بے چارہ مجرم۔۔محمود چوہدری

کھانے کے بعد لطیفوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ چودھری صاحب نے اپنی مونچھوں کو بل دیا اور کہنے لگے میں بھی ایک سچا واقعہ سناتا ہوں ۔ پنڈ میں ویاہ تھا ۔ لڑکوں کی خواہش تھی کہ ناچنے والیاں لائی جائیں ۔ میں شہر گیاایک کنجر سے بات کی ۔جب میں نے اسے کہا کہ وقت پر آجانا تو کنجر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا چودھری صاحب ہم زبان کے پکے ،عزت دار لوگ ہیں وقت پر پہنچ جائیں گے ۔ چودھری صاحب بولے کنجر اور عزت دار ہاہاہا۔ ساری محفل میں قہقہے لگنا شروع ہوگئے ۔لیکن مجھے بالکل ہنسی نہیں آئی میں نے چودھری صاحب سے پوچھ ہی لیا تو کیا پھر وہ کنجرناچنے والیوں کو لیکر وقت پر پہنچا یا نہیں ؟ محفل میں لوگ مجھے اس طرح دیکھنا شروع ہوگئے جیسے میں کوئی آسمانی مخلوق ہوں ۔ یہ واقعہ سن کر مجھے بالکل ہنسی نہیں آئی کیوں نہیں آئی ؟اس کی وجہ ایک واقعہ ہے جومجھے ماضی میں لے گیا۔

جب میں اٹلی میں تھا تو بطور ترجمان عدالت میں ایک ریپ کیس کی کاروائی سننے جانا پڑا۔ جب کاروائی شروع ہوتی تو عام پبلک اور میڈیا کو کمرہ عدالت سے باہر نکا ل دیا جاتا ۔ وکلا ،پولیس ، گواہان اور میڈیکل عملے کے علاوہ کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ ملزم ایک انڈین پنجابی تھا اورمیں اس کا مترجم تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس کے دوستوں نے گھر میں پارٹی کا اہتمام کیا،کرائے پر کچھ تتلیاں لیکر آئے، رات بھر شراب کے دور چلے، لڑکیوں سمیت ہر شخص نے ووڈکا چڑھایا ،رقص و سرود، عیش و عشرت سے لطف اندوز ہوئے اور آخر تھک کر سوگئے ۔ ملزم پارٹی میں شامل نہیں تھابلکہ وہاں صبح  پہنچا ۔چونکہ بے روزگار تھا ا   س لئے اس  نے گھر جا کر کھانا پکانا وصفائی و دیگر کام کرتا تھا۔

جس طرح جنگل میں شکار ہوئے کسی جانور کی لاش سے درندے سیر ہو کر جب چلے جاتے ہیں تو گیدڑ یا دیگر جنگلی کتے باقی ماندہ مردہ جسم کاگوشت نوچتے ہیں اسی طرح ملزم نے بھی رات کی بچی ہوئی بوتلوں میں سے شراب چڑھائی ۔ نیم برہنہ ایک تتلی کو ناشتہ تیار کر کے دیا ۔ لڑکی نے اس پر التفات کی نظر دو ڑائی اور انڈین پنجابی نے اسے رضامندی سمجھ لیا ،اس کے اندر کا جانور بیدار ہوا، اس نے دست درازی شروع کر دی، عورت نے شور مچایا، محلے نے پولیس بلا لی۔ اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ باقی کے لمحات طے ہوئے تھے یا نہیں اس مسئلے پر دونوں فریقین میں مقدمہ چل رہا تھا ۔کیس اتنا سادہ نہیں تھا ۔ انڈین انکاری تھا اور رشین خاتون نے ریپ کیس کیا تھا ۔ دونوں ہی بھرپور ٹن تھے اس لئے کسی بھی ایک فریق کی بات ماننے کے لئے عدالت نے دو سال لگا دیے تھے۔

یہ انڈین پچھلے دو سال سے پہلے جیل میں اور اب ہاؤ س اریسٹ پر تھا ۔ دو لمحوں کی اس کاروائی نے اس کی زندگی جہنم بنا دی تھی ۔ پولیس رات کو دودو بجے آکر بھی اس کا دروازہ کھٹکا کر اس سے پوچھتی تھی کہ گھر پر ہویا نہیں، اسے ہر ہفتے مقامی انسپکٹر کو رپورٹ دینی ہوتی تھی ۔ کوئی مالک اسے کام نہیں دیتا تھا۔ وہ لوگوں سے پیسے لیکر اپنی روٹی کا بندوبست کر رہا تھا ۔اس کا پاسپورٹ تک پولیس کی تحویل میں تھا اور یہ انڈیا واپس بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ اس کی کمیونٹی اس سے نفرت کرتی تھی اسے ریپسٹ کہتی تھی ۔جج تاریخوں پر تاریخیں دے کر اسے خجل خوا ر کر رہے تھے ۔ ایک دن میرے سامنے وہ رونا شروع ہوگیا ۔ کہنے لگا کہ میں اپنے بچوں کے لئے کمائی کرنے نکلا تھا ۔ میری زندگی برباد ہوگئی ہے ۔ انڈیا میں کوئی میری بیٹی سے رشتہ کرنے نہیں آئے گا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تو نے یہ مکروہ کاروائی کی ہے یا نہیں ۔ وہ میرے سامنے بھی انکاری ہوگیا ۔

ان دنوں میں بھی سی سی پی او پنجاب عمر شیخ جیسی علمی و ذہنی پستی کا حامل تھا ۔ میں نے اس عورت کا لباس ، رشین بیک گراﺅنڈ ، کیس کے دوران بننے والے موقع محل ، شراب ووڈکا اور رقص و سرود کا سین اپنے ذہن میں بٹھایا تو مجھے بھی اس خاتون سے اسی طرح بغض ہوگیا جیسا اکثر ہمارے دانشوروں کوریپ کیس میں ہوجاتا ہے جن کا پہلا تجزیہ عورت کا لباس اور موقع محل پر ہی ہوتا ہے ۔ کیس اتنا لمبا ہوچکا تھا اکثر کھانے کے وقفے میں وکلاءاور پبلک پراسیکیوٹر مجھے بھی ساتھ لے جاتے ۔میں نے سوچا ان سے بات کروں گا۔ میں نے پبلک پراسیکیوٹر سے کہا کہ یہ خاتون جس طرح کی ہے، جس پیشے سے اس کا تعلق ہے اور جس ماحول میں یہ سارا واقعہ ہوا ہے اس کے بعد بھی کیا وہ انڈین ہی مجرم قرار دیا جاسکتا ہے ۔ وہ کافی پی رہا تھا ۔اس نے کافی کا کپ نیچے رکھا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔ تو تم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کی عورت کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہونے چاہئیں ؟ اس کی کوئی مرضی نہیں ہونی چاہیے ؟ اور ریاست کو اس کی آبرو کی کوئی حفاظت نہیں کرنی چاہیے ؟اور کسی بھی مرد کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ ان سے زبردستی کر لے ۔۔۔ اس کی نظریں میری روح تک کو زخمی کر رہی تھیں ۔ اتنے نرم انداز میں  اس نے مجھے اتنی اہم بات سمجھائی جو شاید میں پہلے کبھی سمجھ نہ سکتا ۔میں بھی ا ن مونچھوں والے چودھری صاحب کی طرح اس سو چ کا حامل تھا کہ کنجروں کی کون سی عزت ہوتی ہے۔

اس کے بعدبپلک پراسیکیوٹرتو خاموش ہوگیا لیکن میرے ذہن کی کھڑکیاں کھول گیا کہ ریاست اپنے ہر شہری کی حفاظت کرتی ہے اس کی مرضی ، اس کی آبرو کی حفاظت کرتی ہے ۔ میراذہن بنا گیا کہ مجرم کو کبھی بھی کسی قسم کی رعایت نہیں دینی چاہیے کہ وہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف چھو سکے ۔ اس اطالوی وکیل نے مجھے وہ سکھا دیا جو کسی معلم نے نہیں سکھایا۔ پاکستان میں سی سی پی او عمر شیخ نے جس طرح کی گل افشانی کی ہے یہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ کی عکاس ہے۔بدقسمتی سے ریپ کیس کے بعد ہمارے دانشوروں ، قانون کے محافظوں ، مذہبی راہنماﺅں ، سیاسی جغادریوں کا ایسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے جس سے بظاہر یہ لگے کہ مجرم بے چارہ تو مجبور ہوگیا تھا اس جرم کے لئے ۔ وکٹم نے اسے موقع ہی ایسا فراہم کیا کہ مجرم کو یہ کرنا پڑا ۔ اس کا لباس ایسا تھا۔ وہ اکیلی تھی، وہ رات کو نکلی ۔۔۔ بحیثیت قوم ہمیں اب اس سوچ سے نکلنا ہوگا ۔ جرم جرم ہوتا ہے اور مجرم کسی بھی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں ہوتا ۔ متاثرہ فریق کے عیب تلاش نہیں کئے جائے ، ریاست مجرموں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے ہر شہری کو تحفظ دینے کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ سخت سے سخت سزاﺅں کی مطالبہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ معاشرے کی اجتماعی سوچ بدلی جائے۔

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *