فیسبک کے ادب تک۔احمد اقبال

 پاکستان میں ادب کی زبوں حالی بھی ایک قومی پلان کے مطابق ہوئی ۔ دیگر امور کی “اصلاح” حکمرانوں  کے لیے ترجیح رکھتی تھی چنانچہ ایک وقت تھا کہ راولپنڈی کے مشاعرے کی صدارت خود جنرل ایوب خاں نے کی۔ ڈاکٹر توصیف تبسم نے ایک مشاعرے کا حال لکھا ہے جس میں گورنر جنرل غلام محمد صدر تھے جشن مری کے جس مشاعرے میں حبیب جالب نے اپنی مشہور نظم “میں نہیں مانتا ایسے دستور کو”   پڑھی اس کی صدارت بھی گورنر کررہے تھے۔
ابتدائی  دور میں  فیض یا احمد ندیم قاسمی جیسے مستند سرخے ہی خطر ناک سمجھے جاتے تھے۔یہ احساس فیوڈل حکمرانوں کو بعد میں ہوا کہ سب شاعر ادیب اور دانشور ازادی خیال اورانسانی مساوات کے خطرناک مرض کو پھیلاتے ہیں تو ان کو صراط مستقیم پر رکھنےکے لیے  قوت خرید اور قوت بازو سے مدد لی گئی۔ اس کام میں پہلے قدرت اللہ شہاب اینڈ کمپنی ( اشفاق احمد- ممتاز مفتی – ابن انشا وغیرہ) کے ساتھ عالی جی بھی “رائٹرز گلڈ” اور آدم جی ادبی انعام کے ذریعے مفید ثابت ہوئے لیکن بتدریج ادیب اورشاعر کی بے توقیری میں بھی اضافہ ہوا اورآئین جواں مرداں حق گوئی و بےباکی” پر اڑے رہنے والوں کے لیے  “اندر یا باہر” رہنا لازمی ہوگیا مثلاً” اپنے فیض صاحب  یا جیل میں یا جلا وظن۔ان جیسے بہت دیوانے تھے۔میں شاہد ندیم اور احفاظ الحمان کو جانتا ہوں۔
سب کو نہیں بتدریج پہلے عوامی اور پھر سرکاری مشاعرے ختم ہوئے جو عوامی ذوق کی تربیت کرتے تھے۔ادبی رسائل از قسم نقوش فنون سویرا کی جگہ ڈائجسٹ متعارف کرائے گئے  جن کے قاری کا دانشوری سے تعلق نہ تھا۔میرے پاس فنون کے دو نایاب نمبر ہیں ۔افسانہ نمبر میں 100 افسانے ہیں ۔ کون سا نامور ادیب اس میں نہیں۔ بڑےسائز   کے 650 صفحات قیمت 8 روپے ناولٹ نمبراسی ضخامت کا۔ 20 ناولٹ، تمام لازول نام۔ قیمت 6 روپے ۔ قیمت دو روپے زیادہ کرنے پر مدیر شرمسار(یہ کس دنیا کی باتیں ہیں) دیوانے اب اتوار بازاروں اور فٹ پاتھوں پرنقوش دور کے شمارے تلاش کرتے پھرتے ہیں۔مجھے کسی نے “لیل و نہار” کے دس شمارے 1000 میں دیے ۔ابھی یادیں زندہ ہیں مگروہ دور مر گیا
جو رسالے ایک ایک کرکے سختی حالات کے سامنے دم توڑ گئے  وہ تھے جو ادب اور شاعری سے معاشرے میں فکری ہم آہنگی اوراعلیٰ انسانی قدروں کے عالمی شعورکو فروغ دے سکتے تھے۔ شاید یہی ان کا جرم گردانا گیا۔ سقراط کا جرم صرف سچ بولنا نہیں تھا وہ کہتا تھا اسے پھیلاؤ۔ تو اسے زہر پینا پڑا۔ آپ کی ریاست آج بھی سچ بولنے کی سزا دیتی ہے ان کی جگہ ڈائجسٹ لائے گئے  ۔
ڈائجسٹ کا مطلب ہے ہاضمہ ۔۔وہ تحریر جس کو عام آدمی کا ذہن کسی فکری مشقت کے بغیر ہضم کرلے۔ اس میں صرف تفریح تھی۔ مقصدیت کا فقدان تھا۔ ادب کی اعلیٰ اقدار اور زبان و بیان کی تربیت کرنے والے رسالے بند ہوگئے۔کمرشل فکشن نے فلم کی طرح ناآسودہ خواب دکھانے کے لیے ٹی وی تک رسائی  حاصل کرلی ۔ وہاں صارف اہم تھا، صارف عورت تھی۔ مرد کماتا تھا عورت خرچ کرتی تھی ، طبعا” خوب پرست عورت کو اس کے خواب دے دیے  گئے۔ہیروئن جیسا عشق دھوم دھام کی شادی۔ عالی شان خوابوں کا محل۔بیش قیمت ملبوس اور زیور۔ احمق فرمانبردار شوہر۔ سسرالی طاقتوں کی شکست۔مرد فاتح ہے۔ رشتہ دیکھے نہ احترام جانے اور عاشق ہوجائے  ۔پورن فلموں میں بھی پرفارمر۔ ایکشن میں بھی فاتح۔ بالادستی کا نقیب۔۔ وہ ٹی وی ڈراما نہیں دیکھتا۔ خبریں اور تجزیہ اس لیے  دیکھتا ہے کہ ذہنی بالادستی کا یقین بھی قائم رہے۔
اب ادب عالیہ لکھنے پڑھنے والوں کے لیے  تسکین ذوق اور بقا کا نیا  ذریعہ کتابی سلسلے ہوگئے۔ تین چار ماہ میں کچھ افسانے، تحقیقی مقالے اور شاعری مل ہی جاتی تھی۔ لکھنے والا بھی تو مجبور تھا کہ کسے پڑھوائے  اور کیسے ۔۔شوقین ناشر ایڈیٹر نے طباعتی لاگت پوری کی اور پرچے چند بکے ورنہ لکھنے والوں میں اعزازی تقسیم ہو گئے ۔ عام اسٹال والا تو رکھتا نہیں کیونکہ لاگت بھی بڑھتے بڑھتے 600 سے 800 تک جا پہنچی تھی۔
ایسے میں فیس بک کا ظہور ہوا۔۔۔
پیو کہ مفت لگادی ہے خونِ  دل کی سبیل
گراں ہے اب جو مےلالہ فام،تو غم کیسا
لیکن یہ ہنوز طے ہونا باقی ہے کہ اس کے فوائد  زیادہ ہیں یا نقصانات۔ یہ لکھنے والوں کا ہائیڈ و پارک بن گیا ہے۔ وہ پبلک ٹرانسپورٹ جس میں اشراف اور عوام ، محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ گنتی کے چند شعرا کی اناپرستی انہیں جلسہ  عام میں آنے سے روکتی ہے ورنہ یہاں کون نہیں۔ افسانوں کی درجنوں محفلیں سج گئی ہیں۔ سنجہدہ موضوعات کی ویب سائٹس بھی کامیاب ہیں نو وارد کی تخلیق کو ایڈیٹر ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکتا۔پھر بھی وہ شکوہ  کناں ضرور ہیں کہ سکہ بند ادب کے ٹھیکے دار ان کی حوسلہ شکنی کرتے ہیں۔ نہ لکنے ولوں کا کال رہا نہ پڑھنے والوں کا۔لکھنے والے اورقاری دنیا بھر میں ایک ہی جگہ آگئے  ہیں۔ ادب عالیہ جو گرانی یا نایابی کے سبب دسترس میں نہ رہا تھا پی ڈی  ایف   پر آپ کے نیٹ پر حاضر ہے،مثلا” مکمل قرۃالعین حیدر۔ دنیا کی ہر لائبریری۔ پڑھو جتنی ہمت ہے۔ فوائد کی نہ حد ہے نہ حساب۔
تاہم نقصانات کا شمار ہے۔۔۔۔ ۔شاعری کیا ہے ۔ افسانہ کیا اور ناول کیا۔ یہ فرق سمجھے اور جانے بغیر سب میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔فحش لکنے والے منٹو بن گئے، دو تین کلو کی لو اسٹوری ناول ہوگئی۔ مائیکروف ایجاد ہوا۔ سو لفظوں کی کہانی میں ایک نام معتبر ہوا تو دس نے “ایجاد بندہ اگرچہ گندہ” ادب میں تہلکہ خیز تجربہ، نوے،پچاس یا دس الفاظ میں افسانہ لکھ کر کیا،خیر۔۔ کسی برے شوق سے یہی اچھا ہے۔
شاعری کا احوال لکھتے ہوئے  ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ہمارے سوشل سیٹ اپ میں شاعر سمجھتا ہے کہ اس کی (—) میں سرخاب کا پر لگ گیا ہے۔ ضرور سمجھے  مگرایک تو طلم ہوا غالب و اقبال اور فیض و فراز پر کہ ان سے وہ اشعار منسوب ہوئے کہ قانون اجازت دے تو شاید میں ان کفن چور شعرا کا قتل عام کردوں۔ دوسرے آزاد شاعری تو پہلے بھی تھی ، اب مادر پدر آزاد شاعری بھی ہوتی ہے۔ کچھ ایسے ہیں کہ ایک انڈا روز والی فارمی مرغی کی طرح بس ایک شعر روز کہہ کے داغ دیتے ہیں۔ پوری غزل میں تو بواسیر ہوجائے انہیں۔غضب یہ ہے کہ تالیاں پیٹنے والے   ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں خصوصاً  شاعرات کو۔ بعض کی پورٹ فولیو پکچر بھی ایسی ہوتی ہے کہ ۔۔۔
میرا خیال ہے کہ گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہونے کے لیے  اتنا کافی ہے!

احمد اقبال
احمد اقبال
تقریبا"50 سال سےمیں کہانیاں لکھتا ہوں موضوعاتی،قسطوار،مزاحیہ ۔شاعری کرتا ہوں۔ موسیقی، فلموں اور کرکٹ کا شوق ہے، یار باش آدمی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *