چراغ سب کے بجھیں‌ گے ۔۔ سید عارف مصطفیٰ

یہ یقیناً شدید دلگرفتگی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ میں میرشکیل کی درخواست پہ مبنی کیس سننے سے ایک جج کے انکار سے یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت نہیں ہوسکی ہے اور مزید افسوس کی بات یہ ہےکہ جج موصوف نے ان وجوہ کو ذاتی قرار دیتے ہوئے انہیں بتانے سے بھی انکار کردیا ہے۔۔۔ ہم یہاں قانون پسند شہری ہونے کے ناطے ان وجوہات کی بابت نہ تو کوئی قیاس کرسکتے ہیں اور نہ ہی جج صاحب کے کنڈکٹ پہ کوئی تبصرہ کرسکتے ہیں تاہم اس مذکورہ جج کے انکار سے ہوا یوں ہے کہ اب یہ بنچ دوبارہ تشکیل پائے گا اور یوں یہ کیس خاصی تاخیر کا شکار ہو گیا ہے ۔ اس مرحلے پہ یوں کیس کا بنچ ٹوٹ جانا درحقیقت اک لمحہء فکریہ ہے اور اس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا امکان انصاف کے بروقت اور بہ سرعت حصول کے حق کے اصول کو بری طرح پامال کررہا ہے کیونکہ پہلے ہی بہت سارا وقت بھاشن بازوں کی کہانیوں اور تماشے بازیوں میں بے مصرف گزر چکا ہے۔

ویسے تو سبھی کے علم میں ہے مگر بطور یاد دہانی عرض ہے کہ ملک کے سب سے بڑے اور سب سے پرانے میڈیا ہاؤس ادارہ  جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان پہلے ہی سات ماہ سے زائد عرصے سے نیب کی حراست میں ہیں اور بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سلوک اس شخص کے ساتھ روا رکھا گیا ہے کہ جس پر ابھی تک کسی طرح کا کوئی جرم ثابت ہی نہیں ہوا ہے لیکن تب بھی وہ ضمانت سے تاحال محروم ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال یقیناً میڈیا کی آزادی کے تصور اوراس سے متعلق حکومتی دعوؤں کو بُری طرح مسخ کرتی چلی آرہی ہے اور ہر گزرتے دن اس حوالے سے عوامی ٹیکسوں سے چلنے والی نیب اور حکومتی کارکردگی پہ سوالیہ نشان لگتے ہی چلے جارہے ہیں ۔یہ حقیقت بھی افسوسناک ہے کہ میر شکیل اور انکے ادارے کو جس ابتر و مخدوش صورتحال کا سامنا ہے اس  میں سے  کئی نامور صحافی اور متعدد مبینہ اہل فکر و نظر اس حوالے سے حق بیانی کرنے کے بجائے اس موقع پہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں اور یوں میر شکیل کے مخالفین کی بالواسطہ مدد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ شاید اسکی وجہ یہ بھی ہو کہ وہ اپنی اس خاموشی کی بھرپور قیمت وصولنے کے تصور سے سرشار ہیں۔

tripako tours pakistan

یہی نہیں اس کے علاوہ چند معاصر ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں کہ جو ویسے تو سامنے سے ادارہ جنگ اور جیو کا مقابلہ کرنے کے کبھی اہل نہیں تھے لیکن اب میدان صاف پا کر اسے ذریں موقع باور کرتے ہوئے اپنے اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لئے بہت سرگرم ہیں اوراسی باعث میرشکیل اور انکے ادارے کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرنے سے یکسر گریزاں ہیں ۔۔۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ نہایت اظہار مسرت سے کئی قدم آگے بڑھ کر وہ کھل کھلا کے حکومت کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں – انہیں اس وقت یہ یاد دلانا بیجا نہ ہوگا کہ “دشمن مرے تو جشن نہ کریئے ، کیونکہ سجن نے وی مرجانا اے ۔۔”۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہی وہ صحیح وقت ہے کہ جب تمام اہل صحافت کو ابلاغ کی آزادی کےحق کے تحفظ اور جمہوری رسوم و آداب کی بقاء کی خاطر بہر صورت ایک پیج پہ آجانا چاہیئے اور لمبی لمبی تفتیشوں کے بعد بھی کچھ برآمد نہ کرسکنے والی نیب کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیئے یکجان ہو کر مشترکہ و بامعنی جدو جہد کرنی چاہیئےاور اچھی طرح یہ سفاک حقیقت ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ
ع   ، میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *