گراف (25)۔۔وہاراامباکر

مرٹن کے سکالرز کے پاس چودہویں صدی کی ریاضی کے ٹول تھے جو محدود تھے لیکن انہوں نے حرکت کے قوانین کا فریم ورک بنایا۔ واقعات کی ٹائمنگ میں باقاعدگی تلاش کرنا، مثلاً یہ تصور کرنا کہ ایک پتھر سولہ فٹ کی بلندی سے نیچے گرتے ہوئے ہمیشہ ایک سیکنڈ لگائے گا، مرٹن سکالرز کے وقت میں ناقابلِ فہم تھا۔ کیونکہ منٹ اور سیکنڈ کا تصور نہیں تھا۔ پہلی گھڑی جو گھنٹوں کو برابر مقدار میں تقسیم کر سکے 1330 کی دہائی کی ایجاد تھی۔ اس سے پہلے دن کو بارہ گھنٹوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دسمبر میں گھنٹا جون کے مقابلے میں نصف ہوتا تھا۔ لیکن اس سے کام چل جایا کرتے تھے۔

ان رکاوٹوں کے باوجود مرٹن سکالرز نے یہ تصوراتی فریم ورک دیا جس سے حرکت کو سٹڈی کیا جا سکے۔ مرٹن رول حرکت کا پہلا ریاضیاتی رول ہے۔ “وہ فاصلہ جو ایک ساکن شے ایک مستقل ریٹ سے ایکسلریٹ ہو کر طے کرتی ہے، اتنا ہی ہے جتنا ایک شے جو اس کے آخر کی نصف رفتار سے بغیر ایکسلریٹ کئے ہوئے طے کرے”۔

یہ طویل ہے۔ اور اس کو سمجھنے کے لئے کئی بار پڑھنا پڑتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اور یہ بتاتا ہے کہ اگر ٹھیک ریاضی میں اس کو لکھا جائے تو سائنس کتنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو سمجھنا اور معنی نکالنا کس قدر آسان ہے
S=ut+1/2 at^2

آج ایک چھٹی جماعت کا طالبعلم اس کو آسانی سے حل کر سکتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ریاضی کرنے کی انسانی استطاعت مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ اور آج کا سکول کا طالبعلم چودہویں صدی کے بہترین سائنسدانوں سے بہتر جانتا ہے۔ (کیا اٹھائیسویں صدی کے سکول کے طالبعلم اور اکیسویں صدی کے سائنسدان کا بھی یہی موازنہ ہو گا؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے)۔

مرٹن رول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ اپنی گاڑی صفر سے سو میل فی گھنٹہ تک مسلسل ایکسلریٹ کر کے لے جائیں تو اتنا ہی سفر کریں گے جتنا اتنی ہی دیر میں پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گاڑی چلانے میں۔ اگرچہ آج اسے کامن سینس سمجھا جائے گا لیکن مرٹن سکالر اس کو ثابت نہیں کر سکے تھے۔ ان کے پیشکردہ اس رُول نے انٹلکچویل حلقوں میں بہت توجہ حاصل کی۔ یہ فرانس، اٹلی اور دوسرے یورپ تک پہنچا اور یونیورسٹی آف پیرس سے اس کا پروف مل گیا۔ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے نکول اورسمے تھے جو لیسیوٗں کے بشپ تھے۔ اور اس کے لئے اورسمے نے وہ کیا تھا جو تاریخ میں فزسٹ کئی بار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نئی ریاضی ایجاد کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر ریاضی فزکس کی زبان ہے تو ٹھیک ریاضی دستیاب نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فزسٹ اس ٹاپک کے بارے میں اچھی طرح بات نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ گلیلیو نے کہا تھا کہ “فطرت کی کتاب اس وقت تک نہیں پڑھی جا سکتی جب تک اس کی زبان معلوم نہ ہو اور یہ کتاب ریاضی میں لکھی گئی ہے۔ اس کے حروفِ تہجی مثلث، دائرے اور جیومیٹری کی شکلیں ہیں۔ ان کے بغیر اس کا ایک لفظ نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے بغیر اسے پڑھنا ویسے ہی جیسے تاریکی میں بھول بھلیوں میں پھرنا”۔

ان تاریک بھول بھلیوں میں روشنی ڈالنے کے لئے اورسمے نے ایک ڈایاگرام ایجاد کی۔ یہ فزکس کی پہلی جیومیٹرک نمائندگی تھی جس میں حرکت کی فزکس کو دکھایا گیا تھا۔ یہ پہلا گراف تھا۔

کئی لوگ کیلکولس کی ایجاد کے بارے میں جانتے ہیں لیکن گراف کی ایجاد کا بہت کم لوگوں کو معلوم ہے حالانکہ ہر کوئی اسے استعمال کرتا ہے۔ شاید اس لئے کہ گراف کا آئیڈیا تو بڑا عام لگتا ہے۔ لیکن یہ تصور کہ اعداد کو لکیروں اور شکلوں سے دکھایا جا سکتا ہے؟ یہ انقلابی سوچ تھی، شاید تھوڑا سا پاگل پن بھی۔

اور نئی ایجادات کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔

ارویسمے نے وقت کو horizontal axis پر رکھا اور رفتار کو vertical پر۔ اب فرض کیا کہ ایک جسم مسلسل رفتار سے حرکت کر رہا ہے تو اس کی لکیر افقی ہو گی۔ اس لکیر کے نیچے شیڈ کیا گیا رقبہ وہ فاصلہ ہے جو اس نے طے کیا۔ یہ ایک مستطیل کا رقبہ ہے جو آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مستقل ایکسلریشن کے جسم کے لئے ایک لائن ہو گی جو کسی زاویے پر ہو گی۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ رفتار بڑھ رہی ہے۔ اس کو شیڈ کریں تو ایک مثلث بنتی ہے۔ ان دونوں کے نیچے شیڈ ہونے والا رقبہ ہمیں فاصلے کا بتاتا ہے اور چونکہ ہمیں یہ رقبہ کیلکولیٹ کرنا ٓاتا ہے، اس لئے مرٹن رول کو آسانی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اورسمے کو ان کی اس انوکھے طریقے کا کریڈٹ اتنا نہیں ملا کیونکہ ایک تو انہوں نے اپنا کام پبلش زیادہ نہیں کیا، دوسرا یہ کہ تصوراتی فریم ورک اتنے واضح طور پر بتائے نہیں گئے تھے۔ اور ریاضی اور فزیکل دنیا کے تعلق کی تفصیلی سمجھ اس وقت اتنی واضح نہیں تھی۔ یہ گلیلیو کے وقت آنی تھی اور ابھی اس کے آنے میں وقت تھا۔

(جاری ہے)گراف (25)
مرٹن کے سکالرز کے پاس چودہویں صدی کی ریاضی کے ٹول تھے جو محدود تھے لیکن انہوں نے حرکت کے قوانین کا فریم ورک بنایا۔ واقعات کی ٹائمنگ میں باقاعدگی تلاش کرنا، مثلاً یہ تصور کرنا کہ ایک پتھر سولہ فٹ کی بلندی سے نیچے گرتے ہوئے ہمیشہ ایک سیکنڈ لگائے گا، مرٹن سکالرز کے وقت میں ناقابلِ فہم تھا۔ کیونکہ منٹ اور سیکنڈ کا تصور نہیں تھا۔ پہلی گھڑی جو گھنٹوں کو برابر مقدار میں تقسیم کر سکے 1330 کی دہائی کی ایجاد تھی۔ اس سے پہلے دن کو بارہ گھنٹوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دسمبر میں گھنٹا جون کے مقابلے میں نصف ہوتا تھا۔ لیکن اس سے کام چل جایا کرتے تھے۔

ان رکاوٹوں کے باوجود مرٹن سکالرز نے یہ تصوراتی فریم ورک دیا جس سے حرکت کو سٹڈی کیا جا سکے۔ مرٹن رول حرکت کا پہلا ریاضیاتی رول ہے۔ “وہ فاصلہ جو ایک ساکن شے ایک مستقل ریٹ سے ایکسلریٹ ہو کر طے کرتی ہے، اتنا ہی ہے جتنا ایک شے جو اس کے آخر کی نصف رفتار سے بغیر ایکسلریٹ کئے ہوئے طے کرے”۔

یہ طویل ہے۔ اور اس کو سمجھنے کے لئے کئی بار پڑھنا پڑتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اور یہ بتاتا ہے کہ اگر ٹھیک ریاضی میں اس کو لکھا جائے تو سائنس کتنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو سمجھنا اور معنی نکالنا کس قدر آسان ہے
S=ut+1/2 at^2

آج ایک چھٹی جماعت کا طالبعلم اس کو آسانی سے حل کر سکتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ریاضی کرنے کی انسانی استطاعت مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ اور آج کا سکول کا طالبعلم چودہویں صدی کے بہترین سائنسدانوں سے بہتر جانتا ہے۔ (کیا اٹھائیسویں صدی کے سکول کے طالبعلم اور اکیسویں صدی کے سائنسدان کا بھی یہی موازنہ ہو گا؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے)۔

مرٹن رول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ اپنی گاڑی صفر سے سو میل فی گھنٹہ تک مسلسل ایکسلریٹ کر کے لے جائیں تو اتنا ہی سفر کریں گے جتنا اتنی ہی دیر میں پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گاڑی چلانے میں۔ اگرچہ آج اسے کامن سینس سمجھا جائے گا لیکن مرٹن سکالر اس کو ثابت نہیں کر سکے تھے۔ ان کے پیشکردہ اس رُول نے انٹلکچویل حلقوں میں بہت توجہ حاصل کی۔ یہ فرانس، اٹلی اور دوسرے یورپ تک پہنچا اور یونیورسٹی آف پیرس سے اس کا پروف مل گیا۔ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے نکول اورسمے تھے جو لیسیوٗں کے بشپ تھے۔ اور اس کے لئے اورسمے نے وہ کیا تھا جو تاریخ میں فزسٹ کئی بار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے نئی ریاضی ایجاد کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر ریاضی فزکس کی زبان ہے تو ٹھیک ریاضی دستیاب نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ فزسٹ اس ٹاپک کے بارے میں اچھی طرح بات نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ گلیلیو نے کہا تھا کہ “فطرت کی کتاب اس وقت تک نہیں پڑھی جا سکتی جب تک اس کی زبان معلوم نہ ہو اور یہ کتاب ریاضی میں لکھی گئی ہے۔ اس کے حروفِ تہجی مثلث، دائرے اور جیومیٹری کی شکلیں ہیں۔ ان کے بغیر اس کا ایک لفظ نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے بغیر اسے پڑھنا ویسے ہی جیسے تاریکی میں بھول بھلیوں میں پھرنا”۔

ان تاریک بھول بھلیوں میں روشنی ڈالنے کے لئے اورسمے نے ایک ڈایاگرام ایجاد کی۔ یہ فزکس کی پہلی جیومیٹرک نمائندگی تھی جس میں حرکت کی فزکس کو دکھایا گیا تھا۔ یہ پہلا گراف تھا۔

کئی لوگ کیلکولس کی ایجاد کے بارے میں جانتے ہیں لیکن گراف کی ایجاد کا بہت کم لوگوں کو معلوم ہے حالانکہ ہر کوئی اسے استعمال کرتا ہے۔ شاید اس لئے کہ گراف کا آئیڈیا تو بڑا عام لگتا ہے۔ لیکن یہ تصور کہ اعداد کو لکیروں اور شکلوں سے دکھایا جا سکتا ہے؟ یہ انقلابی سوچ تھی، شاید تھوڑا سا پاگل پن بھی۔

اور نئی ایجادات کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔

ارویسمے نے وقت کو horizontal axis پر رکھا اور رفتار کو vertical پر۔ اب فرض کیا کہ ایک جسم مسلسل رفتار سے حرکت کر رہا ہے تو اس کی لکیر افقی ہو گی۔ اس لکیر کے نیچے شیڈ کیا گیا رقبہ وہ فاصلہ ہے جو اس نے طے کیا۔ یہ ایک مستطیل کا رقبہ ہے جو آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مستقل ایکسلریشن کے جسم کے لئے ایک لائن ہو گی جو کسی زاویے پر ہو گی۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ رفتار بڑھ رہی ہے۔ اس کو شیڈ کریں تو ایک مثلث بنتی ہے۔ ان دونوں کے نیچے شیڈ ہونے والا رقبہ ہمیں فاصلے کا بتاتا ہے اور چونکہ ہمیں یہ رقبہ کیلکولیٹ کرنا ٓاتا ہے، اس لئے مرٹن رول کو آسانی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اورسمے کو ان کی اس انوکھے طریقے کا کریڈٹ اتنا نہیں ملا کیونکہ ایک تو انہوں نے اپنا کام پبلش زیادہ نہیں کیا، دوسرا یہ کہ تصوراتی فریم ورک اتنے واضح طور پر بتائے نہیں گئے تھے۔ اور ریاضی اور فزیکل دنیا کے تعلق کی تفصیلی سمجھ اس وقت اتنی واضح نہیں تھی۔ یہ گلیلیو کے وقت آنی تھی اور ابھی اس کے آنے میں وقت تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *