سایہ۔۔عمر قدیر اعوان

میرا نام رفعت ہے یا شاید شکُنتلا۔ پہلے 12 سال تک تو رفعت ہی تھا پھر کچھ دن کے لیے شکنتلا ہو گیا۔ پھر یہ معمول بن گیا کچھ دن رفعت تو کچھ دن شکنتلا. میرے پاس الفاظ بھی تھے کہانی بھی ,بیان کی طاقت بھی لیکن جب میں بیان کرنے لگتی تو میں رفعت سے شکنتلا ہو جاتی، میری زبان سے شکنتلا بھجن گانا شروع کر دیتی۔۔۔

گنگا چہ گیتا، گائیتری سیتا، سیتا سرستی برہم ودیا.
برہما ولی تری سندھیا مگت گیتی ارد ماترا چند آنند.
بھئی دائنی، بھئی ناشنی، ویدانت تتو ارتھ برتھ گیان منجری.
ہری اوم تت ست

اور میں اسے ٹُک دیکھنے کے علاوہ کوئی مداخلت نہ کر پاتی اس دوران میں مزاحمت کرتی, کوشش کرتی کہ میری زبان پر دوبارہ میرے الفاظ جاری ہو سکیں میں وہ سب بول دوں جو میرے دل میں ہے۔ اسی کشمکش میں میرا جی ہول اٹھتا اور میرا دل چاہتا یہاں سے بھاگ جاؤں ۔۔اور پھر میں بھاگ جاتی۔ اپنے گھر سے چچا کے گھر وہاں سے کھیتوں کی طرف، اماں چھوٹا بھائی اور کچھ رشتہ دار عورتیں اور وہ سایہ میرے پیچھے بھاگتے ہوئے آتے۔ مجھے لگتا سایہ سب سے آگے ہے اور وہ مجھے پکڑ لے گا اور میں درخت پر چڑھ جاتی۔ پھر سب پکڑ کر مجھے گھر لے آتے، مجھے لگتا جیسے میری ساری طاقت میرے بازوؤں اور ٹانگوں میں مرتکز ہو گئی ہے، میں اس سائے کو اپنے جسم سے دور رکھنے کے لیے ہاتھ پیر مارتی، کسی کے منہ پر ہاتھ لگتا تو کسی کے پیٹ میں لات اور پھر میں نڈھال ہو کر بے ہوش ہو جاتی۔ کبھی دو دن بعد ہوش آتا کبھی تین دن بعد۔ اماں نے کوئی حکیم کوئی پیر فقیر نہ چھوڑا، جہاں جہاں کسی نے بتایا لے کر گئی۔ ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ اس پر سایہ ہے۔ اور چیزیں بہت طاقتور ہیں اسے کبھی نہیں چھوڑیں گی۔ اب میں انہیں کیسے بتاتی کہ جب وہ مجھ پر دم درود کر کے یا تشدد کر کے سوالات کرتے ہیں تو شکنتلا مجھے بولنے نہیں دیتی وہ ہر سوال کا جواب خود دیتی ہے۔ اور جب جب سوال ہوتا ہے وہ آجاتی ہے۔ وہ سب کو یہی کہتی ہے کہ میرا نام رفعت نہیں شکنتلا ہے، پوجا اور رادھا کی بہن شکنتلا۔۔۔۔اور یہ کہ وہ اسے لیے بغیر نہیں جائیں گی۔ پھر تھک ہار کر اماں نے بھی کہیں لے جانا چھوڑ دیا۔ میرے جتنی خوبصورت لڑکی پورے گاؤں میں نہیں تھی۔۔۔۔جب میں گھر سے بھاگ کر درختوں پر چڑھتی تو بے پردگی بھی ہوتی جو میرے بھائیوں کی غیرت کو ناگوار گزرتی اور پھر ایک دن انہوں نے مجھے الٹا لٹکا کر اتنا مارا کہ میں پہچانی تک نہیں جاتی تھی، پورا مہینہ میں بستر سے نہ اُٹھ سکی۔ میں یہ یاد کرنے کی بہت کوشش کرتی کہ مجھے یاد آ جائے کہ پہلے دن جب شکنتلا نے میری شخصیت پر قبضہ کیا تھا اس دن کیا ہوا تھا لیکن کچھ مبہم تصویروں کے علاوہ کچھ یاد نہ آتا۔ چارپائی۔۔۔۔چھت کا پنکھا جس کی ہوا کم اور آواز زیادہ تھی۔۔۔۔اور دروازے کے پَٹ کے پیچھے سے جھانکتا ہوا ایک سایہ جس کی شکل طاری چاچو سے ملتی تھی۔

چھ ماہ کی مسلسل کوشش سے میں رفعت سے یہی معلومات حاصل کر سکا۔ رفعت کی اماں سے مزید یہ پتہ چلا کہ دورے کی کیفیت کے بعد بھی وہ اماں سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی، اسے اماں تک نہیں کہتی۔۔۔۔بلکہ وقتاً فوقتاً نفرت بھرے لہجے میں کہتی “عیشاں سارا تیرا قصور اے” پھر میں نے اماں سے پوچھا کہ یاد کر کے یہ بتائیے کہ جب رفعت کو پہلا دورہ پڑا تھا اس کے ایک دو دن پہلے کیا واقعات ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سسرال میں شادی تھی اور کیونکہ صبح جا کر شام کو واپس آجانا تھا اس لیے رفعت کی ضد کے باوجود اسے ساتھ لے کر نہیں گئی۔ شام کو واپس آئی تو رفعت کو تیز بخار تھا اور وہ اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی تھی۔ دو دن بعد پہلا شدید دورہ پڑا اور پھر آہستہ آہستہ حواس کے دورانیے میں کمی آتی گئی۔ میرے ذہن میں رفعت کی بتائی ہوئی مبہم تصویریں شفاف ہوچکی تھیں پنکھے کی آواز مجھے سائے کی ہنسی میں دبتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *