روشن مستقبل او رشاندار انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، حالانکہ اگلا لمحہ جب آئے گا تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف اندھیروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
آج ملک عزیز میں جس گھٹا ٹوپ اندھیرے کا ذکر بار بار ہورہا ہے،وہاں پر ہر آدمی کسی نہ کسی مصنوعی فخر،ناز یا برتے پر جی رہا ہے،کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کے پاس اقتدار ہے،کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔کسی کو یہ ناز کہ اس کے پاس مذہب کا ہتھیار ہے،جس کا چاہے گلا کاٹ سکتا ہے،کسی کویہ ناز کہ اس کے پاس دولت کے انبار ہیں،اس کا کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔کسی کو یہ ناز کہ اس کا اپنا حلقہ و برادری ہے جو ہر موقع پر اس کی مدد کے لیے کافی ہے۔کوئی کسی جماعت سے وابستہ ہے او کوئی کسی ادارے سے۔کوئی عوامی قافلے میں شریک ہے تو کوئی سرکاری قافلے سے،غرض ہر ایک خود کو کسی نہ کسی سہارے پرکھڑا کیے ہوئے ہے۔اور اس کے سہارے پر جی رہا ہے۔یہی ناز اسے صحیح بات سمجھنے سے روکتا ہے۔جب کوئی کھلے دلائل کیساتھ اُس سے بحث و مباحثہ کرتاہے۔تو وہ محسوس کرتا ہے کہ ان دلائل کا کوئی حقیقی جواب اس کے پاس نہیں،مگر اس کے باوجود وہ اس کو نہیں مانتا،اسکا غرور اسکو جھوٹے بھروسہ کی نفسیات میں مبتلا رکھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں اس کے دلائل کو نہ مانوں گا تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں۔دلائل کے اعتبار سے خالی ہوکر بھی وہ اپنے جھوٹے سہارے کو مضبوطی سمجھتا ہے۔مگر جب سر پر پڑے گی تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے سہارے بالکل بے حقیقت تھے۔جھوٹے سہاروں پر جینے والے آخر آخر بالکل بے سہارا ہوکر رہ جائیں گے،حقائق سے آنکھیں چرانے والوں پر بربادی ٹوٹ پڑے گی۔اور کوئی بھی چیز نہ ہو گی،جو ان کو اس سے بچانے والی ثابت ہوگی۔
بالٹی کے پیندے میں سوراخ ہو وار اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ نکلے گا،اور بالٹی کے اپنے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔
ایسا ہی معاملہ قوموں اور معاشروں کا بھی ہے،آدمی کا وہی عمل حقیقتاً عمل ہے،جو خود کو کچھ دے رہا ہو،اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھا رہا ہو،اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم رہے،تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں،عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاڑٰ بھڑکے،اس کے دل میں سوزوتڑپ کا کوئی لاوا اُبلے۔
اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو،اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ ہو،جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لیے کھول دے۔یہی ریاضت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔وہی عمل عمل ہے،جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو،جس عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملتی ہوں،وہ ایسے ہی ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں سے پانی کا گرنا،
ایک اندھا چلتے چلتے کنویں کے کنارے پہنچ جائے تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو کنویں کے خطرے سے آگاہ کیا جائے،حتیٰ کہ اسے نازک موقع پر آدمی جبان،قبلہ،کعبہ کی زبان اور نحو و حرف کے قوائد تک بھول جاتا ہے۔ اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے،کنواں کنواں۔۔۔۔
مگرکیسی عجیب بات ہے کہ سارا ملک،ساری قوم اس سے بھی زیادہ خطرناک کنویں کے کنارے کھڑی ہوئی ہے۔مگر ہر آدمی دوسرے کاموں میں لگا ہوا ہے کوئی شخص کنواں کنواں پکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا،حتیٰ کہ اگر کوئی دیوانہ اس قسم کی پکار بلند کرے تو لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے،یہ شخص قوم کو بزدلی کی نیند سلانا چاہتا ہے،وہ غازی اور شہید کے راستوں سے بھٹکانا چاہتا ہے۔وہ مایوس اور بے ہمتی کا سبق دے رہا ہے۔
لوگ کنویں کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں،اور سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ مکان میں ہیں،لوگ موت ی طرف بڑھ رہے ہیں،مگر خوش ہیں کہ وہ زندگی کاسفر طے کررہے ہیں۔
تخلیقِ ارض پاک کے دلچسپ جرم پر
ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *