بحوالہ پوٹینشل ریپسٹ ۔۔۔ معاذ بن محمود

غالباً ضیاء صاحب کے زمانے میں کسی رئیس الجامعات نے ریسرچ پیپر لکھا جس کا عنوان شایدجنات کے ذریعے بجلی بنانے کےطریقےیا لچھ ملتا جلتا تھا۔ سنہ ۲۰۰۲ میں سٹاک ہومز یونیورسٹی کے تین طلباء کا ریسرچ پیپرمرغیاں بھی حسین لوگ پسند کرتیہیںشائع ہوا۔ کنگ کالج لندن شعبہ فلسفہ کی طالبہ راشل پیٹرسن کی ریسرچ سٹڈی کا عنوانیونی کارنز کے امکاناترہا۔ نیشنلچینگ کنگ یونیورسٹی تائیوان کے پی ایچ ڈی طالب علم کا ریسرچ موضوعہیری پوٹر مساوی یسوع مسیحتھا۔ فرانس کی ایکولنیشنل ویٹرنری ٹولوز یونیورسٹی کا ایک ریسرچ ٹاپککون سی مکھی زیادہ اونچی چھلانگ مار سکتی ہے، کتے پر بیٹھنے والی یا بلی پر بیٹھنےوالی؟تھا۔

ٹھہریے۔۔۔ میرا مقصد کسی قسم کی تضحیک یا طنز نہیں۔ بخدا یہ تمام حقیقی ریسرچ پیپر ہیں جن میں سے بیشتر دنیا کے تھانیدار ممالکمیں شائع ہوچکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ریسرچ پیپر میں شائع شدہ کسی بھی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیا جائے؟

اس کا جواب نفی میں ہے۔ ریسرچ پیپر کے بعد اس کے ریویو سمیت دیگر کئی مراحل باقی رہتے ہیں جس کے بعد ہی فلیٹ ارتھجیسے تصورات کا رد مانا جاتا ہے۔

پوٹینشل ریپسٹبھی ایک ایسی ہی اصطلاح ہے جو ہمارے سوشل میڈیائی احباب کو آج کل ریسرچ کے نام پر زور کی آئی ہوئیہے۔ سیاق و سباق کچھ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک فرد کی جانب سے حال ہی میں ہونے والے ایک احتجاج پر ایک نازیبا پوسٹہے جس میں مذکورہ شخص نے خواتین کی جسمانی ساخت کو واضح طور پر بدتہذیبی کا نشانہ بنایا۔ جواباً خواتین کی ایک کمیونٹی نے مذکورہبالا فرد کوپوٹینشل ریپسٹجیسی اصطلاحات سے نوازنا شروع کر دیا۔

کوئی کسی کو گالی دیتا ہے، ہم اس بنیاد پر اسے بدتمیز کہہ سکتے ہیں، بد تہذیب بداخلاق کہہ سکتے ہیں، بدلحاظ کہہ سکتے ہیں، تاہم کسی کومتوقع زنا کار یا پوٹینشل ریپسٹ کہنا میرے نزدیک غلط ہے۔ اس مؤقف کے اظہار کے دوران میں نے پوٹینشل ریپسٹ کسی بھیشخص کے لیے استعمال کرنے پر اعتراض کیا جس پر چند محترم ترین خواتین نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ اصطلاح دراصلریپ سائیکولوجی کے ایک طبقے کے یہاں مستند سمجھی جاتی ہے۔ ایک اور بیانیہ یہ کہ ریسرچ سٹڈیز کے مطابقپوٹینشل ریپسٹکےبرتاؤ میں جارحیت، غصہ، حملہ آوری اور گالم گلوچ جیسی خصوصیات شامل ہوتی ہیں۔

میری رائے اس قسم کی اصطلاحات زبان عام کرنے کے خلاف ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ریپ جس قماش کا قبیح جرمہے کسی پر بلا ثبوت اس کا الزام لگانا بذات خود معاشرتی، مذہبی اور قانونی اعتبار سے ایک جرم ہے۔ اس ضمن میں دلیل یہ دی جارہی ہے کہ جیسے چھوٹی موٹی چوری کرنے والا بڑے ڈاکے ڈال سکتا ہو، معمولی بات پر ہاتھ اٹھانے والا قتل کرنے کا اہل ہو، ویسےہی خواتین کے متعلق فحش گفتگو کرنے والا موقع پا کر ریپ بھی کر ڈالے گا۔ اس دلیل میں سقم یہ ہے کہ چوری یا کسی پر حملہ کرنابذات خود سنجیدہ جرائم ہیں جبکہ دوسری جانب بداخلاقی اور فحش گوئی کم و بیش ہر دوسری نجی محفل کا خاصہ ہیں۔ ریپ میں جسمانیحملہ، عفت کی چوری، جسمانی استحصال سبھی کچھ آجاتا ہے۔ منٹو کو آج تک فحش نگار کہا جاتا ہے۔ اس منطق کے تحت منٹو بھیپوٹینشل ریپسٹ بن جاتے ہیں۔ اس دلیل کے تحت ہر گالی دینے والا پوٹینشل ریپسٹ بن جاتا ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو اس قبیل کی اصطلاحات کا منفی استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح ہمارا ایک طبقہ ہلکی سی ناپسندیدگی پر کافر کافرفلاں کافر جو نہ مانے وہ بھی کافر کا نعرہ لگا دیتی ہے، جس طرح ذاتی چپقلش پر توہین رسالت کی دشنام انگیزی عام ہے، جس طرحمسلکی مخالف پر توہین صحابہ کے فتوے لگتے ہیں، بعینہ ویسے ہی پوٹینشل ریپسٹ کی اصطلاح کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کا آسانطریقہ بن سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کسی معاشرے میں ایسی اصطلاح پھیلائی بھی گئی وہاں کم از کم اس کا منفی استعمال اسطرح نہیں ہوتا ہوگا جیسے ہمارے یہاں ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریپ پر سزائے موت سے لے کر قوت مردانگی کےخاتمے تک سزائیں زیر غور ہوں، ہر ذی شعور ایسی ہتھیار نما دشنام انگیزی پر مبنی اصطلاح کے خلاف ہوگا۔ میرے نزدیک اس کےنقصانات فوائد کی نسبت بہت کم ہیں۔

میری رائے میں ایسے الزام اور طالبان  کے فتووں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ یہ شدت پسندی کی ایک اور شکل ہے۔ ریپسٹ ہوتاہے یا نہیں ہوتا۔ اور اگر پھر بھی پوٹینشل لگانا ہی ہے تو پھر ہر مرد اور ہر عورت پوٹینشل ریپسٹ ہے۔ صرف ہمارا ناپسندیدہ فرد یاوہ بندہ جس سے ہمارا ماضی میں کوئی پھڈا ہو چکا ہو پوٹینشل ریپسٹ کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

پوٹینشل ریپسٹ کی اصطلاح آپ لوگ گھڑ تو رہے ہیں۔ اب یہ دیکھیے گا کہ سیاسی سے لے کر مسلکی اختلاف پر منفی خواتین بوقتضرورت اسے کس کس پر اور کب کب استعمال کرتی ہیں۔

شاید ہمیں سنسنی اور شدت پسندی سے عشق ہے۔ ایک بات کو ایک اختلاف کو باون سے ضرب دیے بغیر کر ہی نہیں سکتے۔

ایک فورم پر اسی اصطلاح کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ پڑھنے کو ملا۔

But what if the potential rapist is 6’3″, six pack abs, and dressed in an expensive suit walking to his Italian sports car?

اس پر مزید تبصرہ کیے بغیر اسی منطق پر مبنی ایک اور مثال پر توجہ دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں مغرب سے ایک اور اصطلاح درآمد کیگئی ہے اور وہ ہےگولڈ ڈگر Gold Digger”۔ یہ اصطلاح ان افراد خصوصا خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے جو پیسے کو محبت یاتعلق پر فوقیت دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم قیمتی خریداری کی عادت رکھنے والی ہر خاتون کو پوٹینشل گولڈ ڈگر کہہ سکتے ہیں؟ میراخیال ہے نہیں۔

اسی طرح ایک اور اصطلاحسیکس اپیل Sex Appeal” ہے جس سے مراد جنسی طور پر پرکشش ہونا ہے۔ کیا ہم تزئین و آرائشکے ذریعے سیکس اپیل بڑھانے والی خاتون یا مرد کو پوٹینشل جنسی عادی کہہ سکتے ہیں؟ ایک بار پھر میرا خیال ہے نہیں۔ آپ اپنیرائے میں آزاد ہیں۔

عرض ہے، سوشل سائینسز کی ذیلی تھیوریاں شاذ ہی سو فیصد درست مانی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ تجرباتی شواہد کے برعکس شماریاتپر مبنی دلائل ہوتے ہیں جو مختلف معاشروں میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں قانون کی عمل درآمد ویسے ہیمشکل ہے، جہاں جذبات حقائق پر غالب رہتے ہیں اور جہاں کسی بھی قانون کا منفی استعمال بوقت ناجائز ضرورت عام رہتا ہو،پوٹینشل ریپسٹجیسی سخت اصطلاحات کے ایسا عامیانہ استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔ ایک ایسی صورت میں جب آپ کرمنلسائیکولوجسٹ بھی نہ ہوں، ایسی الزام بازی کے نقصانات کسی بھی مبینہ فائدے سے بڑھ جایا کرتے ہیں۔ باقی وہی لطیفے والی باتکہخان صاحب کرنی تے تسی اپنی اے پر۔۔۔ الخ۔

وما علینا الا البلاغ

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *