• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پاپی:خط کہانیاں،پرانی تصویر/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط3،4)

پاپی:خط کہانیاں،پرانی تصویر/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط3،4)

SHOPPING
SHOPPING

محترمہ رضوانہ صدیقی صاحبہ !
جو حال بیس سال پیشتر تھا
وہی چال آج بھی ہے یعنی
؎ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

ماضی میں تو یہ پردہ روایت کا تھا۔۔۔جوانی کا تھا۔۔۔شرم و حیا کا تھا۔۔۔تکلف کا تھا۔۔۔اب بھلا یہ چلمن کیسی ہے؟
آپ کے خط نے ایک دفعہ پھر میرے دل میں سرگوشی کی اور من کی گہرائیوں میں چھپےجذبات و احساسات سطح پر آنے لگے۔ آپ کا خط پڑھ کر میری وہی کیفیت ہوئی جو ہماری آخری ملاقات کے بعد ہوئی تھی۔آپ کا
وہی غمزہ
وہی عشوہ
وہی انداز
وہی ادا
آپ کی شخصیت میں دلبرانہ اور محبوبانہ ادائیں آج بھی بدرجہِ اتم موجود ہیں۔
آپ کے مزاج میں سنجیدگی بھی ہے طنز بھی ہے اور مزاح بھی۔متانت بھی ہے ذہانت بھی۔اور میری طرح کچھ دیوانگی بھی۔ مجھے یقین ہے
؎ خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو

آپ کا خط پڑھ کر دل نے گواہی دی ہے کہ آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں جس کی میں تلاش میں ہوں ورنہ آپ نہ تو اس خط کا ’جسے آپ نے پریم پتر کا نام دیا ہے ’جواب دیتیں نہ ہی اتنی اٹھکیلیاں کرتیں اور نہ ہی پریم پتر پڑھ کر اپنی نشست سے چپک جاتیں۔یہ سب اسی کے آثار ہیں جس سے آپ بخوبی واقف ہیں لیکن تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہی ہیں۔
آپ کا محبت نامہ پڑھ کر میں اپنی پرانی الماری میں پرانی البمز کی پرانی تصویریں اور پرانے خطوط تلاش کرنے لگا۔ چند گھنٹوں کی تلاشِ بسیار کے بعد مجھے وہ البم مل گئی جس کی مجھے تلاش تھی لیکن کچھ ایسی البمز بھی مل گئیں جن میں ماضی کی محبوباؤں کی تصویریں اور خطوط تھے۔ آپ نے خطوط کا سلسلہ جاری رکھا تو ان محبوباؤں کے بارے میں بتاؤں گا جن کے بارے میں شاعر نے کہا ہے
؎ چند تصویرِ بتاں چند حسینوں کے خطوط

بالآخر مجھے آپ کی وہ پرانی تصویر مل گئی جس میں آپ پشاور آئی ہوئی ہیں اور پروگرام کے بعد ہم سب سے نظریں چرا کر چہل قدمی کرنے چلے گئے تھے اور آپ ایک فوارے کے پاس بیٹھ گئی تھیں۔ میں نے تصویر لی تھی تو آپ پہلے قدرے شرمائی تھیں پھر آپ نے اپنی سہیلی سمیرا کا کراچی کا ایڈریس دیا تھا کہ میں تصویر کی ایک کاپی آپ کو بھیج سکوں۔آپ نہیں چاہتی تھیں کہ آپکے والدین وہ تصویر دیکھ کر شک کریں۔
اس دن بھی ہم نے غالب کے اشعار کے بارے میں تبادلہِ خیال کیا تھا۔ آپ نے مجھے غالب کا مصرعہ سنایا تھا۔۔
؎ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

اور میں نے بھی آپ کو غالب کا پسند یدہ شعر سنایا تھا
؎ شوق ہر رنگ رقیبِ سرو ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

آپ کو وہ شعر اتنا پسند آیا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ میں یہ شعر تصویر کے پیچھے لکھ کر بھیجوں۔
پھر آپ نے مزاحیہ انداز سے پوچھا تھا کہ کیا بات ہے کہ
؎ ہند کے شاعر وصورت گر و افسانہ نویس

آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اس شعر کے جواب میں سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ اگر ایک کبوتر کسی کبوتری کو دیکھ کر گٹکتا ہے اور ایک گھوڑا کسی گھوڑی کو دیکھ کر ہنہناتا ہے تو اگر کوئی حسن پرست عاشق مزاج فنکار مرد کسی دخترِ خوش گل کو دیکھ کر شعر کہتا ہے’ گیت گنگناتا ہے یا پینٹنگ بناتا ہے تو اس میں مضائقہ کیا ہے ۔
امید ہے یہ خط پڑھ کر آپ کی دل لگی ختم ہوگئی ہوگی لیکن اگر آپ پھر بھی خط و کتابت کا سلسلہ آگے نہیں بڑھانا چاہتیں تو میں آپ کی رائے کا احترام کروں گا۔ ویسے یہ وضاحت کرتا چلوں کہ آپ پہلی اور آخری عورت ہیں جنہیں میں نے فیس بک پر ایسا خط لکھا ہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ ہم خط و کتابت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں تا کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی زندگی کی کہانی شوق سے سنا سکیں اور تحمل سے سن سکیں۔ اب ہم زندگی کے نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور بہت کچھ کر سکتے ہیں جو ہم جوانی میں نہیں کر سکتے تھے۔ جانے سے پہلے میں آپ کو عارفؔ عبدالمتین کا ایک شعر سنانا چاہتا ہوں
؎ اپنی کہتے رہو’ میری سنتے رہو’ داستاں داستاں سے ملاتے رہو

یونہی جلتے رہیں’ درد کے قمقمے’ رات جب تک رہے درمیاں دوستو

اے میری دوست !
اگر آپ میری ہمراز بھی بننا چاہتی ہیں تو ایک اور خط لکھیں
آپ کا اجنبی دوست
عرفان قمر

خط نمبر 4
ادب کو شادی کھا گئی

محترم عرفان قمر !
اگرچہ زمانہ گزرا ان القابات کے ساتھ کوئی خط لکھا نہ پڑھا ۔ تم نے جس تیزی سے میرے خط کا جواب دیا ہے اس نے مجھے چونکادیا ہے ۔ لگتا ہے کوئی زیادہ کام کاج اور ذمےداریاں تمہارے سپرد نہیں جب ہی تو تمھیں یہ چونچلے سوجھ رہے ہیں ورنہ آج کے دور میں کون اتنا کچھ لکھتا ہے اور کون کسی کے خط کے انتظار میں رہتا ہے ۔ ایپ اور عیب کا دوردورہ ہے لوگ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو سے دل بہلاتے ہیں ۔ جو بیوی ’ بچے اور شوہر رکھتے ہیں ان کی زندگی تو اجیرن ہے ۔ کوئی ہم مڈل کلاسیوں سے پوچھے کہ زندگی کی گاڑی کیسے کھینچتے ہیں ۔ ہر صبح سے رات تک بس جوڑتوڑ میں لگے رہنا پڑتا ہے ۔ کبھی پیسے کی قلت ’کبھی محبت کی اور کبھی رشتوں کے سچائی کی ۔ بس ڈھیر لگا ہے تو مسائل کا جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔
تم نے جس زمانے کی باتیں لکھی ہیں وہ دور ہی کچھ اور تھا ۔ سارے دکھ سکھ ماں باپ کے ذمے تھے۔ ہم تو پڑھتے تھے اور موجیں کرتے تھے ۔ آزادی بہت تھی مگر کم بھی تھی ۔ آج جب نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ ان کا دور تو بڑا ہی کھلا اور پرآسائیش ہے ۔ ہمیں تو دھوپ کا چشمہ بھی لگانا ہو تو اجازت لینی پڑتی تھی ۔
ہائے تم کس خوش اندازی سے تصویروں کا ذکر کررہے ہو اور کیسے نایاب البم تم نے اب تک سنبھال رکھے ہیں ۔ یہی تو فرق ہے ہمارے معاشرے کا ۔ یہاں مرد محبتیں چاہتیں سب کچھ دھڑلے سے کرتا ہے اور اس کی یادیں بھی سنبھال کر رکھتا ہے اور عورت کو تو شادی سے پہلے کی ہر یاد کھرچ کر پھینک دینی پڑتی ہے ۔ گروپ فوٹو بھی ہو تو بتانا پڑتا ہے کہ اس میں کون کون ہے اور گروپ میں جو لڑکے ہیں تو کیوں ہیں؟ اگر لڑکی کی کسی باغ یا باہر کی عمارت کے ساتھ سنگل تصویر ہو تو اس کی بھی وضاحت دینی پڑتی ہے کہ کس نے کھینچی اور اس جگہ کیوں گئی تھیں؟ حیرت ہے تمھیں کوئی ڈر نہیں ۔ خط بھی اتنی بےباکی سے لکھ رہے ہو اور یادیں بھی اب تک سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ بیوی کے ہاتھ لگ گئیں تو کیا بنےگا؟
میں سمجھی تھی کہ شاید میں ہی تمہارے دل میں ہلچل مچارہی تھی ۔ جو پسند ہو اور نہ ملے تو اس کی یاد عرصہ دراز تک کچوکے لگاتی ہے مگر تم تو خود لکھ رہے ہو کہ
” کچھ ایسی البمز بھی مل گئیں جن میں ماضی کی محبوباؤں کی تصویریں اور خطوط تھے۔ آپ نے خطوط کا سلسلہ جاری رکھا تو ان محبوباؤں کے بارے میں بتاؤں گا“
گویا عشق فرمانا اور محبوباؤں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہنا آپ کا مشغلہ ہے ۔ ایسے میں میری کیا ضرورت؟ کوئی نئی ڈھونڈو جو تمہارے آس پاس رہتی ہو تاکہ اس سے فیض یاب بھی ہوسکو۔ میں تو اب دو بچوں کی ماں ہوں۔ چولہے ہانڈی ، گھر بچوں اور شوہر کی ذمےداریوں نے سب کچھ اجاڑدیا ہے ۔
غمزہ ’عشوہ ’انداز’ ادا صرف تمہارے اپنے خیال کی پرواز ہے ۔ بس چونک سی گئی ہوں کہ تم کہاں سے آٹپکے اور اس چالو دنیا میں اب تک کس ادبی لہجے کے خط لکھ رہے ہو ۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اب تم کس شہر میں ہو؟ لگتا ہے پشاور ہی میں ہو۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ تمہارا پروفیشن کیا ہے؟ انداز تحریر بتارہی ہے کہ اردو کے پروفیسر بن چکے ہو ۔
تم نے آج کی رضوانہ صدیقی کو دوبارہ سے بیس پچیس سال پہلے پھینک دیا ہے ۔رضوانہ کو یاد بھی نہ تھا کہ وہ بیت بازی اور تقاریر کرنے کی شوقین تھی ۔ وہ غالب کے اشعار میں دل و دماغ کھپاتی تھی ۔ اس میں شوخی تھی شرارت تھی ۔ سب کچھ چلتے چلتے ایک جھٹکے سے رضوانہ سے الگ ہوگیا تھا ۔ ابھی تو اس لڑکی نے خوابوں کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا ۔ اپنے ارمانوں خواہشوں کو دیکھنا ہی شروع کیا تھا کہ اسے شادی کے بندھن میں باندھ دیاگیا ۔ تمہاری شادی کب ہوئی؟ بیوی کیسی ہے؟ بچے کتنے ہیں؟ تمہاری بیوی تو تم سے بہت خوش ہوگی۔ تم اتنے رومانٹک جو ہو ۔ کیا خود بھی شاعری کرتے ہو؟
یہ بڑا عجیب سا لگا اس خط میں جب تم نے کہا کہ محبوباؤں کے بارے میں بتاؤں گا۔ یہ تو ایک ہرجائی مرد کا لہجہ ہے ۔ ہرجائی عورت ہو یا مرد پھر وہ کسی کے نہیں ہوتے ۔ اگر تم ایسے ہی ہو تو مجھ سے رابطہ ختم کردو ۔ ایک ہرجائی کو اپنے آپ میں ارتعاش پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ تمہارا ایک مہذب رومان پرور ہیولہ میرے خیالوں میں بسا ہے اگر یہ ٹوٹ گیا تو میں بکھرسی جاؤں گی ۔ بشیر بدر کا شعر یاد آرہا ہے
؎ اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

یہ شام ہی کا وقت ہے ۔ گرمی کی حدت کو ایک پنکھے سے کم کرتے ہوئے تمھیں خط کا جواب لکھ رہی ہوں ۔ زندگی میں بہت کچھ ملا ۔ بہت کچھ کھویا مگر تمہارے خط کی تاثیر نے دل میں ہلچل مچادی ہے ۔ سب کچھ چھپ کر کرنا پڑتا ہے ۔ بیٹا بیٹی سپارہ پڑھنے گئے ہیں ۔ میاں سیاسی چکروں میں دو دو دن گھر نہیں آتا ۔ گھوسٹ نوکری ہے اس کی سیاسی پارٹی کے طفیل ۔ دفتر کی بجائے پارٹی کا کام کرتاپھرتا ہے ۔ بیوی کا ہوش نہ بچوں کا ۔ یہ سب مجھے سنبھالنا ہے ۔ رومان ’محبت’ پیار سب ہوا ہوئے۔ خط لکھتے رہو مگر محبوباؤں کے قصے اپنے پاس ہی رکھو ۔ممکن ہو تو اپنی ایک نئی تصویر بھیجو ۔کہیں گنجے تو نہیں ہوگئے تم؟ مجھے گنجوں سے بڑی چڑ ہے ۔ میرا میاں بھی گنجا ہے ۔ شادی کے وقت بھی اچھا خاصا گنجا تھا۔ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے صرف کھاتے پیتے مرد دیکھتے ہیں ۔ کماؤ پوت تھا مگر اب اس کی سیاسی پارٹی اور یہ خود دونوں زوال کی طرف جارہے ہیں ۔
اچھا فون کی گھنٹی بج رہی ہے ۔ پھر بات ہوگی ۔جو جو پوچھا ہے اس کا جواب ضرور لکھنا اور مجھ سے کسی ادبی خط کی توقع بھی نہ رکھنا۔ ادب کو شادی کھاگئی اور اب بےادب رضوانہ فاقے سے رہتی ہے۔

SHOPPING

جاری  ہے

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *