• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امام احمد رضا خان بریلوی رحہ کی کتاب “فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین” پڑھنے کی جسارت۔۔۔سرمد مسعود

امام احمد رضا خان بریلوی رحہ کی کتاب “فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین” پڑھنے کی جسارت۔۔۔سرمد مسعود

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

ایک ویڈیو کلپ میں ایک مولانا صاحب کو کہتے سنا کہ احمد رضا بریلوی بہت اعلی ٰ سائنسدان بھی تھے اور ان کو ہر قسم کے سائنسی علوم پر (72 علوم پر )دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں سے زیادہ عبور تھا۔ ایک اور کلپ میں سنا کہ امام صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے 105 سائنٹیفک دلائل دے کر واضح کیا ہے کہ زمین ساکن ہے اور نکولاس، نیوٹن ، گلیلیو اور آئنسٹائن جیسے بڑے سائنسدانوں کے کام پر دلیل سے تنقید کی ہے۔میں نے سوچا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو بڑی بات ہے کہ کسی مسلمان نے یہ جرات تو دکھائی۔دل میں سوچا کہ زمین کو ساکن ثابت کرنے والی کتاب کی اہمیت تو کوئی نہیں مگر کیوں نہ اسے پڑھا جائے، کیا پتا کہ کچھ نہ کچھ نکل آئے۔اس کتاب کا نام “فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین” ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے “زمین کی حرکت (تھیوری) کے خلاف شاندار کامیابی” ۔

انٹرنیٹ پر ڈھونڈنے کے بعد یہ کتاب مجھے pdf مل گئی اور میں نے کھول کر پڑھنا شروع کیا۔ کتاب کھولتے ہی پہلا تاثر یہ تھا کہ نہ جانے یہ کتاب کس زبان میں لکھی گئی ہے، لفظ تو اردو کے ہی تھے مگر فقرے بالکل بھی پڑھے نہیں گئے۔پتا نہیں کس انداز کی اردو تھی۔حوالہ کےلیے ایک جملہ نقل کرتا ہوں؛

“نافریت بے دلیل اور پتھر کی تمثیل، نری علیل،پتھر کو انسان یا مرکز سے نفرت نہ رغبت جانب خلاف جو اس کا زور دیکھتے ہو تمھاری دافعہ کا اثر ہے نہ کہ پتھر کی نفرت، تحقیق مقام کےلیے ہم ان قوتوں کی قسمیں استخراج کریں جو باعتبار حرکت کسی جسم پر قاسر کا اثر ڈالتی ہیں”

(گیم آف تھرونز کی Dokhraki زیادہ سمجھ آ جاتی ہے)

فوراً کتاب بند کردی۔میں تو سیدھی سیدھی فزکس کی کتابیں پڑھنے کا عادی ہوں جو عام انگریزی میں لکھی ہوئی ہوں اور کہاں یہ ضخیم اردو(مائل) میں لکھی گئی کتاب، اس طرح فزکس پڑھنا تو ممکن نہیں ۔انٹرنیٹ پر دوبارہ سرچ کیا اور اسی کتاب کا انگریزی ترجمہ مل گیا۔ پڑھنا شروع کیا لیکن جیسی جملہ بندی اردو کی تھی تقریباً ویسی یا اس سے کچھ ہی بہتر انگریزی کتاب کی تھی۔لیکن پھر بھی اتنی موزوں تھی کہ اگر دو پیراگراف پڑھو تو آدھے کی سمجھ تو آ ہی جائے گی۔

پہلے ہی صفحے پر اللہ کی حمد و ثنا کے بعد بات نیوٹن کے قانون سے شروع ہوئی۔شروع میں ہی آپ نے نیوٹن کے قانون کو رد کیا۔دلیل یہ دی کہ لگتا ہے نیوٹن اس وقت کسی اور خیال میں کھویا ہوا تھا اور سیب کے گرنے سے اس کا وہ خیال رفع ہوگیا اور اچانک سے گریوٹی کا خیال ذہن میں آگیا،کیونکہ اس وقت اس کے ذہن میں اور کوئی خیال نہیں آسکا۔ پھر آپ نے اگلے 20 صفحات میں یہ ثابت کیا کہ نیوٹن کا یہ نظریہ کہ ہر شے میں کھینچنے کی طاقت ہے غلط ہے، اس کے برعکس ہر شے میں Repulsion کی طاقت ہے۔

ان 20 صفحات میں 40 مرتبہ آپ نے کبھی Inertia کو Weight کے ساتھ، کبھی Mass کو کشش کے ساتھ اور کبھی کسی چیز کو کسی کے ساتھ ملا کر بیان کیا۔ جب بھی کسی ایک لائن کی سمجھ آنے لگتی اگلی لائن میں بالکل ہی مختلف اور عجیب بات ہوتی ۔ چار دفع میں نے نئے سرے سے کتاب کو شروع کیا کہ شاید کچھ سمجھ آ جائے۔

آپ نے کئی بار مثلث اور دائرے بنا کر ،کبھی رسی اور پتھر کا حوالہ دے کر اور کبھی مختلف طرح کی قوتوں کے نام شامل کر کے نیوٹن کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ایسی ایسی دلیلیں دیں کہ نیوٹن پریشان ہوگیا ۔ جو جو دلیلیں تھی وہ میں نہیں بتا سکتا کیونکہ ان کا الفاظ میں اظہار نہیں ہوسکتا لیکن آپ یوں سمجھیں کہ آپ نے آج تک جو کچھ میں فزکس کے بارے پڑھا ہے سب کو ایک ڈبے میں ڈال کر اچھی طرح ہلائیں، باہر نکالنے پر جو بنے گا کچھ ویسی ہی دلیلیں۔

یقین کریں کہ پہلے 20 صفحات پر بڑے وقت تک سر کھپانے کے باوجود کچھ پلے نہیں پڑا، بس یہ پتا تھا کہ امام صاحب کچھ کہہ لازمی رہے ہیں۔
یہ بھی کتاب کی ایک خاصیت ہے کہ ہر 3 یا 4 پیراگراف کے بعد آپ نے ماڈرن فزکس پر اچھا خاصہ غصہ نکالا، جھوٹ ،فریب ،مکر ، بے وقوفی جیسے القابات سے نوازتے رہے۔
ایک بات سے میں ساتھ ساتھ متاثر ہوتا رہا کہ کم از کم آپ کو فزکس کی ساری Terms اور Definitions کا اچھا خاصا علم تھا۔یہ بھی کسی عالم یا امام کے بارے نئی بات ہے۔
کچھ صفحے پڑھنے کے بعد میں نے بغیر دلچسپی کے پڑھنا شروع کر دیا کیونکہ پتا چل گیا تھا کہ سمجھ تو آنی کوئی نہیں۔

صفحے پڑھتا گیا، سارا فیض سر سے گزرتا گیا- آگے جاکر آپ نے مدوجزر کی مثال دے کر سورج چاند اور زمین کا پتا نہیں کونسا باہمی رشتہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کبھی سمتوں کا ذکر، کبھی کشش کا، کبھی موسموں کا، کبھی ستاروں کا، کبھی سپیڈ کا، وزن کا، ریڈیس کا، کثافت کا، ہوا پانی مٹی کا، نہ جانے کس کس شے کا ذکر چلتا رہا اور سب سے ثابت کچھ بھی ہوتا نظر نہ آیا۔

آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ کہ فاصلہ بڑھانے سے کشش کم نہیں ہوتی بلکہ اتنی ہی رہتی ہے۔ کشش کو پاور اور ولوسٹی کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔ ہر قسم کی فزکس کی نمائش جاری رکھی۔

60 صفحے پڑھنے کے باوجود ایک شے بھی پلے نہ پڑی ، مدوجزر، نیوٹن، کشش اور باقی فزکس ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ درمیان میں پرندوں اور پہاڑوں کی مثالیں بھی چلتی رہیں۔
60 صفحے پڑھنے کے بعد بس ہوگئی۔ اس سے آگے پڑھتا تو ایف ایس یس کی فزکس بھی بھول جانی تھی۔ کتاب کو بند کیا، ویسے بھی سحری کا وقت ہو گیا تھا اور میں پہلے ہی کافی وقت اس پر ضائع کر چکا تھا۔

ایک بات سمجھ میں آگئی کہ یہ سارے دعوے محض خام خیالی ہے اور ان لوگوں کا سائنس سے زیادہ سے زیادہ اتنا تعلق ہے کہ چند ادھوری کتابیں پڑھنے کے بعد ان کو Definitions یاد ہو گئیں ہیں اور ان کے سہارے یہ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں کے کام کو رد کرنے کا دعویٰ  کرتے ہیں۔

اور یہ حضرت کوئی 800 سال پرانے نہیں ہیں بلکہ بیسویں صدی کی شخصیت ہیں۔ یعنی جس دور میں آئنسٹائن ،ہائیزنبرگ اور بےشمار سائنسدان اور پی ایچ ڈی سکالرز اپنی شاندار تھیوریاں پیش کر رہے ہیں اور رسرچ پیپر شائع کر رہے ہیں اسی دوران ایک شخص یہ ثابت کرنے کےلیے کتاب لکھ رہا ہے کہ زمین ساکن ہے۔جس کی نہ کوئی ڈگری نہ فزکس کی تعلیم۔ ایک نظریہ جو 500 سال سے چلا آرہا ہے اور اب Fact بن چکا ہے اس کی تردید کرکے اپنے آپ کو مریدین کے سامنے سائنسدان ظاہر کر رہے ہیں۔

اور اس بات پر کسی قسم کی تنقید نہیں بنتی، وہ عالم اور مفتی ہیں ، ان کا کام دین سکھانا ہے اور فتوے دینا ہے، اگر ان کو سائنس نہیں آتی تو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جب مریدین بڑے بڑے دعوے کرتے نہیں تھکتے تو پھر تھوڑا بہت کہنا بنتا ہے۔ ابھی یہ صرف فزکس کے بارے تھا۔ امام صاحب کے باقی 71 علوم ابھی باقی ہیں۔لیکن میں بقیہ کو بالکل ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔
اور جو نقصان میرے علم فزکس کو پہنچا ہے اس کے کفارے کے طور پر “A brief history of time” دوبارہ پڑھوں گا۔

SHOPPING

آخر میں ایک اور بات بھی سمجھ آئی کہ یہ کتاب ایسی مشکل زبان میں اور بغیر جملہ سازی کے لکھی ہی اس لیے گئی ہے کہ نہ کوئی پڑھے اور نہ کوئی سمجھے اور ہم کہیں کہ ہم بڑی معرفت کی باتیں کر رہے  ہیں، عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔
اگر کسی کو کتاب چاہیے تو وٹس ایپ پر بھیج دیتا ہوں مگر
میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ Ludo stars کھیل لیں۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *