روبرو مرزا غالب و ستیہ پال آنند

SHOPPING

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیوں کر ہو
۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند
عجیب حلیہ ہے اس شعر کا، جناب من
ہے فارسی کا فقط ایک لفظ گنتی میں
یہ معجزہ ہوا کیسے؟ حضور، فرمائیں!

مرزا غالب
کوئی ممانعت، تردید ، اعتراض، میاں؟
ہے ریختہ اگر ، اظہار ہندوی ہو گا

ستیہ پال آنند
نہیں، حضور، یاں ایسی تو کوئی بات نہیں،
فقط مجھے یہ فصاحت سے کچھ بعید لگا
کہ عام طور پر ہے آپ کا اظہار بلیغ
ہے اس میںجوش بیانی کا زور و شور بہت
سخن آرائی پھر کیسے ہو فارسی کے بغیر
مرزا غالب
تو دیکھ لو یہ نمونہ بھی اُس فصاحت کا
کہ جوبعینہ یہاں کی ہے، یعنی دلـی کی
سمجھ نہ اس کو گنواروں کی بولی ٹھولی، عزیز
کہ مقتضائے بلاغت ہے میرا ریختہ بھی

ستیہ پال آنند
حضور، مان لیا، سچے دل سے کہتا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ میں خود بھی اسی روش پہ چلوں

مرزا غالب
کہو تو اور کیا کہنا ہے تم کو ، ستیہ پال؟

ستیہ پال آنند
ّّ”گئی وہ بات ” کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
مرے لیے تو یہ مضمون ٹیڑھا میڑھا ہے
“گئی وہ بات” سے ہے کیا مراد، بندہ نواز؟
ّّ”وہ وقت کھو دیا میں نے” ۔۔۔یہی ہے کیا مفہوم؟
مرزا غالب
یہ تم سے کس نے کہا، ستیہ پال آنند، کہو
کہ سیدھے سادے معانی ہیں شاعر ی کا ہدف؟

ستیہ پال آنند
تو “بانکے ، ٹیڑھے ” معانی ہی کھولیے ، صاحب

مرزا غالب
ضرور، اے مرے گستاخ، ستیہ پال آنند
“گئی وہ بات”، ہے گویا “گذر گیا وہ وقت”
“جواز ختم ہوا” اُس سے بات کرنے کا
کوئی بہانہ نہیں اب کہ اُس سے بات کریں
یہی تو وجہ تھی “کیونکر” ردیف رکھنے کی

ستیہ پال آنند
صحیح و راست، بہت خوب، فی امان اللہ
ّّ”کہے سے کچھ نہ ہوا” سے مراد کیا ہے، جناب؟
ہے کوئی اور بھی یاں گانٹھ کیا معانی کی؟
مرزا غالب
کوئی سبیل ہو، کوئی قرینہ، طور و طریق
جس سے بات کا آغاز ہو سکے اُس سے
یہی ہے مسئلہ در پیش نا رسا ئی کا

ستیہ پال آنند
ہے نا رسائی تو اک مسئلہ یقیناً ہی
مگر، حضور، یہاں ایک اور اڑچن ہے
“کہے سے کچھ نہ ہوا” ، تو سمجھ میں آتا ہے
یہ “پھر کہو” کا بھی خود سے سوال ٹیڑھا ہے!

SHOPPING

مرزا غالب
بٹا ہوا ہے یہاں ذہن دو اکائیوں میں
یہ بات چیت ہے، خود سے، نزاع ِ لفظی ہے
کہ خود سوال کنندہ ہی ہے، جواب دہند
یہی کلید ہے اس قفل کی ، عزیز مرے!

SHOPPING

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا