اداس رتوں کی تنہا مسافر۔۔عاصم کلیار

SHOPPING
SHOPPING

تم کون تھی اور کہاں سے آئی مجھے جاننے کا شوق نہ تھا اور تم بتانے سے گریزاں تھیں مگر تنہائی کے دلگداز لمحموں میں کئی  سالوں کے دوران تم نے اپنی ذاتی زندگی کی کہانی مجھے ٹکڑوں میں سنائی تھی۔

SHOPPING

اس رات کسی نک چڑھی بیگم کے بگڑے ہوۓ بیٹے نے جب تمھارے پیٹ پر گھونسا مارا تو تم نے درد سے کراہتے ہوۓ مجھے جلال سنز سے فون کیا جیسے ہی میں جلال سنز پہنچا تم ضبط کے سب بندھن توڑ کر بچوں کی طرح ہچکیاں لے کر روتے ہوۓ مجھ سے لپٹ  گئی تھی، پاس کھڑی عینی نم آنکھوں کو ہم دونوں سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی میں کسی بچے کی طرح تم کو بہلانے کے لۓ آئس  کریم لے آیا تھا معصوم فطرت میری تم سب کچھ بھول کر فورًا مسکرانے لگی تھی۔
کہر میں لپٹی سردیوں کی رات فتح علی خان کا ذوالقرنین کے گھر گانا تھا تم نے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے مجھ سے پوچھا اور کون کون آ رہا ہے میں نے کہا سننے والوں میں پیاری فریدہ خانم بھی ہوں گی تم پرس سے سرخی نکال کر شیشے کے سامنے اپنے کمان سے پتلے نفیس ہونٹوں پر لگانے کے بعد گلے میں ہر وقت آویزاں لاکٹ میں خانہ خدا اور روضہ رسول کی شبیہوں کو درست کرتے ہوۓ مجھ سے کہنے لگی مولا علی میرا پیر کامل ہے میں ہر مشکل میں اسے یاد کرتی ہوں۔
آہ عاصم اس کا نام بھی علی تھا۔
کس کا میری؟
اس  سے پہلے کہ تم مجھے کچھ اور بتاتی خان صاحب فتح علی خان،ثریا خانم اور فریدہ جی گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہاپنتے کانپتے دو چار سڑھیاں چڑھ کر اندر داخل ہوۓ تھوڑی دیر بعد ہی محفل شروع ہو گئی،مجھے پوچھنا یاد ہی نہ رہا کہ تم کسی علی کا ذکر کر رہی تھیں، ہم ملتے تو اکثر ہی رہتے تھے مگر اس دوران برسوں بیت گۓ اور اس روز عائشہ اور عینی نے اپنے ٹیرس پر باربی کیو پارٹی کا بندوبست کر رکھا تھا تم اپنی زمرد سی سبز آنکھوں کو چاروں اور گھماتے ہوۓ میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئیں،ہم الیزبتھ ٹیلر کی زندگی اور اس کے ہیرے جواہرات کے ذخیرے کے بارے بات کرنے لگے کباب سیخ پر اور گلاس خالی تھے جب تم نے مجھے سرگوشی کرتے ہوۓ بتایا عاصم میرا پیدائشی نام میری الیزبتھ تھا میرے والدNorman shockکیلیفورنیا میں ایک نامور ڈینٹسٹ تھے گہرے رنگ کی اینٹوں والے ہمارے وسیع و عریض بنگلے کے گرد دلکش لان کے ایک کونے میں بنی چھوٹی سی انیکسی کے ساتھ میری کئی  یادیں وابستہ ہیں ،میں پرائیوٹ سکول میں پڑھ کر یونیورسٹی سے بھی فارغ التحصیل ہو چکی تھی مجھے معلمی کے پیشے میں عزت و وقار کے علاوہ ہمیشہ سے بادشاہی کا احساس بھی ہوتا تھا سو اس پیشے کو اختیار کرنے کے لۓ میں نے پولینڈ کی یونیورسٹی سے ایک اور ڈگری لینے کا فیصلہ کیا تب تک میں علی کو نہیں جانتی تھی کباب اور تکے سیخوں سے اُتر کر پلیٹوں میں سجنے لگے کانٹوں اور چھریوں کے شور میں گفتگو کسی اور جانب چل نکلی۔
غالب کے حوالے سے میری لائبریری میں موجود کتابوں کے بارے انگریزی روزنامے میں مضمون چھپا تو اس سے اگلے ہی دن تم غالب کے فکر و فن کے حوالے سے انگریزی کی ایک ضخیم ایک لے کر میرے گھر آئی اس روز ہم رات دیر تک گپ بازی کرتے رہے جب اشرف نے تمھارے سامنے کھانے کا میز رکھا تو تم اپنی پرانی ملازمہ خورشید کو یاد کر کے روتے ہوۓ کہنے لگی جب علی نے مجھے دھوکہ دیا تو اتنے بڑے شہر میں میرا خورشید کے علاوہ کوئی پُرسان حال نہ تھا، زندگی کے راہ میں جو گھاٹی مجھے موت کی جانب لے کے جا سکتی تھی اس سے مجھے خورشید نے ہی بچایا۔
عاصم وہ مجھے پولینڈ سے واپسی پر امریکہ ملا تھا عورت کی عزت و تکریم کے حوالے سے مجھے اس کے مشرقی اطوار نے بہت متاثر کیا میں نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے سانولے من بھانولے علی سے اس کے اصرار پر شادی کا فیصلہ کر لیا جیسے ہی مجھ سے شادی کی وجہ سے علی کو امریکی شہریت مل گئی، ہم اس کے فورًا بعد پاکستان آ گۓ میرے لۓ اس کے سیالکوٹ والے گھر میں کوئی جگہ نہیں تھی سو ہم نہر کنارے لاہور کراۓ کے گھر میں رہنے لگے رویوں کی تبدیلی کے علاوہ علی اور میرے دل میں ایک دوسرے کے لۓ کدورت بھی بڑھنے لگی ایک روز اس نے طلاق کے کاغذات میرے حوالے کرتے ہوۓ صرف اتنا کہا کہ مجھ پر خاندان میں شادی کرنے کے حوالے سے ماں باپ کا دباؤ ہے میں بے وطن شکستہ پا کہاں جاتی علی سے شادی میں نے بھی والدین کی رضا مندی کے بغیر کی تھی سو امریکہ واپس جانے میں مجھے تامل تھا میں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کر لیا، بعد کے برسوں میں یہاں کے صوفی کلچر اور کلاسیکی موسیقی نے بھی مجھے واپس جانے ہی نہ دیا۔
سلامت علی خان کی شفقت اور درویشانہ مزاج نے مجھے بہت متاثر کیا میں کئی سال ان کے گھر رہ کر راگ رنگ کو سمجھنے کے حوالے سے تعلیم لیتی رہی۔
میں نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا اور وہ جو سلامت علی خان کے بیٹے شرافت کی نشانی بھی تم نے مشکل وقت کے لۓ اپنی جمع پونجی کے ساتھ الماری میں رکھی ہوئی ہے شرافت کے ذکر پر اے دوست تم نے مسکراتے شرماتے ہوۓ مجھے گلے لگا لیا تھا۔
سلامت علی خان جس روز مٹی تلے جا سوۓ تم ایک بار پھر سے سڑک پر کھڑی تھیں، تم نے زندگی کو بسر کرنے کے لۓ بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا وہ جن کو چاۓ والے کی طرح منٹوں میں شہرت ملی وہ تم سے گفتگو کے آداب اور چھری کانٹے کا استعمال سیکھنے لگے اور جن کی خبریں اخباروں میں چھپتی اور رات دن ٹی وی پر ان کے کارناموں کا تذکرہ کیا جاتا وہ ابتدائی دو چار جملے انگریزی کے سیکھنے تمھارے گھر کسی پتلی گلی سے آتے ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو حکومت کا بندوبست سنبھالنے اور تم سے پڑھنے کے باوجو مٹی پاؤ سے طویل جملہ بولنے کی استطاعت  پیدا نہ کر سکے۔
اس رات ہمارے گاؤں میں تم اور میں عذرا کے گھر آگ کے آلاؤ کے گرد بیٹھے چاۓ کی چسکیاں لے رہے تھے جب سب خان صاحبان نین کا سہرا گا چکے تو ہمارے علاقائی سازندوں کے ڈھول کی تیز لے نے ہمیں ناچنے پر مجبور کر دیا ایسے اور بھی کئی  دلکش لمحے میں نے تمھاری صحبت میں گزارے ہیں دوسرے روز میں تو دن چڑھے بیدار ہوا مگر تم صبح سویرے پورے گاؤں کی سیر کے بعد ناشتہ پر میرا انتظار کر رہی تھیں، میں نے کہا تم ہمیشہ کے لۓ میرے گاؤں شفٹ ہو جاؤ میں نین کی محبت میں ادھر رہنے کے بارے سوچ سکتی ہوں اور عاصم اس شہر کے آوارہ کتے میرے دوست ہوں گے ہاں مگر ادھر سوئمنگ پول نہیں سو دوستو میں یہاں نہیں رہوں گی اے سادہ دل معصوم فطرت میری تم ایسی ہی تھیں۔
تم کو بلیوں سے بے حد محبت تھی اسی کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں تم لاہور کو مستقل طور پر اپنا مسکن بنا چکی تھیں، تب سے تا دم مرگ ایک بلی تو ضرور تمھارے ساتھ رہی ان تیس برسوں میں تم صرف دو بار امریکہ گئیں، پہلی بار تمھارا امریکہ جانے کا مقصد غیر مشروط طور پر باپ کی جائیداد سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کرنا تھا ایک بار تم سلامت علی خان کے طائفے کے ساتھ امریکہ جا رہی تھی فلائٹ کی رات تمھارا Snugglesنامی بلا گم ہو گیا اسے تلاش کرنے کے لۓ کشادہ دل میری نے امریکہ جانے سے انکار کر دیا تھا۔
اور جس مکان میں تم برسوں سے بطور کرایہ دار مقیم تھی اس کے مالک نے ذاتی ضرورت کی وجہ سے تمھیں گھر خالی کرنے کا کہا مخلوق خدا کی خدمتگار نین کی والدہ نے گھر کے ایک حصے میں تمھارا الم غلم سامان شفٹ کروا دیا شام کو تم اپنی بلی کو اٹھاۓ خود بھی آن پہنچی جب تک تم نین کے گھر رہی روز نہیں تو ہر دوسرے دن تم سے ملاقات ہو جاتی۔
ایک ہونہار جو ہمیشہ فیل ہوتا اس کا تعلق فیصل آباد کی کاروباری فیملی سے تھا تم سے پڑھنے کے بعد وہ نہ صرف پاس ہوا بلکہ باہر کی کسی یونیورسٹی میں اس کا داخلہ بھی ہو گیا تو اس کے باپ نے تمھیں کار خرید کر دی تھی ایک روز پتہ چلا کہ نین کے گھر سے بلی غائب ہے ہم تمھاری ہی کار پر پورے لاہور میں بلی کو ڈھونڈتے رہے تم نے شک کو یقین تصور کرتے ہوۓ بلی کو اغوا کروانے کا سارا الزام ذوالقرنین پر دھر دیا سو اس کے گھر میں رہتے ہوۓ تم نے اسی سے بگاڑ پیدا کر لیا اب عینی تمھاری دوست ٹھہری اور سچی بات تو یہ ہے کہ جیسے حق دوستی عینی نے ادا کیا وہ بھلا مجھ سے کب ہو پاتا۔
وہ کرسمس کی شام تھی تم عینی میں اور میرا بیٹا ڈنر کے لۓ ریسٹورینٹ گۓ وہ رات کئی حوالوں سے یادگار رہی پھول،کتاب، باتوں اور قہقہوں کی پھلجھڑیوں میں بھیگتے ہوۓ ہم کوئی صبح کاذب کے وقت گھر لوٹے۔
تم نے زندگی کی سب تلخیوں کو گھونٹ گھونٹ اکیلے پیا برہنہ پا ہونے کے باوجود تم نے جینے کے لۓ وہ راستہ منتخب کیا جہاں قدم قدم پر تمھارے پاؤں لہو لہان ہونے تھے تنہائی کے جان لیوا خوف سے تو تم نے نبھاہ کرنا سیکھ لیا تھا مگر باطن کے بند کواڑوں پر تم کو بھی دستک دیتے ہوۓ ڈر محسوس ہوتا تھا اس معاشرے میں آزاد خیال عورت اکیلی زندگی گزارے تو در در سے پھینکے جانے والے سنگ ملامت سے اسے خود کو بچانا پڑتا ہے اے مقدس روح پاکیزہ میری تم ذاتی جنگ ہار کر بھی جیت چکی تھی مگر غیروں کے لۓ جو بوجھ تم نے اٹھاۓ وہ تمھیں مار گۓ۔
تنہائی،اداسی اور معاشرے کی ناقدری کی وجہ سے آخری دنوں میں تمھارے اندر نخوت اور تلخی در آئی تھی مگر اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ میرا نام سنتے ہی تم سب توانائیاں جمع کر کے مسکرا دیتی کاش مجھے یہ کوئی نہ بتاتا جس روز تمھارے گزرنے کی خبر ملی میں دل پکڑ کر رہ گیا تم سے عینی دو چار روز پہلے ملی تھی تم نے اس سے زندہ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
اور اس رات جب عینی تمھارے لۓ کھانا لے کر گئی، تو دستک دینے کے باوجود تم نے اندر سے کوئی جواب نہ دیا دروازے کے اس پار نجانے کب سانس کے ساتھ تمھارا شفاف دل بھی ساکت ہو چکا تھا شائد عینی کے پہنچنے سے گھنٹہ پہلے یا پھر کئی دن پہلے ایسے سوال اب بے وقعت لگتے ہیں تمھارا جسد خاکی قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے دو تین دن ہسپتال پڑا رہا ارض خدا امریکہ کے سفارت خانے کے احکامات نازل ہوتے رہے جس روز تمھارا جنازہ تھا میں آخری بار تمھارے گھر گیا دور سے سلام کرتے ہوۓ میں نے تمھیں کہا تھا۔
الوداع اے دوست
الوداع میری۔۔ عاصم کلیار
تم کہ اداس رتوں کی تنہا مسافر تھی
یقین رکھنا
تنہا رتوں کا اداس مسافر تمھارا یہ دوست تمھیں ہمیشہ یاد رکھے گا۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔