دین اسلام آسان ہے۔قمر نقیب خان

اسلام آسان دين ہے لیکن آئمہ، علماء اور مفتیوں نے مشکل بنا دیا ہے۔اسلام قبول کرنا اور اسلام کے مطابق زندگی گزارنا نہایت ہی آسان ہے، اسلام انسان پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جسے آدمی اٹھا نہ سکے، الله تعالى نے قرآن مجید میں جا بجا اسلام کو آسان دین قرار دیا ہے، چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (سورة البقرة، آیت 185)
“اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا “۔
يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا (سورة النساء، آیت 28)
“اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے”۔
مَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ (سورة المائدہ، آیت 6)
“اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا”
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ (سورة الحج، آیت 28)
“اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی”

معلوم ہوا کہ اسلام آسان دین ہے اور اس دين کی کوئی ایسی تعليم نہیں جس پر عمل کرنے میں بندے کو مشقت  اٹھانا پڑتی ہو۔آپ اسلامی تعلیمات اور احکامات دیکھیں، مثلاً طہارت میں رخصت دی گئی کہ اگر کوئی بیمار ہے یا مشقت میں ہے تو وضو کی بجائے تیمم کر لے، اگر تیمم بھی نہ کر سکے اور نماز کا وقت نکلنے کا خطرہ ہو تو بغیر طہارت کے نماز ادا کرنے کی بھی رخصت ملتی ہے. مسافر کے لیے نمازوں میں قصر اور جمع کی رخصت دى گئى. جو شخص کھڑا ہو کر نماز ادا نہ کر سکے اس کے لیے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا آنکھ اور سر کے اشاروں سے نماز ادا کرنے كى رخصت ہے. اگر بارش یا تیز دھوپ ہو تو دو نمازوں کو جمع تقدیم کے ساتھ اکٹھا کر کے ادا کر لیں۔ عورتوں کے مخصوص ایام کی نمازوں پر قضا معاف کر دی گئی، رمضان کے گنتی کے چند روزوں کی قضا رکھی گئی. روزے میں مسافر اور مریض کو مشقت کی بنیاد پر افطار کرنے کی رخصت دی گئی اور بعد میں قضا کا حکم دیا گیا اسی طرح جس مریض کو شفا کی امید نہ ہو یا ضعف کے باعث روزہ رکھنے کی طاقت نہیں ركهتا اس کے ليے ہر دن کے بدلے کسی غریب کو کھانا کھلانا دینے کی رخصت ہے. زکوٰۃ صرف مالدار مسلمان پر ہی فرض ہوتی ہے جب کہ اس کی شرطیں پوری ہو جائیں، پھر یہ ضرورت سے زائد مال میں ہی واجب ہوتی ہے، اسی طرح ملکیت کی ہر چیز پر زکوٰۃ فرض نہیں، حج بھی صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ ہی فرض کیا گیا اور اس میں نیابت کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے-

رخصت کو اپنانا افضل ہے اور اگر مشقت بھی ہو رہی ہو تو رخصت كو اپنانا ضروری ہو جاتا ہے. رسول اللہ  ﷺ  فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے ، آپ نے روزہ رکھا تھا اور لوگ بھی روزہ سے تھے، آپ ﷺ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ ركهنا مشکل ہو رہا  ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور پی لیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی روزے کھول لیے. کچھ لوگ رہ گئے جو روزہ سے ہى رہے، آپﷺ   کو خبر ملی کہ بعض لوگ اب تک روزہ سے ہیں تو آپ نے فرمایا : أولئك العصاة أولئك العصاة
”وہ لوگ نافرمان ہیں، وہ لوگ نافرمان ہیں” (صحيح مسلم)

رسول اللہ ﷺسراپا رحمت تھے، رحمت للعالمین ، آپ ﷺنے آسانی فرمائی، لوگوں كو آسانی کا حکم دیا.رسول  اللہ ﷺ نے فرمایا: إن الدین یسر ولن یشاد الدین أحد الا غلبہ
“بیشک دین آسان ہے اور جو آدمی اس میں تکلف کرے گا اور اپنی طاقت سے بڑھ کر عبادت کرنے کی کوشش کرے گا دین اس پر غالب آجائے گا “۔(صحیح بخارى)

رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے تخفیف اختیار کرنے کا حکم دیا اور سختی اپنانے سے شدت سے منع کیا “ایک آدمی اللہ کے رسول صلى الله عليہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں صبح کی نماز میں فلاں آدمی کی وجہ سے تاخیر کرتا ہوں کہ وہ نماز کو بہت لمبا کرتے ہیں، حدیث  کے راوی ابو مسعود الانصاری کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ كو اس دن سے زیادہ کبھی غضبناک ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا :اے لوگو! تم میں سے بعض لوگ نفرت دلانے والے ہیں جو کوئی لوگوں کی امامت کرائے اسے چاہیے کہ نماز کو مختصر کرے کیوں کہ اس کے پیچھے عمر رسیدہ، کمزور اور ضرورت مند بهى ہوتے ہیں.” (صحيح مسلم)

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں تقسیم نہیں تھی، فقہی مباحث نہیں تھے، اضافی مسائل نہیں تھے۔ یہ فرض ہے، یہ سنت ہے، یہ واجب ہے، یہ نفل ہے، یہ مستحب ہے، یہ مکروہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو جیسا رسول اللہﷺ  کو کرتے دیکھتے تھے ویسا ہی عمل خود بھی کرنا شروع کر دیتے تھے، نہ زیادہ نہ کم.۔

 

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *