ہم شرمندہ ہیں ۔۔حذیفہ سنان

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ کیا ہونے لگا۔اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے اس ملک میں آخر مائوں بہنوں اور یہاں تک کہ بھائیوں کی عزتیں محفوظ کیوں نہیں۔لاہور موٹروے پر ایک خاتون کو اپنے دو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا مگر آخر اس کا ذمہ دار کون؟ اس کے ذمہ دار ہم ہمارا میڈیا ہماری عدالتیں ہماری حکومت اور کل معاشرہ ہے۔ہم سب نے اس کو ایک عوامی مسئلہ ہی نہیں سمجھا ۔یہ تو ہمارے نزدیک صرف ایک معمولی سی خبر ہے۔کیونکہ ہمارے ،اس معاشرے کے ،اس کی عدالتوں،میڈیا اور حکومت کے لیے کوئی مسائل نہیں ۔ یہاں مسائل تو یہی ہیں کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کتنے ہیں ۔نواز شریف وطن کب واپس آ رہے ہیں ۔آ بھی رہے ہیں کہ نہیں ۔کس کے اثاثے آمدن سے کتنے زیادہ ہیں کون نیب کی زد میں آنے لگا ہے ۔آئی جی پولیس کب تبدیل ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے ہمارا میڈیا بھی سوشل نہیں رہا۔۔ایسے مسائل تو چند روز شہ سرخیوں میں آئیں گے اخبارات کی زینت بنیں گے ۔اور پھر سب بھول جائیں گے کہ اس خاتون کو انصاف ملا یا ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی وہ وحشی وکٹری کا نشان دکھاتے ہوئے ہمارے عدالتی نظام سے با عزت بری ہو جائیں گے۔اور ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی حکومتیں شاید کوئی منظم قانون سازی کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے مذمتی قرارداد پاس کر سکیں؟؟؟اس کے ذمہ دار ہم ،ہمارا میڈیا ہماری عدالتیں ہماری حکومت اور کُل معاشرہ ہے ۔
جس دیس سے ماؤں بہنوں کو اغیار اٹھا کر لے جائیں
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کوٹ کچہری میں انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
اس دیس کے ہر اک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر اک حاکم کو سولی پر چڑھانا واجب ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *