فلم ریویو/چارلی ولسنز وار(IMD 7/10 Comedy biographical war drama)۔۔ولی خیام

SHOPPING
SHOPPING

چارلی ویلسن وار 2007 کی ایک کامیڈی پلس باہیوگرافیکل وار ڈرامہ فلم ہے۔
چارلی ولسنز وار دراصل ایک اوباش اور عیاش امریکی کانگرس مین Charlie Wilson اور اس کے دو ساتھیوں جن میں سے ایک منحرف CIA ایجنٹ Gust Avrakotos اور ایک ہنس مکھ حسینہ Joanne Herring کی مشترکہ ٹیم کی دنیا کے سب سے بڑے covert opretion کی سچی کہانی ہے۔ کہ جس کے باعث عظیم سپر پاور سویت یونین کی شکست اور سرد جنگ کا خاتمہ ممکن ہو پایا۔

فلم میں Tom Hanks, Julia Roberts اور Philip Seymour Hoffman کی بہترین اداکاری، افغان جنگ میں مختلف بین الاقوامی فریقوں کے کردار، بین الاقوامی مفاد پر مبنی منافقت کی سیاست اور سویت یونین کے شکست کے اصل اسباب کے ساتھ ساتھ افغان امور میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے یہ ایک دلچسپ فلم ہے۔
افغانستان میں سوویت یونین کے شکست کے اسباب کو سمجھنے کے لیے فلم کے ساتھ ساتھ کچھ پس پردہ عوامل کا سمجھنا بھی ازحد ضروری ہے۔

گورباچوف

سوویت یونین کے ٹوٹنے کی تین بنیادی اور اہم وجوہات تھیں۔ اوّل خود کمنیونزم کی ناکامی ہے کہ یہ نظام دنیا کو مزید ڈیلیور کرنے سے قاصر ہوچکا تھا، دوم گورباچوف اور اس کی پالیسیاں۔ اگر گوربا چوف نہیں ہوتے تب بھی یہ نظام کسی نہ کسی طرح چند سال مزید سانسیں بھر سکتا تھا۔ 1985 میں جب گوربا چوف نے اقتدار سنبھالا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ سویت یونین کا آنے والے پانچ برسوں میں اس طرح شیرازہ بکھر جائے گا۔ اور سوم افغانستان میں سوویت یونین کو امریکی تعاون سے افغان مجاہدین کے ہاتھوں عبرتناک شکست۔

1985 میں جب گوربا چوف سوشلسٹ روس کا صدر منتخب ہوا تو امریکہ سے اسلحہ کی دوڑ اور افغان جنگ کی طوالت کے باعث سوویت معیشت تقریباً تباہی کے دہانے پر تھی۔ چنانچہ اس دوران گورباچوف نےامریکی صدر کے تخفیف اسلحہ کی تجویز کو قبول کیا اور 1987 میں روس اور امریکہ کے مابین تخفیف اسلحہ کا تاریخ ساز معاہدہ طے پایا۔ گورباچوف کا دوسرا اہم اقدام ‘گلاسناٹ یا آزاد معیشت’ کی پالیسی تھی۔ گلاسناٹ کے باعث پہلی بار اول تو سوشلسٹ حکومت پر تنقید اور ساتھ ہی ساتھ رسائل اور جرائد کو سیاسی امور پر بھی بحث کرنے کی پہلی بار مشروط اجازت مل گئی۔ مشرقی یورپ کے اشتراکی ممالک جن پر دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی فوجی تسلط تھا جیسے بلغاریہ، رومانیہ، پولینڈ، ہنگری، چیکوسلواکیہ اور مشرقی جرمنی میں اٹھنے والی جمہوری تحریکوں کو پہلی بار سویت یونین نے بزور شمشیر دبانے سے اجتناب برتا جو کہ اس سے پہلے روس کا خاصہ رہا تھا۔ دیوار برلن کے گرانے کے عمل کے دوران باوجود جرمنی میں 350,000 روسی افواج کے گورباچوف نے عدم تشدد کا راستہ اپنایا۔ تیسرا اہم اقدام گورباچوف کا افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے معاہدہ پر دستخط تھا۔

افغانستان میں روس کو شکست (کیوں، کیسے اور کس نے دی؟)

1979 میں جب سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو ابتداء میں سوویت افواج کو بھرپور کامیابیاں حاصل ہوئیں اور افغان مجاہدین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑھا۔ CIA اور ISI کی ساری تدبیریں پے در پے ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اگرچہ مجاہدین زمینی محاذ پر تو کابل اور سوویت افواج کا ڈٹ کر اور بھرپور مقابلہ کررہے تھے۔ تاہم وہ بے رحم سوویت فضائیہ کے سامنے بالکل بے بس اور لاچار تھے۔ اسی دوران امریکی کانگرس مین چارلی ولسن میدان عمل میں آئے اور سوویت فضائیہ کی طاقت کی توڑ کے لیے تگ و دو شروع کردی۔ چارلی ولسن نے اس سلسلے میں کانگریس سے مجاہدین کے لیے بھاری فنڈ کی منظوری کروائی۔ مجاہدین کو اسلحہ بہم پہنچانے کے لیے بھرپور کوششیں کی۔ اس سلسلے میں بظاہر تین انتہائی سخت قسم کے مخالفین پاکستان، اسرائیل اور مصر کو روس کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کے لیے باہم یکجا کیا گیا اور مصر سے عرب اسرائیل جنگ کے دوران روس کا فراہم کردہ اسلحہ مجاہدین کے لیے حاصل کیا گیا تاکہ امریکہ کی جنگ میں براہ راست شمولیت کا ثبوت کسی کو نہ مل سکے۔ چارلی کی سب سے بڑی کامیابی امریکی حکومت سے افغان مجاہدین کے لیے اسٹنگر میزائل کا حصول تھا۔ یہ واقعی ایک غیر معمولی کام تھا۔ اس کا مطلب ایک تو امریکہ کی براہ راست جنگ میں شمولیت تھی اور دوسرا امریکی ٹیکنالوجی کا روس کے ہاتھوں لگنے کا بھی شدید خدشہ تھا۔ اسٹنگر نے دراصل افغان جہاد میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ ایک طرح سے اسٹنگر گیم چینجر ثابت ہوا۔ اسٹنگر سے ایک تو سویت فضائیہ کی برتری کا خاتمہ ہوا، دوسرا مجاہدین کے پست حوصلوں میں بھی ایک نئی جان آگئی۔ اس جنگ کے دوران کل 450 سویت جہاز مار گرائے گئے یا حدثات کا شکار ہوئے بشمول 333 ہیلی کاپٹرز کے۔ تاہم 80 تا 85 فیصد ان میں اسٹنگر کا شکار ہوئے۔ صرف 1987 تا 1989 کے دوران تقریباً 360 سے اوپر جہاز اس میزائل کے زد میں آئے۔ یہی دراصل وہ وجہ تھی جس نے گورباچوف کو اول تو رونلڈ ریگن کے ساتھ کیمپ ڈیویڈ میں تخفیف اسلحہ کے معاہدہ پر مجبور کیا اور دوم افغاستان سے روسی افواج کے انخلاء کی منظوری بھی دے دی۔ یوں افغانستان میں کیپٹلزم نے سوشلزم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے دفن کردیا۔

فاتح کون؟

یہ جنگ سوویت یونین کے خلاف تین بڑے اور بنیادی فریقوں نے باہم مل کر لڑی چنانچہ فتح کا کریڈیٹ بھی تینوں فریقوں کو مشترکہ جاتا ہے۔ تینوں فریق ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزم تھے۔ یعنی کہ کبھی بھی افغان مجاہدین امریکی امداد کے بغیر سویت یونی کے خلاف اتنی طویل جنگ نہیں لڑ سکتے تھے اور نہ ہی افغان مجاہدین کے بغیر کبھی امریکہ سوویت یونین کا شیرازہ اس طرح بکھیر سکتا تھا۔ اسی طرح ISI کے بغیر بھی کبھی مجاہدین اور امریکہ اتنے قریب نہیں آپاتے۔ ISI نے CIA اور افغان مجاہدین کے درمیان ایک طرح سے پل کا کردار ادا کیا۔ افغان مجاہدین کی ٹریننگ, رہائش اور علاج معالجے کا انتظام کیا۔ مختلف مجاہد گروپس کی بنیادیں ڈالیں اور انہیں باہم منظم کیا۔

نقصانات

SHOPPING

اس جنگ میں دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نقصان افغانیوں کا ہوا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا۔ امریکہ نے مقصد کے اصول کے بعد افغانستان اور خطہ کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ جبکہ افغان عوام امریکہ اور روس کی اس لڑائی میں بھرپور استعمال ہوئی اور غلطی سے امریکی ڈالر اور اسٹریٹجی کو اپنی مکمل جیت سمجھ بیٹھے۔ نتیجہ وہ آج تک سپر پاور کی شکست کے گیت گارہے ہیں۔ وہ آج تک روس کی شکست کے شراب کے خمار میں مبتلا ہیں۔ ان میں غرور آگیا وہ ہمہ وقت کسی سے بھی, کہیں بھی اور کبھی بھی لڑھنے اور مرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کل روس ان کا نمبر ایک دشمن تھا تو آج امریکہ۔ کل ان کی بھاگ دوڑ امریکہ اور پاکستان کے ہاتھوں میں تھی تو آج مخالف قوتوں کے ہاتھ میں۔ کل تک وہ پاکستان اور ضیاء الحق کے دیوانے تھے جبکہ آج وہ مہابھارت کے راگ میں مگن ہیں۔۔ اس روش نے آج کے افغانستان کو کنڈر میں تبدیل کردیا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اسے بھی اس جیت کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ آج پاکستان میں تعصب, فرقہ پرستی, مذہبی جنونیت کا باہم عروج ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں پاکستانی اس جنگ کے بعد کے حالات کی نظر ہوچکے ہیں۔ ملک کو کھربوں کا معاشی نقصان الگ ہوا۔ نتیجہ غریب اور معاشی طور پر بد حال ممالک کے لیے جنگ اچھی چیز نہیں تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ تاریخ سے سیکھا جائے عقل کا یہی تقاضا ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *