جنگل کے درندوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔۔سعید چیمہ

ہاتھ قلم کو کیسے تھامیں،الفاظ کہاں سے آئیں جو کیفیت کو بیان کر سکیں،سوچوں تو دریچہ ذہن کے کواڑ بند ہونے لگتے ہیں،سانس لینا چاہوں تو گھٹن محسوس ہوتی ہے،رونا چاہوں تو آنکھوں سے لہو ٹپکتا ہے،الفاظ ادا کرنے کے لیے لبوں کو جنبش دوں تو دبی دبی سسکیاں سنائی دیتی ہیں،ڈرتا ہوں کہ جگر و دل شق القمر کی طرح پھٹ نہ جائیں،لاہور موٹروے کے المناک،اندوہناک،دردناک اور دل دوز واقعے پر کیا لکھا جائے۔اے خدا! آپ نے تو کہا تھا کہ میں نے کسی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے تو پھر ایک دل کے ساتھ کوئی ایسے ظلم پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے،ظلم ایسا ہے کہ ہر کوئی سکتے میں ہے لیکن پھر بھی سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے پر زینیں کسے ہوئے خود ساختہ قسم کے دانشور اپنی دانشوریوں سے باز نہیں آ رہے،توپوں کا رخ عمر شیخ کی طرف موڑ دیا گیا،عمر شیخ ایک پیرائے میں بات کر رہے تھے بات کو اُسی پیرائے میں سمجھا جانا چاہیے تھا مگر ہر کسی نے اُن کے الفاظ کو اپنی مرضی کا پیراہن پہنانا شروع کر دیا،سوشل میڈیا کے دانشور طفلان نے اِس میں بھرپور حصہ ڈالا،”میں نے صرف وہ کہا ہے جو میں نے کہا ہے،وہ نہیں کہا جو آپ نے سمجھا ہے” امام ابو حنیفہ کے اس قول کے مطابق عمر شیخ کے بیان کو پرکھنا چاہیے تھا مگر یہاں تو دھارے کی سمت ہی الٹی ہے،عمر شیخ بھی اگر معاشرے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیان نہ دیتے تو زیادہ اچھا ہوتا مگر اٹھانے والوں نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا دیا۔مجرمان کی گرفتاری کے بعد شاید اب زخموں کامداوا ہو سکے۔تب سے آج تک بار بار یہ سوال درِ دل پر دستک دیتا ہے کہ کوئی اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟ “تو اُس کو زمین پر خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو فساد کرے گا” جب خدا نے کہا کہ میں انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنانے جا رہا ہو ں تو فرشتوں نے جواب دیا تھا،مگر اِس واقعے میں ملوث مجرمان ایسے لوگ اتنے بد بخت ہیں کہ فرشتوں کی پیشین گوئی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر وقت موقع کی تاک میں رہتے ہیں جیسے بھوکا کوا کسی بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا دیکھ جھپٹا مارنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔تمام مکاتبِ فکر کے علماء اِس بات پر متفق ہیں کہ ریپ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے اور فساد فی الارض کی سزا موت ہے۔ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی معاشرے کا دو حصوں میں بٹوارہ ہو گیا ہے،دائیں بازو والے سرِ عام سزاؤں کے نفاذ کو مسئلے کا حل گردانتے ہیں جبکہ بائیں بازو والے اِسے اخلاقیات کے منافی سمجھتے ہیں،سوا چودہ سو سال پیچھے چلتے ہیں،نبوت کا آخری چاند مکہ کے افق سے ہجرت کر کے مدینہ کی بستی کے اوپر چمکنا شروع ہوتا ہے،ہجرت کے چند سالوں بعد شرعی سزاؤں کو مکمل طور پر نافذ کیا جاتا ہے اور سزائیں بھی سرِ عام دی جاتی ہیں لیکن پھر بھی جرم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا،شاید قیامت تک ہو گا بھی نہیں۔یہ تو خدا کا ڈر ہوتا ہے جو انسان کو گناہوں سے باز رکھتا ہے،جو نفس کو زندان میں قید کرنے پر مجبور کرتا ہے،سرِ عام سزاؤں ایسی بحث سے توجہ دشت میں چلتے ہوئے مسافر کی طرح بھٹک جاتی ہے اور ہم ہمیشہ بھٹکنے کے لیے  تیار ہوتے ہیں۔وہ عورت ہے یا بلند حوصلگی کا کوہِ گراں ہے جو ظلم کے بعد خاموش نہیں رہی،اُس کے جسم و روح پر لگنے والے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہو سکیں،شاید وہ پہلے جیسی ہنسی خوشی والی زندگی نہ گزار سکے،اپنے اوپر ڈھائے گئے ظلم کیخلاف بولنے پر اُس عورت کو دادِ شجاعت دینی چاہیے،کربلا کے میدان میں ریت کو اہلِ بیت کے خون سے سرخ کرنے کے بعد زینب بنتِ علی کو یزید کے دربار میں لے جایا گیا،سیدہ زینب ظلم کے خلاف یزید کے دربار میں ایسا بولیں کہ تاریخ کے راقمطراز بھی دنگ رہ گئے،راوی کہتا ہے کہ دربار میں سیدہ زینب کے  بولنے پر ایسا گمان ہوتا تھا کہ کوفہ کے منبر پر سیدنا علی خطبہ دے رہے ہیں،کربلا کی تاریخ کو سیدہ زینب کے خطبات نے مکمل کیا اور اب اِس عورت نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو گمان غالب ہوا کہ عورت تو بہت مضبوط ہے شاید مردوں سے بھی زیادہ مضبوط لیکن چونکہ ہمارا تعلق اِس عجب معاشرے سے ہے اس لیے ہمیں ہر حال میں عورت کو کمزور ثابت کرنا ہے۔جنگل کے درندوں کی مجلسِ شوریٰ کی میٹنگ جاری ہے،شیر مسندِ خلافت پر براجمان ہے،میٹنگ سے ایک دن پہلے تمام وزرا و مشیران کو حاضری یقینی بنانے کا کہا گیا تھا،میٹنگ کے دوران لومڑی (جنگلی درندوں کی وزیر اطلاعات) لاہور کے واقعے کی خبر سناتی ہے کہ ایک ماں پر اُس کے بچوں کے سامنے ظلم کے کوہِ طور توڑے گئے ہیں۔درندوں کی مجلسِ شوریٰ اپنے بادشاہ سمیت حیران و پریشان ہو کر ساکت مجسمہ بن جاتی ہے،شاید اِس لیے کہ ایسا ظلم تو کبھی جنگل میں بھی نہیں ہوا ہو گا۔آخر کار مسندِ خلافت پر براجمان شیر گویا ہوتے ہوئے پوچھتا ہے کہ ہمیں اس واقعے پر کیا ردِ عمل دینا چاہیے،سب درندوں کی طرف سے مختلف تجاویز سامنے آتی ہیں مگر ریچھ(جنگلی درندوں کا وزیرِ دفاع) کی تجویز پر سب لبیک کہتے ہیں،ریچھ یہ تجویز دیتا ہے کہ بادشاہ سلامت منادی کروائیں کہ جنگل کے تمام درندے با وضو ہو کر ایک کھلے میدان میں جمع ہوں،جب سب درندے جمع ہو جائیں تو اجتماعی طور پر دو رکعت نماز ادا کر کے کہ خدا تعالٰی کا شکر ادا کیا جائے کہ اُس نے ہمیں درندہ بنایا ہے ورنہ کیا عجب ہم میں سے کوئی یہ جرمِ عظیم کر گزرتا،نماز کے بعد بادشاہ سلامت نے اپنے مختصر خطاب میں سب کو حکم دیا کہ جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں ہم رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں گے اور اپنے درندہ ہونے پر فخر کریں گے۔