بیٹی۔۔محمد اسلم خان کھچی

SHOPPING

1999 کی بات ھے اللہ رب العالمین نے مجھ پہ عنایات کی بارش کرتے ہوئے پہلی اولاد بیٹی جیسی رحمت سے نوازا۔ گھر میں جیسے خوشیوں کی بہار آگئی۔ جیتا جاگتا ہنستا مسکراتا کھلونا مل گیا۔ میں ان دنوں کچھ خاص مصروف نہیں تھا تو سارا دن کوشش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کے عطا کردہ اس معصوم فرشتے کے ساتھ گزاروں۔ دو تین ماہ کے بعد اس نے آنکھیں گھمانا اور غوں غوں کرنا شروع کردیا۔ میں جب بھی اسے آواز دیتا وہ آنکھیں گھما کے میری طرف دیکھنے کی کوشش کرتی۔ میری آواز سے اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سی آجاتی۔ اس کے چہرے پہ انجانی سی خوشی چھا جاتی اور اس خوشی کا اظہار وہ اپنے ہاتھ پاؤں ہلا کے کرتی اور جب اسے زیادہ خوشی ہوتی تو وہ اتنی تیزی سے ہاتھ پاؤں چلاتی کہ میں اسکے انرجی لیول پہ حیران ہو جاتا۔ جیسے ہی میں اس کے سامنے آتا اس کے منہ سے غوں غوں کی آوازیں  نکلنا شروع ہو جاتیں اور ہنسی کا ایک فوارہ پھوٹ پڑتا۔ شاید وہ کوئی باتیں کرنا چاہتی تھی ۔ بتانا چاہتی کہ بابا میں نے آپ کو بہت مس کیا۔

میری زندگی کے یہ خوشگوار ترین لمحات ہوتے۔ میں اس سے گھنٹوں باتیں کرتا۔ وہ میری ہر بات کا جواب دیتی۔ یہ میں بھی جانتا ہوں کہ نہ اسے میری کسی بات کی سمجھ آتی اور نہ مجھے اسکی کسی بات کا پتہ چلتا تھا لیکن پھر بھی ہم دونوں ایک دوسرے کی بات سمجھ لیتے۔ مجھے اسکی حرکات و سکنات سے پتہ چل جاتا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔ وہ اپنی معصوم  حرکتوں سے مجھے اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتی۔ جب بھی اٹھنے لگتا تو اسکا موڈ آف ہو جاتا۔ ابھی دانت نہیں نکلے تھے لیکن میری انگلیوں پہ کاٹنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ شاید یہ اسکی محبت کا اظہار تھا۔ مجھے یہ بھی پتہ چل جاتا کہ اب اسے دودھ کی ضرورت ہے۔جب دودھ سے سیر ہو جاتی تو  فیڈر دیکھ کے منہ بسورتی تو پتہ چل جاتا کہ اب یہ کوئی میٹھا کھانا چاہتی ہے۔ آم کھانا چاہتی ہے۔ آم اسے بہت پسند تھے۔ آم دیکھتے ہی ایسی اچھل کود کرتی کہ اسے قابو کرنا مشکل ہوجاتا ۔

اتنی شدید محبت اور عشق تھا ہمارے درمیان کہ ہم ایک دوسرے کے بنا رہ نہیں پاتے تھے۔ جب میں گھر سے باہر جاتا تو وہ سارا سارا دن دروازے کی طرف تکتی رہتی۔ انتظار کرتی ۔کان میری آواز پہ لگے رہتے۔سوئی ہوئی ہوتی تو میرے قدموں کی آہٹ سے جاگ جاتی۔ کانوں میں آواز پڑتے ہی اسکی اٹھکھیلیاں شروع ہو جاتیں ۔ کبھی کبھی تو میری آواز سنتے ہی لمحے میں رونا دھونا بند ہو جاتا اور ہم اسکی اس معصوم سی حرکت پہ ہنس پڑتے۔

اس وقت میں ہی اسکی چھاؤں تھا۔گھنا درخت تھا۔ میں ہی اسکا سایہ تھا اور اس سائے میں وہ خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی تھی۔

خوشی کے یہ حسیں پل بہت تیزی سے گزر گئے۔ وہ بڑی ہو گئی اور چلنے کی کوشش کرنے لگی۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب پہلے دن وہ چلنے کی کوشش کر رہی تھی تو اپنے آپ کو بیلنس کرنے کیلئے ایک ہاتھ اوپر اور ایک نیچے کر کے چل رہی تھی جیسے سرکس میں لوگ تار پہ بیلنس کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ کندھوں پہ سواری, ماں کی مار سے بچنے کیلئے باپ کی آغوش میں گھس جانا, ماں کو دھمکیاں کہ بابا کو آنے دو۔۔۔ بھائی سے آرام سے پٹ جانا اور شکایت بھی نہ کرنا کہ بابا بھائی کو ماریں گے۔ بھائی کو پرس سے چپکے چپکے پیسے نکالنے سے منع کرتے ہوئے ڈرانا اور بابا کو بھی نہ بتانا۔ دوپہر کو بھوک لگنے پہ بھائی کو گندم کے “ناڑ ” کا سٹرا بنا کے دینا کہ بھائی آپ کو بھوک لگی ہوگی چپکے سے دودھ پی لو۔ کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔

بھائی کے حصے کی مار بھی خود سہہ لینا کہ تندور میں رکھے مٹکے سے گندم کے ناڑ کا سٹرا بنا کے دودھ میں نے پیا تھا۔

ہر ظلم سہہ کے بھی  صرف یہ کہنا کہ بابا کو بتاؤں گی اور کبھی نہ بتانا۔۔۔۔ یہ صبر اور عظمت اللہ کریم نے صرف بیٹی کو عطا فرمائی ہے۔

لیکن اب وہ بڑی ہو گئی ہے۔ پہلے میں اسکی گھنی چھاؤں تھا۔ اب وہ بن گئی ہے۔ میرے لئے اپنی پسند کے کپڑے خرید کے لاتی ہے۔میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ کبھی کبھی مجھے ڈانٹ بھی لیتی ہے کہ بابا آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے۔ واک نہیں کرتے۔ کھانا, میڈیسن ٹائم پہ نہیں کھاتے۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اس نے میری ماں کی جگہ لے لی ہے۔ پر مجھے اسکی ہر بات اچھی لگتی ہے۔ ضد کرنا, ڈانٹنا, میری پسند کے کھانے بنانا۔ اسکی نظر میں دنیا میں سب سے عظیم اور مضبوط انسان ہوں۔ مجھے سمجھاتی ہے ۔میری معمولی سے  معمولی بیماری پہ چپکے چپکے روتی ہے اور ساری ساری رات اللہ رب العالمین کے حضور گڑگڑاتی رہتی ہے۔ میری لمبی عمر اور صحت کی دعائیں مانگتی رہتی ہے۔

بیٹی کے ساتھ بتایا زندگی کا ایک ایک پل دل و دماغ پہ نقش ہے ۔ کل کی بات لگتی ہے لیکن وہ خوبصورت محبتیں شاید میں مرتے دم تک نہ بھلا سکوں۔
سی ایس ایس کی تیاری کر رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العالمین اسے اپنی زندگی میں کامیابیاں عطا فرمائے۔۔آمین۔

بیٹی کی محبت صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیٹی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہو۔اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جب میں کسی سے خوش ہوتا ہوں تو اسے بیٹی عطا کرتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں اگر محبت نام کی کوئی شئے ہے۔اگر محبت کا وجود ہے تو وہ صرف باپ اور بیٹی کے درمیان رشتے کا نام محبت ہے۔
باپ اپنی بیٹی کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کے خوشی سے نہال ہو جاتا ہے۔ جب بیٹی کو اداس دیکھتا ہے تو اندر سے دہل جاتا ہے کہ خدا خیر کرے میری بیٹی کو کیا ہو گیا ہے۔مثل مشہور ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت کو کبھی نہیں بھولتی۔ یہ سچ ہے لیکن ہم نے اس مثل کا غلط مطلب اخذ کر لیا ہے۔ وہ واقعی نہیں بھولتی کیونکہ اسکی پہلی محبت اسکا باپ ہوتا ہے۔
رب تعالیٰ نے بس محبت کو بیٹی کی محبت سے امر کر دیا ہے۔

میرے بابا 105 سال کے ہیں۔ بہت ضعیف بزرگ ہیں۔ لیکن انکی بیٹی جو میری سب سے چھوٹی بہن ہے۔ ہر ہفتے 100 کلومیٹر کا سفر کر کے ان سے ملنے جاتی ہے۔ ان کے پاؤں دھوتی ہے۔ انکے ہاتھ دھوتی ہے۔ انکی سفید داڑھی کو ہاتھوں میں پکڑ کے چومتی رہتی ہے۔ اسکی اس محبت کو دیکھ کے آنکھیں بھرا جاتی ہیں اور بیٹی کی محبت کے امر ہونے پہ یقیں ہو جاتا ہے۔

بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ میری بیٹی, آپ کی بیٹی, سب کی بیٹیاں ہم سب کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ہم بیٹیوں میں فرق کرنے لگے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ اسکی بیٹی ہے، یہ فلاں کی بیٹی ہے۔ہم ایسا کیوں کہتے ہیں جب کہ بیٹی تو سب کی بیٹی ہے؟

میری بیٹی کا سکول بیگ پھٹا ہو یا معمولی سا بوسیدہ ہو جائے تو میں فوراً  اسے ساتھ لے جا کے اسکا فیورٹ 4000 کا سکول بیگ خرید دیتا ہوں ۔میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی اپنے نئے بیگ پہ اتراتی پھرے
لیکن میرے ہمسائے کی بیٹی ” ایشیا گھی ‘”کے کارٹن کو اپنا سکول بیگ بنا کے جارہی ہے۔ بڑی شرمندہ شرمندہ سی ہے۔ کمپلیکس سے روح چھلنی ہے کہ لوگ دیکھیں گے تو ہنسیں گے۔ چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی ہے کہ کوئی میرا بیگ تو نہیں دیکھ رہا۔ دکھی دل کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتی ہے ۔بیگ کو بجائے سامنے بینچ پہ رکھنے کے، نیچے فرش پہ رکھتی ہے۔ چوری چوری کاپیاں کتابیں پینسلیں نکالتی ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
بچے دیکھتے ہیں ہنستے ہیں تو اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں لیکن وہ صابر و شاکر بن کے سب سہتی ہے اور یہ سوچ کہ خود کو مطمئن کر لیتی ہے کہ میرے بابا غریب ہیں۔ میرے بابا کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرے بابا دنیا کے عظیم انسان ہیں جب انکے پاس پیسے آئیں گے تو وہ مجھے ایک نیا بیگ لے دیں گے۔

SHOPPING

دوپہر کو بیل بجتی ہے۔ سب بچے ٹک شاپ پہ بھاگتے ہیں۔ کوئی سموسے کھا رہا ہے, کوئی شوارما کھا رہا ہے کوئی کوک پی رہا ہے لیکن وہ چپکے سے کلاس روم کے خالی ہونے کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ تب وہ ایشیا گھی کے کارٹن سے رومال میں بندھی روٹی نکالتی ہے۔ کبھی گڑ تو کبھی ہری مرچ کے اچار سے اپنی بھوک مٹاتی ہے اور سکول کے نل سے پانی پی کے بجھے دل کے ساتھ بچوں میں شامل ہو کے کھیلنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔۔ لیکن میری یہ بیٹی جو ساری دنیا کی نظروں کا مقابلہ کر کے گتے کا بیگ گلے میں لٹکا کے سکول جاتی ہے، میرا غرور ہے، میری عزت کا مان ہے، دل سے جتنی بھی دکھی ہو، رات کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے پاؤں کو ہلکے ہلکے مالش کرتی ہے۔ اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا کہ بابا میرے کندھوں میں رسیاں چبھتی ہیں۔ سکول کے لڑکے لڑکیاں مجھ پہ آوازے کستے ہیں کہ لو۔۔۔۔ کاغذ کے بستے والی آگئی۔۔۔ اس نے کبھی نہیں کہا کہ بابا۔۔۔ مجھے جوتا لے دو۔۔۔ میرا جوتا پھٹا ہوا ہے۔ کنکر چبھتے ہیں۔۔۔ کبھی کبھی اپنے ننھے منے ہاتھوں سے چائے بھی پلاتی ہے، سکول سے گھر آکے ماں کے ساتھ برتن بھی دھلواتی ہے، اس نے کبھی نہیں کہا کہ بابا میری یونیفارم بہت پرانی ہے، ٹیچر بنچ پہ کھڑا کر دیتی ہے، ہمیشہ یہ کہتی ہے کہ۔۔۔ بابا مجھے سکول میں بھوک بھی نہیں لگتی۔۔۔ پیدل سکول سے واپس آتی ہوئی تھکتی بھی نہیں جبکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ راستے میں کسی دیوار کے سائے تلے بیٹھ کے سانس لیتی ہے۔۔۔۔ اللہ نے صبر و شکر کوٹ کوٹ کے بھر دیا ہے۔
لیکن مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔
مجھے اپنی اس بیٹی کی تکلیف کیوں محسوس نہیں ہوتی۔۔
بلکہ ہم سب کو کیا ہو گیا ہے ؟
ہم مسلمان ہیں۔ ہم سب بھائی ہیں۔
ہمیں اپنی بیٹی کا گتے کا بیگ نظر کیوں نہیں آتا ؟
کیا ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں یا ہم مردہ ضمیر اندھے لوگ ہیں۔۔۔ ؟
ہمیں یہ کیوں نہیں نظر آتا کہ جب وہ معصوم سی بیٹی گھر جاتی ہو گی تو گتے کے ڈبے کے ساتھ بندھی رسی سے اسکے نرم و نازک کندھوں پہ سرخ نشان پڑ جاتے ہوں گے اور اسے بہت درد بھی ہوتا ہو گا۔
ہمیں بیٹی کے کندھوں میں ہوتا ہوا درد کیوں محسوس نہیں ہوتا۔۔۔۔ ؟
اسکا باپ تو بیچارہ صبح چار بجے اٹھ کے فروٹ منڈی جاتا ہے۔1000 روپے کے کیلے خریدتا ہے کیونکہ اسکی ٹوٹل انویسٹمنٹ ہی ہزار روپیہ ھہے اور ہم اس سے لڑ جھگڑ کے گالی گلوچ کر کے , اسے بے ایمان ثابت کر کے ,بھاؤ تاؤ کر کے کم سے کم پیسوں میں کیلے خرید لیتے ہیں۔ وہ تو بیچارہ گھر کی دال روٹی بھی پوری نہیں کر سکتا تو وہ اسے 2000 ہزار کا بیگ کہاں سے خرید کے دے گا۔
بیٹی اسی امید میں رہے گی ۔ کندھوں کے زخم بڑھتے رہیں گے ۔باپ نیا سے نیا گتا کسی نہ دوکان سے مانگ کے بیگ بنا کے دیتا رہے گا۔
لیکن یہ سب ہمیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔
پتہ نہیں ہمیں یہ سب نظر کیوں نہیں آتا۔
سوچیے گا ضرور۔۔۔
شاید کبھی اللہ رب العزت ہم پہ رحم کرے۔۔۔ ہماری آنکھیں کھول دے۔۔۔ اور ہماری بینائی لوٹ آئے
دعا ھے کہ اللہ رب العزت آپکو آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔۔۔

SHOPPING