نیا سال

نیا سال
حمزہ حنیف مساعد
نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے اور بہت سے ملکوں میں نئے سال کو جوش و خروش سے منایا بھی گیا۔ بہت سے شہروں اور ملکوں میں نئے سال کی آمد سے پہلے ہی نئے سال کو منانے کی تیاریاں کی گئی تھیں۔وہیں پاکستان میں بھی مختلف مقامات پر لوگوں نے مختلف طریقوں سے نئے سال کو خوش آمدید کہا۔نوجوانوں نے خصوصی طور پر نئے سال کو منایا اور خاص قسم کی پا رٹیاں آرگنائز کیں۔قارئین میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو اور میری دعا ہے نیا سال آپکی زندگیوں میں خوشیاں لائے۔
اے کاش یہ نیا سال خوشیوں کی نوید لائے
اس ملک کے ہر شہری کو یہ سال راس آئے
نہ ہو سانحہ کوئی اب نہ اجڑے کوئی گھر
نئے سال کا ہر لمحہ پیغام امن لائے
میرے عزیزو گزرے ہوئے لمحات کو بھول کر نیک تمناؤں کے ساتھ امن کی ایک مثال قائم کریں ۔نئے سال کا آغاز خلوص دل سے نیک نیتی سے اور نئے عزم سے کریں۔اے ہمارے رب اس سال کو سب مسلمانوں کے لئے باعث رحمت بنا اور ہمارے ملک پاکستان کو امن کا گہوراہ بنا دے۔ آمین
قارئین ۲۰۱۶ تو گزر گیا مگر اپنے ساتھ کچھ تلخ یادیں اور حقائق چھوڑ گیا۔
میری زندگی جتنے بھی سالوں پہ مشتمل ہے اُن میں سے ایک یہ سال بھی گذر گیا۔ ایک نقطۂ نظر سے اِس سال کو دیکھیں گے تو کافی ساری داستانیں ، وارداتیں ، سننے اور دیکھنے کو ملی ہونگی جن میں امجد صابری والے قصہ سے تو آپ خوب واقف ہونگے۔ کیوں کہ وہ کافی مشہور تھے مگر جو مشہور نہیں اُن پہ جو زیاتیاں ہوئیں اُن کا کون ذمہ دار ہوگا ؟وہ بھی چند دن اخبارات کی سرخیوں میں آتے رہے اور بس یہ تماشا کب ختم ہوگا؟اور آپ کو بتاتا چلوں کہ اِسی سال عبدالستار ایدھی بھی ہمیں چھوڑ کر چل بسے ۔ کیا اِنسان تھا کمال کا آدمی تھا میں اُن کا اُس دن سے فین بنا جب سے انہوں نے اپنی وصیت میں یہ لکھا تھا کے میرے بعد میرے جسم کی کارآمد چیزوں کو ڈونیٹ کر دیا جائے۔ اور کچھ اِس سال کے لئے کہوں گا کہ جس طرح کسی گاڑی میں نیا ٹائر لگا ہُوا ہوتا ہے، جوں جوں گاڑی پُرانی ہوتی جاتی ہے اُس کے ٹائر سے بھی پالش کا اثر کم ہوتا جاتا ہے۔بالکل اُسی طرح جس طرح ہماری دنیا میں کسی بچہ کا جنم ہوتا ہے وہ اُس وقت محبت سے چور ہوتا ہے نفرت تو اُسے ہم سکھاتے ہیں سکول کی کتابیں یا والدین سکھا تے ہیں وہ تو پیدا ہی محبت کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔
تو محبت کیجئے نفرتوں میں کیا رکھا ہے ۔
سدا شاد رہیں آباد رہیں ،

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *