پاکستان سازشوں کے گرداب میں۔۔شیر علی انجم

یہ مملکت خداداد پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ اس ملک کو بننے کے بعد سے ہی اندرونی اور بیرونی طور پر سازشوں کے ذریعے پھلنے پھولنے نہیں دیا  گیا،اور معاشی طور میں عدم استحکام رکھا۔ مذہبی انتہاء پسندی نے اس مُلک کی جہاں افغان جہاد کی شکل میں بنیادیں ہلا کر رکھ دیں، وہیں افغان جہاد کے بعد فرقہ وارانہ فسادات اور طالبانائزیشن نے اسلام کے نام پر مُلک کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ سابق ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں اور اُن کے بعد کفر کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کے سلسلے میں تیزی آگئی جو بدقسمتی سے آج بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ میڈیا پر ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں اور اہل علم کا خیال ہے کہ یہ کام کسی کے مفاد میں، کسی کو بچانے کیلئے، کہیں سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ایک ہتھیار کے طور پر بدقسمتی سے مذہب کا نام استعمال کرکے ماضی سے لیکر آج تک ہوتے رہے ہیں۔

موجودہ ملکی اور عالمی حالاتِ کے تناظر میں تجزیہ نگاروں کے ان تجزیات کو حقائق کے آئینے میں اگر دیکھیں تو سچ بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور اس وقت پاکستان فنانشل ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے، سی پیک کی شکل میں پاکستان ترقی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان دشمن قوتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ پاکستان نے بلیک لسٹ سے بچنے کیلئے اہم فیصلے کئے، جن میں نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے۔ لیکن اس وقت اگر سوشل میڈیا دیکھیں تو نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں ۔ لوگوں سے زبردستی عقیدے تبدیل کرانے کی ویڈیوز مسلسل سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جا رہی ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ دشمن اقوام عالم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ ملک ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور یہاں آج بھی اقلیتوں اور کمزوز طبقے کو جہاں موقع ملے، نشانہ بنایا جاتا ہے اور ریاست اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام اور غیر سنجیدہ ہے۔
اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ تمام قسم کے سخت قوانین کے باوجود اس وقت تکفیریت کا ایک نیا ورژن لانچ ہوا ہے، جو لبیک یارسول کے  نعروں کے ساتھ کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر کھلے عام کرتا ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ اور کالعدم لشکر جھنگوی جو ملکی قوانین کی روشنی میں دہشت گرد تنظیمیں ہیں، ہر جگہ بے لگام نظر آتی ہیں اور انہوں نے ماضی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک کی دیواریں کالی کرنی شروع کر دی ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں، جو دشمن کی اصل خواہش ہے اور دشمن اس طرح وال چاکنگ، تقاریر اور نعروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا سے اُٹھا کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں، جن کا پاکستان کسی بھی طور پر متحمل نہیں۔

دوسری طرف وہ عرب ممالک، جن کو پاکستانی عوام کل تک اپنا سب کچھ سمجھتے تھے، ان ممالک کو مسلمانوں کا مسیحا اور حقوق کے تحفظ اور قبلہ اوّل کی آزادی کا ضامن سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے ایک ایک کرکے صیہونی ملک کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے رشتے جوڑ لئے، پھر سعودی عرب کی شاہی حکومت نے اسرائیل کیلئے فضائی راستے کھول دیئے اور اب گزشتہ روز بحرین جس کی سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ساتھ رشتہ داری ہے، نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرلیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں امت مسلمہ کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو، پاکستان کے مسلمان سب سے پہلے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں۔ لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے مسلمان اس وقت ایک دوسرے کو کافر اور مرتد بنانے کے کام میں مکمل طور پر مصروف نظر آتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے اسرائیل نوازی پر پاکستان میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے، بلکہ یوں کہیں کہ ملکی میڈیا پر بھی ایک دم سناٹا ہے۔ لہذا کڑیوں سے کڑیاں ملا کر عقیدے کی دنیا سے نکل کر اگر کسی نے سوچا تو سمجھنے کیلئے بہت کچھ ہے کہ آخر کب تک پاکستان کی سرزمین اور یہاں کے عوام عرب ممالک کیلئے ایندھن بنے رہیں گے، جن کے اپنے ممالک میں سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کیلئے پوسٹ کرنے پر بھی کوڑے لگتے ہیں، جلسے، جلوس، احتجاج اور بنیادی حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنا کیا ہوتا ہے، ان ممالک کے شہریوں کو آج بھی معلوم نہیں۔ میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ کمزور معیشت اور غیر مستحکم سیاسی نظام ہے، جس نے کبھی پاکستان کو ترقی کرنے نہیں دی۔ ورنہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی اور آبی وسائل سے مالا مال ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے۔

اب اگر معاشی کمزوری کی بات کریں تو بدقسمتی سے اس ملک کی کمزور معیشت کی وجہ سے یہ عظیم ملک اسلامی دنیا کی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود عرب ممالک کے ہاتھوں یرغمال نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شائد موجودہ حکومت اس بلیک میلنگ سے نکلنا چاہ رہی ہے۔ پاکستان آزاد خارجہ پالیسی کے ساتھ آزاد معاشی پالیسی کی طرف بڑھتے ہوئے نئے عالمی بلاک کی طرف جا رہا ہے، جس میں عرب ممالک کا کردار زیرو ہوگا۔ اس بات کا انکشاف معروف مذہبی اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کئی سال پہلے کرچکے ہیں، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ پس پاکستان کے خلاف بڑی باریک بینی سے جاری عالمی اور خلیجی سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کو عدم استحکام کرنے کیلئے استحکام اور عظمت صحابہ کے نام پر مسلسل انتشار پھیلایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر مذہبی انتہاء پسندی پر مبنی مواد بھرا پڑی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس قسم کے جرائم کی روک تھام کیلئے بنائے گئے سرکاری اداروں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر کیا ہو رہا ہے، شائد کچھ معلوم ہی نہیں۔

حالانکہ گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان پر ففتھ جنریشن وار مسلط کئی گئی ہے۔ اب یہ ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے میرا تو خیال یہی ہے کہ ملک کے اندر مذہب اور مسلک کے نام پر انتشار پھیلانا بھی ففتھ جنریشن وار کا ایک اہم حصہ ہے۔ جس میں کوئی غیر نہیں، اس ملک کے باسی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کام سے ملک اندرونی طور بدترین بدامنی کا شکار ہو جائے گا، جو کہ پاکستان دشمن عناصر کی سازش اور خواہش ہے کہ پاکستان کسی بھی طرح بلیک لسٹ ہو جائے۔ یہاں کرپشن اور بدعنوانی کا بول بالا ہو، تاکہ اس ملک کی بنیاد ہل جائے۔ لہذا اس ففتھ جنریشن وار کو سمجھنے کی ضرورت ہے، مسلمانوں کے درمیان فروعی اختلاف کوئی آج کی بات نہیں بلکہ چودہ سو سال پرانی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت اور تاریخ کا اہم باب ہے کہ امام بخاری (رح)، امام شافعی (رح) اور امام ابو حنیفہ (رح) امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے، جن کے ماننے والوں کو آج مسلک اور عقیدے کے نام پر لڑایا جا رہا ہے، جو کہ دراصل پاکستان کے خلاف لڑائی ہے۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *