• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • فرقہ واریت کسی کے مفاد میں نہیں۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

فرقہ واریت کسی کے مفاد میں نہیں۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

SHOPPING
SHOPPING

نفرت کا اظہار کرنا اور معاشرے میں ایک دوسرے کے لیے اذیت کا باعث بننا، ایسا رویہ ہے جو انسانی معاشرے کا سکون تباہ کر دیتا ہے۔ پاکستان کثیرالمسلکی ملک ہے، یہاں ہر مسلک کے کروڑوں ماننے والے ہیں، جس میں باہمی اختلافات ہو جانا عین فطری ہے۔ اختلاف کو وجہ نزاع بنا کر نفرت انگیز مہم چلانا اور کسی خاص مسلک کو نشانہ پر لے آنا کہ وہ اپنے کسی نطریہ سے دستبردار ہو جائے گا، کسی بھی طور پر درست عمل نہیں بلکہ فکری دہشتگردی ہے۔ اس سے معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے اور نوبت قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی کی دہائی تک شیعہ سنی علماء مل کر اختلافی مباحث پر مکالمہ کیا کرتے تھے، قتل و غارت کا بازار نہیں تھا۔ اگرچہ انڈیا کے بعض علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے لوگ وہاں کی فرقہ واریت بھی ساتھ لائے تھے۔

اس کے بعد نوے کی دہائی میں فرقہ وارانہ تقریروں، تحریروں اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ علماء اور مدارس میں موجود اہل علم کی بڑی تعداد اس قاتل گروہ سے خوف کھاتی ہے۔ ملک کے سیاسی حالات بھی مستحکم نہیں ہوتے اور افغانستان میں مجاہدین کی ضرورت بھی حالات کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ افغانستان میں مجاہدین کی ضرورت اور اس پر ایک فرقے کی اجارہ داری قائم کر دی جاتی ہے۔ امریکی پیسہ اور سعودی مذہبی رہنمائی میں اسے بڑے منظم انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہ چیز اب راز نہیں رہی کہ مجاہدین تنظیمیں کس طرح ایک ایک آدمی کو باقاعدہ بیچتی ہیں اور روسی افواج پر حملوں کے باقاعدہ ریٹ مقرر ہیں، جس کے حساب سے پیسے لیے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ افغانستان کی دشمن سے آزادی کی مہم کے ساتھ مخلص ہوں گے اور کچھ لوگ روسی استعمار کو افغانستان میں ہی روکنے کی کوشش کر رہے ہوں گے، مگر اس نے فرقہ واریت کو گالی گلوچ اور اینٹ پتھر کی لڑائی سے کلاشنکوف تک پہنچا دیا۔

جیسا کہ عرض کیا کہ اس جہاد پر خاص نظریہ کے لوگوں کی اجارہ داری تھی اور ساری تربیت انہی کے لوگوں کی کی گئی بلکہ بڑی حد تک مدرسے کے طلباء کی ہوئی، جو ویسے ہی فرقہ وارانہ ذہن رکھتے تھے۔ جب یہ نیم پڑھے لکھے لوگ واپس معاشرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی۔ ریاست پاکستان کو ان کے خلاف ضرب عضب اور رد الفساد جیسے آپریشن کرنے پڑے اور انہوں نے تحریک طالبان پاکستان اور جانے کس کس نام سے پاکستان مخالف جتھے بنا لیے تھے۔ ستر ہزار سے زائد اہل وطن کا خون بہا اور حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ اس قتل و غارت میں ہر مسلک کے جید علمائے کرام کو قتل کیا گیا، مسلک کے دینی اداروں پر حملے ہوئے، ہر مسلک کی مذہبی تقریبات کو نشانہ بنایا گیا، غرض کوئی مسلک بھی ان لوگوں کے شر سے محفوظ نہ رہا۔

وہ جو ایک بار کلاشنکوف کی زبان میں بات کرنے کا طریقہ سیکھ گئے تھے، ان کا کاروبار ہی وہی بن گیا، انہیں کچھ اور کرنا ہی نہیں آتا تھا۔ اس لیے ان لوگوں نے صرف دوسرے فرقے کے لوگوں کا ہی قتل عام نہیں کیا بلکہ اپنے لوگوں کا بھی قتل عام کیا۔ راجہ بازار کے ایک مدرسہ کو دس محرم کو آگ لگائی گئی اور تین چار لوگوں کو بھی مارا گیا، واقعہ کو فرقہ وارانہ بنایا گیا، مگر کچھ ہی عرصے بعد پاک افواج کے ترجمان جنرل عبدالغفور صاحب نے یہ بتایا کہ آگ لگانے اور قتل کرنے والے اسی مسلک کے لوگ تھے اور مجرموں کو بھی پیش کر لیا، جنہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ان کا تعلق اسی مسلک سے ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ لوگ اتنے ظالم ہیں کہ اپنے مسلک کے لوگوں کا قتل عام کر دیتے ہیں۔

لاہور میں حضرت زہراءؑ کی توہین کی جاتی ہے، اس کے خلاف پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہوتا ہے، ریاستی مشینری حرکت میں آتی ہے، جس سے اس میں ملوث مولوی کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اس کے ردعمل میں سرگودھا میں سلطانی نامی مقرر اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے، ادارے اسے بھی گرفتار کر لیتے ہیں۔ اسی دوران ماہ محرم کا آغاز ہو جاتا ہے، جس میں آصف علوی نامی خطیب فرقہ وارانہ گفتگو کرتا ہے اور فوری طور پر انگلینڈ کی فلائٹ پکڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ خطیب ہے جس پر شیعہ علماء نے پابندی لگوائی تھی، جس کے خلاف مقدمات قائم کروائے تھے، مگر اس کی گورنر اور وزیر مذہبی امور سے ملاقات ہوتی ہے اور اس پر سے پابندی ہٹ جاتی ہے۔

اس شخص کی مجلس کے لیے بقول مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی لاکھوں روپے خرچ کرکے لاہور سے بسیں لائی جاتی ہیں اور اس میں یہ فرقہ وارانہ بات کرائی جاتی ہے۔ شیعہ علماء فوری طور پر اس کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور اس سے اظہار لاتعلقی کرتے ہیں۔ یہاں کسی نے سننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور پوری شیعہ قوم کو کوسنا شروع کر دیا۔ آصف علوی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اور وہ برطانیہ فرار ہوگیا ہے، کراچی والے واقعے میں بھی جس بزرگ پر الزام لگایا گیا، اسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سارے معاملے کو قانونی طور پر ہنڈل کیا جاتا اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہوتی، جو گستاخی کرتے ہیں، مگر اسے فرقہ وارانہ بنا دیا گیا۔

مفتی منیب الرحمن نے ریلی کا اعلان کر دیا، جس میں شیعہ اور شیعہ علماء کے خلاف ایسی غلیظ زبان استعمال کی گئی، جس کا اسلامی تو کیا؟ انسانی اخلاق سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ ساتھ ہی کراچی کے ایک بریلوی مفتی عبدالحلیم قادری نے امام حسینؑ، مولا علیؑ اور بی بی زینبؑ کے حوالے سے انتہائی توہین آمیز گفتگو کی، جس سے اشتعال پھیلا۔ اگرچہ عوامی دباو میں انہوں نے بظاہر توبہ کر لی ہے اور ان کی توبہ قبول کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ دیوبندی جماعتوں نے مفتی تقی عثمانی کی حمایت سے ریلی نکالی، جس کے شرکاء نے امام بارگاہ کی طرف منہ کرکے لعنتیں ڈالیں اور پتھراوں کرتے ہوئے کافر کافر کے نعرے لگائے، حالانکہ وہاں رسول اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ اور قرآن مجید کی آیات لکھی ہوئی تھیں، اس سے پہلے لال مسجد کے امام عبدالعزیز نے یزید لعنت اللہ علیہ کو رحمت اللہ علیہ کہہ دیا تھا۔ کل تو حد ہی ہوگئی، نام نہاد اہل حدیث جماعتوں کی طرف سے ریلی تھی، جس میں باقاعدہ سپیکر سے امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

کیا یہ مناسب ہوگا کہ ہم اس مفتی کی گستاخی کو لے کر یہ کہیں کہ سارا مسلک ایسے ہے؟ یا شیعہ کافر کی گردان کرنے والے، آیات قرآنی کی توہین کرنے والے اور اسلام آباد کی بڑی مسجد کے خطیب کی باتوں کی بنیاد پر اس کے ہم مسلکوں کو یزیدی یا قرآن و حدیث کا گستاخ قرار دے دیں؟ اسی طرح جس مسلک کے سٹیج سے سب علماء کی موجودگی میں یزید زندہ باد کا نعرہ لگایا گیا اور سینکڑوں لوگ اس کا جواب دے رہے ہیں، کیا اس بنیاد پر ہم اس مسلک کو مکتب یزیدیت قرار دے دیں؟ نہ ایک کی دریدہ دہنی سے اس کا مسلک گستاخ ٹھہرے گا، نہ ہی چند کے نعرہ لگانے سے پورا مسلک تکفیری بن جائے گا اور نہ ہی ایک ٹولے کی نعرے بازی سے ان کا سارا مسلک یزیدی بنے گا۔ یہ چند لوگ ہیں، ان کے نظریات کی بنیاد پر پورے مکتب کو نہیں تولا جا سکتا۔ ہم دیگر مکاتب اور ان کے علمائے کرام سے بھی یہی گزارش کرتے ہیں کہ ان چند لوگوں کو دیکھ کر جن سے ہم خود اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، آپ کیسے پوری ملت تشیع کو گستاخ اور جانے کیا کیا خطابات دے سکتے ہیں۔؟

SHOPPING

خدارا انصاف کے دامن کو تھامیں اور جلالی کی گستاخی سے شروع ہونے والے اس عمل اور ردعمل کو روکیں، شیعہ علماء کا متفقہ بیانیہ آچکا ہے، جس میں انہوں نے اہلسنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے، جاہلوں اور شاذ کی بنیاد پر ملک کو افراتفری کا شکار نہ کریں۔ عرب ملکوں کے اسرائیل سے تعلقات اور اہل فلسطین کی چیخ پکار پر لبیک کہنے کی بجائے آپس میں الجھ گئے ہیں۔ قرآن اور رسول اکرمﷺ کی توہین ہوئی ہے، اس پر احتجاج کی بجائے آپ نے اپنوں کے خلاف ہی محاذ گرم کر لیا ہے۔ یاد رکھیں کچھ لوگ باقاعدہ اس وقت سی پیک کو تباہ کرنے کے لیے انڈیا اور اس کے تحادیوں سعودیہ اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ہمارے وطن کو امن اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ وہ عناصر جو بدامنی اور انتشار کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیئے۔

SHOPPING

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *