گلیلیو کے تجربے (28)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING

گلیلیو کے تجربات ویسے تھے جیسے آج کسی ہائی سکول کی سائنس لیبارٹری میں کئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ لیبارٹری ویسی نہ تھی۔ گلیلیو کے پاس وہ زبردست سامان نہیں تھا جو آج کے سکول کے طلبا کے پاس ہوتا ہے۔ بجلی، گیس اور نلکا تو نہیں تھے لیکن سب سے اہم یہ کہ ان کے پاس گھڑی بھی نہیں تھی۔ انہوں نے وقت کی پیمائش کی لئے ایک بالٹی کے پیندے میں سوراخ کر لیا تھا۔ جب وقت کی پیمائش کرنی ہو تو اسے بھر لیتے تھے، اور یہ دیکھتے تھے کہ جس دورانیے کی پیمائش کرنی ہے، اس دوران پانی کتنا بہا۔ بالٹی کا وزن انہیں دورانیہ بتا دیتا تھا۔

گلیلیو نے اس واٹر کلاک کے ذریعے ایک متنازعہ مسئلے کو حل کرنے کا تجربہ کیا۔ یہ اشیا کے نیچے گرنے کا مسئلہ تھا۔ ارسطو کی فزکس میں نیچے گرنا ایک فطری حرکت تھا جس کا تعلق گرنے والی چیز کے وزن سے تھا اور گرتے وقت جسم کی رفتار یکساں رہتی ہے۔

اور اگر آپ سوچیں تو کامن سینس یہی کہتی ہے۔ پتھر پتے سے زیادہ تیز گرتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ پتے کی رفتار یکساں رہتی ہے۔ وقت کی اچھی پیمائش کئے بغیر، ایکسلریشن کے تصویر کے بغیر ارسطو کی وضاحت معقول لگتی تھی۔ لیکن یہی کامن سینس ایک اور طرح سے اس کے خلاف بھی تھی۔ اگر اونچائی سے سیب سر پر گرے تو چوٹ زیادہ لگتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا تھا کہ گرتے وقت اشیا کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے۔ اس وجہ سے یہ مسئلہ متنازعہ رہا تھا۔ گلیلیو اس کا جواب معلوم کرنا چاہ رہے تھے۔ انہیں یہ بھی پتا تھا کہ ان کی گھڑی اتنی پریسائز نہیں تھی کہ یہ تجربہ کر سکے۔ انہوں نے یہ عمل کو سست کرنے کا طریقہ نکالا جو پالش کی گئی کانسی کی گیندوں کو مختلف زاویے والے پلین سے لڑھکانے کا تھا۔ اور یہ اس قسم کا طریقہ ہے جو جدید فزکس کا دل ہے۔ اچھا تجربہ ڈیزائن کرنے کا چیلنج ہی یہ ہے کہ کس چیز پر دھیان دینا ہے اور کسی نظرانداز کرنا ہے، تاکہ تجربہ وہ بتا دے جو ہم جاننا چاہ رہے ہیں۔

گلیلیو کا جینیس اس تجربے کو ڈیزائن کرتے وقت دو چیزیں ذہن میں رکھنا تھا۔ پہلا یہ کہ گیندوں کو اتنا سست کر دیں کہ پیمائش کر سکیں اور دوسرا یہ کہ ہوا کی مدافعت اور فرکشن کم سے کم ہو۔ گلیلیو کا اندازہ تھا کہ ایک ویکیوم میں پتھر اور پر ایک ہی رفتار سے گریں گے۔ اور وہ اس کے قریب قریب کے حالات پیدا کر رہے تھے جہاں فرکشن اور ہوا کی مخالفت کو نظرانداز کیا جا سکے۔

کم زاویے پر گیند سست رفتاری سے لڑھکی اور پیمائش کرنا آسان تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گیند کا طے کردہ فاصلہ دورانیے کے سکوائر کے حساب سے تبدیل ہوتا ہے۔ یعنی ایک مستقل ہونے والی ایکسلریشن ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس کا تعلق گیند کے وزن سے نہیں۔

اور پھر زاویہ تبدیل کرنے سے بھی اس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ گیند کا فاصلہ گیند کے وزن سے نہیں بلکہ وقت سے تھا۔ اور اگر یہ دس، بیس، تیس، چالیس اور پچاس کے زاویے پر درست تھا تو نوے پر کیوں نہیں؟ اور اب انہوں نے نتیجہ نکالا کہ ان کا تجربہ نیچے گرتے اجسام پر بھی درست ہو گا۔ عمودی کرنے سے بھی یہی نتائج نکلے گے۔ صرف فرق یہ پڑے گا کہ گیندوں کی رفتار زیادہ تیز ہو گی۔

اور یوں، ارسطو کے اس خیال کو گلیلیو نے خیالات کے تخت سے معزول کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلیلیو کو اگر ریاضی کا شوق تھا تو ساتھ تجرید کا بھی۔ اور تصور میں مناظر بنانے میں ماہر تھے۔ غیرسائنسدان اسے fantasy کہیں گے، سائنسدان اسے thought experiment کہتے ہیں۔ اس میں آلات کی ضرورت نہیں اور سوچ کے ایسے اچھے تجربات کام کرتے ہیں۔ ایک تیر کی حرکت پر ارسطو نے کہا تھا کہ ہوا کے ذرات اسے دھکیل رہے ہیں۔ گلیلیو اس سے متفق نہیں تھے۔

انہوں نے کہا، “تصور کریں کہ سمندر پر ایک بحری جہاز ہے، اس میں ایک بند کیبن میں لوگ بیٹھے گیند اچھال رہے ہیں، تتلی اڑ رہی ہے۔ مچھلی ایک پیالے میں تیر رہی ہے اور پانی بوتل سے ٹپک رہا ہے۔ اب خواہ جہاز رکا ہوا ہے یا پھر ایک ہی رفتار سے حرکت کر رہا ہے تو اندر والوں کے لئے اس منظر میں کوئی فرق نہیں”۔ انہوں نے نتیجہ یہ نکالا کہ جہاز کی حرکت ان اشیا پر منتقل ہو گئی ہے اور ان کی اپنی حرکات جہاز کے مقابلے میں ہیں۔ کیا اسی طرح تیر پر حرکت ابتدا میں نہیں منتقل ہو گئی؟ یہ تیر اس لئے حرکت کر رہا ہے کہ یہ حرکت میں تھا۔ اور گلیلیو نے اس طرح ارسطو کا ایک اور خیال غلط قرار دے دیا۔ کسی شے کو حرکت کرتے رہنے کے لئے کسی فورس کی ضرورت نہیں۔ حرکت کرتی شے حرکت کرتی رہے گی۔ ویسے ہی جیسے رکی ہوئی شے رکی رہتی ہے۔ گلیلیو کا یہ قانون انرشیا کا قانون کہلاتا ہے۔ بعد میں نیوٹن نے اسی سے پہلا حرکت کا قانون نکالا۔ (نیوٹن نے اس قانون کو لکھتے ہوئے یہ لکھا کہ یہ گلیلیو کی دریافت ہے۔ یہ وہ شاذ موقع ہے جب نیوٹن نے کسی اور کو بھی کریڈٹ دیا ہے)۔

گلیلیو کے انرشیا کے قانون نے ارسطو کے ہوا کے ذروں کو دھکا لگانے کی ضرورت ختم کر دی تھی۔ اور یہ ماضی کی فزکس سے ایک بڑا بریک تھا۔

گلیلیو نے گریویٹی دریافت نہیں کی یا اس کی ریاضی تک نہیں پہنچے۔ اس کے لئے ابھی نیوٹن کا انتظار کرنا تھا۔

گلیلیو کی اگلی بڑی کنٹریبیوشن، جس سے انہوں نے سب سے زیادہ شہرت پائی، ایک عینک ساز کی مدد سے ہوئی تھی۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *