بین الاقوامی سیاست میں قومی مفاد کا کردار۔۔ہدایت اللہ

ایک زمانہ ایسا بھی تھا لوگ بغیر کسی لالچ و طمع کے، جذبہ خیر سگالی کے طور پر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ امتدادِ زمانہ کے ساتھ یہ رواج کمزور ہوتا گیا۔ آج بھی بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بغیر کسی مفاد کے دوسروں کی مدد کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بہت قلیل تعداد میں ہیں۔

زمانہ قدیم میں جب بڑی بڑی سلطنتیں ہوا کرتی تھیں، تھوڑا بہت خیر سگالی کا جذبہ پایا جاتا تھا (بالعموم موجودہ قومی ریاستوں سے بھی بدتر صورت حال تھی۔ 1648 میں معاہدہ ویسٹفیلیا کے بعد جب دنیا کے نقشے پر قومی ریاستیں وجود میں آئیں تو قومی مفاد
(National interest ) نے خیر سگالی کے جذبے کو مکمل طور ختم کر دیا۔

اب ریاستوں کی کوشش ہوتی ہے قومی مفاد کو ہر ممکنہ طریقے سے حاصل کریں۔ اگر اس کے لیے لوگوں کا خون بہانا پڑے یا املاک مسمار کرنا پڑیں تو اس سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ آج بین الاقوامی سطح پر جتنے بھی نظریات کے ماننے والے انسانی حقوق، اقدار اور باہمی ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں وہ محض ایک دکھاوا ہے۔ آج بین الاقوامی نظام پر لبرلز کا اثرو رسوخ زیادہ ہے۔ جو باہمی آہنگی، عقلیت اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن جب بھی قومی مفاد کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھول کر اس کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں۔

اگر ہم سرد جنگ (Cold war) کے مکمل دورانیہ کا جائزہ لیں تو بظاہر دو نظریات کی جنگ معلوم ہوتی ہے۔ ایک طرف سرمایہ داری (capitalism) اور دوسری طرف اشتراکیت (communism) لیکن اس کے پیچھے کیا مضمرات شامل تھے یہ ہر صاحبِ عقل جانتا ہے۔ وہ صرف قومی مفادات تھیے۔ جوزف اسٹالن، خروشیف، ماؤ اور دیگر کو غریب عوام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

وہ صرف اپنی ریاست کو وسیع سے وسیع تر بنانے کی تگ و دو میں تھے۔ پوری بالکان ریاستوں کو اپنے تسلط میں لے لیا۔ لاطینی امریکہ کے بہت سارے ممالک پر قبضہ جمایا۔ دوسری طرف امریکہ جو سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری کو برقرار رکھنا چاہ رہا تھا، امریکی معیشت کے لیے بہت ضروری تھا کہ اشتراکیت کے پھیلاؤ کو روکا جائے، جو اس کی معیشت کے لیے خطرے کی صورت بن کر ابھر رہی تھی۔

امریکہ اپنے اسی مفاد کی خاطر کوریا اور ویتنام میں داخل ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق 1.5 ملین لوگ جنوبی کوریا اور 3.5 ملین لوگ شمالی کوریا میں مارے گئے اور ملین لوگ بے گھر ہوگئے۔ ویتنام میں دس لاکھ لوگ مارے گئے۔ یہ ریاستیں سویت یونین اور امریکہ دونوں کے مفادات کے ہتھے چڑھ گئیں، اس لیے ان کا یہ حشر ہوگیا۔

آج کچھ سادہ لوح لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف بات کرتا ہے، امریکی میڈیا نے بھی اس کو کوریج دی، اخبارات میں کالم چھپنے لگے۔ شاید ٹرمپ صاحب کو مسلمانوں سے کوئی ہمدردی ہے یا دوسری طرف چین، کشمیر میں ہونے والے ظلم کےخلاف بات کرتا ہے اور ہر محاذ پر کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

یاد رکھیں! نہ چین کو مسلمانوں سے کوئی ہمدری ہے نہ امریکہ کو، اس کے پیچھے صرف ان کے مفادات ہیں۔ امریکہ کا اس وقت سب سے بڑا دشمن چین ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چین پندرہ، بیس سالوں میں معاشی لحاظ سے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ یہ امریکہ کے لیے کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے وہ ہر حال میں اس کو بدنام اور پیچھے رکھنا چاہتا ہے۔

اسی طرح چین اور بھارت کے درمیان کشمیر کے کچھ علاقوں پر جنگ ہے۔ چین کا دعویٰ ہے وہ علاقے چین کی ریاست کا حصہ ہیں اور دوسری بات چین پاکستان کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کی بات کرتا ہے۔ یہ سب وہ اس لیے نہیں کرتا کہ پاکستان میں مسلمان بستے ہیں اور چین کو مسلمانوں سے ہمدردی ہے بلکہ اس کے مفادات وابستہ ہیں۔

دوسری طرف اگر ہم مسلم دنیا کا جائزہ لیں اور کارنامے دیکھیں تو افسوس اور دکھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اپنے قومی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے مظلوم مسلمانوں کے سینے میں خنجر گھونپ دیتے ہیں۔ ایک سال قبل جب انڈیا نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کر کے انھیں گھروں میں محصور کر دیا تو اس واقعے کے چند دن بعد متحدہ عرب امارات نے نریندر مودی کو ہائی سول ایوارڈ سے نوازا، جو کشمیریوں کے لیے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔

مسئلہ فلسطین جو مسلم دنیا بالخصوص عرب دنیا کا دیرینہ مسئلہ ہے، اس پر تین جنگیں بھی لڑی گئی ہیں، اگرچہ اس کا نتیجہ عربوں کی شکست اور پسپائی کے علاوہ کچھ نہیں نکلا، گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا اور صرف تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ سفارت خانوں کے قیام اور دو طرفہ تجارت کا بھی اعلان کر دیا۔ حماس نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا اور اسے فلسطينيوں کی پیٹھ میں خنجر گھونبنے کے مترادف قرار دیا۔

اب یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے یا سعودی عرب، مسلم دنیا کی بنسبت، مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات اور تجارت کو ترجیح کیوں دیتا ہے؟ اس سوال کا آسان جواب یہی ہے کہ یہ سب کچھ قومی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ قومی مفادات نے انھیں اپنی شناخت، اقدار اور مذہب سے دور کر دیا ہے اور وہ مسلمانوں کی یکجہتی کو بھی بھول گئے ہیں۔

اس لمبی چوڑی بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ قومی مفاد کا بین الاقوامی سیاست میں اہم کردار ہے۔ اس کی وجہ سے حکومتیں بنتی بھی ہیں اور گرتی بھی ہیں، جنگیں ہوتی ہیں، نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ بعض ریاستیں انسانيت کی علمبردار ہوتی ہیں یا کسی بھی مذہب کو فالو کرنے والی ہوتی ہیں لیکن قومی مفادات کو حاصل کرتے وقت مذہب، انسانيت، اقدار و اخلاق، روایات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں اور دنیا کو خطرات میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *