کرونا وائرس کے بعد بحالیِ زندگی اور امیدیں۔۔عاصمہ حسن

جب کرونا وائرس کی وبا پھیلی تو سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کئے گئے ـ اور اب جب اس وبا پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے تو چھے مہینے کے طویل عرصے کے انتظار اور کافی سوچ بچار کے بعد سب سے آخر میں تعلیمی اداروں کو کھولا جا رہا ہے ـ۔
جہاں کرونا وائرس نے ہماری معیشت کو ہلا کر رکھ دیا وہیں بچوں کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر پڑا ـ گھر پر رہنے کی وجہ سے ان کی جو پڑھائی کی ایک روٹین تھی اس میں خاصا خلل پڑا ـ نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی اب پڑھائی سے دور بھاگتے ہیں ـ جو پڑھا تھا وہ بھی بھول گئے اب ایک طرح سے صفر سے شروع کرنا پڑے گا اس کے ساتھ ساتھ ان کیخود اعتمادی میں بھی کافی کمی دیکھی گئی ہےـ۔

بڑے شہروں کے کچھ اسکولوں نے آن لائن تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا لیکن دیگر تعلیمی ادارے وسائل کی کمی کے باعث آن لائن تعلیم کے سلسلہ کو شروع نہ کر سکے جن میں سے چند ایک جنھوں نے شروع کیا وہ ساتھ لے کر نہ چل سکے لہذا نہ صرف بچے بلکہ استاد اور والدین بھی کافی پریشانی سے دوچار رہے ہیں ـ۔

اس وبا کی وجہ سے جہاں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی وہیں معاشی حالات اور تنگی کی وجہ سےگھروں میں بھی کشیدگیاں اپنے عروج پر رہیں ـ خواتین پر دباؤ کافی دیکھنے میں آیا ـ لڑائی جھگڑوں ‘ کام کاج میں اضافے کے ساتھ بچوں کی پڑھائی کے اضافی وزن کی وجہ سے کافی خواتین ڈپریشن کا شکار ہو گئیںـ غرض کرونا وائرس نےچھوٹے سے بڑے ‘ جوان سے بوڑھے ہر ایک کی زنگی کومتاثر کیا ـ
معاشی حالت کے پیشِ نظر حکومت نے تجارتی مراکز کھولے تاکہ لوگ دو وقت کی روٹی کھا سکھیں اور بھوکے نہ مریں ـ اللّٰہ تعالی نے اپنا کرم کیا اور ہمارا ساتھ دیا جس کی بدولت وبا میں خاطر خواہ کمی آئی جس کے بعد آہستہ آہستہ باقی زندگی کے معاملات بھی روٹین پر آنا شروع ہو گئے اور کافی انتظار ‘ والدین ‘ اساتزہ اور تعلیمی اداروں کے مالکان کے پر زور اسرار پر تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ عمل میں لایا گیا ہے ـ۔

جہاں والدین جو بچوں کے مستقبل سے کافی پریشان تھے سکون کا سانس لیا وہیں پریشان بھی ہیں کیونکہ وائرس ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ خدشات خدانخواستہ کسی خطرناک صورتحال کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں ـ۔

حکومت نے تعلیمی ادارے کھولنے کے ایس او پیز تو جاری کر دئیے ہیں تو کیا تعلیمی ادارے ان پر عمل درآمد کر سکیں گے یا پالیسیاں بنانے والے ادارے ان پر عمل کروا سکیں گے یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ـ تمام والدین ماسک اور سینیٹائیزر کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے ان کے لئے کیا حکمت عملی استعمال کی جائے گی ـ اس کے ساتھ ہی یہ خدشات بھی ہیں کہ چھوٹے بچے نہ ماسک پہن پائیں گے نہ ہی اختیاط کر پائیں گے ـ ان کے لئے تعلیمی ادارے کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں ـ ابھی تک تعلیمی اداروں نے اپنی پالیسیوں کا ذکر نہیں کیا نہ ہی کوئی لائحہ عمل بھیجا ہے کہ وہ کس طرح سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ تعلیم و تدریس کے اس سلسلے کو جاری رکھیں گے ـ۔

اس ضمن میں حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ان طے کردہ ایس او پیز پر عمل کروا سکیں اور دوسری طرف مستقبل میں کسی ایسی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹنے کے لئے موئژ اقدامات بھی کرنے ہونگے یہ مشکلات ہمیں ہمیشہ سبق دے کر جاتی ہیں اور اس سبق سے سیکھنا ہمارا کام ہے اسی طرح یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے تجربے کی روشنی میں مستقبل میں اس مشکل کا سامنا بہتر انداز میں کریں اللّٰہ نہ کرے یہ وقت دوبارہ کسی پر آئے لیکن اگر ایسی کسی صورتحال کا سامنا ہو تو ہمارے پاس متبادل منصوبہ تیار ہونا چاہئیے تاکہ ہم اس طرح نہ بوکھلائیں اور اپنے وسائل سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکیں ـاس ضمن میں ہمیں اپنے آن لائن سسٹم کو بہتر بنانا ہو گا اس کے لئےنہ صرف انٹرنیٹ سہولیات مہیا کرنا ہوں گی بلکہ بچوں’ استادوں اور والدین کو بھی ٹریننگ دینی ہو گی تاکہ خدانخواستہ دوبارہ ایسی کسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو ہمیں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بغیر کسی مشکل کے ہم اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں ـ۔

ہمیں اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی حکومت کی کوششوں کو سراہنا چاہئیے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے لہذا احتیاط کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی ایسے کریں کہ اس وبا سے بچ سکیں ـ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *