علم کی راہ اور ہم۔۔سعید چیمہ

SHOPPING
SHOPPING

حکم ہوا؛ تدبر کرو، تفکر کرو،کائنات کی نشانیوں پر غور کرو، مگر ہم نہیں کرتے غور نہ تدبر و تفکر،جو کام کرنے کے ہیں ان سے ہم کنی کترائیں گے اور ممنوع چیزوں کی طرف ہمارا میلان زیادہ ہوتا ہے شاید اس لئے کہ ہمارے باپ آدم نے شجرِ ممنوعہ کا پھل کھا لیا تھا۔

علم حاصل کرنے کی بار بار تاکید کی گئی،ایسے علم کی جو عمل پیدا کرا سکے اور ایسا علم جو معاشرے میں بہتری لا سکے،یہ علم ہی تو تھا جس نے ایک حبشی کو قریشیوں سے ممتاز کر دیا، عطا بن ابی رباح کا رنگ کالا،ناک چوڑا، ہونٹ موٹے اور قد درمیانہ ہے،لیکن جب حرم میں منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیتے ہیں تو بڑے بڑے سردار زمین پر بیٹھے ہوئے سر جھکا کر خطبہ سنتے ہیں،عطا جو فتویٰ دے دیں امت میں سے کوئی اس کو رد نہیں کرتا،امیرالمومنین کو سفیان ثوری کی درخواست پر شرفِ ملاقات بخشا جاتا ہے۔

ذرا غور کیجیے عطا بن ابی رباح کو یہ مقام،یہ مرتبہ،یہ شرف، یہ عزت اور یہ فضیلت کیونکر حاصل ہوئی،صرف علم کی بنیاد پر۔

علم کی ریشمی قبا جو ہمارے اسلاف نے پہنی تھی وہ ہم نے اتار کر پھاڑنے کے بعد پھینک دی اور پھر زوال کا ایسا سفر شروع ہوا جو رکنے کا نام نہیں لے رہا،قوموں پر زوال بھی آتا ہے مگر اسی زوال میں ایسے اسباب پنہاں ہوتے ہیں جو دوبارہ عروج کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں،اصل کام ان اسباب کو پہچاننا ہوتا ہے جو دوبارہ عظمت کی بلندیوں سے روشناس کروا سکیں۔

پچھلی صدی میں سب سے بد ترین زوال جاپانیوں پر آیا،ہیرو شیما اور ناگا ساکی زمین دوز ہو گئے،غربت و افلاس کا ہر طرف بسیرا ہو گیا،مگر جاپانیوں نے وہ اسباب تلاش کیے جو ان کی تباہی کاباعث بنے، وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جاپان تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مخالفوں سے پیچھے تھا وگرنہ تباہی جاپان کا مقدر نہ بنتی،اپنا سارا فوکس جاپانیوں نے تعلیم کی طرف کر دیا اور آج دنیا کی بہترین درس گاہیں

چڑھتے سورج سرزمین پر ہیں اور ٹیکنالوجی کی کتاب جاپانیوں کا باب لکھے بغیر مکمل نہیں ہوتی،اس کے برعکس مسلمانوں کی تاریخ ہے جو کچھ اور ہی خبر دیتی ہے،تقریباً دو سو برس سے مسلمان مختلف خطوں میں مغلوب ہیں،یہ مغلوبیت ختم ہونے کو نہیں آ رہی،کوئی رہنما ایسا نہ تھا نہ ہے جو مغلوبیت کے اسباب کی نشاندہی کرتا اور اس رستے پر اپنی قوم کو محوِ سفر کرتا جو عظمت کی بلندیوں کی طرف جاتا ہے،ہر کوئی مریض کا علاج کرتا رہا مرض کی تشخیص کیے بغیر۔

مولانا وحید الدین خان نے اس موضوع پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی ہے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں جو مسلمانوں کے زوال کا سبب بنیں اور وہ کون سی وجوہات ہیں جو دوبارہ عروج کا باعث نہیں بن رہیں،مولانا لکھتے ہیں کہ یہ دور عددی برتری کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی برتری کا ہے،مقابلہ انسانوں کے درمیان نہیں بلکہ انسانوں کے اذہان کے مابین ہے،میدانِ عمل میں وہی جیتے گا جو ذہن کا صحیح استعمال کرے گا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے مدِ مقابل یورپ کا متحد صلیبی لشکر کھڑا تھا،صلیبی کسی جنگل میں اُگے ہوئے درختوں کی مانند جبکہ مسلمانوں کی تعداد صحرا میں جھاڑیوں ایسی تھی،مگر سلطان ایوبی نے ذہن کو استعمال کرتے ہوئے ایسی اسٹریٹیجی بنائی کہ صلیبی پسپائی پر مجبور ہو گئے،اگر ایوبی کی فوج میدانِ جنگ میں تدبیر اختیار نہ کرتی تو جو نتیجہ آنا تھا وہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔صلیبیوں نے اس پسپائی کی وجوہات جانیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمان علم کے میدان میں ہم سے آگے ہیں اسی لیے وہ میدانِ جنگ میں بھی فاتح ٹھہرتے ہیں،اب صلیبیوں نے تہیہ کیا کہ وہ علمی میدان میں مسلمانوں کو شکستِ فاش سے دوچار کریں گے اور آج یورپ علم کے میدان میں فاتح بن کے کھڑا ہے،جبکہ مسلمانوں نے ان اسباب پر عمل کرنا شروع کر دیا جن کی وجہ سے صلیبی مفتوح ٹھہرے تھے،ذہنی تخلیق کو خیر آباد کہہ دیا گیا، سائنس، فلسفہ، علمِ فلکیات، علم ریاضی گویا کہ ہر میدان میں ہم پیچھے رہ گئے۔

اندلس کی عظیم الشان سلطنت سے مسلمان ذلیل و رسوا ہو کر نکلے، سلجوقیوں کی سلطنت کو منگول چاٹ گئے، محمد خوارزم شاہ کی سلطنت کو چنگیز خاں نے تاتار کیا،سلطنتِ عثمانیہ تاریخ میں کہیں کھو گئی،زوال کی وجہ صرف ایک تھی،علم کے بحر سے کنارہ کشی اور آج بھی اگر عروج نصیب نہیں ہو رہا تو وجہ صرف ایک ہے، علم کے بحر سے کنارہ کشی۔

SHOPPING

مولانا وحید الدین اپنی کتاب “کاروانِ ملت” میں مزید لکھتے ہیں کہ جب انگریز برِ صغیر پر قابض ہو گئے تو مسلمانوں نے ان کے خلاف جہاد شروع کر دیا، بندوق والوں کا تلواروں اور بھالوں سے مقابلہ کیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مقام پر مسلمانوں کو شکست ہوئی اور مسلمان معتوب ٹھہرے، اس کے برعکس مسلمانوں کو اپنی ساری توجہ تعلیم پر مرکوز کرنی چاہیئے تھی ،وہ تعلیم جو ان کو انگریزوں کے برابر مسند پر براجمان کرتی،اس کے بعد اگر مسلمان مقابلہ کرتے تو نتیجہ مختلف ہوتا، تقریباً تمام ممالک نے جن پر سلطنتِ برطانیہ کا سورج چمکتا تھا یہی طریقہ اپنایا کہ ٹیکنالوجی کے بغیر انگریز سے جنگ شروع کر دی، شکست مقدر کر دی گئی، “اور تم اللہ کی سنت کو بدلتا ہوا نہ پاؤ گے”، آج بھی مسلمان اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہے اور علم کے بغیر عمل کرنے پر بضد ہیں، آج بھی یہ مثال دی جاتی ہے کہ اگر بدر کے میدان میں تین سو تیرہ ایک ہزار کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ہم امریکہ کے مدِ مقابل کیوں نہیں ٹھہرتے، ایسوں کے لیے پہلی دلیل تو یہ ہے کہ بدر کے میدان میں تین سو تیرہ کے ساتھ سردار الانبیاءﷺ تھے اور ان کی دعا پر خدا نے نصرت کا وعدہ بھی کیا تھا اور دوسری دلیل یہ کہ عرب ممالک نے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی اور انجام ہمارے سامنے ہے،اب بھی وقت ہے اگر ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں تو، ہمیں علم میں آگے بڑھنا ہو گا، اگر آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئے تو منصبِ امامت پھر ہمارا ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *