گلیلیو کا تنازعہ (30)۔۔وہاراامباکر

ستمبر 1610 میں گلیلیو کو چیف ریاضی دان کی پوزیشن مل گئی۔ اس کے بعد گلیلیو سخت بیمار پڑ گئے اور کئی مہینوں تک بستر پر رہے۔ اگلے سال جب صحت ٹھیک ہوئی، ان کا چرچا اس قدر ہو چکا تھا کہ انہیں روم بلایا گیا کہ وہ لیکچر دیں۔

روم میں گلیلیو کی ملاقات کارڈینل میفیو باربرینی سے ہوئی جو انہیں پوپ پال پنجم سے ملاقات کے لئے لے گئے۔ یہ ہر لحاظ سے کامیاب دورہ تھا۔ اس میں گلیلیو نے ٹیلی سکوپ سے اپنے مشاہدے کا تفصیلی ذکر کیا۔ تاہم ان دریافتوں کے مضمرات پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ان کے معنی کیا ہیں؟ اس طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔

لیکن یہ تصادم ہونا ہی تھا۔ 1616 کو گلیلیو کو روم طلب کیا گیا کہ وہ چرچ کے اعلیٰ عہدیداران کے سامنے اپنا دفاع کریں۔ یہ دورہ میچ کا ڈرا ہونا کہا جا سکتا ہے۔ گلیلیو کو سرزنش نہیں کی گئی اور نہ ان کی کتابوں پر پابندی لگی۔ ان کی پوپ سے بھی ملاقات ہوئی۔ صرف انہیں اس سے منع کر دیا گیا کہ وہ سورج کو مرکز کے بارے میں نہ پڑھائیں۔ (اس سے سترہ سال بعد جب گلیلیو پر مقدمہ چلا تو اس میٹنگ میں دی گئی اس ہدایت کی خلاف ورزی کا ہی تھا)۔

وقتی طور پر معاملہ طے ہو گیا۔ گلیلیو کے دوست کارڈینل باربرینی 1623 میں پوپ بن گئے۔ ان کا پاپائی نام اربن ہفتم تھا۔ اربن ہفتم سائنس مخالف نہیں تھے۔ شروع میں گلیلیو سے بھی ملاقات رہی۔ اور ان کی دریافتوں پر بات چیت ہوتی رہی۔

اس طرف سے مطمئن ہو کر گلیلیو نے ایک نئی کتاب پر کام شروع کیا۔ یہ 68 صفحات پر لکھی کتاب تھی جو 1632 میں شائع ہوئی جس کا عنوان “دنیا کے دو نظاموں کے درمیان مکالہ ۔ بطلیموس اور کاپرنیکس” تھا۔ یہ مکالمہ یکطرفہ تھا اور اس پر چرچ نے اعتراض کیا (جو غلط نہیں تھا) کہ جس طریقے سے یہ لکھی گی ہے، اس کا عنوان “چرچ کیوں غلط ہے اور پوپ اربن کیوں احمق ہیں” بھی رکھا جا سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلیلیو نے یہ کتاب لکھنے کی اجازت پوپ سے لی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ اس لئے یہ کتاب لکھ رہے ہیں کہ وہ پوپ کا دفاع کرنا چاہتے ہیں کہ چرچ جہالت کی وجہ سے سورج کی مرکزیت کی مخالفت نہیں کر رہی اور اس میں دونوں اطراف کو مکالمے کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ پوپ کا خیال تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکالمے میں دونوں اطراف رکھی جائیں گی اور فیصلہ پڑھنے والے پر چھوڑ دیا جائے گا۔

گلیلیو کے مکالمے میں سمپلیسیو ارسطو کے پیروکار ہیں۔ سالویاٹی کاپرنیکس کے لئے دلائل دیتے ہیں جبکہ ساگریڈو ذہین ہیں اور غیرجانبدار ہیں۔ گلیلیو کے بائیوگرافر ہیلبورن نے تبصرہ کیا ہے کہ گلیلیو کے مکالمے میں زمین کو مرکز میں ماننے والے کو کند ذہین، مضحکہ خیز، احمق اور کمتر انسان دکھایا گیا ہے جبکہ کوپرنیکن کو ذہین اورسمجھدار شخص۔

اس کے علاوہ پوپ نے گلیلیو کو کہا تھا کہ وہ کتاب میں یہ شامل کریں کہ خواہ دونوں میں سے کوئی بھی نتیجہ ٹھیک ہو، چرچ کی ڈاکٹرائن درست ہے۔ گلیلیو نے یہ الفاظ شامل تو کئے لیکن اپنی طرف سے نہیں بلکہ کتاب میں یہ الفاط ارسطو کے پیروکار سمپلیسیو نے کہے تھے۔ (الفاظ وہی تھے جو پوپ نے تجویز کئے تھے)۔ سمپلیسو تو کند ذہن تھا لیکن پوپ کند ذہن نہیں تھے۔ بات سمجھ گئے۔ اور بُرا مان گئے۔

جب معاملے کی دھول بیٹھی تو گلیلیو کو چرچ کے 1616 کے جاری کردہ فرمان کی خلاف ورزی کرنے پر سزا مل چکی تھی اور انہیں اپنے خیالات واپس لینے کا اعلان کرنے پر مجبور کیا جا چکا تھا۔ عام خیال ہے کہ چرچ کو مسئلہ زمین کے مرکزی ہونے کا تھا لیکن یہ درست نہیں۔ چرچ کو معلوم تھا کہ کاپرنیکس کا ویو ٹھیک ہے۔ مسئلہ پاور کا تھا۔ گلیلیو کی کتاب کو چرچ کی اتھارٹی پر حملہ سمجھا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سفید قمیض میں ملبوس گلیلیو 22 جون 1633 کو ٹریبونل کے آگے جھکے اور معافی مانگی اور کہا کہ وہ اپنی غلط رائے سے رجوع کرتے ہیں کہ سورج کائنات کا مرکز ہے اور حرکت نہیں کرتا۔ گلیلیو کے اعتراف کے الفاظ دلچسپ ہیں جس میں وہ کتاب کے مندرجات کا دفاع بھی کرتے ہیں اور چرچ کی اطاعت کا بھی۔ اپنے “اعتراف” میں وہ کہتے ہیں کہ “میں نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں ایک متروک ڈاکٹرائن کے حق میں بہت مضبوط دلائل دئے گئے تھے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نہ ایسا کہوں گا اور نہ ہی لکھوں گا”۔

گلیلیو کو برونو کی طرح جلا دئے جانے کی سزا نہیں ملی لیکن چرچ کی اس معاملے میں پوزیشن واضح ہو گئی۔ دو روز بعد انہیں فلورنس کے سفیر کے حوالے کر دیا گیا۔ اپنے آخری برس انہوں نے گھر کی قید میں گزارے۔ ان کا بیٹا ونسنزو قریب ہی رہتا تھا۔ گلیلیو پر ملنے کے لئے آنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ صرف ریاضی دان ملنے نہیں آ سکتے تھے۔ کام کرنے اور ٹیلی سکوپ کے استعمال پر روک ٹوک نہیں تھی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گلیلیو نے اسی قید کے وقت میں حرکت کی فزکس پر اپنے خیالات مکمل کیے اور اپنی وہ کتاب لکھی جو ان کا سب سے شاندار کام سمجھا جاتا ہے۔ یہ کتاب لائیڈن میں سمگل ہوئی اور وہاں پر 1638 میں شائع ہوئی۔ یہ Discourses and Mathematical Demonstrations Relating to Two New Sciences کے عنوان سے تھی۔

گلیلیو کی صحت خراب ہو رہی تھی۔ 1637 میں ان کی بینائی جا چکی تھی لیکن ذہن صحتمند تھا۔ وہ ملاقاتیوں سے طویل باتیں کرتے۔ ان کا انتقال 77 سال کی عمر میں 1642 میں ہوا۔ اسی سال جب نیوٹن کی پیدائش ہوئی۔

گلیلیو کو اپنے والد کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش تھی۔ گرینڈ ڈیوک ان کا مقبرہ بنوانا چاہتے تھے۔ لیکن پوپ نے اس کو منع کر دیا۔ ایک چھوٹی سی تقریب میں ان کی آخری رسومات ہوئیں۔ ان کی وفات پر افسوس کرنے والے بہت تھے۔ وہ بھی جو چرچ سے تعلق رکھتے تھے۔ پوپ کے لائبریرین نے لکھا “اس شخص نے نہ صرف فلورنس کو متاثر کیا ہے بلکہ پوری دنیا پر اثر ڈالا ہے۔ پوری صدی کو متاثر کیا ہے۔ کوئی عام فلسفی اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا”۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *