نیوٹن کے خبط (35)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING
SHOPPING
speciaal sale

نیوٹن کے اگلے خبط دو تھے۔ ایک الکیمیا اور دوسرا بائبل کا ریاضیاتی اور متن کا تجزیہ۔ نیوٹن کی زندگی کا تجزیہ کرنے والے کئی سکالرز کو ان کا یہ موڑ ناقابلِ فہم لگتا ہے۔ لیکن یہ انسانی ذہن کو سمجھنے کا بہت اہم نکتہ ہے۔ فزکس، بائبل اور الکیمیا میں ان کے جنون کا مقصد ایک ہی تھا۔ دنیا کے سچ کو سمجھنا۔ اور اس لئے ان کی زندگی کے اس حصے پر ایک مختصر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ درست تھے یا اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نیوٹن پر کوئی دورہ پڑا تھا۔ فکری انکوائری میں جو کام کرتا ہے اور جو کام نہیں کرتا، اس کے درمیان حدِ فاصل بہت باریک ہے۔

نیوٹن کا خیال تھا کہ بائبل کے عناصر کو سادہ پڑھنے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ پاراسلسس جیسے الکیمسٹ ان رازوں تک پہنچ چکے تھے جو دوسروں سے خفیہ تھے۔ اور جب انہوں نے گریویٹی کا قانون معلوم کر لیا تو وہ اس پر قائل تھے کہ گریویٹی کے بارے میں فیثاغورث، افلاطون اور موسیٰ ؑ کو بھی معلوم تھا۔

انہوں نے دنیا ختم ہونے کی کیلولیشن بھی کی اور پیشگوئی کی کہ یہ 2060 سے 2344 کے درمیان ہو گی۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی نئے خیالات قائم کئے تھے۔

جب نیوٹن مسیحیت کی تعبیر کر رہے تھے، وہ ابھی تذبذب میں تھے کہ اس کام کو سب کے سامنے پیش کریں یا نہیں لیکن ان کے نزدیک یہ والا کام ان کی زندگی میں کیا گیا اہم ترین کام تھا۔

نیوٹن کا دوسرا شوق ان کا بہت وقت اور توانائی لے رہا تھا۔ یہ الکیمیا کا تھا اور اس پر وہ تیس سال تک کام کرتے رہے۔ یہ وقت اس سے زیادہ تھا جو انہوں نے فزکس پر صرف کیا۔ اس پر انہوں نے نہ صرف وقت بلکہ پیسہ بھی لگایا۔ الکیمیا کی لیبارٹری بنائی اور لائبریری بھی۔ ان کی کوششوں کو محض غلطی قرار دے کر ایک طرف کر دینا خود بڑی غلطی ہو گی۔ انہوں نے بڑی باریک بینی سے اس پر کوشش کی تھی اور بہت منطقی طریقے سے۔ انہوں نے جو نتائج نکالے، وہ ہمیں سمجھنا مشکل اس لئے ہے کہ ہم مکمل سیاق و سباق سے واقف نہیں۔

آج ہم الکیمسٹ کو قدیم زمانے کے چوغہ پہنے لوگ سمجھتے ہیں جو پتھر کو سونا بنانے کے لئے منتر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ بولوس قدیم مصر کے الکیمسٹ تھے اور نیوٹن کا خیال تھا کہ انہیں گہرے راز مل گئے تھے جو بعد میں گم ہو گئے اور ان تک اساطیرِ یونان کا تجزیہ کر کے پہنچا جا سکتا ہے۔ الکیمیا کی ترکیبیں اس کے کوڈ میں لکھی ہیں۔

نیوٹن نے الکیمیا کی تحقیق میں تفصیلی سائنسی اپروچ رکھی۔ بہت سے تجربات اور احتیاط سے لئے گئے نوٹ۔ اور یہاں تک کہ منتر بھی۔ سالوں تک لیبارٹری کے مشاہدات کو اپنی نوٹ بک میں لکھتے رہے۔

“تبخیر ہو جانے والے سبز شیر کو زہرہ کے درمیانی نمک میں ڈال کر کشید کیا۔ سبز شیر کی روح اور خون زہرہ سے ملے گی۔ بابل کا اژدھا جو سب کو اپنے زہر سے قتل کرتا ہے لیکن ڈیانا کی فاختہ اسے قابو کر لیتی ہے۔ یہ عطارد کا جوڑ ہے”۔
یہ منتر اپنے نوٹس میں اسی شخص نے لکھا ہے جو سائنس کی تاریخ کی سب سے عظیم کہی جانے والی کتاب “پرنسپیا” کا مصنف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھیوریٹیکل فزکس میں کچھ بھی نیا کرنے والے اپنے ذہن کو سب کے آگے برہنہ کر دیتے ہیں۔ کہ دوسرے اسے دیکھیں اور جج کریں۔ اس کے لئے جرات درکار ہے اور غلط ہونے کا خوف عام ہے۔ کامیابی کے لئے غلط ہونے کا خوف ختم کرنا ہوتا ہے۔ ہر نیا کرنے والا بہت سی نئی جگہوں پر جاتا ہے جہاں پر بند گلی ہوتی ہے اور آگے کچھ نہیں ملتا۔ غلط موڑ لینے کا خوف اس چیز کی گارنٹی ہے کہ کچھ بھی نیا نہیں کیا جائے گا۔ نیوٹن کے غلط خیالات اور ضائع کئے گئے برس یہ یاددہانی کرواتے ہیں اور تسلی بھی کرواتے ہیں کہ نیوٹن جیسے جینئیس بھی ایسی بند گلیوں کو بھی چھانتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ معلوم کر لیا کہ حرارت چھوٹے سے ذرات کی حرکت کا نتیجہ ہے جس سے مادہ بنا ہے لیکن جب انہیں لگا کہ انہیں تپدق ہے تو انہوں نے عرقِ گلاب، شہد کی مکھی کا موم اور تارپین کا تیل استعمال کیا۔ انہوں نے کیلکولس ایجاد کیا لیکن ان کا یہ بھی خیال تھا کہ یروشلم کی گمشدہ عبادت گاہ کے فرش پر ریاضی کے وہ سراغ ہیں جو بتاتے ہیں کہ دنیا کب ختم ہو گی۔

نیوٹن اس راہ میں اتنا دور کیوں نکل گئے؟ نیوٹن کے اندازِ فکر کا تسلسل ان کی زندگی میں ویسا ہی ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ “اچھا نیوٹن” اور “برا نیوٹن” تھا اور ان کا کوئی منطقی اور کوئی غیرمنطقی حصہ تھا۔ باقی سب سے زیادہ ایک فیکٹر اس میں نمایاں ہے۔ تنہائی۔

ویسے ہی جیسے قرونِ وسطیٰ میں عرب دنیا میں سائنس کے زوال کی ایک وجہ انٹلکچویل تنہائی تھی، وہی نیوٹن کا مسئلہ تھا۔ صرف یہ کہ یہ خودساختہ تھی۔ وہ بائبل کی ریاضی اور الکیمیا کے بارے میں خیالات شئیر کرنے سے خوفزدہ تھے کہ کوئی مذاق نہ اڑائے۔ کسی انٹلکچوئل بحث سے خوفزدہ تھے۔ پبلک میں خیالات ڈسکس کرنے سے، ان کو چیلنج کئے جانے سے، اچھی بحث کرنے سے غلط سمت جلد پکڑی جاتی ہے۔

نیوٹن فزکس میں بھی اپنی انقلابی ریسرچ شئیر کرنے سے ہچکچا رہے تھے، جو انہوں نے طاعون کے سالوں میں کی تھی۔ وہ تنقید سے دلبرداشتہ بھی تھے اور الرجک بھی۔

اکتالیس سال کی عمر میں 1684 میں نیوٹن کے حرکت اور گریویٹی کے اس کام کو اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ وہ کام جو سائنس کی تاریخ کا اہم ترین کام تھا ۔۔۔ نامکمل ریاضی، شکلوں اور نوٹس کی صورت میں تھا جس سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلتا تھا۔ مورخ ویسٹ فال کہتے ہیں کہ اگر نیوٹن کا اس وقت انتقال ہو جاتا اور بعد میں ان کے پیپر دریافت ہو جاتے تو انہیں ایک ناکام جینئیس کے طور پر ہی دیکھا جاتا۔

لیکن ناکام جینئیس رہ جانا نیوٹن کا مقدر نہ تھا اور اس قسمت کو بدلنے میں ان کا اپنا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ سائنسی تاریخ کا دھارا بدلنے والا یہ کام 1684 میں اتفاقی ہوا۔ ایک اور مفکر سے ہونے والی اتفاقی ملاقات جس نے ان کے ذہن میں وہ ہلجل پیدا کی جس کے بغیر سائنس کی تاریخ اور آج کی دنیا ۔۔۔ آج جیسی نہ ہوتی اور یہ کسی کے لئے بھی اچھا نہ ہوتا۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *