جزائر عرب کی آثار قدیمہ پر چند نایاب کتابیں۔۔منصور ندیم

دنیا میں کسی بھی خطے کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے اس خطے کی معلومات کتابوں کے زریعے ہی منتقل ہوتی ہے، جس میں اس خطے کی معاشرت، معیشت اور رسوم و رواج کے علاوہ وہاں کے آثار قدیمہ کے حوالے سے مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے بارے میں معلومات کا علم بھی شامل ہونا ازحد ضروری ہے، اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں موجود لائبریریاں اور اس میں موجود کتابیں قوموں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ قوموں کے خوشحال مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لیے ماضی کو پرکھنا اور اس سے سبق سیکھنا بہت ضروری ہے۔

آج سعودی عرب اپنے شاندار ماضی کی یادیں محفوظ رکھنے کی راہ پر گامزن تو ہوا ہے۔ اس کے لیے ثقافتی ورثہ کے مراکز اور ماضی کے متعلق نایاب مخطوط اور کتابوں کے ذخیرے کے لیے لائبریریوں کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ گزشتہ کچھ صدیوں میں کسی بھی مسلمان مورخ نے خطہ حجاز کی قدیم تاریخ میں موجود تہذیبوں اور ثقافتوں کے بارے میں کبھی کچھ نہیں لکھا۔ اس وقت کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری ریاض میں اس سلسلے کی کچھ نایاب کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ تمام کتابیں یورپ سے آنے والے آرکیالوجسٹ یا سیاحوں کی ہیں، جن کتابوں میں جزیرہ نما عرب کی قدیم تاریخ میں موجود تہذیبوں اور ثقافتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان میں سے بہت سی کتابیں مختلف ممالک کے سیاحوں نے انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن زبان میں لکھی ہیں۔ ان میں تحقیقات، مشاہدات کے ساتھ مقامی دریافت کئے گئے بہت سے حقائق موجود ہیں۔

امریکہ کی مڈل ٹینسی اسٹیٹ یونیورسٹی میں مشرق وسطی اور اسلامی تاریخ کے پروفیسر شاون فولے کے مطابق ” کنگ عبدالعزیز آف لائبریری میں موجود نایاب کتب سے دنیا بھر کے اسکالرز کو جزیرہ عرب کی تاریخ میں بسنے والی قدیم تہذیبوں کے بارے میں مزید جاننے میں مدد مل سکتی ہے، وہ اسکالرز جو سعودی عرب، مشرق وسطی اور عالمی تاریخ کو جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں ہیں وہ ان کتب سے ضرور استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ مغربی دنیا میں رہنے والے اسکالرز طویل عرصے سے سعودی عرب کی تاریخ اور اس خطے کی خاصیت کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس خطے کی تاریخ اور جغرافیہ کے بارے میں مسلم سیاحوں یا اسکالز نے بھی خاصے پیمانے پر تحریری کام کیا ہے لیکن بدقسمتی سے پچھلے چند سو سالوں میں کوئی قابل ذکر نام موجود نہیں ہے، اور اگر مقامی سطح پر کام بھی کیا گیا ہے تو ان کی تحقیقات یا سفر ناموں کا مغربی ممالک کی زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا گیا جو اس عہد میں یورپ میں رائج زبانیں تھی، جس کے باعث ایک علمی خلاء بھی پیدا ہوا جس نے مغربی باشندوں کو دنیا کے اس قدیم تہذیبی حصے کی تلاش کے لئے ترغیب دی۔ سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے یورپی سیاحوں اور دیگر غیر ملکی محققین کے لئے رہنمائی، تحقیق اور ان کی علم کی تشنگی کے لئے ہمیشہ ایک منزل رہے ہیں۔

جزیرہ نما عرب کی سیاحت کے لیے ایک سیاح چارلس ایم ڈوٹی (Charles Montagu Doughty) زمانہ (19 اگست سنہء 1843 سے 20 جنوری سنہء 1926) نے پہلی بار سنہء 1875 اور دوسری بار سنہء 1877 میں یہاں کا سفر کیا تھا، انہوں نے اپنی کتاب “ٹریولز ان عربی صحرا” (Travels in Arabia Deserta) میں مدائن صالح کے آثار قدیمہ اور اس کی حیثیت کے بارے میں تحریر کیا ہے۔

اسی عرصہ میں فرانسیسی سیاح چارلس ہیوبر Charles Huber

نے اپنا پہلا سیاحتی دورہ سنہء 1881 و 1882 میں العلاء میں کیا تھا تھا اور اسے بعد دوسرا سیاحتی دورہ سنہء 1883 کیا تھا، اس سیاحتی دورے میں چارلس ہیوبر کے ہمراہ ایک ساتھی آثار قدیمہ کے ماہر ایم جولیس ایوٹنگ Julius Euting بھی تھا، انہوں نے سنہء 1891 میں “جرنل آف دی ٹریول آف عربیہ” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں اس سیاحتی سفرنامے اور آرکیالوجی کے اعتبار سے سامنے آنے والی تمام معلومات کی تفصیل لکھی ہے۔

جزیرہ عرب سے متعلق زیادہ تر کتابیں مغربی سیاحوں نے ہی لکھی ہیں اوران کے سفر کی معلوماتی تحریریں زیادہ تر ان خطوں کی بابت ہیں جو علاقے آج کل سعودی عرب کا حصہ ہیں۔ سیاحت کے ہی حوالے سے مزید مطالعاتی اور تحقیقاتی مشاہدے کے لیے سنہء 1907 اور سنہء 1914 میں جوسن A. Jaussen اور سیوینیک R .Savignac نے چارلس ایم ڈوٹی ، چارلس ہیوبر اور جولیس ایوٹنگ کے کام کو مزید مکمل کرنے کے لیے اداراتی طور پر اسی علاقے میں بھیجا گیا تھا۔ جہاں ان دونو ں نے تفصیلی مطالعاتی و مشاہداتی دورے کئے، اور کچھ تہذیبی کھنڈرات دریافت کیے ، اس سیاحتی و مشاہداتی دورے کی روداد فرانسیسی زبان میں سنہء1907 میں تین جلدوں “مشن آرکیولوجک این عربی” (Mission archéologique en Arabie) کے نام سے لکھی گئی۔ ان کی تحریروں میں تیما ، تبوک اور مدائن صالح علاقوں کی تہذیبیں درج ہیں۔ ان کی کتابیں سرکاری طور پر رجسٹرڈ تھیں اور نسل در نسل محفوظ ہیں۔ یہ کتابیں بلاشبہ اسکالرز کو جو دنیا کی تاریخ میں مشرق وسطی، سعودی عرب اور اس کے اہم مقامات کو بہتر طور پر سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں، ان کے لیے یقیناً یہ کتابیں بہت مددگار ثابت ہوں گی۔

مغربی سیاحوں کے سفر کا رحجان انفرادی ، مذہبی ، سیاسی ، سائنسی یا تاریخی مقاصد کے لئے 15 ویں صدی کے آخر اور 20 ویں صدی کے اوائل میں رہا۔ جزائر عرب اوراس کی تاریخ پر نئے علمی کاموں پر توجہ حالیہ برسوں میں دیکھنے میں زیادہ آئی ہے۔جب سعودی حکومت وقت نے سیاحتی سطح پر حیرت انگیز اور انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔

نوٹ : اس میں چارلس ہیوبر کی ہاتھ سے کندہ کی گئی اپنی نام کی تحریر پہاڑی چٹان پر آج بھی موجود ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *