• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہمارا معاشرہ کیسا ہوگا، فرشتہ صفت یا درندہ صفت؟ ۔۔ بلال شوکت آزاد

ہمارا معاشرہ کیسا ہوگا، فرشتہ صفت یا درندہ صفت؟ ۔۔ بلال شوکت آزاد

یہ غالباً 2018ء کی بات ہے, میرے والدین تب پنجاب کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی, غازی روڈ لاہور میں رہائش پذیر ہوا کرتے تھے اور میں شاہدرہ کا باسی تھا سو عید شبرات پر میں اپنے بال بچے اپنی بائیک پر سوارکیے براستہ رنگ روڈ سے متصل سروس روڈ پر بھگا بھگا کر انہیں ان کے دادا دادی سے ملانے اور عید کی خوشیاں دوبالا کرنے جاتا تھا۔ (آج کل وہ میرے ساتھ شاہدرہ ہی ہوتے ہیں۔)

خیر یہ 2018ء کی عیدالفطر کا دوسرا روز تھا جب میں پہلا دن اپنے میکے میں گزار کر دوسرے روز عصر کے بعد واپسی شاہدرہ کے لیے نکلا تو میری بائیک کا پچھلا ٹائر بوجہ ٹیوب پنکچر ہونے کے زمین سے لگ گیا عین علامہ اقبال ائیرپورٹ کے سامنے موجود انڈر پاس کراس کرتے ہی۔

میری اس وقت دو بیٹیاں تھیں, فامیہ اور عزا۔ ۔ ۔

فامیہ آگے ٹینکی پر سورار تھی جبکہ ایک سال کی عزاء اپنی والدہ کی گود میں میرے پیچھے موجود تھیں۔

جب ٹیوب پنکچر ہوئی تو ہم نے بائیک ایک طرف کھڑی کردی اور اچانک روڈ سیپریٹرز پر میری نظر پڑی جہاں ایک دو پنکچر والوں نے اپنے نمبر لکھے ہوئے تھے۔ (اور اس سے میرایقین اس بات پر پختہ ہوگیا کہ یہ ہمیشہ پنکچر والوں کے آس پاس ہماری بائیکس پنکچر ہونا اتفاق نہیں ہوتا)۔

میں نے دونوں نمبرز باری باری ڈائل کیئے پر فون والی باجی گویا ہوئیں کہ

“آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے, تھوڑی دیر بعد کوشش کریں۔”

اب ننھی عزاء جو کہ نیند سے بیدار ہوئی تھی کسمسانے لگی اور فامیہ کھڑی کھڑی پریشان ہونے لگی جبکہ موسم حبس زدہ ہونے کی وجہ سے ہم میاں بیوی کے پسینے چھوٹ رہے تھے اور کوئی مدد دور و نزدیک نظر نہیں آرہی تھی۔

پہلے سوچا کہ بابا کو کال کرکے بلالوں اور وہ بچوں کو گھر واپس لے جائیں جبکہ میں بائیک گھسیٹ کر بھٹہ چوک میں کسی پنکچر کی دکان پر لے جاؤں۔

اکیلا بندہ ٹینکی پر بیٹھ کر بھی بائیک چلا لیتا ہے اگر پنکچر ہو لیکن بیوی بچوں کے ساتھ یہ سچویشن کسی عذاب سے کم نہیں۔

عید پر لاہور میں سناٹوں کا راج ہوتا ہے کیونکہ لاہور بھی مقامیوں سے زیادہ اب پردیسیوں کا شہر ہے جہاں عید شبرات پر ہُو کا عالم ہوتا ہے۔

عام دن ہوتے تو وہ شارع عام تھی لہذا مدد مل سکتی تھی پر عید تھی تو اکا دکا کاریں اور بائیکس ہی گزریں آدھے گھنٹے میں۔

اوپر سے مغرب کا وقت سر پر تھا سو اندھیرے اور ویرانی سے طبیعت میں ایک عجیب سی وحشت در آئی تھی۔ ۔ ۔ اسی وجشت زدہ مزاج سے طے کیا چلو فامیہ اور عزا کو بائیک پر بٹھا کر میں بائیک گھسیٹتا ہوں بمع سامان اور بیگم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

ابھی ہم ایک کلومیٹر ہی چلے تھے کہ ایک 1995ء ماڈل کی فرسودہ حال مہران ہمارے قریب پہلے آہستہ ہوئی جس میں ایک ادھیڑ عمر مرد جو کار ڈرائیو کررہا تھا جبکہ اس کے بالکل ساتھ ایک ادھیڑ عمر خاتون جوکہ اسکی بیوی تھی وہ بیٹھی تھی اور پیچھے تین بچے تھے جن میں دو سات اور بارہ سال کی بچیاں اور ایک 5 سال کا بچہ تھا۔

مرد نے سر آگے کی طرف یعنی تقریباً  بیوی کی گود پر ٹکائے ہمیں آواز دی کہ

بھائی جان کیا ہوا۔ ۔ ۔ پیٹرول ختم ہوگیا؟ یا ٹیوب پنکچر ہے؟

اور یہ کہتے کہتے وہ رک گئے۔

میں نے بھی بائیک سٹینڈ پر کی اور بتایا کہ جناب ٹیوب پنکچر ہوگئی ہے اور ہمیں گردو نواح میں پنکچر شاپ کا بھی علم نہیں لہذا اللہ کا نام لیکر چلے جارہے ہیں خراما خراما گرمی اینجوائے کرتے ہوئے۔ ۔ ۔ امید ہے کہ یہ زیر تعمیر سرینا ہوٹل کی بیک سائیڈ پر ہمیں پنکچر شاپ مل جائے۔

اس بھائی اور اسکی بیگم نے کہا کہ آپ بچوں کو ہمارے ساتھ بٹھا دیں۔ ۔ ۔ ویسے تو ہم محمود بوٹی جارہے ہیں پر پہلے آپ کو سرینا ہوٹل کی بیک سائیڈ پر موجود شاہراہ پر کسی پنکچر شاپ تک بحفاظت چھوڑ کر آگے نکلیں گے کیونکہ شام گہری ہورہی ہے اور یہ رنگ روڈ کا علاقہ عید وغیرہ کے دنوں میں ڈاکوؤں کی آماجگاہ ہوتا ہے۔

اب میں اور میری بیگم شدید تذبذب کا شکار تھے کہ نجانے وہ کون ہیں اور کہاں سے ہیں۔ ۔ ۔ کہیں کوئی گروہ ہی نہ ہو کیونکہ اکثر ٹھگوں اور چوروں کا گروہ ویران سنسان راستوں پر باقاعدہ فیملی کور کے ساتھ متحرک ہوتا ہے ایسا کئی مقامیوں سے سن رکھا تھا۔

ہم نے کچے سے من کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نہیں نہیں آپ کو زحمت ہوگی۔ ۔ ۔ آپ نے پوچھا یہی بہت ہے۔ ۔ ۔ شکریہ۔

وہ میاں بیوی ہماری گھبراہٹ کو بھانپ گئے اور کار سے اتر کر آئے اور بہت ہی پیار سے بولے کہ بھائی آپ پریشان نہ ہوں, میں بھی بچیوں والا ہوں اور آپ کو پریشان دیکھ کر ہی رکا اور اسی وجہ سے آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اکیلے مرد ہیں اور یہ علاقہ ٹھیک نہیں اور یہ کہ آپ بائیک کی ٹینکی پر بیٹھ کر بائیک چلائیں۔ ۔ ۔ میری کار آپ کے بالکل برابر چلے گی۔

خیر اللہ کا نام لیکر بیگم کو تسلی دی اور کان میں کہا کہ اذکار وغیرہ کرلو اور اللہ پر چھوڑ دو۔

اب انہوں نے بچے کو آگے ماں کی گود میں بٹھا دیا اور میرے بال بچوں کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر کار سٹارٹ کرلی لیکن گیئر تب ڈالا جب میں نے بائیک سٹارٹ کرکے فاصلہ ناپنا شروع کیا۔

ایئرپورٹ کے سامنے موجود انڈر پاس کے اختتام سے لیکر سرینا ہوٹل کی بیک سائیڈ میں موجود شاہراہ پر دو پنکچر شاپ تھیں جہاں تک پہنچنے میں مجھے بیس منٹ لگے کہ ایک تو میں وزنی اور اوپر سے ٹیوب پنکچر تھی تو بائیک بالکل سائیکل کی طرح چل رہی تھی۔

لیکن آفرین اس نامعلوم محسن کو کہ اس نے بھی کار نہ مجھ سے پیچھے رکھی نہ آگے بڑھائی بلکہ اساطرح ساتھ رکھی کہ کار کی کھڑکی سے میری بیٹی فامیہ مجھ سے باتیں کرتی ہوئی پنکچر شاپ تک آئی جہاں میں نے ان محسنوں کو کولڈرنک کے لیے بہت منت کی لیکن وہ ہنستے ہوئے ٹال گئے اور کہا بس دعا دیجیئے ہم نے ابھی آگے جانا ہے کیونکہ بچوں کا ننھیال دعوت پر ہمارا منتظر ہے۔

خیر وہ ہم سے کار سے اتر کر مل کر تسلی دیکر چلے گئے لیکن ہم میاں بیوی بہت دیر تک ان گمنام محسنوں کا اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہے کہ شکر ہے ہم کسی سانحے کا شکار نہیں ہوئے اور یہ کہ ابھی قیامت دور ہے کیونکہ نیک لوگ ابھی بھی اس دنیا پر موجود ہیں۔

اور ایک دم فخر بھی ہوا کہ ایسا ہے ہمارا اسلام اور ایسا ہے ہمارا پاکستان لیکن جب جب کوئی بھیانک حادثہ رونما ہوتا ہے بالخصوص ویران شاہراہوں پر تب یہی بات دل میں آتی ہے کہ چند کالی بھیڑوں نے پورے معاشرے کا چہرہ بگاڑا ہوا ہے اور یہ کہ کاش جیسے محسن ہمیں ملے ویسے ہی ہر کسی کو مل جائیں تو سانحات کم ہوجائیں۔

مجھے آج بھی وہ عید الفطر 2018 کی شام نہیں بھولتی جب ہم میاں بیوی اور یہاں تک کہ میری بیٹی فامیہ ڈر اور خوف سے سہمے ہوئے تھے کہ اب ہمارا کیا بنے گا پر اللہ کے فرشتہ صفت کسی نہ کسی شکل میں مدد کو مل ہی جاتے ہیں۔

معاشرے انسان ہی تشکیل دیتے ہیں, اب ہمارا معاشرہ کیسا ہوگا۔ ۔ ۔ فرشتہ صفت یا درندہ صفت؟۔ ۔ ۔ یہ ہم پر ہے۔

اللہ ان محسنوں اور دیگر مددگار شہریوں کی مشکلات دور فرمائے اور ہمیں بھی ایک دوسرے کی مدد کی توفیق دے۔ آمین۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *