استقامت، فوق الکرامت۔۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

اِستقامت ایسے موضوع پر لکھنے سے پڑھنے والے اس گمان میں مبتلا ہو جائیں گے کہ لکھنے والا شاید استقامت ایسی کرامت کے سنگھاسن پر فائز ہے۔ بنا بریں اس موضوع پر گریز کرنے میں عافیت جانی ،مبادا ‘ یہ خاکسار قول و فعل میں تضاد کا مرتکب ٹھہرے۔ بہر طور آج صمیمِ قلب سے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے موضوع ِ مذکور پر قلم فرسائی کرنے کی جرات پا رہا ہوں کہ بتانے والا بھی پوچھنے والے کی صف میں کھڑا ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو ذاتی روداد نہیںٗ بلکہ ایک فکری، نظری اور کسی حد تک امکانی روداد تصور کیا جائے۔ کسی مقام کی حسرت اور آرزو اُس مقام پر متمکن ہونے کے مترادف ہرگز نہیں۔ تغیر کا حال تمکین کے مقام کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مسافر مقیم کے حال کا حامل نہیں ہوتا۔

انسانی خمیر بنیادی طور پر مجموعۂ تغیرات و اضداد ہے، اس کے وجود میں استقامت کا موجود ہونا بجائے خود ایک کرامت ہے۔ اس لیے اہلِ نظر کے نزدیک استقامت کو کرامت پر فوقیت حاصل ہے۔ منقول ہے کہ ایک جید بزرگ کے پاس ایک طالبِ حق حلقہ بگوشِ عقیدت ہوا تو کچھ مدت گزارنے کے بعد یہ کہتے ہوئے رختِ سفر باندھنے لگا کہ حضرت !میں تو آپ کو ایک ولی اللہ سمجھ کر حاضرِ خدمت ہوا تھا لیکن مجھے اس عرصے کے دوران میں آپ میں کرامت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دی۔ برگزیدہ شخصیت نے جانے والے سے دریافت کیا، برخوردار! اس عرصے کے دوران کیا مجھ سے کوئی خلافِ شریعت عمل سرزد ہوتے بھی دیکھا؟ اس نے کہا‘ ہرگز نہیں! آپؒ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا ‘ جا! پھرمیرے پاس یہی کرامت ہے۔ سینے پر اس گداز ہاتھ کا چھونا تھا کہ اُس کے دل کی کایا پلٹ گئی، اندر کی آنکھ کھل گئی، لفظ اپنا لبادہ پھاڑ چکے تھے، قال حال بن گیا، ظاہر کا باطن کھل گیا اور وہ عالمِ جذب میں چیخیں مارتا ہوا دشت ِ جنوں کی طرف بھاگ نکلا۔ ایک عرصہ بعد جب سلوک کی چادر اوڑھے دوبارہ مرشد کی خدمت میں دزدیدہ نظروں کے ساتھ حاضر ہوا تو صاحب ِ کرامت بزرگ نے اس سے حالات و واقعات کی بابت دریافت کیا۔وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘ بابا حضور! بس! وہ آپ کا سینے پر ہاتھ مارنا ہی خلافِ شریعت تھا، اس کے علاوہ کچھ بھی شریعت سے باہر نہ تھا۔ باطن کی اپنی شریعت ہوتی ہے، اہلِ باطن اس پر بھی کاربند ہوتے ہیں۔ انسان کاملؐ ظاہر و باطن میں راہنما ئے کامل اور حجت ِ کامل ہیں۔ اولیا کے نزدیک کرامات ِ اولیا دراصل معجزاتِ پیغمبرؐ کا تسلسل ہیں۔ کرامات و تصرفات باطن کی شریعت ہے۔ان کے اپنے اصول ہیں جو اہلِ ظاہر کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔

استقامت کے باب میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا چیز استقامت نہیں ہے۔ محض کسی ظاہری عمل میں مداومت کو استقامت نہیں کہتے۔ جس طرح معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے نقلِ مکانی کو ہجرت نہیں کہتے ، اس طرح کسی معاشی و معاشرتی مفاد کے لیے کسی عمل میں تسلسل اختیار کرنے کو استقامت نہیں کہتے۔ ایک دکاندار باقاعدگی کے ساتھ ہر روز دکان کھولتا ہے، ایک ملازم پیشہ شخص برس ہا برس وقت کی پابندی کے ساتھ اپنی جائے ملازمت پر جاتا ہے، لیکن اسے صاحبِ استقامت نہیں کہیں گے۔ اس مشقت کو ریاضت بھی نہیں کہیں گے۔ ہجرت کی طرح استقامت بھی خالصتاً دینی و روحانی مقصد کے لیے اختیار کردہ راستہ اور موقف ہے۔ عمل کی ابتدا نیت سے ہوتی ہے، اس لیے استقامت کی ابتدا بھی نیت سے ہوگی۔ نیکی کے راستے پر نیک نیت ہونا اور پھر اس نیک نیتی پر قائم رہنا استقامت کا باب ہے۔ کسی وقتی جذبے اور اشتعال کے ساتھ کی گئی نیکی… کیا نیکی ہے؟ مزاج اور مفاد کے نرغے میں آکر کی جانے والی نیکیاں عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ نیکی… نیک عمل میں نیک نیتی کے ساتھ مستقل مزاجی میں چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ نیکی جب تک مزاج کا حصہ نہ بن جائے‘ بات نہیں بنتی۔ تزکیۂ نفس کی ساری داستان بھی یہی ہے کہ سالک کے اندر نیکی کا ذوق پیدا کر دیا جائے۔ اس کا نیک عمل ایسی خوب صورتی اختیار کر لے کہ مخلوق اس سے چلتے پھرتے اس طرح فائدہ اُٹھا ئے جس طرح مسافر کسی شجر ِ سایہ دار کے سائے سے فایدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ نیکی جو مخلوق کے پاؤں کا کانٹا بن جائے وہ غرورِ نفس تو ہو سکتا ہے‘ نیکی نہیں۔

نیت میں استقامت اس وقت تک نہیں آتی جب تک نیت خالص نہ ہو جائے۔ اخلاص کے محراب میں صرف خالص نیت ہی قیام کر سکتی ہے۔ صراطِ مستقیم انعام یافتہ لوگ کا راستہ ہے… اور یہ انعام یافتہ لوگ اپنے ارادے اور عمل میں مستقم پائے گئے۔ نیت کا استحکام ہی عمل میں استحکام کا باعث ہوتا ہے۔ جس طرح عمل ہماری نیت کا پھل ہوتا ہے، اس طرح ہماری نیت ہماری فکر کا ثمر ہے۔ راست فکرہی راست نیت کا پھل لے کر آ ئے گا۔ بدعلمی نیت کوخالص نہیں رہنے دیتی۔ لوگ خدا کے نام پر نفس کا کاروبار کرنے میں مشغول ہوتے ہیں، دوسروں کو دھوکا دینے سے پہلے خود دھوکا کھا چکے ہوتے ہیں۔ نیت راست نہ ہو تو عمل میں بظاہر استقامت بھی نامۂ اعمال میں غرورِ نفس میں اضافے کے سوا کچھ درج نہیں کروا سکتی۔ گویا ‘ہمارے علم کی درستی نیت اور عمل دونوں کی درستی کے لیے لازم ہے۔ اس لیے‘ اے راہِ حق کے مسافر! تمام عمر راست علم کی جستجو میں تمام کردے، اس کے عوض ایک رتی بھر نیت میں اخلاص بھی میسر آ گیا تو اس کے تحت کیا گیا ایک معمولی سا عمل بھی غیر معمولی تصور کیا جائے گا۔ ناقص علم اور ناقص نیت کے ساتھ عمل کے انبار اخبار کا اشتہار تو بن سکتے ہیں‘ تیری کتاب ِ عمل کی کوئی تحریر نہیں۔ ہمہ حال بے علمی اور پھر بد علمی سے نکلنے کی تگ و دو میں رہو، اس عمل میں استقامت فوق الکرامت کہلائے گی۔ علم… کسی قیل و قال کا نام نہیں بلکہ علم کا حصول ایک عمل کا نام ہے… مسلسل اور لگاتار عمل! یہاں علم سے مراد صنعت و حرفت کا کوئی ہنر نہیں ٗ بلکہ علم سے مراد علمِ حقیقی ہے۔۔۔ علمِ الٰہی ہے معرفتِ الٰہی۔۔۔معرفت ِ خود۔۔۔ خودی اور خدا!!

یاد رکھنا چاہیے کہ نیت نسبت پر منحصر ہے۔ نسبت میں قیام نیت میں قیام کا پیش خیمہ ہے۔ یاد رہے کہ ہم جن کی نظروں میں سرخ رو ہونا چاہتے ہیں وہ اہلِ ظاہر نہ ہوں ٗ اہل ِ نظرہوں… اہل ِ نظر متغیر صفت نہیں ہوتے، وہ اپنے فکر و عمل میں متمکن ہوتے ہیں۔ اہلِ تمکین سے نسبت ہماری نیت کو متغیر نہیں ہونے دیتی۔ اگر ہمارے پیشِ نظر اہل ِ دنیا ہیں تو دنیا ہمہ حال متغیر ہے، اہلِ دنیا کے ہاں آج کا حسن کل کی قباحت میں گنا جا سکتا ہے، اور آج کی قباحت کل کلاں صفت میں شمار کی جا سکتی ہے۔ اس تغیر کے جہان میں اثبات ڈھونڈنے کے لیے پائے ثبات والے اصحاب کی تلاش ضروری ہے۔ دولت ، شہرت اور لذت کے لات منات اور عزیٰ کا انکار کلمہ وحدت کے اقرار کے لیے لازم ہے۔ وحدت تغیر سے پاک ہے۔ اس پاک کلمے میں پاک نیت لوگ ہی قیام کر سکیں گے۔ پاک وہ ہے جو ہر مفاد سے پاک ہے۔ جس کا دامن صاف ہے ، جس کا دل پاک ہے، جس کی نظر پاک ہے۔

اس عالمِ تغیر و تبدل میں اوّل و آخر فنا ہے ، نقشِ کہن ہو کہ نَو‘ منزلِ آخر فنا ہے۔ اثبات اگر کسی شئے کو حاصل ہے تو وہ عشق ہے۔ یہ جوہرِ ملکوتی عالمِ ناسوتی میں رہ کر بھی پاک اور پوتر رہتا ہے۔ عشق کا قبلہ ہمیشہ راست ہوتا ہے کہ سوئے معشوق ہوتا ہے۔ عشق کی ڈکشنری میں ماضی اور مستقبل نہیں ہوتا ہے، سب کچھ حال ہوتا ہے۔ حال… الآن کما کان !! عشق کا سلسلہ۔۔۔ دراصل عشق در عشق ہے۔ دو آئینوں کے درمیان عکس در عکس کی طرح ایک لامتاہی سلسلہ!! صاحب ِ عشق سے نسبت کا سائبان میسر آ جائے تو فکر و عمل تغیر کی زد سے نکل جاتا ہے۔ تغیر سے نکلنے کی دیر ہے کہ انسان استقامت میں داخل ہو گیا۔ وما توفیقی الا بااللہ!!

اَز رُوئے قرآن ‘چہرہ بقا میں ہے اور باقی ہر چیز کو فنا لاحق ہے۔ چہرے تک رسائی اسی آنکھ کو میسر ہے جس میں عشق کا سرمہ لگ چکا ہے۔ جسم تغیر کی دنیا کا نمائندہ ہے ، روح تحیر کی سفیر ہے۔ تغیر میں چل چلاؤ ہے،‘ تحیر میں قیام ہے۔ تغیر سے نکل کر تحیر میں داخل ہونے والا عالمِ معرفت میں ہے۔۔۔۔ علمِ حقیقی کا شاہد ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کا قول ہے ’’معرفت ہمہ حال تحیر میں رہنے کا نام ہے‘‘۔ گویا استقامت ایک مقامِ معرفت ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *