• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مینٹل ٹراما, جھول اور قلمی گِدھوں کا غول۔۔ بلال شوکت آزاد

مینٹل ٹراما, جھول اور قلمی گِدھوں کا غول۔۔ بلال شوکت آزاد

روزانہ وطن عزیز ہی نہیں خطہ برصغیر بلکہ دنیا بھر میں ریپ کیسز وقوع  پذیر ہورہے ہوتے ہیں, اگر ہم بین الاقوامی سرویز اور آفیشل ریکارڈز سے ایک محتاط اندازہ لگائیں تو ہر سیکنڈ میں حتی کہ میرے اس جملے کے اختتام تک سینکڑوں بلکہ ہزاروں خواتین دنیا بھر میں جنسی درندگی کا شکار ہورہی ہونگی, ہو چکی ہونگی یا ہونے والی ہونگی۔

اور یہ وہ کیس ہیں جو ریکارڈ پر درج ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ہم اگر فرسٹ, سیکنڈ اور تھرڈ ورلڈ کے کیسز الگ کرلیں تو اکثریت ان کیسز میں فرسٹ ورلڈ کی ملے گی پھر بالترتیب سیکنڈ ورلڈ کے کیسز ہونگے اور سب سے آخر میں تھرڈ ورلڈ ہوگی لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تھرڈ ورلڈ میں ریپ کم ہوتے ہیں؟

نہیں صاحبان ایسا نہیں ہے۔

دراصل فرسٹ اور سیکنڈ ورلڈ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے فعال ہیں, عوام بے باک اور باشعور ہے لہذا ان کے ہاں باوجود جرم کی شرح زیادہ ہونے کے  ہر دس میں سے نو ریپ کیسز فوراً رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے سات کیسز عدالتوں میں ٹرائل کے لیے فوراً پیش کردیئے جاتے ہیں جبکہ تھرڈ ورلڈ میں یہ تناسب 180 ڈگری متضاد ہے مطلب یہاں ہر دس ریپ کیسز میں سے ایک سے دو وہ بھی بات میڈیا میں آنے پر درج ہوتے ہیں اور دو میں سے بھی ایک کیس عدالت میں ٹرائل کے لیے پیش ہوتا ہے اور جس کا فیصلہ عموماً  مدعی کے خلاف ہی آتا ہے یا پھر مدعی عدالت کے باہر پھڑکنے سے فائل کلوز کردی جاتی ہے۔

تو اگر ہم فرض کرلیں کہ روزانہ پاکستان میں دس سے پندرہ کیس ریپ کے ریکارڈ پر آتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ کم سے کم روزانہ سو سے ڈیڑھ سو ریپ وقوع پذیر ہوتے ہیں پر شرمندگی, بدنامی, ذلت, میڈیا ٹرائل کے خوف, عدالتی ٹرائل میں بیہودہ سوالات سے بچنے اور قانونی اداروں کی عدم امداد و اخلاقی زوال کی بدولت ریکارڈ پر نہیں آتے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ساری جدت کا محور لائف سٹائل اور نظریات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ورنہ ہمارے مدخلہ ادارے اگر جدت کا فائدہ اٹھائیں تو یہ ڈیڑھ سو کیسز مکمل نہ صحیح ان کا آدھا ضرور ریکارڈ پر آئے اور شفاف تحقیقات سے انصاف یقینی بن سکے۔

لیکن ہماری پولیس اور دیگر مدخلہ اداروں کا سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر ستر سے سو سالہ پرانا ہے جس کی وجہ سے مدعی اور مظلوم سے زیادہ ملزم اور مجرم فائدہ اٹھا جاتے ہیں اتنے پرانے نظام کے لوپ ہولز کا صحیح استعمال کرکے۔

سیدھا مدعے پر آؤں تو ایک بات ہے جس کو بہت زیادہ اچھالا جارہا ہے کل سے رنگ روڈ ریپ کیس پر تبصرے اور تجزیئے کرتے ہوئے کہ جی عورت نے جو کہانی ایف آئی آر میں درج کروائی ہے وہ جھول سے بھری ہوئی ہے۔

اس کے بعد سوالات, اعتراضات اور مسلسل سامنے آتے واقعات کے تناظر میں لوگ تذبذب کا شدید شکار ہورہے ہیں جبکہ حقیقت جو نظر آرہی ہے وہ بھی غلط نہیں اور جس حقیقت کی پردہ داری ہورہی ہے وہ بھی غلط نہیں۔

آئیے ذرا سائنٹیفکلی اور لوجیکلی سمجھتے ہیں حسن ظن رکھتے ہوئے تاکہ ہماری کنفیوژن تھوڑی کم ہو اور اس سے ہم اصل مسئلہ کو سمجھ سکیں کہ باقی غیر درج شدہ کیسز کیوں درج نہیں ہوتے؟

کیونکہ ریپ وکٹم شور سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایک اصطلاح ہے۔ ۔ ۔ ٹراما!

ٹراما کا لفظی مطلب ہے صدمہ, چوٹ اور دھچکہ۔

اس اصطلاح کا استعمال آپ کو ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں نظر آتا ہوگا بالخصوص ٹراما سینٹر تو ضرور آپ نے دیکھے ہونگے۔

بنیادی طور پر ٹراما کی اصطلاح بیک وقت جانی, و مالی اور نفسیاتی صدمات اور نقصانات کا احاطہ کررہی ہوتی ہے۔

ایک اور اصطلاح مستعمل ہے جسے مینٹل ٹراما کہا جاتا ہے, مطلب ذہنی یا نفسیاتی صدمہ, چوٹ یا دھچکہ۔

اس اصطلاح کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ

“Psychological, or emotional trauma, is damage or injury to the psyche after living through an extremely frightening or distressing event and may result in challenges in functioning or coping normally after the event.”

مطلب یہ کہ

“نفسیاتی ، یا جذباتی صدمہ ، انتہائی خوفناک یا تکلیف دہ واقعے سے گزرنے کے بعد نفس کو پہنچنے والا وہ نقصان یا تکلیف ہے کہ اس واقعے کے بعد کام کرنے یا عام طور پر زندگی میں حالات کا مقابلہ کرنے اور نارمل زندگی گزارنے میں نفسیاتی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”

اور یہ مینٹل ٹراما تین قسم کا ہوتا ہے۔ ۔ ۔

1-اچانک صدمہ یا Acute trauma

2-دائمی صدمہ یا Chronic trauma

اور

3-پیچیدہ صدمہ یا Complex trauma

اب ذرا ان کی تعریفات بھی ملاحظہ ہوں تاکہ میں جو بات سمجھانا چاہتا ہوں وہ آپ کو بہتر طور پر سمجھ آسکے۔

1-اچانک صدمہ یا Acute trauma

Acute trauma: This results from a single stressful or dangerous event.

مطلب یہ کہ

شدید صدمہ: کسی ایک تناؤ یا اچانک خطرناک واقعے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

2-دائمی صدمہ یا Chronic trauma

Chronic trauma: This results from repeated and prolonged exposure to highly stressful events. Examples include cases of child abuse, bullying, or domestic violence.

دائمی صدمہ: یہ انتہائی دباؤ والے واقعات کے بار بار اور ان کی طوالت سے نکلتا ہے۔ مثال کے طور پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی ، بدمعاشی ، یا گھریلو تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

3-پیچیدہ صدمہ یا Complex trauma

Complex trauma: This results from exposure to multiple traumatic events.

پیچیدہ صدمہ: متعدد تکلیف دہ واقعات کی نمائش سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔

تو اب ہم جان چکے ہیں کہ ٹراما اور اس کی اقسام کیا ہیں اور کتنی ہیں, اب ہم ریپ کیسز اور ان کے عدم اندراج اور وکٹم کی جھجھک اور بدحواسی کو سمجھ سکیں گے اگر سمجھنا چاہیں تو۔

ہم زیادہ اور بہت دور کی مثالوں سے سرف نظر کرتے ہوئے حالیہ لاہور رنگ روڈ ریپ کیس کو بطور مثال لیتے ہیں اور ناقدین کے سوالات, اعتراضات اور اس واقعہ پر مسلسل وقوع ہوتے واقعات پر روشنی ڈال کر اصل مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وکٹم ایک عورت ہے جس کے ساتھ ریپ ہوا وہ بھی اس کے بچوں کے سامنے جبکہ وہ رنگ روڈ پر کار میں پیٹرول کی یکدم قلت کے باعث مدد کے انتظار میں رکی ہوئی تھی۔ اس نے اوّل اوّل پولیس ہیلپ لائن پر جو کال چلائی اس میں ڈکیتی کا عندیہ دیا یعنی وہ خود نہیں جانتی تھی کہ بات ریپ تک پہنچنے والی ہے۔

اب پولیس کے ریکارڈ میں آچکا کہ رنگ روڈ گجر پورہ میں ایک اکیلی عورت اپنے بچوں کے ساتھ محو سفر تھی اور پیٹرول کی قلت کے باعث رکنے کی وجہ سے ڈکیتوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے مطلب اس کے ساتھ ڈکیتی کی واردات وقوع ہورہی ہے۔

اب یہاں تک بات رہتی تو کیس بہت سادہ اور غیر معروف رہتا لیکن جب پولیس جائے واردات پر پہنچی تو ابتدائی تفتیش اور واقعات کی روشنی اور خاتون کے بیان سے پتہ چلا کہ واردات صرف ڈکیتی اور حراسگی کی نہیں بلکہ زنا بالجبر کی بھی ہے۔

اب پولیس کا بیان بھی آن ریکارڈ ہے جبکہ فطری اور لکھی پڑھی بات ہے اس میں جھول ڈالنا بھی چاہیں تو نہیں ڈال سکتے کہ عورت برے حالوں میں, حواس باختہ اور مجہول پائی گئی اپنے تین کمسن بچوں کو حصار میں لیکر۔

یہ تو سادہ سا مشاہدہ تھا پولیس والوں کا لیکن اگر ماہرانہ رائے دوں تو وہ عورت اس وقت مینٹل اور فزیکل ٹراما کا شکار تھی اور مینٹل ٹراما میں جن اقسام کی وہ شکار تھی وہ بالترتیب اچانک صدمہ یا Acute trauma اور پیچیدہ صدمہ یا Complex trauma کی شکار تھی۔

اچانک صدمہ اس طرح کہ وہ رنگ روڈ پر ریپ تو کیا ڈکیتی کی واردات کی بھی امیدنہیں رکھتی تھی پر یہ دونوں اور اچانک حادثے اس کے ساتھ رونما ہوئے اور پیچیدہ صدمہ اس طرح کہ وہ جب اچانک صدمے سے دوچار ہوئی تو اس کے آدھے حواس ویسے ہی معطل ہوگئے جس کے بعد اس کے ساتھ بالترتیب واقعات کا مجموعہ رونما ہوا تو وہ بہت سے صدمات سے دوچار ہوتی چلی گئی جیسے کہ رات کا وقت, اکیلی عورت, کمسن بچوں کا ساتھ, ویران جگہ پر گاڑی کا رکنا, پیٹرول ختم ہونا, مدد کا جلد سے جلد ممکن ہونا مشکل, نقدی اور قیمتی اشیاء کے ساتھ سفر, مشکوک افراد کا وارد ہونا, پہلے حراساں کرنا, شیشہ توڑنا اور پھر بچوں کو دبوچ کر خاتون کے ساتھ روڈ سے کچھ فاصلے پر لیکر جانا اور پھر اس خاتون کے بچوں کے سامنے اسے برہنہ کرکے باری باری زنا بالجبر کی واردات وقوع ہونا اور بعد از واردات شدید ذہنی اذیت اور حواس باختگی میں مدد کا انتظار کرنا وہ متعدد اور مسلسل واقعات تھے جنہوں نے اس عورت کو پیچیدہ صدمہ یا Complex trauma کا شدید شکار کیا۔

اس طرح وہ خاتون اس وقت ایک ایسے سٹیٹ آف مائنڈ میں تھی جس میں انسان کا لاشعور اس کے شعور پر شدید غالب ہوتا ہے مطلب انسان وہ حرکتیں اور باتیں کرتا ہے جو وہ شعور کی حالت میں قطعی نہیں کرتا پر اس کے دماغ میں وہ بات موجزن رہتی ہے۔

جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم مشرقی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو ایک ہی عینک لگا کر دیکھا جاتا ہے دوئم یہ کہ ہماری عدالتوں اور پولیس کی کارکردگی سے ہرکوئی واقف ہے لہذا ریپ کیسز میں اکثر وکٹم خاموشی کو ترجیح دیکر گمنامی کی زندگی کو بہتر سمجھتا ہے لیکن تب جب بات ریکارڈ پر نہ ہو بالخصوص میڈیا کے ریڈار پر اس واقعہ کی سن گن نہ ہو۔

لیکن جیسے کہ یہ واقعہ منظر پر آگیا بوجہ ڈکیتی کی واردات کی ابتدائی رپورٹ پر ایکشن یا تفتیش کرتے ہوئے تو وکٹم جو پیچیدہ صدمے کی شکار تھی اور اس کے عزیز و اقارب جو اچانک صدمے سے دوچار تھے شعور اور لاشعور کے بیچ پھنس کر ایسی باتیں اور معلومات بہم دیکر جھول کو بیچ میں لے آئے جو صرف ایک مقصد سے کی گئی ہونگی میرے حسن ظن کے مطابق کہ چلو ڈکیتی ہوتی تو خیر تھی لیکن ریپ سے خاتون کی عزت نفس اور خاندان کی عزت مجروح ہوچکی لیکن اس کو یہیں پر آف دی ریکارڈ کرنے سے آئندہ ہونے والی وکٹمائزیشن اور کریکٹر ایسینیشن سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ ریپ کیس کے منظر اور ریکارڈ پر آنے کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں برصغیر بھر میں وکٹم ریپ ہونے سے لیکر فیصلہ سنائے جانے تک بار بار لٹتی اور وکٹمائز ہوتی ہے۔

کیا میڈیا, کیا چوک چوراہے اور کیا عدالت۔ ۔ ۔ غرض ہر جگہ زیادتی کی شکار خاتون پر تبرہ اور طنز کے نشتر چلائے جاتے ہیں اور یہ پھر بنتا ہے دائمی صدمہ یا Chronic trauma جس کے بوجھ تلے صرف ریپ ذدہ عورت ہی نہیں پستی بلکہ اس کا خاندان اور اگلی سات نسلیں پستی ہیں۔

تو اب جب ساری بات سمجھ آچکی تو آپ سوالات اور اعتراضات اٹھانے والے خود فیصلہ کرلیں کہ کیا آپ قلمی گِدھوں کا غول نہیں جو کہانی میں جھول ہے کہانی میں جھول ہے کہہ کہہ کر متاثرہ اور اس کے خاندان کو بیک وقت اچانک صدمہ یا Acute trauma, پیچیدہ صدمہ یا Complex trauma اور دائمی صدمہ یا Chronic trauma کا شکار بنا کر پوری نسل کو تباہی کے دہانے پر ڈال رہے ہیں۔

اللہ کا خوف کریں اور حسن ظن سے کام لیکر زیادتی کو زیادتی ہی کہیں اور سمجھیں کہ سب جھول ہو لیکن آمدہ اطلاعات کی روشنی میں ریپ تو ہوا ہے نا تو جو غلط ہوا ہے اس کو غلط کہہ کر جھول کو متاثرہ اور اس کے خاندان کی صدماتی کیفیت اور معاشرتی رویوں کی زبوں حالی کی وجہ سے جان بوجھ کر مزید ذلت سے بچنے کی ناکام مگر لاشعوری کوشش سمجھ لیں۔

ٹراما خواہ مینٹلی ہو یا فزیکلی۔ ۔ ۔ اس کا بنیادی اور اہم حل یا علاج انتہائی توجہ, ہمدردی, غیر مشروط مدد, حوصلہ افزائی اور مثبت اعمال ہیں ۔

ریپ کے تمام کیسز کا اندراج ہو یا نہ ہو پر ایک بات پتھر پر لکیر ہے کہ متاثرہ اور اس کا خاندان مینٹل اور فزیکل ٹراما کا شدید شکار ہوتا ہے جس کو ہمیں بطور صحت مند معاشرہ سمجھنے اور ان سے ہمدردی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *